कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تحریکِ جنگِ آزادی: ابتداء، تسلسل، قربانیاں اور تاریخی حقیقت

از: رضوان الدین القاسمی

لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے
اچھل رہا ہے زمانے میں نامِ آزادی
(فراق گورکھپوری)
تمہید:
ہندوستان، جسے صدیوں سے اس کی زرخیزی، تہذیبی سطوت، علمی سرمایہ اور قدرتی وسائل کی فراوانی کے باعث ’’سونے کی چڑیا‘‘ کہا جاتا رہا ہے، اس کی آزادی کسی ایک دن، کسی ایک جماعت یا کسی ایک طبقے کی عطا نہیں، بلکہ یہ صدیوں کی محنت، مزاحمت، قربانی اور مسلسل جدوجہد کا ثمر ہے۔ 15 اگست 1947ء کا دن ہندوستانی تاریخ کا وہ تاریخ ساز دن ہے جب طویل غلامی کے بعد برطانوی اقتدار کا خاتمہ ہوا اور ہندوستان ایک آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں مختلف مذاہب، قوموں، علاقوں، طبقات اور سیاسی نظریات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے حصہ لیا؛ سرکاری سطح پر بھی آزادی کی تاریخ کو مختلف تحریکوں اور غیر معروف مجاہدین کی مشترکہ جدوجہد کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
ہندوستان کی مٹی کا ذرہ ذرہ ان لوگوں کی داستانِ قربانی سناتا ہے جنہوں نے وطن کی آزادی کے لیے اپنی جان، مال، عزت، آرام، گھر بار اور مستقبل تک قربان کردیا۔ اس طویل جدوجہد میں مسلمانانِ ہند، بالخصوص علماءِ کرام، نے بھی نمایاں اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ انہوں نے صرف قلم و منبر سے آواز نہیں اٹھائی بلکہ قید و بند، جلاوطنی، مالٹا، کالا پانی، پھانسی، جائیدادوں کی ضبطی اور طرح طرح کی اذیتیں برداشت کیں:
جب گلستاں کو خوں کی ضرورت پڑی
سب سے پہلے گردن ہماری کٹی
اب کہتے ہیں ہم سے یہ اہلِ چمن
یہ چمن ہے ہمارا، تمہارا نہیں
یہ حقیقت ہے کہ آزادی کی تاریخ کو کسی ایک مذہب، قوم یا تنظیم تک محدود کرنا تاریخی انصاف کے خلاف ہے۔ لیکن اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ آزادی کی جدوجہد میں کسی طبقے، خصوصاً علماء اور مذہبی مدارس سے وابستہ مجاہدین، کی قربانیوں کو نظر انداز کردیا جائے۔ ہندوستان کی آزادی کی سرکاری یادداشت بھی اس بات پر زور دیتی ہے کہ آزادی کی منزل تک پہنچانے والے کئی ’’unsung heroes‘‘ اور متعدد تحریکیں روایتی بیانیے میں پوری طرح نمایاں نہیں ہوسکیں:
پتہ پتہ، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے
ایک عرصے سے یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ دینی مدارس قومی و سیاسی زندگی سے الگ تھلگ ادارے تھے اور ان کے علماء و فضلاء کو ملک کے حالات اور قومی مفادات سے کوئی سروکار نہ تھا۔ ہندوستان کی تاریخ کا مطالعہ اس عمومی تصور کی تائید نہیں کرتا۔ اگرچہ ہر مدرسہ یا ہر عالم کو براہِ راست سیاسی تحریک کا کارکن قرار دینا درست نہیں، لیکن یہ تاریخی حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ متعدد علماء اور دینی اداروں سے وابستہ شخصیات نے برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت، سیاسی بیداری، عوامی تنظیم، صحافت، عدمِ تعاون، خلافت تحریک اور آزادی کی مختلف تحریکوں میں نمایاں حصہ لیا۔
ان شخصیات میں شاہ ولی اللہ دہلوی، شاہ عبدالعزیز دہلوی، سید احمد شہید، سید اسماعیل شہید، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، حافظ ضامن شہید، مولانا فضل حق خیرآبادی، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی، مولانا عبیداللہ سندھی، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا حسرت موہانی، مولانا کفایت اللہ دہلوی، مولانا عبدالباری فرنگی محلی، مولانا احمد سعید دہلوی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی اور بہت سے دوسرے علماء و رہنماؤں کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
(تاریخ ہند:مفتی محمد صاحب پالنپوری ص:٢٤٢-آخرتک)
یہ ایک وسیع داستان ہے، جس کا آغاز برطانوی تجارتی نفوذ سے ہوتا ہے، 1757ء کی جنگِ پلاسی، 1764ء کی جنگِ بکسر، میسور اور مرہٹہ مزاحمت، 1857ء کی عظیم بغاوت، اس کے بعد کی خفیہ و علانیہ تحریکوں، ریشمی رومال تحریک، خلافت و عدمِ تعاون، سول نافرمانی، ہندوستان چھوڑو تحریک، انقلابی تحریکوں، آزاد ہند فوج اور بالآخر 1947ء کی آزادی تک پھیلا ہوا ہے۔
ایسٹ انڈیا کمپنی سے برطانوی اقتدار تک
سولہویں صدی کے اختتام پر یورپی تجارتی طاقتیں ہندوستان کی دولت اور تجارت کی طرف متوجہ ہوچکی تھیں۔ انگلستان کی ایسٹ انڈیا کمپنی کو شاہی چارٹر 31 دسمبر 1600ء کو ملا۔ ابتدا میں اس کا مقصد تجارت تھا، مگر وقت کے ساتھ ہندوستان کی سیاسی کمزوریوں، داخلی اختلافات اور علاقائی طاقتوں کی باہمی کشمکش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کمپنی ایک تجارتی ادارے سے سیاسی و عسکری طاقت میں تبدیل ہوگئی۔
(تحریک آزادی ہند میں مسلم علماء وعوام کاکردار،ص:١٦-١٨)
1757ء کی جنگِ پلاسی ہندوستان کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ بنگال کے نواب سراج الدولہ کو شکست ہوئی اور کمپنی کا سیاسی اثر تیزی سے بڑھا۔ 1764ء کی جنگِ بکسر کے بعد کمپنی کی طاقت مزید مستحکم ہوئی اور 1765ء میں اسے بنگال، بہار اور اڑیسہ میں دیوانی حقوق حاصل ہوگئے۔
اس کے بعد ہندوستان میں کمپنی کی توسیع مسلسل جاری رہی۔ میسور میں حیدر علی اور ٹیپو سلطان نے شدید مزاحمت کی۔ ٹیپو سلطان 4 مئی 1799ء کو سری رنگاپٹم کے معرکے میں شہید ہوئے۔شہادت سے قبل ٹیپو سلطان نے جو تاریخ ساز جملہ کہا، وہ آج بھی آزادی اور حریتِ فکر کی علامت سمجھا جاتا ہے:
"گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک لمحہ کی زندگی بہتر ہے۔” ان کی شہادت کے بعد جنوبی ہندوستان میں برطانوی اقتدار کو بڑی تقویت ملی۔
اوراسی وقت انگریزکےفوجی کمانڈر نے ٹیپو سلطان شہید کی نعش کو دیکھ کر کہاتھا کہ آج سے ہندوستان ہمارا:
بازِ فہم و دل نِہادند بہ میدانِ وجود
کِے گُنجَد مردِ غیور اندر صحنِ ایں زنداں؟
(علامہ اقبال)
پھرپنجاب میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد سیاسی کمزوری پیدا ہوئی اور دوسری اینگلو سکھ جنگ کے نتیجے میں 1849ء میں پنجاب برطانوی اقتدار میں شامل ہوگیا۔ اسی طرح سندھ، اودھ اور ہندوستان کے دیگر خطے مختلف جنگوں، معاہدوں، الحاق اور سیاسی تدبیروں کے ذریعے برطانوی اقتدار میں آتے گئے۔اس پورے عمل میں جنگ کے ساتھ ساتھ سفارت کاری، معاہدے، داخلی اختلافات، اقتصادی دباؤ اور ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ جیسی پالیسیوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
شاہ ولی اللہ اور شاہ عبدالعزیز: مزاحمت کی فکری بنیاد
برطانوی اقتدار کے وسیع ہونے سے بہت پہلے ہی بعض اہلِ علم نے ہندوستان کی سیاسی صورتِ حال میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو محسوس کرلیا تھا۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ ان بزرگوں میں نمایاں ہیں جنہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی دینی، علمی اور اجتماعی اصلاح کی طرف توجہ دلائی۔
ان کے بعد ان کے فرزند حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے برطانوی اقتدار کے بڑھتے ہوئے اثرات کے بارے میں سخت موقف اختیار کیا۔ ان سے منسوب مشہور فتویٰ ’’ہندوستان کے دارالحرب ہونے‘‘ کے حوالے سے تاریخِ فقہ و سیاست میں زیر بحث رہا ہے۔ اس فتویٰ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی فکری فضا نے ہندوستان میں برطانوی اقتدار کے خلاف مذہبی و سیاسی احساس کو تقویت دی۔
(تحریک آزادی ہند میں مسلم علماء وعوام کاکردار/تاریخ ہند)
بعد کے زمانے میں سید احمد شہیدؒ، شاہ اسماعیل شہیدؒ اور ان کے رفقاء نے ایک منظم اصلاحی و جہادی تحریک چلائی۔ اگرچہ ان کی تحریک کا بڑا عسکری محاذ سکھ اقتدار کے خلاف سرحدی علاقوں میں قائم ہوا اور اس کے مقاصد وقت کے ساتھ مختلف مراحل سے گزرے، لیکن ان کے پیروکاروں کے ذریعے برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کا جذبہ بھی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں منتقل ہوا۔
1831ء میں بالاکوٹ کے معرکے میں سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کے بعد بھی ان کے رفقاء اور متوسلین کی مختلف سرگرمیاں جاری رہیں، جن کے اثرات بعد کی مزاحمتی تحریکوں تک پہنچے۔
1857ء: ہندوستان کی عظیم بغاوت
1857ء کا سال ہندوستان کی آزادی کی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس بغاوت کے اسباب میں فوجی بے اطمینانی، مذہبی و سماجی خدشات، سیاسی الحاق کی برطانوی پالیسی، جاگیردارانہ مفادات کا خاتمہ، اقتصادی استحصال اور طویل عرصے سے بڑھتا ہوا سیاسی غصہ شامل تھا۔
میرٹھ سے شروع ہونے والی بغاوت نے جلد ہی دہلی، کانپور، لکھنؤ، جھانسی، بریلی، بہار اور ہندوستان کے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو علامتی طور پر قیادت کا مرکز بنایا گیا۔
اس مرحلے میں ہندو اور مسلمان دونوں طبقوں کے افراد نے شرکت کی۔ نانا صاحب، تاتیا ٹوپے، رانی لکشمی بائی، بیگم حضرت محل، کنور سنگھ، بہادر شاہ ظفر اور متعدد دوسرے رہنماؤں کے ساتھ کئی علماء اور مسلمان مجاہدین بھی میدان میں اترے۔
پورے ملک میں آزادی کی آگ بھڑک اٹھی، اکابر علماء دیوبند نے شاملی کے میدان میں جہاد میں خود شرکت کی۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اور حافظ ضامن شہید نے حضرت سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے ہاتھ پر بیعت جہاد کی، پھر تیاری شروع کردی گئی، حضرت حاجی صاحب کو امام مقرر کیاگیا مولانا منیر نانوتوی کو فوج کے دائیں بازو کا اور حافظ ضامن تھانوی کو بائیں بازو کا افسر مقرر کیاگیا مجاہدین نے پہلا حملہ شیرعلی کی سڑک پر انگریزی فوج پر کیا اور مال و اسباب لوٹ لیا، دوسرا حملہ ۱۴/ ستمبر ۱۸۵۷/ کو شاملی پر کیا، اور فتح حاصل کی، جب خبر آئی کہ توب خانہ سہارنپور سے شاملی کو بھیجا گیا ہے تو حضرت حاجی صاحب نے مولانا گنگوہی کو چالیس پچاس مجاہدین کے ساتھ مقرر کیا، سڑک باغ کے کنارے سے گزرتی تھی، مجاہدین اس باغ میں چھپے تھے جب پلٹن وہاں سے گذری تو مجاہدین نے ایک ساتھ فائر کردیا پلٹن گھبراگئی اور توپ خانہ چھوڑ کر بھاگ گئی اسی معرکہ میں حافظ ضامن صاحب تھانوی شہید ہوئے سید حسن عسکری صاحب کو سہارنپور لاکر انگریزوں نے گولی ماردی مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی مظفرنگر جیل میں ڈال دئیے گئے اور مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے لئے انڈرگراؤنڈ چلے گئے۔
(ہندوستان کی آزادی کے لیے کوشش)
۱۸۵۷/ کی جنگ آزادی مختلف وجوہ و اسباب کی بنا پر ناکام رہی اور آزادی کے متوالوں پر ہول ناک مظالم کے پہاڑ توڑڈالے گئے۔ ان میں مسلمان اور بطور خاص علماء، انگریزوں کی مشق ستم کا نشانہ بنے، اس لئے کہ انھوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی اور علماء کرام نے ان کے خلاف فتویٰ دے کر جہاد کا اعلان عام کردیا تھا، چنانچہ ۱۸۵۷/ سے چودہ برس پہلے ہی گورنر جنرل ہند نے یہ کہہ دیا تھا کہ مسلمان بنیادی طور پر ہمارے مخالف ہیں اس جنگ میں دو لاکھ مسلمانوں کو شہید کیاگیا جن میں ساڑھے اکیاون ہزار علماء کرام تھے، انگریز علماء کے اتنے دشمن تھے کہ ڈاڑھی اور لمبے کرتے والوں کو دیکھتے ہی پھانسیاں دے دیتے تھے، ایڈورڈ ٹامسن نے شہادت دی ہے کہ صرف دہلی میں پانچ سو علماء کو پھانسی دی گئی (ریشمی رومال ص:۴۵) پوری دہلی کو مقتل میں تبدیل کردیاگیا تھا مرزا غالب کی زبان میں:
چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
گھر نمونہ بنا ہے زند ا ں کا
شہر دلی کا ذَ رّہ ذ رّہٴ خا ک
تشنہٴ خوں ہے ہر مسلمان کا
دہلی، کلکتہ، لاہور، بمبئی، پٹنہ، انبالہ، الہ آباد، لکھنوٴ، سہارنپور، شاملی اور ملک کے چپے چپے میں مسلمان اور دیگر مظلوم ہندوستانیوں کی لاشیں نظر آرہی تھیں علماء کرام کو زندہ خنزیر کی کھالوں میں سی دیا جاتا پھر نذر آتش کردیا جاتا تھا کبھی ان کے بدن پر خنزیر کی چربی مل دی جاتی پھر زندہ جلادیا جاتا تھا۔ (دیکھئے ایسٹ انڈیا کمپنی اور باغی علماء)
1857ء کے بعد مدارس اور نئی جدوجہد
1857ء کی ناکامی کے بعد علماء کے سامنے یہ سوال تھا کہ آئندہ نسل کی دینی، فکری اور اجتماعی تربیت کس طرح کی جائے۔ اسی پس منظر میں 1866ء میں دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا۔
دارالعلوم دیوبند بنیادی طور پر ایک دینی و علمی ادارہ تھا؛ اسے ایک سیاسی تنظیم سمجھنا تاریخی طور پر درست نہیں۔ تاہم اس کے بعض اکابر اور فارغین نے بعد کے ادوار میں برطانوی اقتدار کے خلاف سیاسی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا۔اسی ماحول سے وابستہ علماء نے بعد میں تنظیم سازی، سیاسی بیداری، صحافت، عوامی رابطے اور آزادی کی تحریکوں میں شرکت کے مختلف راستے اختیار کیے۔
ریشمی رومال تحریک
1857ء کی ناکامی کے بعد آزادی کی جدوجہد ختم نہیں ہوئی بلکہ اس نے نئے انداز اختیار کیے۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے برطانوی حکومت کے خلاف ایک منظم خفیہ تحریک کی منصوبہ بندی کی جسے بعد میں ’’ریشمی رومال تحریک‘‘ یا Silk Letter Movement کے نام سے شہرت ملی۔
مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے کابل میں رہ کر اس تحریک کے لیے کام کیا، جبکہ شیخ الہند نے بیرونی حمایت حاصل کرنے کے لیے حجاز کا سفر کیا۔ اس منصوبے میں افغانستان، عثمانی ترکی اور ہندوستان کے اندر موجود مجاہدین کے درمیان رابطے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔تحریک کا مقصد یہ تھا کہ بیرونی تعاون اور اندرونی بغاوت کے ذریعے برطانوی اقتدار کو چیلنج کیا جائے۔ خفیہ خطوط ریشمی کپڑے پر تحریر کیے گئے، اسی وجہ سے یہ تحریک ’’ریشمی رومال تحریک‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔
تحریک کا راز افشا ہوا اور شیخ الہند گرفتار کرلیے گئے۔ انہیں مالٹا بھیج دیا گیا، جہاں انہوں نے طویل قید برداشت کی۔
مالٹا کی قید نے ان کے عزم کو کمزور نہیں کیا۔ ان کی شخصیت بعد کی آزادی کی جدوجہد کے لیے ایک علامت بن گئی۔
کالا پانی: سزا، اذیت اور عزمِ آزادی
برطانوی حکومت نے سیاسی قیدیوں اور آزادی کے مجاہدین کو سزا دینے کے لیے انڈمان و نکوبار کے سیلولر جیل کو استعمال کیا۔ یہ جیل بعد میں ’’کالا پانی‘‘ کے نام سے ہندوستانی سیاسی
خلافت تحریک، عدمِ تعاون اور علماء کا کردار حافظے میں ظلم و جبر کی علامت بن گئی۔
قیدیوں کو ہندوستان سے ہزاروں میل دور ایک جزیرے پر بھیج دیا جاتا۔ وہاں انہیں سخت مشقت، تنہائی، ناقص خوراک، جسمانی اذیت اور قید کی سختیوں کا سامنا کرنا پڑتا۔ سیاسی قیدیوں کے ساتھ سلوک نے برطانوی حکومت کے خلاف نفرت میں اضافہ کیا۔کالا پانی کی داستان صرف ایک مخصوص مذہب یا طبقے کی داستان نہیں؛ وہاں مختلف نظریات، مذاہب اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے آزادی کے قیدی پہنچے۔ اس جیل کی دیواریں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ آزادی کی قیمت صرف میدانِ جنگ میں خون دینے سے نہیں بلکہ برسوں کی قید، تنہائی اور مشقت سے بھی ادا کی گئی۔
جلیانوالہ باغ: ظلم کی ایک خونیں داستان
1857ء کے بعد بھی ہندوستانی عوام کا غصہ ختم نہیں ہوا۔ مختلف سیاسی، سماجی اور انقلابی تحریکیں چلتی رہیں۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانوی حکومت نے ہندوستان میں سیاسی بے چینی کو دبانے کے لیے سخت اقدامات کیے۔
13 اپریل 1919ء کو امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں ایک المناک سانحہ پیش آیا۔ بیساکھی کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ بریگیڈیئر جنرل ریجنالڈ ڈائر نے فوجیوں کو نہتے اجتماع پر فائرنگ کا حکم دیا۔ اس واقعے نے پورے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دیا۔جلیانوالہ باغ کا سانحہ برطانوی استعمار کی سخت گیری کی علامت بن گیا۔ ہندوستانی عوام کے اندر آزادی کا جذبہ مزید شدت اختیار کرگیا۔ آج بھی یہ واقعہ آزادی کی جدوجہد کی تاریخ میں ایک اہم موڑ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے؛ حکومتِ ہند کی آزادی کی یادگاری مہمات میں بھی جلیانوالہ باغ کے شہداء کو یاد کیا جاتا ہے۔
پہلی جنگِ عظیم کے بعد ہندوستان میں خلافت تحریک اور عدمِ تعاون کی تحریک نے آزادی کی جدوجہد کو عوامی سطح پر ایک نئی قوت دی۔ مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا ابوالکلام آزاد، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، مولانا عبدالباری فرنگی محلی اور متعدد دوسرے علماء نے ان تحریکوں میں حصہ لیا۔
جمعیۃ علماء ہند نے بھی برطانوی حکومت کے خلاف سیاسی مزاحمت اور عدمِ تعاون کی پالیسی میں اہم کردار ادا کیا۔ علماء نے سرکاری عہدوں، اعزازی مناصب اور برطانوی حکومت کے ساتھ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر عوام کو اپنے موقف سے آگاہ کیا۔
مولانا حسین احمد مدنیؒ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ہندوستان کی آزادی، ہندو مسلم اتحاد اور قومی سیاست میں صرف کیا۔ کراچی کے مقدمے میں ان کا بیان ان کی سیاسی بے باکی اور برطانوی حکومت کے خلاف مزاحمت کی ایک نمایاں مثال سمجھا جاتا ہے۔
گاندھی، علماء اور مشترکہ جدوجہد
ہندوستان کی آزادی کی تحریک کا ایک اہم پہلو ہندو مسلم اتحاد کی کوششیں تھیں۔ متعدد علماء نے اس بات کو محسوس کیا کہ برطانوی اقتدار کے مقابلے کے لیے ہندوستانی عوام کا متحد ہونا ضروری ہے۔
شیخ الہند اور ان کے رفقاء نے مہاتما گاندھی کے ساتھ سیاسی تعاون کے راستے اختیار کیے۔ خلافت تحریک اور عدمِ تعاون نے ایک وقت میں ہندوستانی سیاست کو ایک بڑے مشترکہ عوامی احتجاج میں تبدیل کردیا۔
یہ اتحاد ہمیشہ قائم نہ رہ سکا اور بعد کے ادوار میں سیاسی اختلافات اور فرقہ وارانہ کشیدگی بھی بڑھی، لیکن آزادی کی تاریخ کے اس مرحلے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
حسرت موہانی، ابوالکلام آزاد اور مکمل آزادی کا تصور
مولانا حسرت موہانی ان رہنماؤں میں تھے جنہوں نے ہندوستان کے لیے مکمل آزادی کا مطالبہ بہت پہلے پیش کیا۔ ’’کامل آزادی‘‘ کا تصور بعد میں ہندوستانی قومی سیاست کا مرکزی مطالبہ بنتا گیا۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے صحافت، علمی تحریر اور سیاسی قیادت کے ذریعے آزادی کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے اخبارات اور خطابات نے عوام میں سیاسی شعور پیدا کیا۔
ان کے نزدیک آزادی صرف اقتدار کی منتقلی نہیں بلکہ ہندوستانی قوم کی سیاسی اور اخلاقی خود مختاری تھی۔
1930ء کی دہائی اور سول نافرمانی
1930ء میں نمک مارچ اور سول نافرمانی کی تحریک نے برطانوی حکومت کے خلاف عوامی مزاحمت کو مزید وسیع کردیا۔ مہاتما گاندھی کی قیادت میں ہونے والی اس تحریک میں مختلف طبقات نے حصہ لیا۔
اس زمانے میں جیلیں سیاسی کارکنوں سے بھرنے لگیں۔ برطانوی حکومت کے خلاف احتجاج، بائیکاٹ، ہڑتالیں اور سول نافرمانی ہندوستانی سیاست کا حصہ بن گئے۔
1942ء: ہندوستان چھوڑو تحریک
8 اگست 1942ء کو آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے ’’ہندوستان چھوڑو‘‘ تحریک کا فیصلہ کیا۔ ’’کرو یا مرو‘‘ کا نعرہ عوام میں پھیل گیا۔
برطانوی حکومت نے فوری طور پر بڑے رہنماؤں کو گرفتار کرلیا، مگر اس کے باوجود تحریک کئی علاقوں میں زیرِ زمین انداز میں جاری رہی۔
یہ تحریک ہندوستان میں برطانوی اقتدار کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج ثابت ہوئی۔ سرکاری آزادی مہم بھی 1942ء کی ’’Quit India‘‘ تحریک کو آزادی کی جدوجہد کے اہم ابواب میں شمار کرتی ہے۔
نیتاجی سبھاش چندر بوس اور آزاد ہند فوج
آزادی کی جدوجہد صرف عدم تشدد کی تحریک تک محدود نہیں تھی۔ نیتاجی سبھاش چندر بوس نے بیرونِ ملک جا کر آزاد ہند حکومت اور آزاد ہند فوج (INA) کے ذریعے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔
آزاد ہند فوج میں مختلف مذاہب اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی شامل تھے۔ اس فوج کا مقصد برطانوی حکومت کے خلاف مسلح کارروائی کے ذریعے ہندوستان کو آزاد کرانا تھا۔
1945ء میں آزاد ہند فوج کے افسران کے مقدمات نے ہندوستان میں شدید عوامی ردعمل پیدا کیا۔ ان مقدمات نے ہندوستانی فوج اور عوام کے اندر برطانوی اقتدار کے بارے میں پہلے سے موجود بے چینی کو مزید بڑھایا۔
1946ء: بحری بغاوت اور اقتدار کی بنیادیں ہلنای
1946ء میں رائل انڈین نیوی کی بغاوت نے برطانوی حکومت کو ایک اور بڑا سیاسی اور عسکری پیغام دیا۔ بمبئی سے شروع ہونے والی یہ بغاوت مختلف علاقوں تک پھیلی اور ہندوستانی عوام کے بعض طبقات نے اس کی حمایت کی۔
برطانیہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد معاشی اور عسکری طور پر کمزور ہوچکا تھا۔ ہندوستان میں مسلسل سیاسی مزاحمت، عوامی تحریکیں، فوجی بے چینی، آزاد ہند فوج کے اثرات اور بدلتے ہوئے عالمی حالات نے برطانوی اقتدار کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ہندوستان پر طویل عرصے تک حکومت برقرار رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔
1947ء: آزادی کا فیصلہ
1946ء میں کیبنٹ مشن ہندوستان آیا اور اقتدار کی منتقلی کا منصوبہ تلاش کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن سیاسی اختلافات، کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان کشمکش اور فرقہ وارانہ حالات کے باعث متحدہ ہندوستان کا منصوبہ کامیاب نہ ہوسکا۔
بالآخر برطانوی حکومت نے ہندوستان کی تقسیم اور اقتدار کی منتقلی کا فیصلہ کیا۔3 جون 1947ء کے منصوبے کے تحت ہندوستان کی تقسیم کا راستہ اختیار کیا گیا۔18 جولائی 1947ء کو Indian Independence Act منظور ہوا۔اس کے نتیجے میں دو نئی ریاستیں وجود میں آئیں:ہندوستان اور پاکستان۔
پاکستان 14 اگست 1947ء کو آزاد ہوا، جبکہ ہندوستان نے 15 اگست 1947ء کو آزادی حاصل کی-
15 اگست 1947ء: آزادی کی صبح
14 اور 15 اگست 1947ء کی درمیانی رات ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی کا تاریخی اجلاس ہوا۔ جواہر لال نہرو نے اپنی مشہور تقریر ’’Tryst with Destiny‘‘ کے ذریعے آزادی کے نئے دور کا اعلان کیا۔
15 اگست 1947ء کو ہندوستان ایک آزاد ملک بن گیا۔برطانوی اقتدار کا طویل باب ختم ہوا اور ہندوستانی قیادت کے ہاتھ میں اقتدار منتقل ہوا۔آزادی کی علامت کے طور پر ہندوستانی پرچم نئی ریاست کے افق پر بلند ہوا۔ ہندوستانی قومی پرچم کی موجودہ شکل دستور ساز اسمبلی نے 22 جولائی 1947ء کو اختیار کی تھی۔
آزادی کی تاریخ اور علماء کی قربانیاں
ہندوستان کی آزادی کی تاریخ میں علماء اور مدارس سے وابستہ شخصیات کی خدمات کا ذکر کرتے وقت توازن اور تاریخی دیانت ضروری ہے۔ ہر عالم کو مجاہدِ آزادی کہنا درست نہیں، اور نہ آزادی کی پوری تاریخ کو صرف علماء کی جدوجہد تک محدود کیا جاسکتا ہے۔
لیکن یہ بھی ناقابلِ انکار ہے کہ ہندوستان کے متعدد علماء نے برطانوی استعمار کے خلاف مختلف ادوار میں مزاحمت کی، عوامی بیداری پیدا کی، قید و بند برداشت کیا، جلاوطنی اختیار کی، پھانسی کے پھندے کو قبول کیا اور سیاسی تحریکوں میں قائدانہ کردار ادا کیا۔
شاہ عبدالعزیز دہلوی سے لے کر سید احمد شہید، 1857ء کے علماء، دارالعلوم دیوبند کے بعض اکابر، شیخ الہند، مولانا عبید اللہ سندھی، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسرت موہانی اور جمعیۃ علماء ہند کے متعدد رہنماؤں تک یہ سلسلہ مختلف صورتوں میں جاری رہا۔
اسی طرح آزادی کی اس عظیم داستان میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، قبائلی، خواتین، کسان، مزدور، طلبہ، صحافی، ادیب، وکلا، انقلابی، سیاسی کارکن اور بے شمار عام ہندوستانی شامل تھے۔
لہٰذا ہندوستان کی آزادی کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں؛ یہ پورے ہندوستانی عوام کی مشترکہ تاریخی میراث ہے۔
تاریخی حقیقت کیا ہے؟
تاریخی حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی کسی ایک واقعے سے حاصل نہیں ہوئی۔
یہ ایک طویل عمل تھا:
تجارتی نفوذ → سیاسی قبضہ → مقامی مزاحمت → 1857ء کی بغاوت → برطانوی تاج کی براہِ راست حکومت → اصلاحی و سیاسی تحریکیں → انقلابی تحریکیں → خلافت و عدمِ تعاون → سول نافرمانی → ہندوستان چھوڑو تحریک → آزاد ہند فوج → 1946ء کی بحری بغاوت → دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ کی کمزوری → اقتدار کی منتقلی → 15 اگست 1947ء کی آزادی۔
اس پوری داستان میں قربانی دینے والوں کی تعداد بے شمار ہے اور ان میں سے بہت سے نام تاریخ کی بڑی کتابوں میں بھی جگہ نہ پاسکے۔حکومتِ ہند کی اپنی آزادی کی یادگاری مہمات بھی ’’Freedom Struggle‘‘ کو مختلف تحریکوں، اہم تاریخی مراحل اور غیر معروف مجاہدین کی داستانوں کے ساتھ یاد کرتی ہیں۔
15 اگست: جشن بھی، احتساب بھی
آج جب ہم 15 اگست کو ترنگا لہراتے ہیں، قومی ترانہ سنتے ہیں اور آزادی کا جشن مناتے ہیں تو ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ آزادی کتنی بھاری قیمت ادا کرکے حاصل ہوئی۔
ہمیں ان شہداء کو یاد کرنا چاہیے جن کے نام معلوم ہیں اور ان کو بھی جن کے نام تاریخ کے اوراق میں گم ہوگئے۔
ہمیں 1857ء کے شہداء کو یاد کرنا چاہیے۔
ہمیں بالاکوٹ کے شہداء کو یاد کرنا چاہیے۔
ہمیں شاملی کے مجاہدین کو یاد کرنا چاہیے۔
ہمیں کالا پانی کے قیدیوں کو یاد کرنا چاہیے۔
ہمیں جلیانوالہ باغ کے شہداء کو یاد کرنا چاہیے۔
ہمیں مالٹا کی قید برداشت کرنے والے شیخ الہند اور ان کے رفقاء کو یاد کرنا چاہیے۔
ہمیں مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسرت موہانی، مولانا حسین احمد مدنی اور ان تمام علماء و رہنماؤں کو یاد کرنا چاہیے جنہوں نے اپنی اپنی صلاحیت کے مطابق آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا۔ اور ہمیں ان بے شمار غیر مسلم ہندوستانی مجاہدین کو بھی یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے اسی مٹی کی آزادی کے لیے اپنا خون بہایا۔ کیونکہ آزادی کا سب سے بڑا تقاضا یہی ہے کہ ہم آزادی کے لیے قربان ہونے والوں کی تاریخ کو فرقہ، مذہب ،زبان علاقہ اور جماعت کی دیواروں میں تقسیم نہ کریں ، مجاہدین آزادی کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے چند اشعار پر اپنے قلم کو روکنا مناسب سمجھتا ہوں:
یہ ہیں وہ سورما، وہ مجاہد ہیں
یہ فیض سے جن کے یہ ملک آزاد ہے
ان کو ہم بھول جائیں، یہ زیبا نہیں
یہ وطن ان کے احساس سے آباد ہے

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے