कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رودادِ علمی و تربیتی نشست بعنوان: ’تعلیم: آج کے تقاضے، کل کے امکانات‘

ناندیڑ: 24؍اگست (راست) مجلسِ انتظامیہ مدرسہ مدینۃ العلوم ہائی اسکول، ناندیڑ کے زیرِ اہتمام اساتذہ کے لیے ایک جامع علمی و تربیتی نشست بعنوان ’’ تعلیم: آج کے تقاضے، کل کے امکانات ‘‘نرہر کرندکر سبھا گرہ، پیپلز کالج کیمپس، اسنیہ نگر، ناندیڑ میں منعقد ہوئی۔ پروگرام کی کنوینر شپ مدرسہ کے سینئر ٹیچر جناب محمد شکیل صاحب نے انجام دی۔ نشست کی صدارت صدرِ مجلسِ انتظامیہ جناب شفیع احمد قریشی صاحب نے فرمائی، جبکہ جناب سید تنویر احمد صاحب ، سیکریٹری مرکزی تعلیمی بورڈ نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے اساتذہ کے لیے خصوصی تربیتی سیشن پیش کیا۔پروگرام کا آغاز حافظ زبیر صاحب کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں جناب مسعود اختر صاحب نے پروگرام کا تعارف پیش کیا اور جناب اسلم فیروز صاحب نے نشست کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ پرائمری اسکول کی صدر معلمہ محترمہ فہیم خاتون صاحبہ نے مہمانِ خصوصی جناب سید تنویر احمد صاحب کا تعارف پیش کیا۔اس کے بعد جناب سید تنویر احمد صاحب نے ’’اساتذہ کے ساتھ علمی و فکری مکالمہ‘‘ کے عنوان سے خصوصی تربیتی سیشن پیش کیا۔ انہوں نے موجودہ تعلیمی منظرنامے، NEP 2020 کے تقاضوں اور جدید تدریسی طریقۂ کار پر گفتگو کرتے ہوئے طلبہ مرکز تعلیم کی اہمیت واضح کی۔ ان کے مطابق موجودہ دور میں استاد کا کردار محض معلومات منتقل کرنے تک محدود نہیں، بلکہ وہ طلبہ کی صلاحیتوں کو پہچاننے، انہیں نکھارنے، سیکھنے کے لیے آمادہ کرنے اور صحیح سمت فراہم کرنے والا رہنما، محرک اور سہولت کار ہے۔ انہوں نے روایتی Passive Learner Classroom کے بجائے Active Learner Classroom کو فروغ دینے پر زور دیا، جہاں طلبہ محض سننے والے نہ ہوں بلکہ سوال، گفتگو، مشاہدہ، غور و فکر اور عملی سرگرمیوں کے ذریعے سیکھنے کے عمل میں فعال کردار ادا کریں۔
تربیتی سیشن میں بالخصوص درج ذیل پانچ اہم تدریسی مہارتوں پر عملی مشق کرائی گئی:
۔1. Instructional Learning اور مؤثر تدریسی عمل
۔2. I Do – We Do – You Do طریقۂ تدریس
۔3. Lesson Planning اور سبق کی مؤثر منصوبہ بندی
4. جماعت میں طلبہ کو زیادہ سے زیادہ عملی کام میں شامل کرنا
5. طلبہ کی تعلیمی سطح اور صلاحیت کے مطابق گروپ بندی۔
۔I Do – We Do – You Do طریقۂ تدریس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ابتدا میں استاد کسی کام یا تصور کا نمونہ خود پیش کرے، اس کے بعد طلبہ استاد کی رہنمائی میں اجتماعی طور پر اسے انجام دیں اور آخر میں طلبہ خود اس کام کو انجام دینے کے قابل ہوں۔ اس طریقے سے طلبہ میں خود اعتمادی، عملی مہارت اور خود سیکھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔
اسی طرح Lesson Planning کے حوالے سے سبق کے واضح مقاصد، دستیاب وقت کی مؤثر تقسیم، مناسب تدریسی سرگرمیوں، طلبہ کی شرکت اور جائزۂ تعلم کو اہم قرار دیا گیا۔ اس کے ساتھ FLN (Foundational Literacy and Numeracy)، Competency Based Education، Discussion-Oriented Pedagogy، طلبہ کے انفرادی تعلیمی فرق اور Classroom Management جیسے اہم موضوعات پر بھی رہنمائی فراہم کی گئی۔
نشست کی اہم خصوصیت یہ رہی کہ تربیتی نکات کو محض نظری گفتگو تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ اساتذہ کو مختلف سرگرمیوں اور عملی مشقوں کے ذریعے ان تدریسی طریقوں کا تجربہ بھی کرایا گیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اساتذہ تربیت میں حاصل ہونے والی مہارتوں کو براہِ راست اپنی جماعتی تدریس میں استعمال کرسکیں۔
تربیتی سیشن کے اختتام پر اساتذہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ سیکھے گئے طریقۂ تدریس کو اپنی روزمرہ تدریس کا حصہ بنائیں گے اور بالخصوص I Do – We Do – You Do، مؤثر Lesson Planning، طلبہ کی عملی شرکت اور مناسب گروپ بندی کو جماعتی عمل میں دیانت داری کے ساتھ بروئے کار لائیں گے۔ اس طرح یہ نشست محض معلومات کے تبادلے کے بجائے تدریسی عمل میں عملی بہتری کی جانب ایک مؤثر قدم ثابت ہوئی۔
پروگرام کی ترتیب و تنظیم میں مدرسہ کے مدرسین جناب عبدالحسیب صاحب اور جناب حبیب مسعود علی صاحب ودیگر اساتذہ نے بھرپور تعاون کیا۔ اسکول کی صدر معلمہ محترمہ صفیہ آصف خان صاحبہ نے بھی انتظامی امور میں معاونت کرتے ہوئے پروگرام کے کامیاب انعقاد میں اپنا کردار ادا کیا۔ تمام متعلقہ افراد کی باہمی معاونت سے نشست منظم اور خوش اسلوبی سے اپنے اختتام تک پہنچی۔
اختتامی کلمات میں صدرِ مجلسِ انتظامیہ جناب شفیع احمد قریشی صاحب نے نشست کی افادیت کو سراہتے ہوئے اس امر کا یقین دلایا کہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ اور تدریسی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے آئندہ بھی اس نوعیت کی علمی و تربیتی ورکشاپس کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اساتذہ کی مسلسل تربیت ہی ادارے کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور طلبہ کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
آخر میں تمام شرکائے نشست، منتظمین اور بالخصوص مہمانِ خصوصی جناب سید تنویر احمد صاحب کا شکریہ ادا کیا گیا۔ اس طرح یہ نشست ایک بامقصد، معلوماتی، عملی اور فکر انگیز تربیتی پروگرام کی حیثیت سے اختتام پذیر ہوئی۔
’’ استاد پر کی گئی سرمایہ کاری، دراصل قوم کے روشن مستقبل پر کی گئی بہترین سرمایہ کاری ہے ۔‘‘

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے