कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اہل فلسطین کی جرات و عزیمت کو سلام اور عالم اسلام کے سکوت پر حیرت و افسوس

تحریر: شمائلہ مومناتی بنت شوکت علی( گنج مرادآباد اناؤ اترپردیش الہند)

میں کیا لکھوں ؟ کیسے لکھوں؟ کیا الفاظ دوں؟ کہاں سے شروع کروں؟ میرا ناقص علم اور کمزور قلم اہل فلسطین کی جرت و عزیمت پر کچھ رقم کرنے لائق تو نہیں میرے الفاظ تہی دامن ہیں۔ البتہ کچھ لرزتے و لڑکھڑاتے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کے ذریعے اہل فلسطین کے تلاطم خیز جذبات کو سلام پیش کرتی ہوں۔
فلسطینی معصوم بچوں اور بچیوں کی تصاویر غزہ کے چپے۔ چپے پر بکھری ہوئی شہداء کی لاشیں، مساجد، مدارس، گھروں، ہسپتالوں کی تباہی اور ملبے کے ڈھیر!
کچلی ہوئی معصوم کلیاں اور مسلے ہوئے بے گناہ پھول!
روتی بلکتی مائیں، لرزتے تڑپتے باپ، گاجر مولی کی طرح کٹتے نوجوان حتی کہ اسرائیل کی تباہ کن بمباری سے نہ ہسپتال محفوظ ہیں نہ گھر نہ عبادت گاہیں ہسپتال میں معصوم بچوں کے دوا علاج کی سہولتیں میسر نہیں۔ معصوم بچے تڑپ۔ تڑپ کر اپنے والدین کے ہاتھوں میں دم توڑ رہے ہیں۔ مزید غضب تو یہ ہے کہ نو مولود بچے دودھ نہ ملنے کی وجہ سے جان بحق ہو گئے۔
اگر ہم غور کریں تو وہاں کے واقعات جگر کو چھلنی کر دینے والے ہیں تقریباً 2 ماہ قبل کا واقعہ ہے کہ ایک باپ اپنی پھول سی بچی کو کفن میں لپیٹے گود میں لئے ہو زار و قطار رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے جب میری بیٹی کی پیدائش ہوء میں بس یہی کہتا تھا کہ میری بیٹی دنیا کی سب سے خوبصورت بیٹی ہے میں ہر روز جب گھر آتا تو اس کی پیشانی میں بوسہ لیتا اور آج میں اپنی بیٹی کو آخری بار بوسہ لے رہا ہوں ذرا سوچیں کہ اس بات کے دل پر کیا گزری ہوگی ایک نہیں ایسے بے شمار واقعات ہیں کتنا لکھوں؟ اور کیا۔کیا؟ کیا اتنے دل خراش واقعات سننے اور دیکھنے کے بعد جگر پھٹتے نہیں دل چھلنی نہیں ہوتے؟ آخر ہم کیسے مسلمان ہیں؟

*وہ پھول اپنی لطافت کی داد پا نہ سکے*
*کھلے ضرور مگر کھل کے مسکرا نہ سکے*

ارے کیا۔کیا لکھیں؟ کیا۔ کیا شمار کرائیں ؟ اہل فلسطین و غزہ کی قربانیاں اور جرت و بے باکی ، ایمان پر مر مٹنے والے مثل کہسار جذبات کو خون جگر سے لکھوں پھر بھی شاید غازیان فلسطین و شہداء کی قربانیوں کا حق ادا نہ ہو سکے۔ کس قدر مستحکم ہیں ان کے جذبات؟ کتنا مضبوط ہے ان کا ایمان؟ وہاں کا بچہ۔ بچہ ایمان کی حلاوت و چاشنی سے سرشار ، ایمان پر مر مٹنے کو ہمہ وقت تیار ہے۔
*اہل فلسطین کی جرت و حمیت کو سلام*

*یقین محکم ، عمل پیہم ، محبت فاتح عالم*
*جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں*

اہل فلسطین مذکور الصدر شعر کی زندہ جاوید تصویر ہیں۔

فلسطینی ہر وقت دشمن کے سامنے ڈٹے ہو ہیں ، ایک پل بھی ان کے قدم نہیں لرزتے ، ایک لمحہ بھی ان کے دل ایمان سے ڈاواں ڈول نہیں ہوتے ہر وقت اللہ سے سچی لو لگائے ہو ہیں ، کوئی شکوہ نہیں کرتے جانی نقصان ہو یا مالی لیکن اللہ کا در نہیں چھوڑتے۔
*قال اللہ تعالیٰ: وَلَنَبلْوَنَّکْم بِشَیء￿ ٍ مِنَ الخَوفِ وَالجْوعِ وَنَقصٍ مِنَ الَموَالِ وَالَنفْسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِینَ الَّذِینَ ِذَا َصَابَتہْم مْصِیبَ قَالْوا ِنَّا لِلَّہِ وَِنَّا ِلَیہِ رَاجِعْونَ البقر/ 155 – 157*
اسرائیل نے ان کے ساتھ ہر نا رواں سلوک کر ڈالا اور مسلسل کر رہے ہیں مگر سلام ہے ان کو کہ وہ ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے وہ عزم و استقلال ، ہمت و جرت ، شجاعت و بہادری ، عزیمت و جواں مردی کے مجسم پیکر ہیں۔ کئی مہینوں سے بے سروسامانی کی حالت میں بھوکے پیاسے لڑ رہے ہیں کوئی پرسان حال بھی نہیں جو آکر مزاج پرسی کرے۔
ہا افسوس امت مسلمہ کو کیا ہو گیا ؟؟

*عزائم جن کے پختہ ہوں یقیں جن کا خدا پر ہو*
*تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے*

ہم اس شعر کے ذریعہ اہل فلسطین و غزہ و رفح کے حوصلوں کو ، جرت و بے باکی کو اور عزیمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔
*ممالک اسلامیہ کے سو ہو حکمرانو!* فلسطینی مظلوموں کی چیخ و پکار سنو، ماؤں کا تڑپنا دیکھو،معصوموں کا بلکنا اور بھوک کی شدت سے پیٹ پر پتھر باندھنا دیکھو اور شدید بھوک سے دم توڑنا دیکھو! اٹھو۔ اٹھو تم کون سی نیند کی گولی لے کر بستر استراحت پر آرام کی نیندیں لے رہے ہو۔
اب اٹھو ورنہ یاد رکھو بہت پچھتاؤ گے رؤوگے لیکن تسلی کے لئے کاندھا نہ پاؤگے۔ سوچو کیا کرو گے پھر جب کسی کو نہ پاؤ گے ؟ تم کتنے بے حس و بے غیرت ہو؟ کیا رگ حمیت ایک بار بھی نہیں پھڑکتی ؟ کیا بے غیرتی کا احساس نہیں دلاتی ؟ کیا تمہیں افسوس نہیں ہوتا؟ کیا تمہیں معصوموں پر ترس نہیں آتا؟ کیا بڑھتے ظلم کو دیکھ کر غیرت ایمانی جوش میں نہیں آتی؟ کیا کچھ کر دکھانے کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا ؟
*ارے عرب حکمرانوں سنو!* کیا تم فرمان خداوندی *صم بکم عمی فہم لا یرجعون* کا مصداق ہو گئے ؟ کیا قصاوت قلبی نے تم کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے؟ ہے کوئی جواب تو بولو؟ یقینا کوئی جواب نہیں ہوگا۔ ہوگا بھی کیوں کر کیوں کہ تم تو تمام حالات سے واقف ہو کر بھی انجان بنے بیٹھے ہو۔ *صد حیف*
اٹھو آنکھیں کھولو، دیکھو، سنو اور سمجھو کم از کم اب تو کچھ کرو ظلم کی حد ہو چکی ہے اب تو دفاع کرو آخر تم کو کس بات کا انتظار ہے؟ اب بھی کچھ نہ کیا تو آخر کب کروگے ؟ جب موت کا ڈیرا سر پر آن پڑے گا تب؟ جب منکر نکیر قبر میں سوال کریں گے تب ؟ جب جناب محمد الرسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے رو برو معصوم شہداء فلسطین تمہارے گریبانوں سے لٹک جائیں گے تب ؟جب اللہ کے حضور پیشی ہوگی تب؟
ارے تب تو بہت دیر ہو چکی ہوگی اس وقت کسی بھی صورت چھٹکارا ممکن نہیں ہوگا
کس کا دروازہ کھٹکاؤگے؟ کس سے دادرسی کروگے؟
*ہوش میں آؤ!* ابھی بھی وقت ہے مظلوموں کا دفاع کرو ، ظلم کے خلاف یکجہتی کے ساتھ آواز بلند کرو۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسا رعب ، محمد بن قاسم جیسی شجاعت ، سلطان صلاح الدّین ایوبی جیسی جواں مردی اور طارق بن زیاد جیسا عزم و استقلال پیدا کرو اور سب ایک ہوکر دشمنان اسلام پر چھا جاؤ اور شعر کو عملی جامہ پہناؤ۔

*یقیں کے ساتھ جا عزم جواں سے کام لیتا تھا*
*مسلماں مسکرا کر بجلیوں کو تھام لیتا تھا*
*تہلکے سے زمین وآسمان کے دل لرزتے تھے*
*اتر کر معرکہ میں جب خدا کا نام لیتا تھا*

ہم عام مسلمانوں کی حالت بھی بد سے بدترین ہے ، ہم تماشائی بنے سوشل میڈیا پر روزآنہ مختلف دل خراش خبریں دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں مگر ہماری صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا ، ہمارے پتھر دل موم نہیں ہوتے ، ہمارے مردہ ضمیر چکنے گھڑوں کے مانند ہیں ان پر کچھ بھی اثر انداز نہیں ہوتا۔ ابھی سنتے ہیں چند منٹ کے بعد فراموش کر کے اپنے معمولات میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کچھ دیکھا اور سنا ہی نہ ہو امت کا درد ہمارے دلوں میں رہا ہی نہیں۔ غضب تو یہ ہے کہ ہم اسرائیلی پروڈکٹس *products* استعمال کرنے سے باز نہیں آتے حالانکہ اس پر مسلسل علماء کرام کے بیانات آرہے ہیں ، مضامین لکھے جا رہے ہیں مگر ہم کہتے ہیں کہ میرے اکیلے بچنے سے کیا فائدہ ؟ہم اپنے نفس کو کولڈ ڈرنک *Cool* *drinks* پینے سے روک نہیں پا رہے، کیا ہم وہاں کی اشیاء کے استعمال سے خود کو نہیں روک سکتے؟ کیا ہم اتنی معمولی سی قربانی نہیں پیش کر سکتے ؟ *یاد رکھو!* اگر ہم ان چیزوں کا استعمال نہیں چھوڑتے تو گویا ہم فلسطینی معصوموں کا لہو پی رہے ہیں اور یہی معصوم میدان حشر میں ہمارے گریبان پکڑ کر اللہ تبارک وتعالیٰ سے اور جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہماری شکایت کریں گے۔ کیا جواب دیں گے اس وقت ہم ؟ اس دن کوئی ہم کو سننے والا بھی نہ ہوگا چاہے جتنا مرضی ہم چیخیں چلائیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ پھر کیا! بس ہم انتظار کریں اللہ کے فیصلے کا وہ دن دور نہیں کہ خدانخواستہ اللہ تبارک و تعالی ہم سبھوں کو مجرموں کی صف میں لا کھڑا کرے۔
س لئے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم وقت سے پہلے کچھ کریں۔ اللہ تبارک و تعالی سے رجوع کریں اور اہل فلسطین کے حق میں رو کر گڑگڑا کر خوب دعائیں مانگیں۔
اللہ ہم سب کے سوئے ہوئے ضمیروں کو جگا دے اور اہل فلسطین کو فتح و نصرت نصیب فرما۔ آمین ثم آمین یارب العالمین

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے