कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایک نکاح ایسا بھی:سادگی، سنت و اصلاح معاشرہ کی روشن مثال

تحریر: مفتی سید شہاب الدین صاحب
اِمام و خطیب مدینہ مسجد (مرکز) ملکہ پور ضلع بلڈ انہ مہاراشٹر

ملکاپور: 18/ اگست ( محمد احسان سر ) آج آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کی جانب سے ملک بھر میں آسان اور مسنون نکاح مہم کے تحت مسلسل پیش رفت جاری ہے خصوصاً صوبہ مہاراشٹر میں اس مہم کے مثبت اثرات متعدد مقامات پر دیکھنے کو مل رہے ہی ابھی حال ہی میں مہاراشٹر کے ضلع بلڈھانہ کے شہر پیپل گاؤں کالے میں حضرت مولانا محمود بیگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ واصلاح معاشرہ کمیٹی علاقہ برار کے صدرکی سرپرستی ودست بابرکت سے اس طرز پر نکاح ہوا کہ مرزا نعیم بیگ کی دختر نیک اخترکا نکاح شہر اندور سے تعلق رکھنے والے سید آصف صاحب کے فرزند جناب سید کاشف صاحب کا نکاح بتاریخ 18 اگست 2026 بروز منگل جامع مسجد ملا جی پورہ میں نہایت سادگی کے ساتھ سنت و شریعت کے مطابق رشتہِ ازدواج میں منسلک ہوگئے.
”بَارَكَ اللَّهُ لَھما، وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَجَمَعَ بَيْنَھمَا فِي خَيْرٍ“، یعنی اللہ تعالیٰ ان دونوں کے نکاح کو مبارک فرمائے اللہ ان پر اپنی برکتوں کا نزول فرمائے اور زوجین کو بہترین طریقے پر جمع رکھے۔آمین
اس تقریب سعید میں خاص بات دیکھنے کو یہ ملی کہ آسان اور مسنون نکاح کے سلسلہ میں بورڈ کی جانب سے جو اقرار نامہ شائع کیا گیا ہے جس میں نکاح سے متعلق اہم ہدایات موجود ہیں اس کی اس نکاح کی تقریب میں پوری پوری تعمیل کرنے کی کوشش کی گئی اور اقرار نامے کی تقریباً تمام کے تمام شقوں پر عمل کیا گیا، تاکہ حاضرین کی بستی گھروں تک آسان و مسنون نکاح کی اہمیت و افادیت پہونچے
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کی جانب سے شائع کردہ اقرار نامہ کی روشنی میں جہیز کی لعنت سے سماج کو پاک کرنے اور آسان اور مسنون نکاح کے انعقاد کے سلسلے میں حاضرین سے عہد و اقرار بھی لیا گیا کہ وہ نکاح کو آسان اور مسنون طریقہ پر انجام دیں گے. حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ” اے علی! تین چیزوں میں دیر نہ کرو: نماز میں جب اس کا وقت ہو جائے، جنازہ میں جب آجائے، اور عورت (کے نکاح میں ) جب تمہیں اس کا کوئی کفو (ہمسر) مل جائے۔(سنن ترمذی)
ایک روایت میں ہےکہ: "حضرت ابو سعيد اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروي ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اس کی ذمہ داری ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے، بالغ ہونے پر اس کی شادی کرے، اگر شادی نہیں کی اور اولاد نے کوئی گناہ کرلیا تو باپ اس جرم میں شریک ہوگا اور گناہ گار ہوگا۔(مشکوۃ المصابیح)
یقینا نکاح کا مقصد اپنے دین وایمان کی حفاظت اور فتنوں سے بچنے کی کوشش ہے،تو کیا آپ اس قیمتی سرمائے کو بچانے کی فکر نہیں کریں گے؟ اگر نہیں تو یہ بے حد افسوس اور دکھ کی بات ہے .
ہم دیکھتے ہیں کہ معاصی کا رواج بڑھتا جارہا ہے ، مرد و زن میں دوستیوں کی عادت عام ہو چکی ہے ، بے پردگی کا طوفان سرایت کرچکا ہے ، بازاروں میں اختلاط ،تعلیمی اداروں میں اختلاط، سفر میں اختلاط ،حضر میں اختلاط ،تفریحی مقامات بے پردگی کے مراکز اور جگہ جگہ بد نظری کے مواقع کا عام ہوجانا اور جرأت کے ساتھ اپنے فسق و فجور کی روداد کا سنانا۔ ایسے میں یہ ایک مثالی نکاح ہے.

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے