कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بانکی پور میں بی جے پی کا قلعہ منہدم: پرشانت کشور کامیاب، نتیش کا قد بلند

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
کاکو، جہان آباد

بہار کی سیاست میں بانکی پور اسمبلی حلقے کے ضمنی انتخاب کا نتیجہ محض ایک نشست کے انتخابی نتیجے کے طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اس مضبوط قلعے میں شگاف ڈال کر جن سوراج کے بانی پرشانت کشور نے ریاست کی سیاسی بساط پر کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ تقریباً 31 برس سے بی جے پی کے زیرِ اثر رہنے والی اس نشست پر پارٹی کی شکست اس کے لیے بڑا سیاسی جھٹکا ہے۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ شکست ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بہار میں بی جے پی رہنماءسمراٹ چودھری وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہیں۔
اس لیے بانکی پور کا نتیجہ بی جے پی کے لیے محض ایک ضمنی انتخاب میں شکست نہیں، بلکہ اس کی نئی سیاسی قیادت، انتخابی حکمتِ عملی اور عوامی مقبولیت کا ابتدائی امتحان بھی ہے۔ اگرچہ ایک ضمنی انتخاب کے نتیجے سے پوری ریاست کی سیاسی سمت طے کرنا درست نہیں، لیکن اسے معمولی واقعہ سمجھ کر نظر انداز کرنا بھی سیاسی حقیقت سے چشم پوشی ہوگی۔
بانکی پور کو بی جے پی کا ایسا مضبوط حلقہ تصور کیا جاتا رہا ہے جہاں پارٹی کو شکست دینا آسان نہیں تھا۔ طویل انتخابی موجودگی، مضبوط تنظیم اور روایتی ووٹ بینک نے اسے بی جے پی کے محفوظ حلقوں میں شامل کردیا تھا۔ سابق رکن اسمبلی نیتن نوین کی مسلسل کامیابیوں نے بھی پارٹی کی گرفت مضبوط کی۔ ایسے میں پرشانت کشور کی کامیابی نے بی جے پی کے سیاسی اعتماد کو جھنجھوڑا ہے۔یہ شکست اس لیے بھی اہم ہے کہ پرشانت کشور نے پہلی مرتبہ خود انتخابی میدان میں اتر کر اپنی سیاسی جماعت کی قیادت کرتے ہوئے بی جے پی کے مضبوط قلعے کو فتح کیا ہے۔
پرشانت کشور کی کامیابی:
پرشانت کشور نے بانکی پور ضمنی انتخاب کو محض ایک انتخاب نہیں رہنے دیا بلکہ اسے بہار کی سیاست میں تبدیلی کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ نوجوانوں، روزگار، تعلیم، مسابقتی امتحانات، نقل مکانی اور حکومتی نظام سے متعلق عوامی شکایات ان کی مہم کے مرکزی موضوعات رہے۔ پٹنہ کا اہم شہری حلقہ ہونے کے ناطے بانکی پور میں تعلیم یافتہ، متوسط طبقے اور نوجوان ووٹروں کی نمایاں تعداد ہے، جن کے لیے ذات اور روایتی وابستگی کے ساتھ روزگار، تعلیم، شہری سہولتیں اور مستقبل بھی اہم ہیں۔انہوں نے اسی طبقے کے درمیان خود کو روایتی سیاست سے الگ ایک نئے سیاسی متبادل کے طور پر پیش کیا۔ بی جے پی جیسے مضبوط تنظیمی ڈھانچے والی جماعت کے مقابلے میں کامیابی نے جن سوراج کے سیاسی دعوے کو انتخابی اعتبار ضرور بخشا ہے، لیکن ایک حلقے کی جیت کو پورے بہار کی فتح سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اصل امتحان اب یہ ہے کہ وہ اس کامیابی کو وسیع سیاسی قوت میں تبدیل کرپاتے ہیں یا نہیں۔
بی جے پی کی شکست کے اسباب:
بی جے پی کی شکست کی ایک نہیں بلکہ متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں۔ کسی بھی انتخابی نتیجے کو ایک ہی سبب سے جوڑنا درست نہیں۔ امیدوار کا انتخاب، مقامی تنظیم، ووٹروں کا رجحان، انتخابی مہم، مخالف امیدوار کی حکمتِ عملی اور ووٹوں کی تقسیم، سب مل کر نتیجہ تشکیل دیتے ہیں۔
بانکی پور میں بی جے پی اپنے روایتی مضبوط حلقے میں انتخاب کو یک طرفہ نہیں بنا سکی۔ سابق رکن اسمبلی نیتن نوین کے راجیہ سبھا میں جانے کے بعد پارٹی کو نئے امیدوار کے ساتھ میدان میں اترنا پڑا۔ ایک مضبوط اور معروف مقامی چہرے کی جگہ نئے امیدوار کو کھڑا کرنا بھی ووٹروں کے رویے پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب پرشانت کشور نے پوری توانائی کے ساتھ مہم چلائی۔ گھر گھر رابطے، چھوٹی میٹنگیں، نوجوانوں سے براہِ راست گفتگو اور سوشل میڈیا کے استعمال نے انتخابی ماحول کو ان کے حق میں بنانے میں مدد کی۔
آر جے ڈی بھی بی جے پی کے خلاف موجود ووٹ کو اپنے حق میں یکجا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ تیجسوی یادو کی محدود انتخابی موجودگی نے بھی اپوزیشن کے امکانات کو متاثر کیا۔ یوں بی جے پی کے خلاف پیدا ہونے والی ناراضی کا ایک حصہ جن سوراج کی طرف منتقل ہوگیا۔
نوجوانوں کا سوال:
بانکی پور کے انتخابی ماحول میں نوجوانوں اور طلبہ کے مسائل خاص اہمیت رکھتے تھے۔ بہار میں مسابقتی امتحانات، سرکاری تقرریوں، سوالیہ پرچوں کے افشا، بھرتیوں میں تاخیر اور روزگار کے مسائل نے نوجوانوں میں بے چینی پیدا کی ہے۔
نوجوان نسل اب محض سیاسی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔ وہ جاننا چاہتی ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کہاں ہے؟ مقابلہ جاتی امتحانات میں شفافیت کیسے یقینی بنائی جائے گی؟ سرکاری بھرتیوں میں تاخیر کیوں ہوتی ہے؟ اور بہار کے نوجوانوں کو روزگار کے لیے ریاست سے باہر جانے پر کیوں مجبور ہونا پڑتا ہے؟
پرشانت کشور نے ان سوالات کو انتخابی مہم کا حصہ بناکر نوجوان ووٹروں سے براہِ راست رابطہ قائم کیا۔ بانکی پور کے نتیجے نے کم از کم یہ ضرور ظاہر کیا ہے کہ نوجوانوں کے مسائل کو نظر انداز کرنا اب سیاسی طور پر آسان نہیں رہا۔
نتیش کمار کی غیر موجودگی:
بانکی پور کے نتیجے کا ایک اہم پہلو نتیش کمار کی انتخابی مہم سے دوری ہے۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ نتیش کمار اب وزیر اعلیٰ نہیں ہیں، لیکن بہار کی سیاست میں ان کا اثر ختم نہیں ہوا۔ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ریاست کی سیاست کے مرکز میں رہنے والے نتیش کمار نے ایک مخصوص سیاسی اور انتظامی شناخت بنائی ہے۔ ان کے حامیوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو کسی ایک جماعت کے بجائے ان کی شخصیت اور سیاسی طرزِ حکمرانی سے وابستہ رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بانکی پور میں بی جے پی کی شکست کے بعد یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا بی جے پی نتیش کمار کے سیاسی اثر سے الگ ہوکر بہار میں اپنی طاقت پر اتنی ہی مضبوط انتخابی پوزیشن حاصل کرسکتی ہے؟
انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں نتیش کمار کا ویڈیو پیغام جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے این ڈی اے امیدوار کی حمایت میں ووٹ دینے کی اپیل کی۔ اس سے یہ تاثر ضرور پیدا ہوا کہ بی جے پی نے آخری مرحلے میں نتیش کمار کی مقبولیت اور سیاسی اثر کو بروئے کار لانے کی ضرورت محسوس کی۔ لیکن پرشانت کشور نے اس ویڈیو کو بھی انتخابی بحث کا موضوع بنادیا اور اس کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ قرار دیا۔ یوں جو ویڈیو بی جے پی کے لیے انتخابی فائدے کا ذریعہ بن سکتی تھی، وہی سیاسی بحث کا حصہ بن گئی۔
سمراٹ چودھری کے لیے چیلنج:
بانکی پور کا نتیجہ سمراٹ چودھری کے لیے بھی ایک اہم سیاسی اشارہ ہے۔ اسے سمراٹ حکومت کے خلاف عوام کا حتمی فیصلہ قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ ضمنی انتخابات کے اپنے مخصوص حالات ہوتے ہیں۔ تاہم اقتدار میں رہتے ہوئے بی جے پی کے ایک مضبوط شہری حلقے کا ہاتھ سے نکلنا حکومت اور تنظیم دونوں کے لیے تشویش کا سبب ضرور بن سکتا ہے۔
سمراٹ چودھری کے سامنے اب سب سے بڑا چیلنج اپنی سیاسی مقبولیت کو پارٹی کی تنظیمی طاقت سے آگے بڑھا کر عوامی سطح پر مستحکم کرنا ہے۔ انہیں بی جے پی کے روایتی ووٹر کے ساتھ نوجوانوں، شہری متوسط طبقے اور ان طبقات کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا جن کی حکومت سے توقعات وابستہ ہیں۔
جمہوری سیاست میں اقتدار کی طاقت اپنی جگہ، لیکن دیرپا سیاسی کامیابی کے لیے عوامی اعتماد بنیادی شرط ہے۔ بانکی پور کا نتیجہ اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے۔
نتیش کا بڑھتا ہوا سیاسی قد:
بانکی پور کی شکست نے ایک دلچسپ سیاسی صورتِ حال پیدا کردی ہے۔ یہاں شکست بی جے پی کی اور کامیابی پرشانت کشور کی ہوئی، لیکن سیاسی بحث میں نتیش کمار کا قد بڑھتا دکھائی دیا۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نتیش کمار اقتدار سے باہر ہونے کے باوجود بہار کی سیاست میں ایک اہم ستون ہیں۔ ان کی طویل سیاسی زندگی، مختلف سماجی طبقات کے ساتھ رابطہ اور بدلتے سیاسی حالات میں اپنے لیے جگہ بنانے کی صلاحیت انہیں دوسرے سیاست دانوں سے الگ کرتی ہے۔
اگر اپنے ایک مضبوط قلعے میں شکست کے بعد بی جے پی نتیش کمار کے سیاسی اثر و رسوخ کو دوبارہ اہمیت دینے پر مجبور ہوتی دکھائی دیتی ہے تو یہ اس امر کا واضح اشارہ ہے کہ بہار کی سیاست میں وہ اب بھی نتیش کمار کے سیاسی وزن سے مکمل طور پر بے نیاز نہیں ہوسکی ہے۔
بانکی پور میں شکست کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اور سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے درمیان دہلی میں ملاقات نے بھی سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کو تقویت دی۔ کسی ملاقات کو محض اس کے وقت کی بنیاد پر کسی خاص نتیجے سے جوڑنا مناسب نہیں، لیکن سیاست میں وقت کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ اس ملاقات نے کم از کم یہ سوال ضرور زندہ کردیا کہ بہار کی سیاست میں نتیش کمار کی ضرورت ابھی ختم نہیں ہوئی۔
یہی بانکی پور کے نتیجے کا ایک غیر معمولی پہلو ہے کہ اقتدار سے دوری کے باوجود نتیش کمار سیاسی بحث کے مرکز میں ہیں۔
کیا بی جے پی نتیش کے بغیر؟:
یہ سوال آنے والے دنوں میں بہار کی سیاست کا اہم سوال بن سکتا ہے۔
بی جے پی کے پاس مضبوط تنظیم، قومی سطح کی قیادت، وسائل اور کارکنوں کا وسیع نیٹ ورک ہے۔ لیکن بہار کی سیاست صرف تنظیمی طاقت سے نہیں چلتی۔ یہاں ذات، سماجی اتحاد، مقامی قیادت، علاقائی شناخت اور شخصی مقبولیت انتخابی نتائج پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔
نتیش کمار نے طویل عرصے میں مختلف سماجی طبقات کے درمیان جو سیاسی توازن قائم کیا، اسے یکسر نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ بی جے پی اگر اس توازن کی جگہ اپنا نیا سماجی اتحاد بنانا چاہتی ہے تو اسے وقت اور مسلسل سیاسی محنت درکار ہوگی۔
بانکی پور نے کم از کم یہ اشارہ ضرور دیا ہے کہ اقتدار حاصل کرلینا اور بہار میں مستقل سیاسی بالادستی قائم کرلینا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ حکومت چلانے کے لیے انتظامی قوت کافی ہوسکتی ہے، لیکن انتخابات میں جیت کے لیے عوامی اعتماد، مقامی قیادت اور وسیع سماجی قبولیت بھی درکار ہوتی ہے۔
بانکی پور کا اصل پیغام:
بہرحال بانکی پور کے ضمنی انتخاب کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ بہار کا ووٹر کسی ایک سیاسی جماعت یا سیاسی خاندان کا مستقل وفادار نہیں۔ وہ حالات اور سیاسی امکانات کے مطابق اپنا فیصلہ بدل سکتا ہے۔ اگر اسے کوئی نیا سیاسی متبادل قابلِ اعتماد محسوس ہو تو برسوں پرانے انتخابی قلعے میں بھی شگاف ڈال سکتا ہے۔
بی جے پی کے لیے یہ شکست خطرے کی گھنٹی ضرور ہے، لیکن اسے سیاسی تباہی کا اعلان قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ سمراٹ چودھری کے لیے یہ حتمی ناکامی نہیں بلکہ اپنی قیادت کو مضبوط کرنے کا موقع ہے۔ پرشانت کشور کے لیے یہ بڑی کامیابی ہے، مگر اس کے ساتھ ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ اور نتیش کمار کے لیے یہ ایک دلچسپ سیاسی صورتِ حال ہے کہ اقتدار کے مرکز سے دور رہتے ہوئے بھی وہ دوبارہ سیاسی بحث کے مرکز میں آگئے ہیں۔
بانکی پور نے بہار کی سیاست میں یہ سوال ضرور کھڑا کردیا ہے کہ آنے والے دنوں میں اصل طاقت کس کے پاس ہوگی؟ بی جے پی کی تنظیمی قوت، سمراٹ چودھری کی نئی قیادت، نتیش کمار کا تجربہ اور سیاسی اثر، تیجسوی یادو کا روایتی اپوزیشن ووٹ بینک یا پرشانت کشور کا نیا سیاسی تجربہ؟
اس سوال کا جواب ابھی باقی ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ بہار کی سیاست اب محض دو روایتی سیاسی دھڑوں کے درمیان مقابلہ نہیں رہ گئی۔ ایک نئی سیاسی قوت نے اپنا انتخابی وجود ثابت کیا ہے، بی جے پی کے مضبوط قلعے میں شگاف پڑا ہے اور نتیش کمار کی سیاسی ضرورت ایک بار پھر زیرِ بحث آگئی ہے۔
ممکن ہے بانکی پور کا نتیجہ آنے والے بڑے سیاسی معرکوں کا صرف ایک واقعہ ثابت ہو، اور ممکن ہے یہی نتیجہ بہار کی سیاست میں ایک نئے دور کا نقطۂ آغاز بن جائے۔ سیاست میں حتمی پیش گوئی ہمیشہ مشکل ہوتی ہے، مگر انتخابات کے نتائج اشارے ضرور دیتے ہیں۔
بانکی پور کا اشارہ صاف ہے: بہار میں اقتدار کے ساتھ عوامی قبولیت، تنظیم کے ساتھ مقامی قیادت اور سیاسی دعوے کے ساتھ عوامی اعتماد بھی ضروری ہے۔ بی جے پی کو اس شکست سے سبق لینا ہوگا، سمراٹ چودھری کو اپنی قیادت ثابت کرنی ہوگی، پرشانت کشور کو اپنی کامیابی کو وسیع سیاسی قوت میں تبدیل کرنا ہوگا اور آر جے ڈی کو بھی بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے کا ادراک کرنا ہوگا۔
جہاں تک نتیش کمار کا تعلق ہے، بانکی پور نے کم از کم اتنا ضرور ثابت کردیا ہے کہ بہار کی سیاست میں ان کا باب ابھی بند نہیں ہوا۔ اقتدار سے دوری کے باوجود اگر ان کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے تو یہ ان کے طویل سیاسی تجربے اور سیاسی اثر کی علامت ہے۔
آخرکار بانکی پور کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ جمہوریت میں کوئی بھی انتخابی قلعہ ہمیشہ کے لیے ناقابلِ تسخیر نہیں ہوتا۔ عوام جب چاہیں برسوں پرانی سیاسی گرفت کو توڑ سکتے ہیں، نئے چہروں کو موقع دے سکتے ہیں اور اقتدار میں موجود جماعتوں کو یہ یاد دلا سکتے ہیں کہ سیاسی طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہیں۔
بانکی پور میں بی جے پی کی شکست شاید صرف ایک نشست کا نقصان ہو، لیکن اس کے سیاسی مضمرات ایک نشست سے کہیں زیادہ دور تک جاتے ہیں۔ یہی اس ضمنی انتخاب کی اصل اہمیت ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے