कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

پیغامِ رحمتِ عالمﷺ اور بیٹی کا حقِ حیات: نسوانی جنین کشی ایک تہذیبی المیہ (اوّل و دوّم)

Message of the Mercy to All ﷺ and a Daughter’s Right to Life: Female Foeticide —A Civilizational Tragedy

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

حصّہ اوّل:
کسی معاشرے کی تہذیبی عظمت کا اندازہ صرف اس کی بلند عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی، شرحِ خواندگی، معاشی ترقی یا سائنسی کامیابیوں سے نہیں ہوتا؛ اصل سوال یہ ہے کہ وہ معاشرہ کمزور، بے آواز اور بے اختیار انسان کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے؟ اور اگر وہ بے آواز انسان ابھی دنیا میں آیا ہی نہ ہو، اگر وہ ایک ننھی سی جان ہو جس نے ابھی اپنی پہلی سانس بھی نہ لی ہو، اگر اس کا جرم صرف یہ ہو کہ وہ بیٹی ہے، تو پھر مسئلہ محض ایک طبی یا قانونی جرم نہیں رہتا؛ یہ انسان کے ضمیر، خاندان کی اخلاقیات، معاشرتی اقدار اور پوری تہذیب کے کردار کا امتحان بن جاتا ہے۔
نسوانی جنین کشی اسی المیے کا ایک جدید اور نہایت پیچیدہ مظہر ہے۔ قدیم معاشروں میں بیٹی کو زندہ دفن کرنے کی جو صورتیں تاریخ میں ملتی ہیں، جدید دنیا میں اسی ذہنیت نے ٹیکنالوجی کا لباس پہن لیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے بچّی کو زمین میں دفن کیا جاتا تھا، آج بعض حالات میں اسے رحمِ مادر میں ہی زندگی سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ کتنی بچیاں پیدا ہونے سے پہلے دنیا سے رخصت ہوگئیں؛ سوال یہ بھی ہے کہ وہ ذہنیت کیوں پیدا ہوئی جو بیٹی کو نعمت کے بجائے بوجھ سمجھتی ہے؟ اسی مقام پر رسولِ رحمت حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی تعلیمات ہمارے سامنے ایک ایسا اخلاقی، روحانی اور انسانی منشور رکھتی ہیں جو بیٹی کو کم تر نہیں، بلکہ رحمت، ذمّہ داری، امانت اور اجر کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔
نسوانی جنین کشی سے مراد ایسی جنس پر مبنی انتخابی کارروائی ہے جس میں حمل کے دوران جنین کی جنس معلوم کرکے، اگر وہ لڑکی ہو، حمل کو ختم کر دیا جائے۔ جدید طبی ٹیکنالوجی، خصوصاً الٹراساؤنڈ اور دیگر تشخیصی ذرائع کے غلط استعمال نے اس عمل کو بعض معاشروں میں ممکن بنایا ہے۔ UNFPA کے مطابق ہندوستان میں جنس کے تعین کے بعد لڑکی کے جنین کو ختم کرنے کا عمل gender-biased sex selection کے بڑے مظاہر میں شامل ہے، اور بیٹے کی ترجیح، کم ہوتی ہوئی شرحِ تولید اور ٹیکنالوجی تک رسائی اس مسئلے کے اہم عوامل ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ہر اسقاطِ حمل کو نسوانی جنین کشی کہنا درست نہیں۔ طبی ضرورت، ماں کی صحت یا دیگر جائز طبی اسباب سے ہونے والا حمل کا خاتمہ اس مسئلے سے الگ ہے۔ یہاں بحث اس مخصوص رویے پر ہے جس میں جنین کی جنس، بالخصوص لڑکی ہونا، اسے ختم کرنے کی بنیادی وجہ بن جائے۔
اس مسئلے کی سنگینی جذباتی بیانات سے زیادہ اعداد و شمار سے بھی واضح ہوتی ہے۔ ہندوستان کی مردم شماری 2011ء کے مطابق 0–6 سال کی عمر کے بچّوں میں صنفی تناسب تقریباً 919 لڑکیاں فی 1000 لڑکے تھا، جو 2001ء میں 927 اور 1991ء میں 946 تھا۔ سرکاری اور تحقیقی مواد میں اعداد کے معمولی فرق کی وجہ تعریف، ماخذ اور شماریاتی طریقۂ کار میں اختلاف ہوسکتا ہے، مگر بنیادی رجحان واضح ہے: بچّوں کی آبادی میں لڑکیوں کا تناسب طویل عرصے تک تشویش ناک طور پر کم رہا۔ UNFPA کی ایک اہم تحقیق نے اندازہ لگایا کہ 2011ء کی مردم شماری کے وقت 0–6 سال کی عمر میں تقریباً 40 لاکھ لڑکیاں "missing” شمار ہوتی تھیں؛ اس تخمینے میں تقریباً 25 لاکھ کو قبل از پیدائش صنفی انتخاب اور تقریباً 15 لاکھ کو پیدائش کے بعد لڑکیوں کی اضافی اموات سے جوڑا گیا۔
یہاں "missing girls” کا مفہوم سمجھنا ضروری ہے۔ اس سے مراد ایسی لڑکیوں کی تخمینی تعداد ہے جو اگر صنفی امتیاز، انتخابی اسقاط یا لڑکیوں کے خلاف بعد از پیدائش امتیازی رویوں کا سامنا نہ کرتیں تو آبادی میں موجود ہوتیں۔ UNFPA کی ایک اور تحقیق کے مطابق 2001ء–2008ء کے دوران ہندوستان میں جنس پر مبنی انتخاب کے نتیجے میں سالانہ تقریباً 5.7 لاکھ لڑکیوں کے پیدائش سے محروم رہنے کا تخمینہ پیش کیا گیا تھا۔ یہ مختلف مطالعات کے مخصوص ادوار اور طریقۂ کار سے متعلق تخمینہ ہے، اس لیے اسے موجودہ سال کا براہِ راست عدد سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
نسوانی جنین کشی کو صرف جدید طبی مسئلہ سمجھنا اس کی جڑوں کو نظر انداز کرنا ہے۔ اس کے پس منظر میں صدیوں سے موجود وہ سماجی تصورات کار فرما رہے ہیں جن میں بیٹے کو خاندان کا وارث سمجھا گیا؛ بیٹی کو معاشی بوجھ تصور کیا گیا؛ جہیز نے بیٹی کی پیدائش کو مالی پریشانی سے جوڑ دیا؛ بوڑھے والدین کے سہارا بننے کی ذمّہ داری زیادہ تر بیٹوں سے وابستہ کی گئی؛ خاندانی نام اور جائیداد کو مردانہ تسلسل سے جوڑا گیا؛ عورت کے مقام کو ثانوی سمجھنے والی روایات نے جنم لیا؛ اور مذہبی و ثقافتی تصورات کو بعض اوقات غلط تعبیرات کے ذریعے صنفی ترجیح کے لیے استعمال کیا گیا۔ UNFPA کے مطابق ہندوستان میں gender-biased sex selection ایک پیچیدہ سماجی و معاشی اور ثقافتی عوامل کے جال سے پیدا ہوتی ہے، جس میں son preference، کم ہوتی fertility اور ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو اہم عوامل سمجھا جاتا ہے۔ یوں جدید ٹیکنالوجی نے قدیم تعصب کو ختم نہیں کیا؛ بعض حالات میں اسے صرف زیادہ خاموش، زیادہ پوشیدہ اور زیادہ مؤثر بنا دیا۔
نسوانی جنین کشی کے پیچھے سب سے طاقتور تصورات میں سے ایک یہ ہے کہ "بیٹا مستقبل کا سہارا ہے، بیٹی دوسرے گھر چلی جائے گی”۔ یہ تصور محض ایک جملہ نہیں؛ یہ پورے سماجی ڈھانچے کا اظہار ہے۔ جب معاشرہ بیٹے کو وارث + کفیل + بڑھاپے کا سہارا + خاندان کے نام کا محافظ اور بیٹی کو خرچ + جہیز + ذمّہ داری + عارضی رکن سمجھنے لگے تو پھر جنس کا فرق صرف حیاتیاتی فرق نہیں رہتا بلکہ معاشی قدر کا فرق بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اصلاح کی ضرورت ہے۔ اگر والدین اپنی بیٹی کی تعلیم کو سرمایہ سمجھیں، اگر اسے جائیداد میں قانونی و اخلاقی حق ملے، اگر اس کی معاشی خود کفالت کو فروغ دیا جائے، اگر شادی کو مالی نمائش کے بجائے ذمّہ دارانہ معاشرتی رشتہ سمجھا جائے، اور اگر بڑھاپے میں والدین کی خدمت کو صرف بیٹوں سے مخصوص نہ سمجھا جائے، تو بیٹی کے بارے میں معاشی خوف کا ایک بڑا حصّہ خود بخود کم ہوسکتا ہے۔
یہ خیال کہ نسوانی جنین کشی صرف غربت یا جہالت کا مسئلہ ہے، تحقیق کے سامنے مکمل طور پر درست ثابت نہیں ہوتا۔ ایک معروف ہندوستانی مطالعے میں 1990ء سے 2005ء کے اعداد کا جائزہ لیتے ہوئے یہ مشاہدہ سامنے آیا کہ بعض حالات میں، خصوصاً پہلے بچّے کے لڑکی ہونے کے بعد اگلی پیدائشوں میں صنفی تناسب کا بگاڑ زیادہ نمایاں تھا؛ تحقیق میں زیادہ تعلیم یافتہ اور نسبتاً خوش حال خاندانوں میں بھی بعض صورتوں میں اس رجحان کی موجودگی سامنے آئی۔ اس سے ایک اہم نتیجہ سامنے آتا ہے: تعلیم اور شعور ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ ڈگری انسان کو معلومات دے سکتی ہے؛ مگر ضروری نہیں کہ وہ اسے اخلاقی بصیرت بھی دے۔ ایک ڈاکٹر اگر جدید مشین استعمال کرکے بیماری کی تشخیص کرے تو علم انسانیت کی خدمت بنتا ہے؛ لیکن اگر وہی ٹیکنالوجی کسی غیر پیدا شدہ بچی کی جنس معلوم کرکے اسے ختم کرنے کا ذریعہ بن جائے تو علم، اخلاق سے جدا ہوکر ظلم کا آلہ بن جاتا ہے۔ اس لیے مسئلے کا حل صرف literacy نہیں بلکہ ethical literacy بھی ہے۔
ہندوستان نے جنس کے انتخاب اور قبل از پیدائش تشخیصی تکنیکوں کے غلط استعمال کے خلاف قانونی نظام قائم کیا ہے۔ Pre-Conception and Pre-Natal Diagnostic Techniques (Prohibition of Sex Selection) Act, 1994ء، جسے 2003ء میں مزید مضبوط کیا گیا، جنس کے انتخاب کی ممانعت اور قبل از پیدائش تشخیصی تکنیکوں کے ضابطے کے لیے بنیادی قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس قانون کا مقصد جنس کے تعین اور اس کے نتیجے میں ہونے والی female foeticide کی روک تھام بھی ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنے کی ضرورت ہے: قانون جرم کو روک سکتا ہے، مگر ذہنیت کو تنہا تبدیل نہیں کرسکتا۔ اگر خاندان بیٹے کو نعمت اور بیٹی کو بوجھ سمجھتا رہے، اگر سماج جہیز کو معمول سمجھتا رہے، اگر بیٹی کے وراثتی حق کو عملی طور پر کمزور کیا جاتا رہے، اور اگر معاشرتی عزت کو لڑکے کی پیدائش سے جوڑا جاتا رہے، تو صرف قانونی دفعات مسئلے کی جڑ تک نہیں پہنچ سکتیں۔ قانون ضروری ہے؛ مگر قانون + اخلاق + تعلیم + سماجی اصلاح + معاشی انصاف ہی پائیدار حل پیدا کرتے ہیں۔
قرآنِ مجید نے بیٹی کی پیدائش پر چہرہ سیاہ کرنے والے جاہلی رویے کو نہایت مؤثر انداز میں بے نقاب کیا: "جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خبر دی جاتی تو اس کا چہرہ غم سے سیاہ پڑ جاتا”۔ پھر قرآن اس ذہنیت کے اس انتہائی انجام کو بیان کرتا ہے کہ وہ اسے ذلت کے ساتھ رکھے یا مٹی میں دبا دے—اور اسے انتہائی برا فیصلہ قرار دیتا ہے۔ یہ آیات صرف قدیم عرب کے ایک واقعے کی تاریخ نہیں ہیں۔ ان کا پیغام ہر اس ذہن کے لیے ہے جو بچّے کی قدر اس کی جنس سے طے کرتا ہے۔ جاہلیت کی ایک شکل یہ تھی کہ بیٹی پیدا ہونے پر باپ شرمندہ ہوتا تھا۔ جدید جاہلیت کی ایک شکل یہ ہوسکتی ہے کہ بیٹی پیدا ہی نہ ہونے دی جائے۔ فرق طریقے کا ہے؛ تعصب کی بنیاد ایک ہوسکتی ہے۔
سورۂ تکویر میں قیامت کے ہولناک منظر میں ایک سوال اٹھایا جاتا ہے: "اور جب زندہ دفن کی جانے والی بچّی سے پوچھا جائے گا کہ اسے کس گناہ کے بدلے قتل کیا گیا؟”۔ یہ آیت انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ وہ بچّی مجرم نہیں تھی۔ اس نے کسی کا حق نہیں مارا تھا۔ اس نے کسی کا مال نہیں لوٹا تھا۔ اس نے کوئی جرم نہیں کیا تھا۔ اس کا "جرم” صرف یہ تھا کہ وہ لڑکی تھی۔ اسلام نے اس نام نہاد جرم کو جرم نہیں، ظلم قرار دیا۔ اور یہی نسوانی جنین کشی کے خلاف اسلامی اخلاقی مقدمے کی بنیاد ہے۔
رسول اللہﷺ کی تعلیمات نے بیٹی کو معاشرتی بوجھ کے تصور سے نکال کر رحمت، تربیت، ذمّہ داری اور آخرت کے اجر سے جوڑ دیا۔ ایک روایت میں حضرت انسؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہﷺ نے دو بیٹیوں کی کفالت اور پرورش کرنے والے کے لیے جنت کی بشارت دی۔ ایک دوسری روایت میں دو بیٹیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کو جنت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اور ایک روایت میں حضرت عائشہؓ کے سامنے ایک عورت اور اس کی دو بیٹیوں کا واقعہ آتا ہے۔ اس عورت نے اپنے پاس موجود کھجوروں میں اپنی بیٹیوں کو ترجیح دی؛ رسول اللہﷺ نے اس کے اس عمل کو جنت سے جوڑا۔ یہاں اسلام کا زاویۂ نظر بنیادی طور پر تبدیل ہو جاتا ہے۔ جس معاشرے میں بیٹی خرچ تھی، اسلام میں وہ اجر بن گئی۔ جس معاشرے میں بیٹی کم تر سمجھی جاتی تھی، اسلام نے اس کی پرورش کو جنت کا راستہ بنا دیا۔ یہ محض جذباتی تسلی نہیں بلکہ ایک مکمل value transformation تھا—یعنی قدر کے پورے نظام کی اصلاح۔
حصّہ دوّم:
رسول اللہﷺ کی سیرت کا بنیادی وصف رحمت ہے۔ قرآن کہتا ہے: "آپﷺ کی بعثت عالمین کے لیے رحمت ہے”۔ اس رحمت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انسان کی قدر اس کی جنس، نسل، دولت، خاندان یا سماجی حیثیت سے نہیں بلکہ اس کی انسانی حرمت اور اخلاقی مقام سے کی جائے۔ اسلامی تصور میں بیٹی کسی خاندان کے وقار میں کمی نہیں؛ وہ اللہ کی عطا ہے۔ قرآن انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اولاد کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس لیے بیٹے اور بیٹی کے درمیان قدر و منزلت کا ایسا مصنوعی فرق قائم کرنا جو اللہ کی عطا کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھنے لگے، روحانی طور پر بھی ایک خطرناک رویہ ہے۔
اکثر اس مسئلے کو "خواتین کے حقوق” کے دائرے تک محدود کردیا جاتا ہے، حالانکہ یہ اس سے کہیں بڑا مسئلہ ہے۔ یہ دراصل انسانی حقوق کا مسئلہ ہے کیونکہ ایک انسانی زندگی کو جنس کی بنیاد پر ختم کیا جارہا ہے۔ خاندان کا مسئلہ ہے کیونکہ فیصلہ اکثر پورے خاندانی دباؤ کے ماحول میں تشکیل پاتا ہے۔ مرد کی اخلاقی ذمّہ داری کا مسئلہ ہے کیونکہ بیٹے کی خواہش صرف عورت کی خواہش نہیں؛ شوہر، خاندان اور سماجی ماحول بھی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ طبی اخلاقیات کا مسئلہ ہے کیونکہ طبی علم اور ٹیکنالوجی کو انسانی فلاح کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، صنفی تعصب کے لیے نہیں۔ معاشی انصاف کا مسئلہ ہے کیونکہ جہیز، وراثت، روزگار اور سماجی تحفّظ کے مسائل صنفی ترجیحات کو متاثر کرتے ہیں۔ قومی آبادی کا مسئلہ ہے کیونکہ مسلسل صنفی عدم توازن مستقبل کے خاندانی اور سماجی نظام کو متاثر کرسکتا ہے۔
جب معاشرے میں ایک طویل عرصے تک لڑکیوں کی تعداد کم ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف مردم شماری کے جدول تک محدود نہیں رہتے۔ صنفی عدم توازن شادی کے نظام پر دباؤ ڈال سکتا ہے؛ بعض علاقوں میں خواتین کی "طلب” کو غیر صحت مند طریقوں سے بڑھا سکتا ہے؛ خواتین کی خرید و فروخت اور trafficking جیسے خطرات کو بڑھا سکتا ہے؛ جبری یا غیر متوازن شادیوں کے امکانات پیدا کرسکتا ہے؛ عورت کے خلاف تشدد کے بعض مظاہر کو تقویت دے سکتا ہے؛ خاندان کے قدرتی سماجی توازن کو متاثر کرسکتا ہے؛ اور آنے والی نسلوں میں صنفی تعصب کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ UNFPA نے بھی ہندوستان میں صنفی تناسب کے عدمِ توازن کے طویل مدتی سماجی و آبادیاتی اثرات کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس لیے بیٹی کو رحم میں ختم کرنا صرف ایک خاندان کا فیصلہ نہیں؛ اس کے اثرات معاشرے کی آئندہ نسلوں تک پھیل سکتے ہیں۔
برصغیر کے معاشرتی ذہن میں ایک جملہ بہت عام رہا ہے "بیٹی تو پرایا دھن ہے”۔ یہ جملہ بظاہر محبت سے کہا جاتا ہے، مگر اس کے اندر ایک گہری سماجی ساخت پوشیدہ ہے۔ اگر بیٹی کو مستقل خاندانی رکن نہ سمجھا جائے، اگر اس کی تعلیم کو عارضی سرمایہ تصور کیا جائے، اگر اس کی ملکیت کو شادی کے ساتھ دوسرے گھر منتقل ہوجانے سے جوڑ دیا جائے، تو بیٹی کی معاشی اور سماجی قدر کم ہونے لگتی ہے۔ اسلامی تصور اس کے برخلاف بیٹی کو انسان، وارث، صاحبِ حق اور مستقل اخلاقی شخصیت تسلیم کرتا ہے۔ اسی لیے اصلاح کا آغاز زبان سے بھی ہونا چاہیے۔ بیٹی "پرایا دھن” نہیں۔ وہ اللہ کی عطا، والدین کی امانت، معاشرے کی رکن اور اپنے حقوق کی مستقل حامل انسان ہے۔
ہندوستانی معاشرے کے مختلف طبقات میں جہیز کی مختلف صورتیں پائی جاتی ہیں۔ جہاں شادی ایک معاشی مقابلہ بن جائے، وہاں بیٹی کی پیدائش بعض خاندانوں کے لیے مستقبل کے اخراجات کا خوف بن سکتی ہے۔ یہی خوف بعض اوقات بیٹی کے وجود کو ہی مسئلہ سمجھنے تک لے جاتا ہے۔ اس لیے نسوانی جنین کشی کے خلاف جنگ صرف کلینکوں کی نگرانی سے نہیں جیتی جاسکتی۔ اس کے لیے یہ سوال بھی اٹھانا ہوگا؛ ہم نے شادی کو اتنا مہنگا کیوں بنا دیا ہے کہ بیٹی کی پیدائش پر والدین مستقبل کے قرض دیکھنے لگیں؟ اگر معاشرہ سادگیِ نکاح، جہیز کے خاتمے، وراثتی حقوق، خواتین کی معاشی خودمختاری اور باعزّت روزگار کو فروغ دے تو بیٹی کے بارے میں معاشی خوف کا ڈھانچہ کمزور ہوگا۔
اسلام نے بیٹی کو وراثت میں حق دیا، مگر مسئلہ صرف کتابوں میں حق لکھ دینے کا نہیں؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا معاشرہ اس حق کو عملاً تسلیم کرتا ہے؟ UNFPA کی تحقیق میں بھی یہ نشاندہی ہوئی ہے کہ قانونی حقوق اور دفعات کے باوجود بیٹیوں کا والدین کی جائیداد میں حصّہ حاصل کرنا کئی جگہ عام معاشرتی عمل نہیں بن سکا۔ یہاں ایک بنیادی اصلاح ضروری ہے: بیٹی کو وراثت دینا اس پر احسان نہیں؛ اس کا حق ادا کرنا ہے۔ جب بیٹی اپنے والدین کے گھر کی معاشی وارث بھی سمجھی جائے گی تو "بیٹی صرف خرچ ہے” والا تصور کمزور ہوگا۔
ڈاکٹر اور طبی ادارے معاشرے میں اعتماد کے امین ہوتے ہیں۔ ایک ڈاکٹر کے سامنے آنے والی حاملہ عورت صرف ایک "case” نہیں ہوتی؛ وہ ایک انسانی زندگی، ایک خاندان اور ایک آنے والی نسل کی نمائندہ ہوتی ہے۔ لہٰذا جنس کے غیر قانونی تعین کے خلاف سخت اخلاقی تربیت؛ diagnostic centres کی مؤثر نگرانی؛ مشتبہ practices کی قانونی رپورٹنگ؛ patient confidentiality کے ساتھ قانون کی پابندی؛ medical ethics کی تعلیم؛ اور خواتین پر صنفی دباؤ کی صورت میں counselling انتہائی ضروری ہیں۔ ٹیکنالوجی بذاتِ خود نہ خیر ہے نہ شر؛ اس کا اخلاقی کردار اس کے استعمال سے متعین ہوتا ہے۔ الٹراساؤنڈ بیماری کی تشخیص کا وسیلہ بنے، بیٹی کے قتل کا ذریعہ نہیں۔
ایک بنیادی غلطی یہ ہے کہ بیٹی کی پیدائش سے متعلق معاشرتی دباؤ کا سارا بوجھ عورت پر ڈال دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیٹے کی خواہش کا نظام اکثر خاندان کے کئی افراد سے مل کر بنتا ہے۔ لہٰذا مردوں کو یہ سوال خود سے کرنا ہوگا؛ اگر میری بیوی ایک بیٹی کو جنم دیتی ہے تو کیا میں اسے مبارک باد دوں گا یا اسے احساسِ جرم میں مبتلا کروں گا؟ اگر میرے گھر میں دوسری بیٹی پیدا ہو تو کیا میں اسے پہلی بیٹی کی طرح محبت دوں گا؟ اگر میری بیٹی مجھ سے وراثت کا حق مانگے تو کیا میں اسے شرمندہ کروں گا؟ اگر میری بیٹی تعلیم حاصل کرنا چاہے تو کیا میں اسے بھائی کے برابر موقع دوں گا؟ اور سب سے بڑھ کر کیا میں بیٹی کو اللہ کی نعمت سمجھتا ہوں یا اپنے معاشی حساب کتاب کا ایک عدد؟
بعض خاندانوں میں بیٹے کی خواہش اس حد تک شدید ہوتی ہے کہ عورت خود بھی اپنے وجود اور مادری تجربے کے درمیان پھنس جاتی ہے۔ وہ ایک طرف ماں ہے؛ دوسری طرف اسے خاندان کے مطالبات کا سامنا ہے۔ اگر حمل میں بچّی کی موجودگی کا علم ہوجائے تو بعض خواتین کو جذباتی، معاشرتی یا خاندانی دباؤ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہاں "ماں نے خود فیصلہ کیا” کہنا مسئلے کو حد سے زیادہ سادہ بنانا ہے۔ ہمیں پوچھنا چاہیے کیا وہ واقعی آزاد تھی؟ یا اس کے گرد شوہر کا دباؤ، ساس سسر کی خواہش، جہیز کا خوف، معاشی عدمِ تحفّظ، سماجی طعنہ، اور بیٹے کی خاندانی ترجیح کا ایسا حصار تھا جس نے اس کی آزادی کو محدود کردیا؟ اس لیے خواتین کی حفاظت کے ساتھ ساتھ خاندان کی ذہنی اصلاح بھی ضروری ہے۔
رسول اللہﷺ نے بیٹی کی پرورش کو صرف ایک سماجی ذمّہ داری نہیں رہنے دیا؛ اسے آخرت کی کامیابی سے جوڑ دیا۔ یہ تربیتی حکمت نہایت گہری ہے۔ اگر معاشرہ بیٹی کی پرورش کو بوجھ → ذمّہ داری → قربانی → رحمت → اجر کے سفر میں تبدیل کردے تو انسانی رویہ بدل سکتا ہے۔ اسلام نے یہی کیا۔ جاہلیت پوچھتی تھی: "لڑکی کیوں پیدا ہوئی؟”۔ اسلامی تربیت نے سوال بدل دیا: "اس بیٹی کے ساتھ ہمارا سلوک کیسا ہے؟”۔ جاہلیت بیٹی کو مٹاتی تھی۔ رحمتِ عالمﷺ نے بیٹی کی پرورش، تعلیم، محبت اور حسنِ سلوک کو عبادت کا رنگ دیا۔ رسول اکرمﷺ کا پیغام صرف ساتویں صدی کے عرب کے لیے نہیں تھا۔ آپﷺ نے انسانی معاشرے کے ان رویوں کو چیلنج کیا جو انسان کو اس کی کمزوری کی بنیاد پر کم تر بناتے ہیں۔ آج ہندوستانی معاشرے میں نسوانی جنین کشی کے خلاف پیغامِ رحمتِ عالمﷺ کو چند بنیادی اصولوں میں سمجھا جاسکتا ہے:
پہلا اصول: زندگی اللہ کی امانت ہے؛ اولاد انسان کی ملکیت نہیں، اللہ کی عطا اور امانت ہے۔
دوسرا اصول: جنس انسانی قدر کا معیار نہیں؛ لڑکا اور لڑکی دونوں انسانی کرامت کے حامل ہیں۔
تیسرا اصول: بیٹی بوجھ نہیں؛ بیٹی کی پرورش اخلاقی ذمّہ داری اور اجر کا ذریعہ ہے۔
چوتھا اصول: والدین پر بیٹے اور بیٹی کے درمیان محبت میں ظلم نہیں ہونا چاہیے؛ صنفی ترجیح خاندان کے اندر ناانصافی کو جنم دیتی ہے۔
پانچواں اصول: معاشی نظام کی اصلاح ضروری ہے؛ جہیز، وراثت سے محرومی اور معاشی عدم تحفّظ صنفی تعصب کو بڑھاتے ہیں۔
چھٹا اصول: علم اخلاق کے بغیر ناقص ہے؛ ٹیکنالوجی انسانیت کی خدمت کرے، تعصب کی نہیں۔
معاشرے میں مسجد صرف عبادت گاہ نہیں؛ بہت سے علاقوں میں یہ سماجی تعلیم و تربیت کا مرکز بھی ہے۔ اگر خطباء مسلسل یہ بیان کریں کہ "بیٹی رحمت ہے”۔ تو یہ صرف ایک خوبصورت جملہ نہیں رہنا چاہیے۔ اس کے ساتھ یہ بھی بیان ہونا چاہیے کہ بیٹی کی پیدائش پر ناراضی جاہلی ذہنیت ہے؛ بیٹی کو وراثت سے محروم کرنا ظلم ہے؛ جہیز کے نام پر خاندانوں کو بوجھ تلے دبانا غلط ہے؛ بیٹی کی تعلیم روکنا نقصان دہ ہے؛ بیٹی کو بھائی سے کم سمجھنا اسلامی عدل کے منافی ہے؛ اور جنس کی بنیاد پر قبل از پیدائش زندگی ختم کرنے کی ذہنیت قابلِ مذمت ہے۔ یوں منبر محض وعظ کا نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح کا ادارہ بن سکتا ہے۔
کسی بھی ملک کا مستقبل صرف اس کے GDP سے نہیں بنتا؛ مستقبل اس کی نسلوں سے بنتا ہے۔ اور نسل صرف بیٹوں سے نہیں بنتی۔ ایک بیٹی کل کی ماں ہے؛ مگر صرف ماں نہیں۔ وہ استاد ہوسکتی ہے، ڈاکٹر ہوسکتی ہے، سائنس دان ہوسکتی ہے، کاروباری شخصیت ہوسکتی ہے، قانون دان ہوسکتی ہے، سیاست دان ہوسکتی ہے، محقق ہوسکتی ہے، مصور ہوسکتی ہے، مربی ہوسکتی ہے، اور ایک باوقار شہری ہوسکتی ہے۔ جب ہم ایک بیٹی کو پیدا ہونے سے پہلے ختم کرتے ہیں تو ہم صرف ایک جنین نہیں کھوتے؛ ہم ایک ممکنہ انسانی زندگی، ایک ممکنہ ذہانت، ایک ممکنہ ماں، ایک ممکنہ معلم، ایک ممکنہ سائنس دان اور ایک ممکنہ خدمت گزار سے محروم ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ "missing girls” کا مسئلہ صرف اعداد کا مسئلہ نہیں؛ یہ ضائع ہو جانے والے انسانی امکانات کا مسئلہ بھی ہے۔
یہاں ایک اور اہم نکتہ ہے۔ اگر ہم نسوانی جنین کشی کے خلاف مہم چلا کر بیٹی کو دنیا میں تو لے آئیں، لیکن پھر اسے تعلیم نہ دیں، اس کی رائے کو اہمیت نہ دیں، اسے وراثت نہ دیں، اسے صحت کی سہولت نہ دیں، اسے محفوظ ماحول نہ دیں، اسے عزّت نہ دیں، اور اسے بیٹے کے مقابلے میں مسلسل کمتر سمجھیں، تو ہماری اصلاح ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ بیٹی کو پیدا ہونے کا حق دینا پہلا قدم ہے؛ اسے باعزّت زندگی دینا اصل منزل ہے۔ یہی رحمتِ عالمﷺ کے پیغام کی جامع روح ہے۔ ہمیں اپنے اجتماعی الفاظ بدلنے ہوں گے۔ "بیٹی بوجھ ہے” کے بجائے بیٹی امکان ہے۔ "بیٹی پرایا دھن ہے” کے بجائے بیٹی اپنے والدین کی مستقل اولاد ہے۔ "بیٹے سے خاندان چلتا ہے” کے بجائے کردار سے خاندان چلتا ہے۔ "بیٹی پر خرچ ہوگا” کے بجائے اولاد پر سرمایہ کاری انسان پر سرمایہ کاری ہے۔ "بیٹی کمزور ہے” کے بجائے ہر انسان کو صلاحیت کے مطابق آگے بڑھنے کا حق ہے۔ یہ زبان کی تبدیلی نہیں؛ ذہن کی تبدیلی ہے۔
ذہنیت گھر میں بنتی ہے، ایک بچّہ جب دیکھتا ہے کہ والد بیٹی کی پیدائش پر خوش ہیں، بیٹی کو بیٹے کے برابر تعلیم مل رہی ہے، بہن کی رائے سنی جارہی ہے، بیٹی کو وراثت کا حق دیا جارہا ہے، اور ماں کو بیٹی پیدا کرنے پر کوئی طعنہ نہیں دیا جارہا، تو وہ ایک مختلف معاشرتی اخلاق سیکھتا ہے۔ اسی لیے نسوانی جنین کشی کے خلاف سب سے پہلی مہم گھر کے اندر شروع ہونی چاہیے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرہ ایک اجتماعی اخلاقی عہد کرے ہم بیٹی کی پیدائش پر چہرہ نہیں بگاڑیں گے۔ ہم بیٹی کو بیٹے سے کم نہیں سمجھیں گے۔ ہم جنس کی بنیاد پر زندگی کے خلاف فیصلوں کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے۔ ہم غیر قانونی sex selection کے خلاف قانون کا احترام کریں گے۔ ہم جہیز کی معاشی زنجیروں کو کمزور کریں گے۔ ہم بیٹی کے وراثتی حق کو تسلیم کریں گے۔ ہم بیٹی کی تعلیم کو ترجیح دیں گے۔ ہم بیٹی کی حفاظت اور عزّت کو معاشرتی ذمّہ داری سمجھیں گے۔ اور سب سے بڑھ کر ہم رحمتِ عالمﷺ کے پیغامِ رحمت کو اپنی معاشرتی زندگی میں زندہ کریں گے۔
قرآن قیامت کے منظر میں اس بچّی سے پوچھتا ہے: "بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ” — اسے کس گناہ کے سبب قتل کیا گیا؟ یہ سوال صرف قیامت کے دن کا سوال نہیں؛ یہ ہمارے آج کے ضمیر کا سوال بھی ہے۔ وہ بچّی جو رحمِ مادر میں ہے، اس نے کیا جرم کیا ہے؟ اس نے غربت پیدا نہیں کی۔ اس نے جہیز ایجاد نہیں کیا۔ اس نے خاندانی نام کا نظام نہیں بنایا۔ اس نے معاشی عدمِ تحفث پیدا نہیں کیا۔ اس نے مردانہ وراثتی تصورات نہیں بنائے۔ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ اس کا واحد "قصور” یہ ہے کہ وہ لڑکی ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں رحمتِ عالمﷺ کا پیغام ہمارے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ جس دنیا نے بیٹی کو بوجھ سمجھا، رسولِ رحمتﷺ نے اس کی پرورش کو جنت کا ذریعہ بتایا۔ جس ذہن نے بیٹی کی پیدائش پر چہرہ سیاہ کیا، قرآن نے اس ذہنیت کو جاہلیت کی علامت قرار دیا۔ جس معاشرے میں بیٹی کو زندہ دفن کیا جاتا تھا، قرآن نے اس مظلوم بچّی کو قیامت کے انصاف کا گواہ بنا دیا۔ اور جس تہذیب نے بیٹی کو معاشی بوجھ سمجھا، نبی اکرمﷺ نے اس کی کفالت، تربیت اور حسنِ سلوک کو آخرت کی کامیابی سے جوڑ دیا۔
لہٰذا آج معاشرے کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ "ہم بیٹیوں کی تعداد کیسے بڑھائیں؟”۔ اصل سوال اس سے زیادہ گہرا ہے: "ہم ایسا معاشرہ کیسے بنائیں جس میں بیٹی کی پیدائش پر کسی دل میں بوجھ، شرمندگی یا خوف پیدا ہی نہ ہو؟”۔ اس سوال کا جواب صرف قانون کے دفتر میں نہیں ملے گا۔ یہ جواب گھر، مدرسہ، اسکول، مسجد، اسپتال، عدالت، میڈیا، بازار اور پارلیمنٹ—سب جگہ مل کر لکھنا ہوگا۔ اور اس اجتماعی سفر کی پہلی منزل یہ شعور ہے: بیٹی کسی خاندان کی کمزوری نہیں؛ انسانیت کی طاقت ہے۔ بیٹی کسی گھر کی زحمت نہیں؛ اللہ کی عطا ہے۔ بیٹی کسی معاشرے کا بوجھ نہیں؛ اس کے مستقبل کی امانت ہے۔ اور رحمتِ عالم ﷺ کا پیغام یہی ہے کہ جس دل میں رحمت زندہ ہو، وہاں بیٹی کے لیے زندگی، عزّت، محبت اور مستقبل ضرور زندہ رہتا ہے۔
🗓 (13.08.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے