कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خود سے دوا لینا (Self Medication )۔معمولی عادت، بڑا خطرہ

تحریر:ڈاکٹر مِرزا اطیب بیگ
BAMS (MUHS) , CCH ,CSD , PGCEMS
پوسد ضلع ایوتمحل

صحت انسان کی سب سے قیمتی نعمتوں میں سے ایک ہے، لیکن بیماری کی صورت میں ہم اکثر جلدی میں ایسے فیصلے کر لیتے ہیں جو بظاہر معمولی محسوس ہوتے ہیں۔ سر میں درد ہوا تو گھر میں رکھی گولی لے لی، بخار آیا تو پچھلی بار والی دوا دوبارہ شروع کردی، کسی نے کوئی دوا بتائی تو بغیر تشخیص کے استعمال کرلی۔ یہی عادت خود سے دوا لینا کہلاتی ہے۔
خود سے دوا لینا ہر مرتبہ نقصان دہ نہیں ہوتا، کیونکہ بعض معمولی علامات میں عام دستیاب ادویات کا محدود اور درست استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دوا غلط بیماری، غلط مقدار، غلط مدت یا غلط مریض میں استعمال کی جائے۔
ہر بخار میں اینٹی بایوٹک ضروری نہیں:
ہمارے معاشرے میں ایک عام تصور ہے کہ بخار، نزلہ یا گلے کی تکلیف ہو تو اینٹی بایوٹک شروع کر دینی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سی عام بیماریاں، خصوصاً وائرل انفیکشن، اینٹی بایوٹک سے ٹھیک نہیں ہوتیں۔
بلا ضرورت اینٹی بایوٹک لینے سے نہ صرف اس کے مضر اثرات کا سامنا ہوسکتا ہے بلکہ جراثیم میں اینٹی بایوٹک مزاحمت (drug resistance) بھی پیدا ہوسکتی ہے، جس کی وجہ سے مستقبل میں بعض انفیکشنز کا علاج مشکل ہوجاتا ہے۔
بار بار درد کی دوا بھی ضرر پہنچا سکتی ہے :
سر درد یا جسم کے درد میں فوراً درد کش دوا لینا عام بات ہے۔ لیکن ہر دوا ہر شخص کے لیے یکساں محفوظ نہیں ہوتی۔ بعض درد کش ادویات معدے میں جلن یا خون بہنے، گردوں کے مسائل، بلڈ پریشر میں اضافے یا دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں، خصوصاً جب انہیں بار بار یا زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے۔
اسی طرح کسی دوسرے شخص کی پرچی دیکھ کر وہی دوا اپنے لیے شروع کرنا بھی درست نہیں۔ دوا کا انتخاب مریض کی عمر، دوسری بیماریوں، استعمال ہونے والی دیگر ادویات اور علامات کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔
اسٹیرائڈ اور انجیکشن کو "طاقتور علاج” سمجھنا:
کچھ لوگوں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ انجیکشن یا اسٹیرائڈ والی دوا گولی سے زیادہ طاقتور اور مؤثر ہوتی ہے۔ یہ سوچ خطرناک ہوسکتی ہے۔ اسٹیرائڈ مخصوص حالات میں انتہائی مفید ادویات ہیں، لیکن غیر ضروری یا غلط استعمال سے خون میں شوگر بڑھنے، بلڈ پریشر، انفیکشن کے خطرے اور دیگر مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
انجیکشن بھی صرف اس لیے ضروری نہیں ہوجاتا کہ وہ جلدی اثر کرتا ہے۔ صحیح دوا وہ ہے جو صحیح بیماری کے لیے صحیح طریقے سے استعمال ہو۔
"پچھلی بار یہی دوا فائدہ دے گئی تھی”
یہ جملہ خود سے دوا لینے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ لیکن ایک جیسی علامت کے پیچھے مختلف بیماریاں ہوسکتی ہیں۔ ہر پیٹ کا درد معدے کی خرابی نہیں، ہر بخار انفیکشن نہیں اور ہر سر درد صرف تھکن کی وجہ سے نہیں ہوتا۔
اسی لیے علامات کو دبانے کے بجائے ضرورت پڑنے پر ان کی اصل وجہ معلوم کرنا زیادہ اہم ہے۔
بچوں اور بزرگوں میں زیادہ احتیاط:
بچوں کو بڑوں کی دوا اپنی مرضی سے دینا خطرناک ہوسکتا ہے۔ بچوں میں کئی ادویات کی خوراک وزن اور عمر کے مطابق طے کی جاتی ہے۔ اسی طرح بزرگ افراد، حاملہ خواتین اور وہ مریض جو پہلے سے کئی ادویات استعمال کر رہے ہوں، ان میں ادویات کے باہمی اثرات اور مضر اثرات کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔
آخر میں ایک اہم بات:
غلط طریقے سے استعمال کی جانے والی دوا مسئلہ بن سکتی ہے۔
اس لیے اگلی بار دوا لینے سے پہلے یہ سوچیں:
"کیا مجھے واقعی اس دوا کی ضرورت ہے؟ کتنی مقدار میں؟ کتنے دن کے لیے؟ اور کیا یہ دوا میرے لیے محفوظ ہے؟”
بیماری کی صورت میں ڈاکٹر سے معائنہ اور مناسب تشخیص کے بعد علاج کروانا ہی زیادہ محفوظ اور بہتر طریقہ ہے۔ ڈاکٹر مریض کی علامات، عمر، سابقہ بیماریوں اور استعمال ہونے والی ادویات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب علاج تجویز کرتا ہے۔
صحت کے معاملے میں چند منٹ کی طبی مشاورت، کئی دن کی پیچیدگی سے کہیں بہتر ہے۔
یاد رکھیے: ہر دوا علاج نہیں، ہر علامت کا علاج دوا نہیں، اور ڈاکٹر کے مشورے سے کیا گیا علاج ہی صحت کے لیے زیادہ محفوظ ذریعہ ہے۔

 

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے