कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جب سنت چھوٹ جائے تو دین کیسے بچے؟

تحریر:محمد عادل ارریاوی

آج ہم قرآن کریم سے محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ قرآن کریم کو سمجھنے اور اس پر صحیح طور پر عمل کرنے کا راستہ ہمیں کس نے دکھایا؟ وہ ذاتِ گرامی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے جن کی پوری زندگی قرآن کریم کی عملی تفسیر تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اعمال اخلاق اور مبارک طریقے ہی وہ سنت ہے جس کے ذریعے ہمیں دین کا صحیح مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔
نماز کیسے پڑھنی ہے روزہ کس طرح رکھنا ہے زکوٰۃ کے احکام کیا ہیں حج کے مناسک کیسے ادا کرنے ہیں معاملات اور معاشرت میں ہمارا طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے ان بے شمار امور کی عملی تفصیلات ہمیں سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتی ہیں۔ اس لیے قرآن کو ماننا اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے اعتنائی کرنا ایک ایسی روش ہے جو دین کے فہم کو ناقص کر دیتی ہے۔
واضح ہو کہ قرآن کریم کے بعد دوسرا نمبر سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ہے یعنی اس مبارک طریقہ کا جس کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کی طرف کی گئی خواہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ارشادات ہوں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ اعمال ہوں یا آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریرات ہوں یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک احوال ہوں اور ان کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کر کے اپنے شاگردوں کو عطا فرمایا اور ان سب لوگوں نے نہایت اہتمام سے اس کو حفظ یاد کر لیا اور بہت سے لوگوں نے لکھ کر بھی محفوظ کر لیا پھر ان کے تلامذہ نے اس کو مختلف طریقوں سے مدون و مرتب فرما کر امت پر احسان عظیم فرمایا جن میں امام زہری امام مالک عبد اللہ بن مبارک ربیع بن مبارک ربیع بن صبیح سر فہرست ہیں پھر تو محدثین کرام نے گوناگوں طریقوں سے کتابیں لکھ کر امت کے پاس پہنچا دیا اس طرح علم حدیث دوسری صدی کے شروع ہی سے مدون ہونا شروع ہو گیا۔
واقعہ یہ ہے کہ دین فہمی حدیث مبارکہ کے بغیر ممکن نہیں اس لیے کہ قر آن کریم کی قولی و عملی تشریح حدیث مبارکہ کے ذریعے سے ہوتی ہے۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارکہ کو فر آن سے الگ کر دیا جائے اور اس کے مستند ہونے کا انکار کیا جائے تو دین میں تحریف رائے زنی اور آزادی کے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں۔
یہ ایک المیہ رہا ہے کہ ہر دور میں مغربی افکار و نظریات سے متاثر تجدد پسند طبقہ حدیث مبارکہ کے حوالے سے بے اعتدالی کا شکار رہا ہے۔ اور ذہنوں میں در پیش شکوک و شبہات (جن کی بنیاد در اصل شیطانی شکوک و شبہات ہیں ہیں) کو بنیاد بنا کر سرے سے حدیث کے انکار کی جرات کردی جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت دراصل دین کا وہ روشن راستہ ہے جس پر چل کر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی زندگیاں سنواریں اور پھر اسے تابعین اور تبع تابعین تک پہنچایا۔ ان بزرگوں نے حدیث کی حفاظت میں جو محنتیں کیں سفر کیے تکالیف برداشت کیں اور اپنی زندگیاں اس عظیم مقصد کے لیے وقف کیں وہ تاریخِ اسلام کا ایک بے مثال باب ہے۔ محدثینِ کرام نے راویوں کے حالات ان کی سچائی حافظے اور ملاقات تک کی تحقیق کی تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کسی بات میں خیانت یا غلطی کی گنجائش نہ رہے۔
افسوس کہ موجودہ دور میں بعض لوگ بغیر علم کے حدیث کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں اور محض عقلی شبہات یا جدید افکار کی بنیاد پر صدیوں سے امت کے محدثین کی محنتوں کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ طرزِ فکر نہ صرف علمی اعتبار سے خطرناک ہے بلکہ دین کے بنیادی ماخذ کو کمزور کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اس لیے حدیث کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے اہلِ علم سے اچھی طرح رجوع کیا جائے معتبر کتبِ حدیث کا مطالعہ کیا جائے اور تحقیق و دیانت کے ساتھ اس موضوع کو سمجھا جائے۔
اللہ ربّ العزت ہمیں قرآن و سنت سے سچی محبت عطا فرما سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چلنے اور اسے اپنی زندگی میں اپنانے کی توفیق عطا فرما۔ آمین یارب العالمین ۔

 

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے