कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قیادت کی شعوری جہتیں اور خواتین کا تعمیری کردار

تحریر: نکہت انجم ناظم الدین
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

تاریخ کے ہر عہد میں معاشرے کی تشکیل و تعمیر کا عمل ایسے افراد کے ہاتھوں آگے بڑھا جنہوں نے حالات کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے بجائے بصیرت، استقامت اور بلند حوصلے کو اپنا سرمایہ بنایا۔ انہی اوصاف کا مجموعہ قیادت کہلاتا ہے۔ قیادت اقتدار کی خواہش یا کسی منصب کی آرزو کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسی فکری اور اخلاقی کیفیت ہے جو انسان کے کردار، طرزِ فکر اور اندازِ عمل میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک باوقار قائد اپنے اثرات الفاظ سے پہلے اپنے کردار کے ذریعے مرتب کرتا ہے۔ اسی طرح خواتین کی قائدانہ صلاحیتوں پر گفتگو کرتے ہوئے ذہن سب سے پہلے اس حقیقت کی طرف متوجہ ہوتا ہے کہ ایک خاتون کی زندگی خود مختلف ذمہ داریوں کا حسین امتزاج ہے۔ وہ بیٹی بھی ہے، ماں بھی، گھر کی منتظم بھی، پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بھی بحسن وخوبی نبھاتی ہیں تو وہیں معاشرے کی فعال رکن بھی ہے۔ زندگی کے ان تمام دائروں میں اس کے فیصلے، اس کی بصیرت اور اس کا طرزِ عمل کئی نسلوں کی فکری تربیت سے جڑ جاتا ہے۔ اسی لیے خواتین میں قیادت کی صلاحیت کا فروغ کسی ایک فرد کی کامیابی کا عنوان نہیں بلکہ پورے معاشرے کی فکری ترقی کا ضامن ہے۔قیادت کا آغاز خود شناسی سے ہوتا ہے۔ جو انسان اپنی صلاحیتوں، کمزوریوں اور مقاصد سے آگاہ ہو وہی دوسروں کے لیے اعتماد کا مرکز بن سکتا ہے۔ خواتین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی شخصیت کو اوروں کے پیمانوں پر پرکھنے کے بجائے اپنی علمی، اخلاقی اور عملی صلاحیتوں کی بنیاد پر اپنی شناخت قائم کریں۔ خود اعتمادی کا تعلق بلند آواز سے نہیں بلکہ مضبوط کردار سے ہوتا ہے۔ وقار کے ساتھ اپنی رائے پیش کرنا، اختلاف کو تہذیب کے دائرے میں رکھنا، حالات کا متوازن جائزہ لینا اور مشکل فیصلوں میں ثابت قدم رہنا قیادت کے بنیادی اوصاف ہیں۔
گھر کو اگر ایک چھوٹا معاشرہ تصور کیا جائے تو اس کی اولین رہنما عورت ہی ہوتی ہے۔ بچوں کی شخصیت، ان کی زبان، ان کی عادات، ان کے اخلاق اور ان کے خواب اسی ماحول میں پروان چڑھتے ہیں جسے ایک ماں اپنے فکر و عمل سے ترتیب دیتی ہے۔ یہی تربیت آگے چل کر معاشرے کی اجتماعی صورت گری میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ اس زاویۂ نظر سے دیکھا جائے تو قیادت کا پہلا مدرسہ گھر ہے اور اس کی پہلی معلم خاتون ہے۔
تعلیمی اداروں میں بھی خواتین کی قائدانہ صلاحیتیں نئی نسل کی فکری تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ایک معلمہ صرف نصاب نہیں پڑھاتی بلکہ طلبہ کے اندر اعتماد، نظم وضبط، احساسِ ذمہ داری اور بہتر انسان بننے کی خواہش بھی پیدا کرتی ہے۔ اس کا اندازِ گفتگو، اس کا رویہ اور اس کی دیانت طلبہ کے ذہن پر دیرپا اثر چھوڑتے ہیں۔ اسی لیے تدریس کو ہمیشہ ایک تعمیری قیادت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آج کی پیشہ ور خواتین بھی مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کے ذریعے نئی مثالیں قائم کر رہی ہیں۔ انتظامی امور ہوں، کاروبار، تحقیق، طب، قانون، صحافت یا سماجی خدمات، ہر شعبے میں وہ اپنے علم، محنت اور دیانت کے ساتھ اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔ اس سفر میں اصل قوت ڈگری یا عہدہ نہیں بلکہ مستقل مزاجی، سیکھنے کا شوق، وقت کی قدر، مؤثر ابلاغ اور اجتماعی مفاد کا شعور ہے۔ یہی اوصاف ایک عام فرد کو بااثر قائد میں تبدیل کرتے ہیں۔قیادت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بیرونی حالات سے زیادہ اندرونی تذبذب ہوتا ہے۔ اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہ ہونا ، ناکامی کا خوف اور اوروں کی رائے سے غیر ضروری مرعوبیت بہت سی خواتین کو اس مقام تک پہنچنے سے روک دیتی ہے جہاں ان کی قابلیت انہیں لے جا سکتی ہے۔ حالانکہ ہر کامیاب شخصیت کے سفر میں آزمائشیں، تنقید اور ناکامیاں شامل رہی ہیں۔ ان مراحل سے گزر کر ہی تجربہ، بصیرت اور پختگی حاصل ہوتی ہے۔ایک باوقار قائد کی شناخت یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے کا ہنر جانتا ہو۔ اختلافِ رائے کو احترام کے ساتھ سننا، دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونا، ذمہ داری تقسیم کرنا اور اجتماعی کامیابی کو ذاتی کامیابی پر ترجیح دینا وہ اقدار ہیں جو دیرپا قیادت کی بنیاد بنتی ہیں۔ معاشرے کو ایسے ہی رہنماؤں کی ضرورت ہوتی ہے جن کے فیصلوں میں انصاف، گفتگو میں شائستگی اور عمل میں دیانت شامل ہو۔خواتین کی قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ کے لیے گھروں، تعلیمی اداروں اور سماجی حلقوں میں اعتماد کی فضا پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ لڑکیوں کو سوال کرنے، اظہارِ خیال کرنے، فیصلے کرنے اور اپنی رائے پیش کرنے کے مواقع ملیں تو ان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں خود بخود نکھرنے لگتی ہیں۔ حوصلہ افزائی انسان کے باطن میں ایسی قوت پیدا کرتی ہے جو بڑے سے بڑا سفر طے کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔
معاشرے کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب خواتین کو صرف ذمہ داریوں کا محور نہیں بلکہ فکری اور تعمیری قیادت کا شریک سمجھا جائے۔ ایک باشعور، صاحبِ کردار اور صاحبِ بصیرت خاتون اپنے گھر، اپنے ادارے اور اپنے معاشرے میں امید، اعتماد اور توازن کی ایسی فضا قائم کر سکتی ہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو سمجھ آتا ہے کہ قیادت کسی مخصوص طبقے کی میراث نہیں بلکہ ہر اس شخصیت کا وصف ہے جو اپنے کردار کی روشنی سے دوسروں کے لیے راستہ آسان بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ جب خواتین علم، اخلاق، حکمت اور خدمت کو اپنی زندگی کا سرمایہ بناتی ہیں تو ان کی موجودگی ایک فرد کی کامیابی تک محدود نہیں رہتی، بلکہ معاشرے کے اجتماعی شعور کو نئی سمت عطا کرتی ہے۔ یہی وہ قیادت ہے جو زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں میں بھی اپنی معنویت برقرار رکھتی ہے اور آنے والے کل کی بنیاد مضبوط بناتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے