कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بے چہرہ آواز

تحریر:ڈاکٹر سراج انور، امراؤتی ، مہاراشٹر
موبائل : 8668323359

رات کے پونے دو بجے مٹی کے کچے گھڑے پر جمی کائی کی نم آلود مہک کمرے کی بند ہوا میں گھلی تو قاری نور محمد کی آنکھ کھل گئی۔ حجرے کی چھت پر لٹکتا پنکھا ساکت تھا۔ بجلی گئے کئی گھنٹے ہو چکے تھے۔ انہوں نے اندھیرے میں ہاتھ بڑھا کر تکیے کے پاس رکھا اسمارٹ فون اٹھایا۔ اسکرین روشن ہوئی تو نیلی روشنی نے کمرے کی خاموشی کو ایک لمحے کے لیے چیر دیا۔
واٹس ایپ کے "علماء رابطہ فورم” میں سینکڑوں پیغامات جمع تھے۔ کہیں وتر کی رکعتوں پر بحث تھی، کہیں ایک دوسرے کے مسلک پر اعتراض۔ نور محمد نے حسبِ عادت اوپر سے چند پیغامات دیکھے اور آگے بڑھنے لگے کہ ایک نامعلوم نمبر سے بھیجی گئی تیس منٹ کی آڈیو پر نظر ٹھہر گئی۔
انہوں نے فون کان سے لگا لیا۔
آواز دھیمی تھی، مگر بے حد صاف۔ عربی عبارتیں ایسی روانی سے ادا ہو رہی تھیں جیسے برسوں کی ریاضت بول رہی ہو۔ اختلافی مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے بولنے والا کسی فریق کی تحقیر نہیں کرتا تھا۔ وہ ہر امام کا نام ادب سے لیتا اور آخر میں کہتا، "اختلاف اگر علم کے ساتھ ہو تو رحمت ہے، انا کے ساتھ ہو تو آزمائش۔”
نور محمد کو نہ جانے کیوں اپنی آنکھوں میں نمی سی محسوس ہوئی۔
پورا دن مدرسے میں بچوں کو قاعدہ پڑھاتے گزرا تھا۔ شام کو ناظمِ اعلیٰ نے چندے کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے تنخواہوں کا شکوہ بھی سنا دیا تھا۔ آٹھ ہزار روپے میں گزارا کرتے کرتے انہیں کبھی کبھی یوں لگتا جیسے ان کی ضرورت صرف بچوں کی زبان درست کرنے تک محدود رہ گئی ہو۔ اس آڈیو نے پہلی بار انہیں احساس دلایا کہ علم ابھی بھی عزت رکھتا ہے۔
انہوں نے جھجکتے ہوئے نجی پیغام بھیجا:
"حضرت، آپ کی گفتگو دل میں اتر گئی۔”
چند لمحوں بعد جواب آیا:
"دعا کا طالب۔”
بس دو لفظ۔
نور محمد نے فون بند کیا اور دیر تک ان دو لفظوں کے بارے میں سوچتے رہے۔
عبدالمنان سے گفتگو کا سلسلہ وہیں سے شروع ہوا۔
ابتدا میں ہفتوں تک صرف علمی باتیں ہوتیں۔ کبھی کسی حدیث کے راوی کے بارے میں سوال، کبھی کسی عربی عبارت کی تصحیح، کبھی کسی قدیم کتاب کے نسخے پر گفتگو۔ عبدالمنان ہر سوال کا جواب فوراً دینے کے بجائے کچھ وقفے کے بعد دیتا۔ اکثر لکھتا، "ذرا دیکھ کر عرض کرتا ہوں۔” یا "اس مسئلے میں فلاں امام کی رائے بھی قابلِ غور ہے۔”
یہ احتیاط نور محمد کو بہت بھلی لگتا۔
ایک شام انہوں نے اپنی ڈائری سے ایک عربی شعر نقل کر کے بھیجا اور اس کے وزن کے بارے میں پوچھا۔ رات گئے جواب آیا۔ ایک سادہ سفید کاغذ پر وہی شعر خوبصورت خط میں لکھا تھا اور چند لفظ سرخ قلم سے درست کیے گئے تھے۔
نیچے صرف اتنا لکھا تھا:
"آپ کا ذوق اچھا ہے، قاری صاحب۔ ایسے لوگ اب کم رہ گئے ہیں۔”
نور محمد دیر تک تصویر کو دیکھتے رہے۔
زندگی میں تعریف کے مواقع بہت کم آئے تھے۔ مدرسے میں وہ "قاری صاحب” تھے، محلے میں ایک غریب استاد، اور گھر میں وہ بڑا بیٹا جس کی محدود آمدنی سب کی ضرورتیں پوری نہ کر پاتی تھی۔ کسی اجنبی نے پہلی بار ان کے ذوق کو پہچانا تھا۔
انہوں نے وہ تصویر کئی دن فون کی اسکرین پر لگا رکھی۔
رفتہ رفتہ گفتگو علم سے زندگی تک آ پہنچی۔
عبدالمنان کبھی اپنی ذات کے بارے میں زیادہ نہیں بتاتا تھا۔ بس اتنا معلوم ہوا کہ وہ مختلف شہروں میں رہتا ہے، دینی کتب جمع کرتا ہے اور کچھ مخیر لوگوں کے ساتھ مل کر ضرورت مند اساتذہ کی مدد بھی کرتا ہے۔
نور محمد نے کبھی اس سے زیادہ کریدنے کی کوشش نہیں کی۔ انہیں لگتا تھا کہ جو شخص اپنی نیکی چھپانا چاہتا ہو، اس سے سوال کرنا مناسب نہیں۔
ایک رات بہن کی سسکیوں سے ان کی آنکھ کھل گئی۔
شام کو ایک اچھا رشتہ آیا تھا، مگر بات جہیز پر آ کر رک گئی۔ لڑکے والوں نے صاف لفظوں میں کچھ نہیں کہا تھا، لیکن ان کے اشارے اتنے واضح تھے کہ انکار کی ضرورت ہی نہ رہی۔
صبح ہونے تک گھر میں کوئی نہ سو سکا۔
نور محمد فجر کے بعد حجرے میں بیٹھے تسبیح گھما رہے تھے کہ فون بج اٹھا۔
عبدالمنان کا پیغام تھا:
"آج دل بے وجہ آپ کی طرف متوجہ رہا۔ خیریت ہے؟”
نور محمد نے اسکرین کو دیر تک دیکھا۔
انہوں نے لکھنا شروع کیا۔
پھر سب مٹا دیا۔
دوبارہ لکھا، پھر مٹا دیا۔
انہیں محسوس ہوا جیسے اپنی مجبوری بیان کرنا اپنے وقار کو خود اپنے ہاتھوں سے کم کرنا ہے۔
مگر اگلے ہی لمحے بہن کا اترا ہوا چہرہ نگاہوں کے سامنے آ گیا۔
انہوں نے مختصر لفظوں میں پوری بات لکھ بھیجی۔
جواب فوراً نہیں آیا۔
ایک دن گزر گیا۔ پھر دوسرا۔
تیسرے دن انہیں اپنی حرکت پر ندامت ہونے لگی۔ انہوں نے سوچا، شاید انہوں نے ایک اجنبی کو اپنی پریشانی بتا کر غلطی کی ہے۔
چوتھے دن صرف ایک پیغام آیا:
"ایک دوست نے آپ کی بہن کے لیے کچھ تعاون بھیجا ہے۔ اسے قرض نہ سمجھیے، صدقہ بھی نہ سمجھیے، ایک بھائی کی امانت سمجھ لیجیے۔”
کچھ ہی دیر بعد بینک سے پچاس ہزار روپے جمع ہونے کا پیغام آ گیا۔
نور محمد کی آنکھیں بھر آئیں۔ انہوں نے پہلی بار دل سے عبدالمنان کے لیے دعا کی۔
اسی شام ایک اور پیغام آیا:
"ایک نوجوان کتابوں کی تلاش میں آپ کے شہر آ رہا ہے۔ تین چار دن کے لیے کہیں ٹھہرنے کی جگہ نہیں مل رہی۔ اگر حجرے میں جگہ ہو تو مہربانی ہوگی۔”
نور محمد نے جواب لکھا:
"یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔ وہ میرا مہمان ہوگا۔”
تین دن بعد عصر کی نماز کے کچھ دیر بعد وہ نوجوان مدرسے پہنچا۔
اس کے ہاتھ میں ایک درمیانے سائز کا بیگ تھا۔ کپڑے سادہ تھے اور لہجہ شائستہ۔ اس نے اپنا نام فہد بتایا اور کہا کہ وہ قدیم دینی کتابوں کے نسخے تلاش کرنے نکلے ہیں۔
نور محمد نے اسے حجرے کا ایک کونا دکھا دیا۔
"جگہ تو معمولی ہے، لیکن اگر کوئی تکلیف ہو تو بتا دیجیے گا۔”
فہد نے مسکرا کر کہا، "مسافر کو چھت مل جائے تو یہی بہت ہے۔”
وہ زیادہ باتیں نہیں کرتا تھا۔ صبح نکل جاتا اور رات گئے واپس آتا۔ کبھی کسی مدرسے کا ذکر کرتا، کبھی کسی لائبریری کا۔ نور محمد نے نہ اس سے آدھار کارڈ مانگا، نہ زیادہ سوال کیے۔ انہیں یقین تھا کہ عبدالمنان کا بھیجا ہوا آدمی غلط نہیں ہو سکتا۔
تیسرے دن فہد نے رخصت ہوتے ہوئے نور محمد کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں لیا۔
"دعا کیجیے گا۔”
"اللہ آسانیاں فرمائے۔”
وہ چلا گیا۔
زندگی پھر اپنی پرانی رفتار پر لوٹ آئی۔
مدرسہ، بچے، گھر اور واٹس ایپ۔
اب عبدالمنان کی بھیجی ہوئی آڈیوز اور تحریریں باقاعدگی سے آنے لگیں۔ کچھ دینی نصیحتیں ہوتیں، کچھ تاریخی واقعات، کچھ ایسے اقتباسات جن کے آخر میں لکھا ہوتا:
"اگر بات مفید لگے تو آگے ضرور پہنچائیں۔”
نور محمد ہر پیغام پڑھتے بھی نہیں تھے۔ وہ بس "جزاک اللہ” لکھتے اور مختلف گروپوں میں آگے بھیج دیتے—انہیں لگتا تھا کہ شاید یہی علم کی خدمت ہے۔
ایک صبح سورج پوری طرح نکلا بھی نہیں تھا کہ مدرسے کے دروازے پر دو موٹر سائیکلیں آ کر رکیں۔
بھاری قدموں کی آواز صحن میں گونجی۔
دروازہ کھلا۔
"قاری نور محمد؟”
انہوں نے چونک کر سر اٹھایا۔
"جی… میں۔”
"آپ کو چند سوالات کے لیے ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔”
نور محمد کچھ سمجھ نہ پائے۔
"مگر بات کیا ہے؟”
"وہیں معلوم ہو جائے گی۔”
گھبراہٹ میں ان کے ہاتھ سے فون چھوٹ گیا۔ وہ پتھر کے فرش سے ٹکرایا اور اس کی اسکرین ایک طرف سے چٹخ گئی۔
ایک اہلکار نے فون اٹھایا، جیب میں رکھا اور خاموشی سے انہیں گاڑی کی طرف لے گیا۔
تفتیشی کمرہ غیر معمولی طور پر روشن تھا۔
سفید روشنی آنکھوں میں چبھ رہی تھی۔ میز پر ان کا وہی موبائل رکھا تھا جس کی ٹوٹی ہوئی اسکرین روشنی کو بے ترتیب لکیروں میں بانٹ رہی تھی۔
سامنے بیٹھے افسر نے فائل بند کی اور ان کی طرف دیکھا۔
"قاری صاحب، عبدالمنان کو کب سے جانتے ہیں؟”
نور محمد نے چونک کر سر اٹھایا۔
"میں… میں نے انہیں کبھی دیکھا ہی نہیں۔”
"مگر دو سال سے مسلسل رابطہ ہے۔”
"صرف واٹس ایپ پر…”
افسر نے فون ان کی طرف سرکایا۔
"ان دو برسوں میں آپ کے نمبر سے اٹھارہ سو سے زیادہ پیغامات مختلف گروپوں میں بھیجے گئے۔ ان میں سے کئی مواد ہماری تحقیقات میں ایک کالعدم اور ممنوعہ نیٹ ورک سے وابستہ پایا گیا۔”
نور محمد کا گلا خشک ہو گیا۔ انہوں نے بے اختیار کہا:
"میں نے تو کچھ بھی نہیں لکھا… میں تو صرف آگے بھیج دیتا تھا۔”
افسر نے ان کی طرف دیر تک دیکھا۔
"ہم جانتے ہیں۔”
کمرے میں چند لمحے خاموشی رہی، پھر اس نے آہستہ سے پوچھا:
"پچاس ہزار روپے کس نے بھیجے تھے؟”
نور محمد نے پہلی بار محسوس کیا کہ ایک نیکی بھی کبھی کبھی سوال بن کر سامنے کھڑی ہو سکتی ہے۔
افسر نے میز پر رکھی فائل کھولی۔
"جس اکاؤنٹ سے رقم آئی تھی، وہ ایک فرضی شناخت پر کھولا گیا تھا۔ چند ماہ پہلے اسے بند کر دیا گیا۔ اسی سلسلے میں وہ نوجوان بھی ہمارے ریکارڈ میں ہے جو آپ کے حجرے میں تین دن ٹھہرا تھا۔”
نور محمد کے ذہن میں ایک دم فہد کا چہرہ ابھرا—اس کی دھیمی آواز، سادہ لباس، رخصت ہوتے وقت ہاتھ ملانا۔
وہ کرسی کی پشت سے لگ گئے۔
"لیکن… اس نے تو صرف قیام کیا تھا۔”
"ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ آپ اس کے ساتھی تھے۔ ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس نے یہاں کس سے ملاقات کی، کہاں گیا، کس سے ملا۔”
نور محمد نے سر جھکا لیا۔
"مجھے نہیں معلوم۔”
یہ جواب سچا تھا، مگر اس کی بے بسی ان کے اپنے کانوں کو بھی کھوکھلی لگی۔
تفتیش کئی دن چلتی رہی۔ ہر روز وہی سوال، وہی نام، وہی تاریخیں۔ کبھی فون کے پیغامات سامنے رکھے جاتے، کبھی بینک کی تفصیل، کبھی مختلف تصویریں دکھائی جاتیں۔
ایک تصویر پر ان کی نظر ٹھہر گئی۔
وہ عبدالمنان کے بھیجے ہوئے اسی عربی شعر کا عکس تھا۔
افسر نے پوچھا، "اس تحریر کو پہچانتے ہیں؟”
نور محمد نے آہستہ سے سر ہلا دیا۔
"یہ اس نے بھیجی تھی۔”
"اصل میں یہی تحریر کئی اور لوگوں کو بھی بھیجی گئی تھی۔ صرف نام بدلتے رہے۔ کسی کو لکھا گیا، ‘آپ کا علمی ذوق قابلِ رشک ہے’، کسی کو، ‘امت کو آپ جیسے نوجوانوں کی ضرورت ہے’، اور کسی کو، ‘اللہ نے آپ کو خاص مقصد کے لیے چنا ہے۔'”
افسر خاموش ہو گیا۔
نور محمد نے تصویر کو دوبارہ دیکھا۔ ایک لمحے میں انہیں محسوس ہوا جیسے وہ جملہ، جسے وہ اپنی شخصیت کی پہچان سمجھ رہے تھے، سینکڑوں لوگوں کو بھیجا گیا ایک تیار شدہ فقرہ تھا۔
تعریف بھی نقل کی ہوئی تھی۔
اعتماد بھی۔
اور شاید ہمدردی بھی۔
کئی ہفتوں بعد تحقیقاتی اداروں نے انہیں رہا کر دیا۔ ثبوت یہی بتاتے تھے کہ انہوں نے نہ کوئی منصوبہ بنایا، نہ کسی مجرمانہ سرگرمی میں حصہ لیا؛ وہ صرف ایسے پیغامات آگے بڑھاتے رہے جنہیں انہوں نے معتبر سمجھ لیا تھا۔
قانون نے انہیں بے گناہ مان لیا، لیکن محلہ قانون سے پہلے فیصلہ کر چکا تھا۔
جب وہ گلی میں داخل ہوئے تو چائے کی دکان پر بیٹھی محفل اچانک خاموش ہو گئی۔ کسی نے سلام نہیں کیا۔ دو آدمیوں نے نظریں چرا لیں۔ ایک عورت نے اپنے بچے کا ہاتھ پکڑ کر دوسری طرف کر لیا۔
نور محمد آہستہ آہستہ چلتے رہے۔
گھر کا دروازہ کھلا تھا۔ صحن میں بہن بیٹھی تھی۔ اس کی گود میں وہی کپڑا رکھا تھا جو شادی کے جوڑے کے لیے خریدا گیا تھا، مگر ابھی تک سلا نہیں گیا تھا۔ اس نے ایک نظر بھائی کو دیکھا، پھر نظریں جھکا لیں۔
والدہ نے چارپائی پر بیٹھے بیٹھے رخ بدل لیا۔ چھوٹا بھائی دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔
کافی دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے دھیرے سے کہا، "بھائی… لوگ بہت کچھ کہہ رہے ہیں۔”
نور محمد نے جواب نہیں دیا۔
وہ اپنے کمرے میں گئے، الماری سے ڈائری نکالی اور اس کے اندر رکھا وہ کاغذ باہر نکالا جس پر عبدالمنان نے عربی شعر اپنے ہاتھ سے لکھ کر بھیجا تھا۔
کاغذ ویسا ہی تھا، صرف ان کی نگاہ بدل گئی تھی۔
وہ صحن میں آئے، چولہے میں آگ سلگائی اور کاغذ اس میں ڈال دیا۔
کاغذ آہستہ آہستہ مڑا، سیاہ ہوا اور پھر راکھ بن گیا۔ نور محمد دیر تک اس راکھ کو دیکھتے رہے، جیسے کسی آواز کا آخری نشان بھی جل کر ختم ہو گیا ہو۔
چند دن بعد نور محمد دوبارہ مدرسے پہنچے۔
دروازہ وہی تھا، صحن وہی، نیم کا درخت بھی وہیں کھڑا تھا، مگر سب کچھ بدلا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
ناظمِ اعلیٰ نے انہیں دفتر میں بلایا۔ ان کے چہرے پر ہمدردی بھی تھی اور جھجھک بھی۔
"قاری صاحب، آپ کے بارے میں ہمیں کوئی شک نہیں۔ عدالت اور تفتیش، دونوں نے آپ کو بے قصور قرار دیا ہے۔ لیکن…” وہ چند لمحے خاموش رہے، "…والدین ڈر گئے ہیں۔ کئی بچوں کے نام کٹ چکے ہیں۔”
نور محمد نے کوئی صفائی نہیں دی۔ صرف اتنا کہا، "میں سمجھ سکتا ہوں۔”
وہ اپنے حجرے میں آ گئے۔ الماری، تخت، گھڑا، پرانی ڈائری—سب اپنی جگہ موجود تھے، صرف میز پر رکھا موبائل غائب تھا۔ وہ تفتیش کے دوران واپس تو مل گیا تھا، مگر انہوں نے اسے گھر کی الماری میں رکھ چھوڑا تھا۔ اب اسے ساتھ لانے کا دل نہیں چاہا۔
اگلے دن ایک نیا بچہ مدرسے آیا۔ عمر دس برس سے زیادہ نہ ہوگی۔ ہاتھ میں ایک پرانا اسمارٹ فون تھا جس کی اسکرین جگہ جگہ سے خراش زدہ تھی۔
اس نے جھجکتے ہوئے کہا، "قاری صاحب، ابا نے کہا ہے آپ کا نمبر اس میں محفوظ کر لوں۔ آپ جو سبق پڑھائیں گے، میں ریکارڈ کر لیا کروں گا تاکہ وہ بھی گھر پر سن لیں۔”
نور محمد نے فون کی طرف دیکھا، پھر بچے کی طرف۔ کچھ لمحے خاموش رہے۔
انہوں نے نرمی سے فون اس کے ہاتھ سے لیا، اسکرین روشن ہوئی۔ اس پر مختلف ایپس کے رنگین نشان جگمگا رہے تھے۔
انہوں نے پاور کا بٹن دبا دیا۔ اسکرین بجھ گئی۔
فون واپس بچے کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے بولے، "یہ اپنے پاس رکھو۔ آج اس کی ضرورت نہیں۔”
بچہ حیران ہو کر انہیں دیکھنے لگا۔
نور محمد مسکرائے، "پہلے ہم ایک دوسرے کو سننا سیکھیں گے، پھر ریکارڈ کرنا۔”
بچہ کچھ سمجھا، کچھ نہ سمجھا، مگر اس نے خاموشی سے سر ہلا دیا اور تختی اٹھا کر بیٹھ گیا۔
نور محمد نے الماری سے ایک نئی تختی نکالی، اس پر قلم رکھا اور بچے کے سامنے بیٹھ گئے۔
"پہلا سبق…” انہوں نے آہستہ سے کہا، "…حروف کا نہیں، پہچان کا ہے۔”
صحن میں دوسرے بچے بھی آ کر بیٹھنے لگے۔ کسی نے تختی پر "الف” لکھا، کسی نے سیاہی مانگی، کسی نے قلم تراشنے کو کہا۔ چھوٹی چھوٹی آوازیں حجرے میں پھیل گئیں۔
نور محمد نے بے اختیار سر اٹھایا۔ یہ آوازیں بے ترتیب تھیں، مگر ہر آواز کے ساتھ ایک چہرہ تھا، ایک سانس تھی، ایک نظر تھی۔
انہوں نے دروازے سے باہر جھانکا۔ مسجد کے مینار پر ایک کبوتر آ کر بیٹھا، پھر اڑ گیا۔
نور محمد نے ایک گہرا سانس لیا، تختی بچے کے سامنے رکھی اور کہا، "پڑھو…”
بچے نے ہچکچاتے ہوئے پہلا حرف ادا کیا۔ نور محمد نے اس کی ادائیگی درست کی۔
اس لمحے انہیں محسوس ہوا کہ علم کی اصل آواز وہی ہے جس کے سامنے ایک انسان بیٹھا ہو، جس کی آنکھوں میں سوال دکھائی دے، جس کی غلطی فوراً سنائی دے، اور جس کی نیت کو جاننے کے لیے کسی اسکرین کی ضرورت نہ ہو۔
اس روز عشاء کے بعد مدرسہ خالی ہو گیا۔
نور محمد حجرے میں اکیلے بیٹھے تھے۔ انہوں نے الماری کا نچلا خانہ کھولا۔ پرانا اسمارٹ فون اب بھی وہیں رکھا تھا۔
کئی لمحے اسے دیکھتے رہے، پھر نہ جانے کس خیال سے پاور کا بٹن دبا دیا۔ اسکرین روشن ہوئی۔
نیٹ ورک آتے ہی ایک اطلاع ابھری:
"عبدالمنان نے آپ کو واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا ہے۔”
نور محمد کے جسم میں جیسے بجلی دوڑ گئی۔ انہوں نے کانپتے ہاتھوں سے گروپ کھولا۔
پہلا پیغام صرف ایک سطر پر مشتمل تھا:
"قاری صاحب، ایک پیغام ہے… صرف فارورڈ کر دیجیے۔”
حجرے کے باہر بچوں کے سبق دہرانے کی مدھم آواز آ رہی تھی۔
نور محمد نے اسکرین بند نہیں کی۔ انہوں نے فون مضبوطی سے پکڑا، دروازہ کھولا اور تیز قدموں سے مدرسے سے باہر نکل گئے۔
٭٭٭

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close