कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سچا عاشقِ رسول صلّی اللہ علیہ وسلم

از قلم : عبدالکریم اشعر
(اردهاپور ،ضلع ناندیڑ مہاراشٹر )

اتباع سنت ہی عشقِ رسول کا پیمانہ اور عملی اظہار ہے، سچّا عاشقِ رسول سنتوں کا شیدائی ہوتا ہے ،(کیونکہ اُس کے پیشِ نظر اپنے نبی کا یہ فرمان ہوتا ہے ”جس نے میری سنت سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی، وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔” تاریخ ابن عساکر:۳؍۱۴۵)،
سچّا عاشقِ رسول بدعتوں کا منکر ہوتا ہے (کیونکہ اُس کے نبی نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ "بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمدﷺ کا طریقہ ہے اور بدترین کام دین میں نئی چیز(بدعت) ایجاد کرنا ہے اورہربدعت گمراہی ہے۔صحیح مسلم:۸۶۷ )،
وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کی پیروی کرتا ہے (کیونکہ اُسے اپنے رب کا یہ فرمان اچھی طرح پتہ ہے ،”اے نبیؐ! لوگوں سے کہہ دو کہ، اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو میر ی پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے”سورہ آل عمران آیت 31)،
وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول پر کسی کے قول کو ترجیح نہیں دیتا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اُسے دنیا کی ہر چیز ، ہر شخص اپنے ماں باپ آل اولاد حتٰی کے اپنی جان سے زیادہ پیاری ہوتی ہے (کیونکہ وہ اپنے نبی کے اس فرمان سے واقف ہے "تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک مومنِ کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اُس کے بال بچے ،والد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ,صحیح مسلم ) ،
وہ اپنا آئیڈیل ،رہنما، لیڈر ،ہادی و رہبر صرف اور صرف اپنے نبی کو مانتا ہے (کیونکہ اُس کے پیشِ نظر اپنے رب کا یہ فرمان ہوتا ہے ،”در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے”سورہ احزاب آیت 21)،
وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف زبانی مُحبّت کا دعویٰ نہیں کرتا بلکہ آپ کی سنتوں پر اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر عمل کر کے اپنی محبت کا عملی ثبوت دیتا ہے وہ اپنی تمام خواہشات کو اپنے نبی کی لائی ہوئی شریعت کے تابع کر دیتا ہے (کیونکہ اُسے اپنے نبی کے اس فرمان کا علم ہوتا ہے ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنی خواہشات کو میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ کردے۔” مشکوٰۃ للالبانی:۱۶۷)،
وہ صرف ربیع الاول کے مہینے میں آپ سے محبّت کا اظہار نہیں کرتا بلکہ اس کی پوری زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں گزرتی ہے (کیونکہ اُسے اپنے نبی کا یہ فرمان اچھی طرح یاد ہوتا ہے "میری اُمت کا ہر شخص جنت میں داخل ہوگا، سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔ صحابہؓ نے پوچھا: اے اللہ کے رسولؐ وہ کون شخص ہے جس نے (جنت میں جانے سے) انکار کیا؟ آپؐ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے انکار کیا۔” صحیح بُخاری)،
اور یوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبّت سے اُس کی ہر سانس سرشار ہوتی ہے ۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کو خود پر اور اللہ کی زمین پر نافذ کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتا ہے اور اس مقصد کے لیے وقت پڑنے پر وہ جان و مال کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار رہتا ہے ۔
اللہ نبی آخر الزماں جنابِ محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر اُمتی کو آپؐ کا سچّا عاشق بنا دے اورآپؐ سے اپنے عشق کا لسانی و قلبی اقرار اور عملی اظہار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے