कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خصوصی انٹرویو: ایمن فردوس بنت عبدالقدیر

لفظوں، مشاہدوں اور احساسات کا سفر

انٹرویو:
ایمن فردوس بنت عبدالقدیر اردو ادب میں ایک حساس، مشاہدہ نگار اور ابھرتی ہوئی قلم کار کے طور پر اپنی شناخت قائم کر رہی ہیں۔ ان کی تحریروں میں روزمرہ زندگی کے مسائل، بچوں کے جذبات، معاشرتی رویّے، تعلیمی تجربات اور انسانی زندگی کی اندرونی کشمکش کو سادہ مگر مؤثر انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
ان کی تحریروں میں تخیل اور حقیقت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ طنز، مزاح، اصلاح، جذبات، سماجی مشاہدات اور انسانی نفسیات ان کے موضوعات کا اہم حصہ ہیں۔ ان کے اسلوب کی نمایاں خصوصیت سادگی اور اثر انگیزی ہے، جو قاری کو نہ صرف سوچنے پر مجبور کرتی ہے بلکہ بعض مواقع پر اس کے لبوں پر مسکراہٹ بھی بکھیر دیتی ہے۔
ان کی تحریروں میں انفرادی شخصیت، تدریسی جدوجہد، معصومیت بھرے لہجے اور زندگی کے تلخ مشاہدات کا عکس نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ ایمن فردوس کی تحریریں ایک نوآموز قلم کار کے جذباتی، فکری اور تخیلاتی ارتقا کی جھلک پیش کرتی ہیں۔ مطالعے اور مسلسل مشق کے ذریعے ان کے قلم میں مزید پختگی آنے کے امکانات روشن ہیں۔ان کے قلم کی سچائی، داخلی احساس، فکری تنوع اور حساسیت اردو ادب کے مستقبل کے لیے ایک خوش آئند علامت ہے۔ادارۂ اعتبار نیوز کی جانب سے ان سے ایک تحریری انٹرویو لیا گیا، جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔

سوال: آپ کی تحریروں میں مزاح اور طنز کا امتزاج بہت فطری محسوس ہوتا ہے۔ کیا یہ اندازِ تحریر آپ نے سیکھا ہے یا یہ قدرتی طور پر آپ کی شخصیت کا حصہ ہے؟
جواب:سب سے پہلے یہ ناچیز اعتبار نیوز پیپر کے تمام ادبی بھائیوں اور بہنوں کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتی ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کی ہر جائز تمنا اور نیک خواہش کو قبول فرمائے۔خصوصاً اکرم بھائی کی شکر گزار ہوں، جنہوں نے اس کمتر اور ادنیٰ سی قلم کار کے ٹوٹے پھوٹے اور بکھرے ہوئے الفاظ کو عزت بخشی اور میری تحریروں کو مسلسل شائع کیا۔جزاکم اللہ خیراً۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو سلامت رکھے۔
میرا خیال ہے کہ طنز و مزاح کے انداز کا میرے مشاہدات سے گہرا تعلق ہے۔ شاید زندگی کو غور سے دیکھنے اور اپنے اردگرد کے حالات کو محسوس کرنے کی عادت ہی نے میرے اندر طنز و مزاح کی دلچسپی پیدا کی۔
میں نے یہ چیزیں کسی حد تک اپنے اسکول کے زمانے ہی سے سیکھی تھیں۔ اس وقت اردو کی درسی کتابوں میں شامل مضامین کو میں بہت شوق اور دلچسپی سے پڑھا کرتی تھی۔ بعض مضامین تو میں نے اتنی مرتبہ پڑھے کہ وہ تقریباً مجھے زبانی یاد ہو جاتے تھے۔
انشائیہ نگاری سے بھی میری خاص دلچسپی رہی ہے، کیونکہ اس صنف میں عام سی بات کو بھی منفرد اور دل چسپ انداز میں بیان کرنے کی بڑی گنجائش ہوتی ہے۔
اردو ادب کے مختلف ادیبوں اور مصنفوں کو پڑھتے ہوئے میرے اندر لکھنے کا شوق مزید بڑھتا گیا۔ امتیاز علی تاج، کرشن چندر، قرۃ العین حیدر، بانو قدسیہ، منشی پریم چند، سعادت حسن منٹو اور دیگر معروف ادیبوں کی تحریروں نے میرے ذہن اور احساسات پر گہرا اثر ڈالا۔
ان کی تحریروں کو پڑھ کر دل میں ایک عجیب سا جذبہ پیدا ہوتا تھا کہ شاید ہم بھی لفظوں کی اس دنیا میں اپنا ایک چھوٹا سا قدم رکھ سکتے ہیں۔ ان مصنفین کی تحریروں نے نہ صرف مجھے ادب سے قریب کیا بلکہ زندگی، انسانوں اور معاشرے کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کا حوصلہ بھی دیا۔
شاید یہی مشاہدہ، مطالعہ اور زندگی کو سمجھنے کی کوشش میرے طنز و مزاح کے انداز کی اصل بنیاد ہے۔
سوال: آپ کے افسانے ’’ٹیچر: پیشہ یا پریشانی‘‘ میں ایک نوآموز معلم کی داخلی کشمکش کو جس انداز میں پیش کیا گیا ہے، کیا وہ ذاتی تجربہ ہے یا افسانوی تخیل؟
جواب:جی ہاں، یہ محض افسانوی تخیل نہیں بلکہ میرے ذاتی تجربات سے قریب تر تحریر ہے۔ اسکول میں بطور معلمہ میرا پہلا دن تھا۔میرے خیال میں طلبہ سے مانوس ہونے اور ان کے ساتھ اچھا تعلق قائم کرنے کے لیے صرف سختی ہی کافی نہیں ہوتی، بلکہ محبت، صبر اور دوستانہ رویّہ بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔مجھے خوشی ہوئی کہ میں نے اپنے پہلے دن نہ صرف انہیں پڑھانے کی کوشش کی بلکہ ان کے ساتھ ایک اچھا اور خوشگوار تعلق قائم کرنے کی بھی کوشش کی۔مجموعی طور پر میرا پہلا دن بہت اچھا گزرا اور اس تجربے نے تدریس کے بارے میں میرے احساسات کو مزید گہرا کیا۔
سوال: آپ نے تعلیم و تدریس کے میدان میں قدم رکھتے ہوئے کن مشکلات کا سب سے زیادہ سامنا کیا؟
جواب:اگر تعلیم کے حصول کے حوالے سے بات کی جائے تو اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مجھے اپنی زندگی میں اس قسم کی بڑی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ میرے والدین نے ہمیشہ میری تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔انہوں نے مجھے ایک اچھے اسکول میں داخل کروایا اور بہترین ممکنہ تعلیم دلانے کی کوشش کی۔ الحمدللہ، بچپن میں مجھے غربت یا شدید مالی پریشانیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور زندگی مجموعی طور پر سکون اور آسانی کے ساتھ گزری۔البتہ تدریس کے میدان میں کافی دشواریاں پیش آئیں۔ مثلاً مختصر تنخواہ، بعض نجی اسکولوں کا غیر منصفانہ رویّہ، نامناسب اصول اور بعض ذمہ داران کا تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود غیر سنجیدہ اور غیر دانش مندانہ طرزِ عمل۔بعض اوقات طلبہ میں اخلاقی کمزوری، تربیت کی کمی اور تعلیمی ماحول سے متعلق مختلف مسائل بھی پریشان کن محسوس ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ بعض اداروں میں ملازمت کے لیے بھاری رقوم یا ڈونیشن کی مانگ جیسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں، جو ایک عام اور محنتی فرد کے لیے انتہائی دشوار ہو سکتے ہیں۔ سی ٹی ای ٹی جیسے امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے کے باوجود اگر کسی امیدوار کو ملازمت کے لیے بھاری رقم کا سامنا کرنا پڑے تو یہ یقیناً ایک افسوس ناک صورتِ حال ہے۔نجی اسکولوں کے نت نئے اصول، غیر یقینی ملازمت اور بعض اوقات ملازمت کے تحفظ کا فقدان بھی اس شعبے کی مشکلات میں شامل ہیں۔
سوال: کیا کبھی ایسا لمحہ آیا کہ آپ نے واقعی ٹیچنگ چھوڑنے کا ارادہ کر لیا ہو؟
جواب:جی ہاں، بالکل۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب میں نے تدریس کی ملازمت چھوڑ دینے کا سنجیدگی سے ارادہ کر لیا تھا۔اس کی ایک بڑی وجہ بعض اداروں کا غیر منصفانہ رویّہ اور بہتر ملازمت کے حصول کے لیے بھاری رقوم یا ڈونیشن کی مانگ تھی۔ لاکھوں روپے کسی عام انسان کے لیے معمولی رقم نہیں ہوتے۔اس کے باوجود میں نے ایک نجی معلمہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں۔ تدریس صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے، اور شاید یہی احساس مجھے بار بار اس شعبے سے جوڑے رکھتا رہا۔
سوال: آپ کے اب تک کتنے افسانے شائع ہوئے ہیں اور کون کون سے؟
جواب:میرے بہت سے انشائیے اور مضامین شائع ہو چکے ہیں۔ اب تک میں تقریباً چار سو سے زائد تحریریں لکھ چکی ہوں، جن میں سے دو سو سے زیادہ شائع بھی ہو چکی ہیں۔میرا تحریری سفر ابھی جاری ہے اور ان شاء اللہ آگے بھی جاری رہے گا۔ میری کوشش ہے کہ مسلسل سیکھتی رہوں، پڑھتی رہوں اور اپنی تحریروں کو بہتر بناتی رہوں۔
سوال: آپ کے افسانے کئی معاشرتی مسائل کو دلچسپ انداز میں چھوتے ہیں۔ کیا آپ ان مسائل پر طویل کہانیاں یا ناول لکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں؟
جواب:جی ہاں، ان موضوعات پر طویل کہانیاں لکھنے کا ارادہ ضرور ہے۔ میں اس حوالے سے غور و فکر بھی کرتی ہوں اور اپنے آس پاس کے ماحول اور معاشرے کا بغور مشاہدہ بھی کرتی ہوں۔معاشرے کے طور طریقوں، رسومات، رویّوں اور خاص طور پر ناانصافیوں اور غیر منصفانہ طرزِ عمل کو جب دیکھتی ہوں تو دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ان موضوعات پر قلم اٹھانے کی ضرورت ہے۔میرا خیال ہے کہ ادب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرے کے مسائل کی نشاندہی اور اصلاح کا بھی ایک مؤثر وسیلہ ہے۔اسی لیے ان شاء اللہ، آنے والے وقت میں میں ضرور کوشش کروں گی کہ اپنے مشاہدات اور احساسات کو طویل تحریروں کا حصہ بناؤں اور ایسے موضوعات پر بھی قلم اٹھاؤں جو ہمارے معاشرے میں توجہ کے محتاج ہیں۔
سوال: ’’آدم خور‘‘ میں حقیقی زندگی کے مظالم کو ’’آدم خور‘‘ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ آپ کے خیال میں آج کے سماج میں آدم خوری کس شکل میں موجود ہے؟
جواب:جی ہاں، اپنی اس تحریر ’’آدم خور‘‘ میں میں نے دراصل انسان کے غیر اخلاقی رویّوں، بدکرداری، جہالت، سماجی بے حسی، منفی سوچ اور ظلم جیسے پہلوؤں کو موضوع بنایا تھا۔ظالم اور مظلوم، قاتل اور مقتول کے واقعات نہ تو نئے ہیں اور نہ ہی تاریخ انہیں بھلا سکتی ہے۔ صدیوں سے انسان کسی نہ کسی صورت میں انسان ہی کے ہاتھوں ظلم و زیادتی کا شکار ہوتا آیا ہے۔میرے نزدیک اس سارے معاملے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ظالم بھی انسان ہے اور مظلوم بھی انسان۔ فرق صرف ہمارے رویّوں اور اعمال کا ہے۔انسان اپنی حقیقت میں انسان ہی رہتا ہے، لیکن بعض اوقات اپنے منفی رویّوں، نفرت، بے حسی اور بدکرداری کے ذریعے دوسرے انسان کے جذبات اور احساسات کو شدید تکلیف پہنچاتا ہے۔میں اپنی اس تحریر کے ذریعے اسی انسانی رویّے کی طرف توجہ دلانا چاہتی تھی کہ ہمیں انسان کو صرف ایک جسم یا کردار کے طور پر نہیں بلکہ ایک حساس وجود کے طور پر دیکھنا چاہیے، جس کے اپنے جذبات، احساسات اور دکھ ہوتے ہیں۔میرے خیال میں ادب کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ وہ انسان کو دوسرے انسان کی تکلیف محسوس کرنے اور اپنے رویّوں پر غور کرنے کا موقع فراہم کرے۔
سوال: آپ کے بچپن یا لڑکپن کا کوئی ایسا واقعہ ہے جس نے آپ کے لکھنے کی بنیاد رکھی؟
جواب:جی ہاں، مجھے اسکول کے زمانے ہی سے لکھنے کا شوق تھا۔ جب میں تقریباً چودہ پندرہ سال کی تھی تو میں نے باقاعدگی سے لکھنا شروع کیا، اگرچہ اس وقت پڑھائی کی مصروفیات کی وجہ سے میں اس شوق پر زیادہ توجہ نہیں دے پاتی تھی۔ابتدا میں میری تحریروں میں الفاظ تو بہت ہوتے تھے، لیکن تحریر میں وہ پختگی، مضبوطی اور تاثیر نہیں تھی۔ اس کے باوجود لکھنے کا شوق بہت زیادہ تھا اور میں مسلسل کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی تھی۔میرے لکھنے کے شوق کو پروان چڑھانے میں میرے استاد محمد ریاض سر کا بہت اہم کردار رہا۔ میں ان کا نام خاص طور پر لینا چاہوں گی، کیونکہ انہوں نے ہمیں اردو بہت اچھے اور دل چسپ انداز میں پڑھائی۔ان کی تدریس کی وجہ سے اردو زبان اور ادب میں میری دلچسپی مزید بڑھ گئی۔گھر کا ماحول بھی کسی حد تک ادبی تھا۔ گھر میں اردو اخبار آتا تھا اور والد صاحب دینی کتابیں پڑھنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ کمپیوٹر پر جون ایلیا، پروین شاکر اور راحت اندوری کو بھی سنا کرتے تھے، جبکہ غزلیں اور نظمیں سننے کا بھی شوق تھا۔میرے نانا جان بھی بچپن سے ہمارے لیے اردو زبان اور مطالعے سے متعلق کتابیں لایا کرتے تھے، جیسے ہلال، بچوں کی دنیا، نور، پیامِ تعلیم اور اردو دنیا وغیرہ۔ میں انہیں بہت شوق سے پڑھتی تھی اور شاید وہی مطالعہ میرے اندر لکھنے کی بنیاد بنتا چلا گیا۔جب میں نے سعادت حسن منٹو، منشی پریم چند، پطرس بخاری، کرشن چندر، امتیاز علی تاج اور دوسرے بڑے ادیبوں کی تحریریں پڑھیں تو ان کے اندازِ بیان اور خیالات نے مجھے بہت متاثر کیا۔ان کے افسانے، انشائیے اور مضامین پڑھ کر میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی اپنے خیالات کو لفظوں میں بیان کروں۔
میرے بھائی محمد عامر نے بھی میرے لکھنے کے شوق میں ہمیشہ میرا حوصلہ بڑھایا۔ وہ میری تحریریں پڑھتے، میری حوصلہ افزائی کرتے اور مجھے مسلسل لکھتے رہنے کی ترغیب دیتے تھے۔میں کبھی اپنی تحریریں والدہ کو سناتی، کبھی والد صاحب کو، اور گھر والوں کی حوصلہ افزائی سے میرے اندر اعتماد پیدا ہوتا گیا۔یوں استاد کی تربیت، نانا جان کی جانب سے مطالعے کا شوق، اچھے ادیبوں کی تحریروں کا مطالعہ اور گھر والوں، خصوصاً میرے بھائی کی حوصلہ افزائی،ان تمام چیزوں نے مل کر میرے اندر لکھنے کے شوق کو مضبوط کیا۔پھر میں لکھتی گئی، سیکھتی گئی اور وقت کے ساتھ ساتھ میری تحریر بھی بہتر ہوتی گئی۔
سوال: کیا آپ مستقبل میں اپنے افسانوں کا مجموعہ شائع کرنا چاہیں گی؟ اگر ہاں تو اس کا نام کیا ہوگا؟
جواب:ضرور۔ ان شاء اللہ میں افسانوں پر بھی باقاعدگی سے کام کروں گی اور مستقبل میں انہیں کتابی صورت میں شائع کرنے کی کوشش کروں گی۔ان میں کچھ افسانے مزاحیہ اور طنزیہ نوعیت کے بھی ہوں گے، جن کے ذریعے معاشرے کے مختلف رویّوں اور حالات کو دلچسپ انداز میں پیش کرنے کی کوشش ہوگی۔اس حوالے سے میرے ذہن میں چند عنوانات بھی ہیں،
مثلاً:
’’بڑی نازک صورتِ حال ہے‘‘
اور
’’زندہ ہوں صاحب!‘‘
اس کے علاوہ ’’میاں صاحب‘‘ کے نام سے ایک مجموعے پر بھی میرا کام جاری ہے۔ یہ ابھی شائع نہیں ہوا، لیکن میں اس پر مسلسل لکھ رہی ہوں۔
’’میاں صاحب‘‘ دراصل ایک ایسا کردار ہے جسے میں نے تخلیق کیا ہے اور اس کردار کے ذریعے مختلف سماجی رویّوں اور انسانی نفسیات کو طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔یہ کردار نگاری کی اس روایت سے متاثر ہے جس میں کسی منفرد کردار کے ذریعے معاشرتی رویّوں کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ ان شاء اللہ، مستقبل میں ’’میاں صاحب‘‘ کے حوالے سے ایک طویل اور دلچسپ سلسلہ قارئین کے سامنے آئے گا۔
اس کے علاوہ سماجی حقیقت، غربت، ناانصافی، جہالت اور معاشرتی بے حسی جیسے موضوعات کو بھی میں اپنی تحریروں کا حصہ بنانا چاہتی ہوں۔
اس سلسلے میں ’’آئینے کے پار‘‘، ’’خاموش چیخیں‘‘، ’’مٹی کے چراغ‘‘، ’’بے حسی کا جہاں‘‘، ’’شہرِ نایاب‘‘، ’’تلخ مسکراہٹیں‘‘، ’’پتھر کے لوگ‘‘ اور ’’جہالت کے بادشاہ‘‘ جیسے کئی موضوعات پر میرا کام جاری ہے۔میری کوشش ہے کہ طنز و مزاح کے ذریعے جہاں قاری کو مسکرانے کا موقع ملے، وہیں اسے اپنے معاشرے، اپنے اردگرد کے حالات اور انسانی رویّوں پر غور کرنے کی تحریک بھی ملے۔ان شاء اللہ، آنے والے وقت میں ان تمام موضوعات پر مزید لکھنے اور انہیں کتابی صورت میں قارئین تک پہنچانے کی خواہش ہے۔
سوال: اگر آپ کو اپنے کسی افسانے یا تحریر کو ویڈیو کی صورت میں پیش کرنے کا موقع ملے تو سب سے پہلے کس کا انتخاب کریں گی اور کیوں؟
جواب: جی ہاں، اس حوالے سے بھی میرا کام اور غور و فکر جاری ہے۔ میری خواہش ہے کہ ان شاء اللہ جلد اپنا ایک یوٹیوب چینل بھی شروع کروں، جس کے ذریعے اپنی تحریروں اور مختلف موضوعات سے متعلق معلومات لوگوں تک پہنچا سکوں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ میری تمام جائز دعاؤں کو قبول فرمائے اور میرے اس سفر کو کامیابی عطا کرے۔
ویڈیوز کے حوالے سے میری خواہش ہے کہ سب سے پہلے ’’خوف‘‘ کے موضوع پر ایک ویڈیو تیار کروں۔ اس کے بعد ’’فاختہ کشی نہیں ہوتی‘‘، ’’ٹیچر: پیشہ یا پریشانی‘‘، ’’بھائی‘‘ اور ’’امتحان‘‘ سمیت دیگر تحریروں کو بھی ویڈیو کی صورت میں پیش کرنے کا ارادہ ہے۔خاص طور پر ’’میاں صاحب‘‘ کے کردار کو بھی میں ایک دل چسپ بصری انداز میں پیش کرنا چاہتی ہوں۔ ممکن ہے کہ اسے کارٹون یا کسی منفرد مزاحیہ کردار کی شکل دی جائے، تاکہ اس کردار کی شرارت، مزاح اور سماجی طنز کو زیادہ مؤثر انداز میں لوگوں تک پہنچایا جا سکے۔
ماضی کے یادگار مزاحیہ کرداروں سے فنِ کردار نگاری کی سطح پر تحریک ضرور لی جا سکتی ہے، لیکن ’’میاں صاحب‘‘ کی اپنی ایک الگ شناخت ہوگی۔اس کے علاوہ ’’نل کھل گیا‘‘ سمیت میرے بہت سے دوسرے مضامین بھی ہیں، جن پر مستقبل میں ویڈیوز بنانے کا ارادہ ہے۔میری کوشش ہوگی کہ انہیں صرف روایتی انداز میں پڑھنے کے بجائے اسکرپٹ، کہانی اور ڈرامائی انداز میں پیش کیا جائے، تاکہ ناظرین انہیں دیکھنے کے ساتھ ساتھ محسوس بھی کر سکیں۔میری خواہش ہے کہ تحریر اور ویڈیو دونوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر ایک ایسا تخلیقی سفر شروع کروں جس میں ادب، طنز و مزاح، سماجی شعور اور تفریح سب ایک ساتھ شامل ہوں۔ان شاء اللہ، اگر اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا کی تو اس سفر کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید نئے موضوعات اور کردار بھی قارئین اور ناظرین کے سامنے پیش کروں گی۔
سوال: آپ کے خیال میں ایک قاری کے دل میں پہنچنے کے لیے افسانے میں سب سے ضروری چیز کیا ہونی چاہیے؟
جواب:اس ناچیز کے خیال میں قاری کے دل تک پہنچنے کے لیے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہم اپنے اردگرد کے ماحول اور حالاتِ حاضرہ کو مدنظر رکھیں۔ہمیں اپنے معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں، مسائل اور واقعات سے آنکھیں نہیں چرانا چاہئیں بلکہ انہیں غور سے دیکھنا اور سمجھنا چاہیے۔میری کوشش ہوتی ہے کہ حق اور سچ بات کو اس انداز میں پیش کیا جائے کہ وہ قاری تک بھی پہنچے اور اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ بھی لے آئے۔حالاتِ حاضرہ سے ہم آنکھ نہیں چرا سکتے، کیونکہ ایک لکھنے والے کے لیے اپنے عہد اور معاشرے سے باخبر رہنا بہت ضروری ہے۔
قاری کے دل تک پہنچنے کا ایک اور راستہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی تحریروں پر آنے والے ردِعمل کو سمجھیں۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ہماری کون سی تحریریں قارئین کو زیادہ متاثر کرتی ہیں، کن موضوعات میں ان کی دلچسپی زیادہ ہوتی ہے اور وہ کس اندازِ بیان کو پسند کرتے ہیں۔اس مشاہدے کی روشنی میں ہم اپنی تحریر کو مزید بہتر اور مؤثر بنا سکتے ہیں۔
میرے خیال میں قاری کے دل تک پہنچنے کے لیے صرف ایک موضوع کافی نہیں۔ ہمیں معاشرتی حالات، فکر، اخلاص، جہالت، علم، روشنی، انسانی کردار، تعلیم اور انٹرنیٹ سمیت زندگی کے مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کرنا چاہیے۔
ایک اچھا لکھنے والا اپنے عہد سے جڑا رہتا ہے، لوگوں کو دیکھتا ہے، ان کے مسائل کو محسوس کرتا ہے اور پھر ان احساسات کو اپنے الفاظ میں ڈھال کر قاری تک پہنچاتا ہے۔شاید یہی تعلق ایک تحریر کو قاری کے دل کے قریب لے جاتا ہے۔
سوال: افسانوں کے علاوہ کن اصنافِ ادب میں طبع آزمائی کی خواہش ہے؟
جواب:جی ہاں، افسانہ نگاری کے علاوہ میں نے مختلف موضوعات پر کئی کہانیاں بھی تحریر کی ہیں اور ان شاء اللہ اگر قارئین کی پسند اور دلچسپی رہی تو اس سلسلے کو ضرور جاری رکھوں گی۔مضمون نگاری بھی میری دلچسپی کا ایک اہم حصہ ہے اور میں نے مختلف موضوعات پر مضامین لکھے ہیں۔سفرنامے کے حوالے سے بھی میں نے ’’بس کا سفر‘‘ کے عنوان سے ایک تحریر لکھی ہے، جبکہ ’’دیہات کا سفر‘‘ کے نام سے بھی ایک مضمون پر کام جاری ہے، جو ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ان شاء اللہ مستقبل میں اسے مکمل کرکے شائع کرنے کی خواہش ہے۔
آپ بیتی کے میدان میں بھی میں نے کچھ منفرد موضوعات پر لکھنے کی کوشش کی ہے، مثلاً ’’ٹیچر: پیشہ یا پریشانی‘‘، ’’امتحان‘‘ اور ’’بھانجی کی آپ بیتی‘‘ جیسی تحریریں شامل ہیں۔میری خواہش ہے کہ آپ بیتی کو صرف انسان کی ذاتی زندگی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ مختلف کرداروں، معاشرتی مسائل اور بڑے انسانی واقعات کو بھی ایک منفرد انداز میں پیش کیا جائے۔اسی خیال کے تحت انسانیت اور معاشرتی حالات سے متعلق مختلف موضوعات پر بھی مستقبل میں کام کرنے کا ارادہ ہے۔ میری خواہش ہے کہ ان تمام تحریروں کو یکجا کرکے ایک مکمل کتاب کی صورت دی جائے۔
سوانح عمری کے حوالے سے میرے دل میں اپنے بڑے بھائی کے بارے میں لکھنے کی بہت خواہش ہے۔ انہوں نے میری زندگی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے میری پرورش، تربیت اور رہنمائی میں اہم حصہ لیا اور ہمیشہ میرے ساتھ شفقت اور محبت کا رویّہ رکھا۔میری خواہش ہے کہ ان کی شخصیت، ان کی قربانیوں اور میرے ساتھ ان کے تعلق کو الفاظ میں محفوظ کر سکوں۔
خودنوشت کے حوالے سے ابھی تک میں نے اپنی زندگی کے حالات کو باقاعدہ کتابی شکل میں نہیں لکھا، اگرچہ ڈائری کی طرح اپنے خیالات اور تجربات قلم بند کرنے کی عادت رہی ہے۔ان شاء اللہ مستقبل میں اپنی زندگی کے مختلف تجربات اور مشاہدات کو خودنوشت کی صورت میں پیش کرنے کی خواہش بھی ہے۔
اس کے علاوہ ڈرامہ نگاری، حالاتِ حاضرہ، رپورٹنگ اور مختلف واقعات کو اپنے مشاہدے کی بنیاد پر ادبی روداد کی شکل میں پیش کرنے کا بھی ارادہ ہے۔میری خاص دلچسپی مزاحیہ اور طنزیہ تحریروں میں ہے، لیکن اس کے ساتھ تنقیدی تحریروں، سائنسی موضوعات، تحقیقی معلومات اور تمثیلی ادب پر بھی کام کرنے کی خواہش رکھتی ہوں۔
مختصراً، میری خواہش یہ ہے کہ اردو ادب کی مختلف اصناف کو صرف پڑھنے تک محدود نہ رکھوں بلکہ اپنی بساط کے مطابق انہیں اپنی تحریروں کے ذریعے پیش کرنے کی کوشش کروں۔افسانہ، انشائیہ، مضمون، سفرنامہ، آپ بیتی، سوانح، خودنوشت، ڈراما، طنز و مزاح، تنقید اور تمثیل کے علاوہ پراسرار اور خوف سے متعلق ادب میں بھی طبع آزمائی کی خواہش ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات اور اسلامی واقعات کو بچوں کی دلچسپی کے مطابق تحریروں میں پیش کرنے کی بھی خواہش رکھتی ہوں، تاکہ نئی نسل ادب کے ساتھ ساتھ دین سے بھی آگاہی حاصل کر سکے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مجھے توفیق عطا فرمائے، میری نیک تمناؤں اور دعاؤں کو قبول فرمائے اور مجھے اتنی صلاحیت اور حوصلہ دے کہ میں اپنی ان تمام خواہشات کو عملی جامہ پہنا سکوں۔ان شاء اللہ، آنے والے وقت میں اپنی مختلف تحریروں اور تصانیف کے ذریعے قارئین کی خدمت میں حاضر ہونے کی کوشش کرتی رہوں گی۔
سوال: آپ کے افسانوں میں جو درد محسوس ہوتا ہے، کیا وہ وقت گزرنے کے ساتھ کم ہوا یا مزید بڑھ گیا؟
جواب:
شدتِ غم میں کمی نہ آئی ذرا بھی،
درد، درد ہی رہا؛ الٹا بھی لکھا، سیدھا بھی۔
شاید میری تحریروں سے درد جھلکتا ہو۔ ممکن ہے کہ وقت کے ساتھ میرے لکھنے کے انداز میں تبدیلی آئی ہو، اندازِ بیان میں پختگی پیدا ہوئی ہو اور الفاظ کو برتنے کا سلیقہ بہتر ہوا ہو، لیکن میرے اندر کا وہ بنیادی احساس آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔کبھی کبھی میں اسی درد کو طنز و مزاح کے پردے میں پیش کرنے کی کوشش کرتی ہوں، تاکہ ایک تلخ حقیقت قاری تک مسکراہٹ کے ساتھ پہنچ سکے۔کبھی خوف اور پراسرار فضا کے ذریعے اپنے احساسات کو بیان کرتی ہوں اور کبھی معاشرے میں ہونے والی ناانصافی، ظلم اور انسانی بے حسی کو اپنی تحریروں کا حصہ بنا دیتی ہوں۔میرے لیے اندازِ بیان مختلف ضرور ہو سکتا ہے، الفاظ بدل سکتے ہیں اور اظہار کا طریقہ بھی تبدیل ہو سکتا ہے، لیکن احساس شاید وہی رہتا ہے۔ممکن ہے یہی احساس میری تحریروں کی پہچان ہو، یا شاید یہی وہ چیز ہو جو قاری کو میری تحریر سے جوڑتی ہے اور مجھے بار بار قلم اٹھانے پر مجبور کرتی ہے۔
سوال: مستقبل میں آپ کن موضوعات پر قلم اٹھانے کی خواہش مند ہیں؟ اور آپ اپنے قارئین، خصوصاً نوجوان نسل کو اردو کے فروغ کے حوالے سے کیا پیغام دینا چاہیں گی؟
جواب:میرے نزدیک ایک مصنفہ کا قلم محض اظہارِ خیال کا وسیلہ نہیں بلکہ معاشرے کا آئینہ اور انسانی احساسات کا ترجمان بھی ہوتا ہے۔میری کوشش رہتی ہے کہ اپنی تحریروں کے ذریعے ان حقیقتوں کو اجاگر کروں جنہیں ہم روزمرہ زندگی میں دیکھتے تو ہیں، مگر اکثر ان سے صرفِ نظر کر جاتے ہیں۔غربت، ناانصافی، ظلم، معاشرتی بے حسی اور انسانی رویّوں کی تلخیوں کو میں اپنے مخصوص اندازِ بیان میں پیش کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔کبھی طنز و مزاح کے لطیف پیرایے میں کسی تلخ حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہوں، کبھی سنجیدہ اور فکر انگیز انداز اختیار کرتی ہوں اور کبھی جذبات کی گہرائیوں میں اتر کر اپنے احساسات کو الفاظ کا جامہ پہناتی ہوں۔میری خواہش ہوتی ہے کہ میری تحریر قاری کے دل کو چھوئے، اس کے احساس کو بیدار کرے اور اسے اپنے اردگرد کے حالات پر غور و فکر کرنے پر آمادہ کرے۔میرے نزدیک ادب کی حقیقی معنویت یہی ہے کہ لفظ محض پڑھے نہ جائیں بلکہ دل میں اتر جائیں، شعور کو بیدار کریں اور انسان کو دوسرے انسان کے دکھ، درد اور احساسات کو سمجھنے کا حوصلہ عطا کریں۔
قارئین کے نام پیغام:اردو سے محبت، اپنی شناخت سے محبت:
میں اپنے قارئین کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ہماری تہذیبی شناخت، ہماری تاریخ، ہمارے جذبات اور ہمارے اجتماعی شعور کی ایک گراں قدر امانت ہے۔یہ وہ زبان ہے جس میں ہمارے بزرگوں کے افکار، اہلِ قلم کے تخلیقی کمالات اور نسلوں کے تجربات محفوظ ہیں۔ اس لیے اردو سے محبت دراصل اپنی تہذیب، اپنی روایت اور اپنی شناخت سے محبت ہے۔آج کے تیز رفتار اور جدید دور میں، جہاں دوسری زبانوں کا غلبہ بڑھتا جا رہا ہے، ہمیں اپنی اردو زبان سے غفلت نہیں برتنی چاہیے۔ہمیں چاہیے کہ اردو کی کتابیں پڑھیں، عمدہ ادب کا مطالعہ کریں، اپنے خیالات کو خوب صورت اور شستہ اردو میں بیان کرنے کی کوشش کریں اور نئی نسل کو بھی اس زبان کی شیرینی، وسعت اور معنویت سے روشناس کرائیں۔
میرا پیغام خصوصاً نوجوانوں کے لیے یہ ہے کہ اردو کو محض ایک درسی مضمون سمجھ کر محدود نہ کریں۔یہ ایک وسیع اور زرخیز ادبی دنیا ہے، جس میں فکر کی گہرائی بھی ہے، جذبات کی لطافت بھی، الفاظ کی نزاکت بھی اور اظہار کی بے پناہ وسعت بھی۔اگر ہم اردو پڑھیں گے، لکھیں گے اور اسے اپنی روزمرہ زندگی میں وقار کے ساتھ برتیں گے تو یہ زبان مزید توانا اور تابندہ ہوگی۔میری نظر میں زبانیں صرف گفتگو کا وسیلہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ قوموں کی یادداشت اور تہذیب کی محافظ بھی ہوتی ہیں۔لہٰذا اردو کو فراموش کرنے کے بجائے اسے سینے سے لگانا، اس کی ترویج و اشاعت میں اپنا حصہ ڈالنا اور اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔اردو ہماری شناخت ہے، ہماری محبت ہے اور ہماری تہذیبی میراث ہے۔ اسے زندہ رکھنا دراصل اپنے ماضی کو محفوظ اور اپنے مستقبل کو روشن رکھنا ہے۔
میں اپنے تمام قارئین، اہلِ قلم، اساتذہ، بزرگوں اور ان تمام افراد کی دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے تحریری سفر میں کسی نہ کسی انداز میں میری حوصلہ افزائی کی۔میرا سفر ابھی جاری ہے۔ میں سیکھ رہی ہوں، پڑھ رہی ہوں، مشاہدہ کر رہی ہوں اور اپنے احساسات کو لفظوں میں ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ممکن ہے کہ میری تحریروں میں خامیاں ہوں، ممکن ہے کہ مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہو، لیکن لکھنے کی خواہش اور ادب سے محبت میرے لیے ایک مسلسل سفر ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اخلاص کے ساتھ لکھنے کی توفیق عطا فرمائے، میرے قلم کو سچائی، بھلائی اور انسانیت کے لیے استعمال ہونے کی صلاحیت دے اور میری تحریروں کو کسی نہ کسی دل میں سوچ، احساس اور امید کی ایک چھوٹی سی روشنی پیدا کرنے کا ذریعہ بنائے۔ان شاء اللہ، یہ سفر جاری رہے گا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے