कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نشے کا بڑھتا ہوا جال

تحریر:عظیم اللہ خان عمرکھیڑ
9403457181

اگر کوئی انسان کسی چیز کا عادی ہوجائے، اس چیز کے بغیر وہ بےچینی محسوس کرے یا اس کے بغیر وہ رہ نہیں پائے تو سمجھنا چاہیے کہ اس انسان کو اس چیز کا نشہ ہوگیا ہے،… آج پوری دنیا میں نشے کے کاروبار کا ایک بڑا جال پھیلا ہوا ہے، اور انسانوں کی بڑی تعداد اس جال میں پھنس چکی ہے، خصوصاً نوجوان بری طرح سے نشے کی لت میں گرفتار ہیں،…
بات اگر نشے کی کی جائے تو اس وقت الگ الگ قسم کے نشوں میں نوجوان ملوث ہیں،..
نشہ کا لفظ ہم جب بھی سنتے ہیں تو عام طور پر ہمارا ذہن شراب کی طرف جاتا ہے، ایک زمانے سے انسان نشے کے لئے شراب کا استعمال کرتا آرہا ہے، حالانکہ شراب کو قرآن نے حرام قرار دیا ہے اور صرف حرام نہیں بلکہ اسے ام الخبائث کہا گیا ہے یعنی برائیوں کی ماں ، اور یقیناً یہ برائیوں کی ماں ہی ہے کئی برائیاں ایسی ہیں جو شراب کے نشے میں انجام پاتی ہیں، کئی جرائم ایسے ہیں جو شراب کے نشے میں کئے جاتے ہیں، اسی لئے اسے برائیوں کی ماں کہا گیا ہے ،اور یہی نہیں اگر ہم شراب کے ظاہری نقصانات کا بھی جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ، شرابی کی حالت شراب پینے کے بعد بہت بدتر ہوجاتی ہے وہ بڑے مشکل سے لڑکھڑاتے ہوئے چل پاتا ہے، کبھی سڑک کنارے گرا ہوا ہے تو کبھی نالی میں گرگیا ہے، اور اس وجہ سے کوئی بھی شرابی کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا، اور پھر شراب عقل کو ماؤف کردیتی ہے نشے میں اسے کچھ خیال نہیں رہتا کہ وہ کیا کر رہا ہے، کیا بول رہا ہے،گھر والوں کے ساتھ اس کا رویہ بہت ہی خراب ہوتا ہے، کئی گھر صرف شراب کی عادت کی وجہ سے ٹوٹے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ شراب کے نقصانات بھی بہت ہیں، غرض کہ یہ نشے میں سب سے بری چیز ہے ،… ایک بات یہاں یہ بھی رکھنا بہت ضروری ہے کہ بہت سارے لوگ خصوصاً نوجوان بییر کو شراب نہیں سمجھتے، اور آج یہ پارٹیوں میں اور دوستوں کے ساتھ فیشن کے طور پر پی جاتی ہے، اور اس کو مسلم نوجوانوں کی اکثریت استعمال کر رہی ہیں، جبکہ یہ بھی شراب ہی ہے اور شراب کی طرح یہ بھی حرام ہے، کیونکہ اس کو بھی زیادہ مقدار میں پیا جائے تو نشہ آتا ہے ،اور اللہ کے رسولٌ نے فرمایا کہ جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرے اس کی تھوڑی سی مقدار بھی حرام ہے، غرض کہ بییر کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں، اس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہیے،..
یہ تو ہوئی نشہ کی ایک چیز اس کے علاوہ بھی نشہ کی بہت ساری چیزیں ہیں جس کو نوجوان آج بے تحاشہ استعمال کررہے ہیں، اور اسے برا بھی نہیں سمجھ رہے ہیں اور اپنی جوانیاں برباد کررہے ہیں، انہی میں سے ایک خطرناک چیز ہے گانجہ، ایک زمانہ تھا کہ بوڑھے لوگ اور جوگی اور فقیر لوگ گانجے کے شوقین ہوا کرتے باقاعدہ ان کی محفلیں بیٹھتی، آج دیکھا جارہا ہے کہ نوجوان اس کا بے تحاشہ استعمال کررہے ہیں، اس کو استعمال کرنے والوں میں مسلم نوجوانوں کی تعداد بھی دن بدن بڑھ رہی ہے، ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ جنگلوں میں کم آبادی والی کالونیوں میں اندھیرے میں نوجوانوں کی محفلیں جمی ہوئی ہیں، اور اس میں گانجہ پیا جارہا ہے، اور اس وقت یہ بہت بڑھ رہا ہے، اگر اسے ہم نے وقت رہتے نہیں روکا تو یہ آگ ہر ایک کے گھر تک پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی، ہم دیکھ رہے ہیں کہ گانجے کو استعمال کرنے والے نوجوان دن بدن کمزور ہورہے ہیں، یہی نہیں اس کی وجہ سے نوجوان دن بدن جارہانہ ہورہے ہیں ،اور اسی رویہ کی وجہ سے بڑے بڑے جرائم ہو رہے ہیں، لہذا اس سے آج نوجوانوں کو بچانا بہت ضروری ہے،..
پھر اس کے ساتھ ساتھ نشے کے طور پر استعمال ہونے والی چیزوں میں گٹکہ تمباکو اور سگریٹ وغیرہ بھی ہے،.. اور اس کو استعمال کرنے والوں کی بہت بڑی تعداد ہیں، اور اب تو دیکھا جارہا ہے کہ بہت سارے اسکولوں میں پڑھنے والے کم عمر بچے بھی گٹکہ اور سگریٹ کا استعمال کررہے ہیں،. حالانکہ یہ بہت خطرناک چیز ہے ،اس کے بہت زیادہ نقصانات ہیں، اور انہیں نقصانات کی وجہ سے حکومت نے اس پر پابندی بھی عائد کی ہوئی ہے، لیکن پابندی کے باوجود یہ چیزیں ہر جگہ دستیاب ہیں اور نوجوان اور بچے بے تحاشہ انھیں استعمال کررہے ہیں، اس کا سب سے بڑا نقصان کینسر کا ہونا ہے، گٹکہ، تمباکو اور سگریٹ کے پیکٹ پر باقاعدہ وارننگ لکھی آتی ہے کہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے، اس سے کینسر ہوسکتا ہے،یہ لکھا ہونے کے باوجود لوگ اس کو استعمال کررہے ہیں یہ ان کا حوصلہ کہیں یا بیوقوفی، کیونکہ لکھی گئی یہ وارننگ محض دھمکی نہیں ہے، بلکہ اس سے کئی افراد کینسر جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہوئے ہیں، عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال ایک کروڑ سے زائد افراد تمباکو، گٹکہ اور سگریٹ کے استعمال کی وجہ سے موت کے منھ میں چلے جاتے ہیں جن میں ساٹھ لاکھ سے زائد افراد پچاس سال سے کم عمر کے ہیں یعنی نوجوان ہیں، اور یہ سب اموات کینسر کی وجہ سے ہورہی ہے جو گٹکہ تمباکو، اور سگریٹ کے استعمال کرنے والوں میں پھیل رہا ہے، اور صرف کینسر ہی نہیں اور بہت ساری بیماریاں اور نقصانات گٹکہ، تمباکو اور سگریٹ سے ہورہے ہیں،ہم گٹکہ اور تمباکو کھانے والوں کو دیکھتے ہیں کہ ان کے منھ نہیں کھلتے ہیں، اکثر ان کے منھ میں چھالے آتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ صحیح طریقے سے کھانا بھی نہیں کھا پاتے ہیں اور اس کی وجہ سے انھیں بھوک بھی نہیں لگتی اس لئے وہ دن بدن کمزور ہوتے جاتے ہیں، گال پچک جاتے ہیں،اور پھر ان کے منھ سے بدبو بھی آتی ہے جس کی وجہ سے لوگ ان سے بات کرنے یا ان کے نزدیک بیٹھنے میں کراہت محسوس کرتے ہیں،غرض کہ نشے کی یہ تمام چیزیں صحت کے لئے بہت نقصان دہ ہے، اور یہ جہاں صحت کے لیے نقصان دہ ہے وہیں نشے کا ایک سب سے بڑا نقصان پیسوں کی بربادی ہے, ایک نشہ کرنے والا انسان اپنی محنت سے کمائے ہوئے کتنے پیسے نشے کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے، بییر اور شراب والوں کو تو چھوڑیں ان کی تو کوئی حد نہیں ،لیکن ہم صرف گٹکہ اور سگریٹ ہی کی بات کریں اور ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک شخص روزانہ پچاس روپیے ہی گٹکہ اور سگریٹ پر خرچ کرتا ہے تو ایک سال میں اٹھارہ ہزار دو سو پچاس روپیے وہ برباد کررہا ہے، اسی طرح فرض کیجئے کہ ایک شخص ان کو چالیس سال تک استعمال کرتا ہے تو وہ سات لاکھ تیس ہزار روپیے گٹکہ یا سگریٹ میں برباد کردیتا ہے ،اور اس کے یہ برباد کئے ہوئے پیسے فضول خرچی میں شمار ہونگے، اور قرآن کہتا ہے کہ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور یہی نہیں قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ قیامت کے دن دولت کے بارے میں بھی حساب ہوگا کہ وہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، سوچئے کہ جب آخرت میں ان سات لاکھ تیس ہزار روپیے کا حساب لیا جائے گا تو کیا جواب ہوگا،… غرض کہ جہاں ان نشہ آور چیزوں سے صحت کو نقصان ہے وہیں پیسوں کی بھی بربادی ہے،…
اور پھر سب سے اہم بات کہ نشہ کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، شراب اور بییر کے تعلق سے تمام علماء کا اتفاق ہے کہ یہ حرام ہے، لیکن گٹکہ، تمباکو اور سگریٹ کے تعلق سے البتہ اختلاف پایا جاتا ہے کچھ علماء انھیں بھی حرام قرار دیتے ہیں اور کچھ مکروہ تحریمی (حرام کے قریب) قرار دیتے ہیں اور ان میں سے بھی اکثریت اب گٹکہ ،تمباکو اور سگریٹ کی حرمت کو قبول کررہی ہے وہ اس لیے کہ قرآن میں صریح طور پر حکم دیا گیا ہے کہ، اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور یہ تمام نشے کی چیزیں ہلاکت کا باعث بن رہی ہیں، تو اس کو استعمال کرنے والے اپنے آپ کو ہلاکت ہی میں تو ڈال رہے ہیں، علماء کہتے ہیں کہ اس آیت کی رو سے گٹکہ تمباکو اور سگریٹ بھی حرام ہے,… یہ جسم اللہ کی امانت ہے انسان کا اس پر کوئی حق نہیں ہے ،اس لئے انسان کو یہ حق بالکل نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے جسم کو جو اللہ کی امانت ہے اسے اپنے ہاتھوں ہلاکت میں ڈالیں، خود کشی کو بھی اسی لئے حرام قرار دیا گیا ہے، لہذا نشے کی ان چیزوں کو استعمال کرنا خودکشی کے دائرے میں بھی آتا ہے، اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم نشے کی ان ساری چیزوں سے بچیں،..
آخر میں نوجوانوں سے گزارش کروں گا کہ یوں نشے میں اپنے آپ کو برباد نہ کریں گٹکہ اور سگریٹ کو بھی معمولی چیز مت سمجھئے، یہ بہت خطرناک ہے بلکہ سب سے خطرناک ہے کیونکہ یہ آسانی سے دستیاب ہونے والی چیز ہے اور اس کو استعمال کرنے والے بھی بہت زیادہ ہے، نوجوان اس کو بہت نارمل لیتے ہیں، حالانکہ یہ نشہ بہت دردناک موت کی وجہ بنتا ہے, ہم نے کئی نوجوانوں کو تڑپ تڑپ کر مرتے دیکھا ہے، منھ میں چھالے آگئے ہیں، منھ نہیں کھل رہا ہے، کھانا نہیں کھا پارہے ہیں، دن بدن کمزور ہوتے جاتے ہیں بالآخر کینسر جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں،…
اس سے پہلے کہ آپ اس مقام تک پہنچ جائیں خدارا گٹکہ، تمباکو ،سگریٹ اور نشہ کی تمام چیزیں چھوڑ دیں، دیکھئیے آپ نوجوان ہیں آپ کی اپنے گھر والوں کو والدین کو بہت ضرورت ہے، آپ کی معاشرے کو اور سماج کو بہت ضرورت ہے، آپ امت کا اثاثہ ہو ،امت کو آپ کی بہت ضرورت ہے، ایسے نوجوان کی جو تندرست اور توانا اور مضبوط ہو ،اسلام نے قوی نوجوان کو پسند فرمایا ہے کمزور نوجوان کے مقابلے، لہذا اپنے آپ کو ہر طرح کے نشے سے بچائے ،آپ طئے کرلیں کہ اب سے نشہ نہیں کروں گا تو اللہ بھی آپ کی مدد کرے گا، سب قوت ارادی پر منحصر ہے، آپ فیصلہ کرلیں ان شا اللہ ضرور آپ نشے کی عادت سے چھٹکارا پائیں گے،..
پھر آخر میں والدین سے ایک گزارش ہے کہ وہ اپنی اولاد پر دھیان دیں، وہ کہاں جاتا ہے، کن دوستوں کے ساتھ رہتا ہے، کیا کرتا ہے، کہیں اسے کوئی غلط عادت تو نہیں ہے، ان سب چیزوں پر والدین کو نظر رکھنی چاہیے، لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ والدین کی اکثریت اپنے بچوں سے بے خبر ہیں، بچہ رات دیر گھر پر آتا ہے ،صبح دیر تک سوتا ہے، والدین پھر بھی اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کرتے، حالانکہ یہ والدین کی ذمہ داری ہے ،اللہ نے والدین کو اپنی اولاد کا ذمہ دار بنایا ہے اور آخرت میں اس کے تعلق سے ان سے پوچھ ہوگی،.. غرض کہ آج جو بچے اور نوجوان نسل بگاڑ کا شکار ہورہی ہے نشہ کی عادی ہورہی ہے اس میں والدین کی اور خصوصی طور پر باپ کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے، لہذا اپنی اولاد کو بچانا ہے تو ان کی تربیت پر دھیان دیں، ان پر نظر رکھیں، ان کے دوستوں پر ان کی تنہائی پر ان کے محفلوں پر نظر رکھیں، وہ کہاں جاتے ہیں گھر کب آتے ہیں، ہر چیز پر نظر ہوں، اور ان میں کوئی غلط عادت دیکھیں تو فوراً تنبیہ کریں،اور ایک اہم بات کہ اپنے بچوں کو خالی نہ رہنے دیں اگر ان کی تعلیم ختم ہوچکی ہے تو انھیں کچھ نہ کچھ کام سے ضرور لگائیں ،اگر وہ خالی رہیں گے تو شیطان کے ہاتھ لگیں گے، بری صحبتوں کا شکار ہونگے یاد رکھئے اگر وقت رہتے ہم نے ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو نہیں سمبھالا تو ہمارے ہاتھ سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں آئے گا،…پھر معاشرے کے تمام افراد سے گزارش ہے کہ جہاں کہیں آپ کو بچے نشہ کرتے نظر آئیں انھیں سمجھائیں، جہاں جہاں نشہ کرنے والے نوجوانوں کی محفلیں ہوتی ہے وہاں جائیں انھیں سمجھائیں، یہ سوچ کر نظر انداز نہ کریں کہ یہ ہمارے بچے نہیں ہیں، ٹھیک ہے آج ہمارے بچے ان میں نہیں ہے، لیکن ہم نے آج انھیں نہیں روکا تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے بچے بھی ان محفلوں میں نظر آئیں گے….

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے