कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

پربھنی کی اہلِ علم قیادت آخر خاموش کیوں ہے

تحریر:سیّد شفیق الرحمٰن شِفا۔ پربھنی
9518734540
8421723495
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

معاشرے کی تباہی ہمیشہ جہالت سے نہیں آتی، بلکہ کبھی کبھی اہلِ علم باصلاحیت رہنے والوں کی خاموشی سے بھی آتی ہے اور یہ خاموشی ایک حد تک جہالت کو طاقت دیتی ہے۔
پربھنی ضلع دکن کا ایک تاریخی مقام ہے، کہیں پر بھی ظلم اور زیادتی ہوتی ہے تو یہاں کی قیادت آئین اور قانون کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے اپنا رول بخوبی ادا کرتی ہے۔
لیکن پربھنی میں کچھ عرصے سے افسوس ناک منظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ایسے لوگ بھی قوم کی قیادت کے دعوے دار بن بیٹھے ہیں جنہیں قانون، آئین، ضابطۂ کار، انتظامی طریقۂ کار، قانون کی حدود کا بنیادی طور پر بالکل بھی شعور تک حاصل نہیں ہے۔ اس طرح کے لوگ دلیل، گفتگو اور قانونی طریقۂ کار کے بجائے اپنی آواز اور دباؤ، دھمکی اور خوف کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے انتظامیہ پر اس کے غلط اثرات جا رہے ہیں۔ انتظامیہ بھی چاہتا ہے کہ کسی بھی مسائل پر اہلِ علم، صلاحیت مند افراد اپنے سماج کے حق کی بات کریں تاکہ انتظامیہ کو بھی آسانی ہو۔ گزشتہ دنوں اے ٹی ایس نے کچھ جگہ چھاپہ ماری کی، اس میں ایڈووکیٹ مرزا افضل بیگ نے موقع پر جا کر بہترین نمائندگی کی تھی۔
مرحوم عبدالرشید انجینئر جب حیات تھے، اس وقت مرحوم تمام مذہبی، سیاسی، غیر سیاسی، تعلیمی، سماجی، ملی تنظیموں کو ساتھ لے کر بے لوث ایک مؤثر قیادت کرتے تھے اور اس کا اثر انتظامیہ اور حکومت پر ہوتا تھا اور تمام ذمہ داران ان کی قیادت کو قبول بھی کرتے تھے۔ مرحوم عبدالرشید انجینئر کے انتقال کے بعد کسی بھی مسائل پر قیادت کرنے کی وہ بات نہیں رہی۔ لیکن آج بھی دیکھا جائے تو جناب غلام محمّد مٹّھو، محمّد معروف (وارم)، ڈاکٹر ظفر اقبال، محمّد یافعی، مولانا رفیع الدین اشرفی، مفتی نظام الدین، افضل سیٹھ پاڈیلا، ایڈووکیٹ مرزا افضل بیگ، ایڈووکیٹ امتیاز خان، سیّد عتیق الرحمٰن، مولانا ظہیر عبّاس، ندیم انعامدار، سید اصغر اجّو بھائی، ڈاکٹر خواجہ عارف، امیر خان سر، عبدالمنان خان سر، شیخ ظفر سر، انجینئر عبدالصمد، خواجہ لیق الدین، جنتور سے مولانا جلیل تابش ملی، مولانا مفتی مرزا کلیم بیگ، مولانا تجمل احمد خان، سراج الدین ندوی اور دیگر اور بھی ذمہ داران ہیں۔ یہ تمام اچھی قیادت کر سکتے ہیں۔ لیکن ایسے جو اہلِ علم رکھنے والے ذمہ داران اپنی جگہ انفرادی خدمات انجام تو دے رہے ہیں، لیکن کئی مسائل پر قوم کے لیے حکومت اور انتظامیہ سے قیادت اور رہنمائی کرنے پر خاموشی اختیار کر رہے ہیں۔ قیادت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو سب سے زیادہ اونچی آواز میں بولے، وہی سب سے بڑا رہنما بن جائے۔ دراصل قیادت کا مطلب یہ ہے کہ قانون کو سمجھنا، قوم کے مسائل کو سننا، اختلافِ رائے کو برداشت کرنا، انتظامیہ سے باوقار انداز میں دلائل کے ساتھ اپنی بات رکھنا۔ قوم کے مسائل کو آئینی اور قانونی دائرۂ کار میں رہتے ہوئے حل کرنا۔
لیکن پربھنی میں موجودہ المیہ یہ ہے کہ بعض لوگ یہ بنیادی باتیں نہیں جانتے، وہ صرف کسی بڑے سیاسی لیڈر کو اپنا قائد (نیتا) مان کر اس کی پشت پناہی میں اور اس کے تعلقات کے بل پر اپنی خود ساختہ قوم کے ذمہ دار سمجھنے لگے ہیں۔ لیکن افسوس کے اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ جو لوگ قانون جانتے ہیں، آئین سمجھتے ہیں، اور تعلیمی یافتہ، باشعور ہیں اور باصلاحیت ہیں، جو قیادت کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں، افسوس کے وہ لوگ ایسے خود ساختہ لوگوں کے سامنے کسی اہم مسئلے پر خاموشی اختیار کر رہے ہیں۔
پربھنی کے باصلاحیت ذمہ داران، آپ کو قانون اور آئین کا علم ہے، آپ کو انتظامیہ سے کن مسائل پر کس طریقۂ کار سے بات کرنی ہے، یہ معلوم ہے۔ قوم کی ترجمانی دلائل سے، دستاویزات سے اور قانون کے مطابق کی جاتی ہے۔ پھر آپ ذمہ داران کی خاموشی معنی خیز ہے۔ مرحوم عبدالرشید انجینئر کے انتقال سے قبل آپ تمام ذمہ داران جس طرح کی قیادت کیا کرتے تھے، ویسی قیادت تمام کو ساتھ لے کر کرنی ہوگی۔ نہیں تو؟ اس کے برعکس قانون اور دیگر معلومات سے ناواقفیت رکھنے والے لوگ ملت کی قیادت کریں گے تو اس سے صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پوری قوم غلط سمت میں جا سکتی ہے۔
لہٰذا پربھنی اور آس پاس کے اہلِ علم، باصلاحیت ذمہ داران اپنی ذمہ داری کو سمجھ کر تمام باشعور مذہبی، سیاسی، غیر سیاسی جماعتیں، سماجی و ملی تنظیموں ایک ساتھ آ کر انتظامیہ سے جمہوری انداز میں اپنے مسائل حل کریں۔ کیونکہ خاموش رہنا ہمیشہ شرافت نہیں ہوتا، بعض حالات میں قابلِ افراد کی خاموشی، ناہل لوگوں کو مضبوط کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ اگر آپ خاموش رہیں تو نااہل لوگ آپ کی جگہ لے سکتے ہیں۔ اگر قانون اور آئین کے ساتھ آپ کھڑے نہیں ہوں گے تو ممکن ہے، قانون سے ناواقف قوم کو اپنے انداز میں چلانے لگیں گے۔
آخر میں کہوں گا شور مچانے والے نہیں، شعور دینے والے قائدین چاہییں۔ قوم کو ڈرانے والے نہیں، ہمت اور حوصلہ دینے والے رہنما چاہییں، بالاتر اور بڑے دعویٰ کرنے والے نہیں بلکہ جمہوریت، آئین کے اندر رہ کر حقوق دلانے والے نمائندے چاہییں۔
اب وہ منزل آ گئی ہے اے رفیقانِ سفر
اب جو ٹھہریں گے تو گردِ کارواں ہو جائیں گے
ہم نے رخِ بادِ مخالف کا اگر موڑا نہیں
ایسے پچھڑیں گے کہ بے نام و نشاں ہو جائیں گے
اس مضمون سے کسی کو اختلاف ہے تو وہ تنقید کر سکتے ہیں، یہ ان کا حق ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے