कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خراجِ تحسین – ایک عہدِ تدریس، ایک روشن ورثہ

منجانب:سید مستقیم
صدر مدرس
ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول، اندرا آواس، بیودہ
پنجایت سمیتی، دریاپور، ضلع امراوتی

محترم جناب ممتاز انور صاحب کی سبکدوشی کے موقع پر ان کی طویل، باوقار اور قابلِ فخر تعلیمی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنا میرے لیے محض رسمی کلمات نہیں، بلکہ ایک ایسے مخلص معلم کے تئیں اپنے جذبات کا اظہار ہے، جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ علم کی شمع روشن کرنے، نسلوں کی تربیت کرنے اور درس و تدریس کے مقدس فریضے کی ادائیگی میں صرف کیا۔
محترم ممتاز انور صاحب نے اپنے شاندار تعلیمی سفر کا آغاز بطور مدرس کیا اور ضلع پریشد اردو وسطانیہ مدرسہ، بیودہ اور ضلع پریشد اردو استانیہ مدرسہ، بہی گاؤں میں اپنی تدریسی صلاحیتوں، محنت، خلوص اور فرض شناسی کے ذریعے طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
بعد ازاں بطور صدر مدرس انہوں نے مختلف تعلیمی اداروں کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
ضلع پریشد اردو وسطانیہ مدرسہ، داراپور،
ضلع پریشد اردو استانیہ مدرسہ، عمری اعتبار پور اور
ضلع پریشد اردو وسطانیہ مدرسہ، بدنیرا گنگائی
میں بحیثیت صدر مدرس ان کی خدمات نہ صرف قابلِ قدر رہیں بلکہ ان کی انتظامی بصیرت، تعلیمی فکر، قائدانہ صلاحیت اور شائستہ مزاج نے ان اداروں کے ماحول پر اپنے مثبت نقوش چھوڑے۔
🌿 میرے لیے ان کی شخصیت کا ایک الگ پہلو:
اگرچہ مجھے محترم ممتاز انور صاحب کے ساتھ براہِ راست ملازمت کرنے کا موقع نہیں ملا، لیکن گاہے بگاہے ان سے رہبری اور رہنمائی حاصل کرنے کا شرف ضرور حاصل ہوتا رہا۔
ان سے ہونے والی مختصر ملاقاتیں بھی میرے لیے ہمیشہ مفید ثابت ہوئیں۔ ان کے گفتگو کے انداز میں ایک تجربہ کار معلم کی پختگی، معاملات کو سمجھنے کی بصیرت اور تعلیم کے تئیں ایک مخلص انسان کا درد محسوس ہوتا تھا۔
کسی شخصیت کی عظمت کا اندازہ صرف اس بات سے نہیں ہوتا کہ اس نے اپنے منصب پر کیا حاصل کیا، بلکہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اس نے اپنے بعد آنے والوں کے لیے کیا چھوڑا۔
ممتاز انور صاحب نے اپنے شاگردوں کے ذہنوں میں علم، اپنے ساتھیوں میں حوصلہ اور اپنے اداروں میں خدمت کا جذبہ چھوڑا ہے۔ یہی ان کی اصل کامیابی اور سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔
✨ چند اشعار:
جو علم کی شمع لے کے زمانے میں چل پڑے
وہ لوگ کب کسی کے بھلانے سے بھولتے ہیں
———-
کتنی ہی نسلوں کو علم و ہنر سے سنوارا آپ نے
اپنی محنت سے کئی خوابوں کو نکھارا آپ نے
———-
درس دیتے رہے، کردار بناتے رہے
آپ نسلوں کو مسلسل ہی سنوارتے رہے
———-
عہدہ ختم ہوا ہے، مگر خدمت نہیں ہوئی
روشن جو دل کیے ہیں، وہ روشنی کم نہیں ہوئی
———-
آپ کی محنتوں کا یہ ثمر کم نہیں جناب
شاگرد آپ کے ہیں آپ کا زندہ انتخاب
———-
آج 31 اگست 2026ء کو جب آپ اپنی طویل سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہو رہے ہیں تو یقیناً ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے؛ لیکن آپ کی تعلیمی خدمات، آپ کی محنت، آپ کی رہنمائی اور آپ کے روشن نقوش کبھی اختتام پذیر نہیں ہوں گے۔
ملازمت سے سبکدوشی دراصل ذمہ داری سے فراغت ہے، خدمت سے نہیں۔
کیونکہ جو شخص علم کے شعبے سے وابستہ ہو جائے، وہ ریٹائر ہو سکتا ہے، مگر اس کی علمی خوشبو، اس کی دعائیں اور اس کے کردار کے اثرات کبھی ریٹائر نہیں ہوتے۔
اللہ تعالیٰ محترم ممتاز انور صاحب کی تمام تدریسی، انتظامی اور تعلیمی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے علم و تجربے کو آنے والی نسلوں کے لیے باعثِ خیر بنائے، انہیں صحت و تندرستی، سکونِ قلب، خوش حالی اور خوشیوں بھری طویل زندگی عطا فرمائے۔
ممتاز انور صاحب!
آپ کو آپ کی باوقار سبکدوشی پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد، خراجِ تحسین اور نیک تمنائیں۔
آپ نے برسوں جو چراغِ علم جلایا ہے،
دعا ہے اس کی روشنی ہمیشہ قائم رہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے