कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

متوسط مسلم طبقے کے لیے خصوصی تعلیمی پروگرام بھی وقت کی ضرورت

تحریر:شیخ عبداللہ سر
(معاون مدرس مدینۃ العلوم ہائی اسکول ناندیڑ )

یہاں امتِ مسلمہ کے سامنے ایک اہم مسئلہ ہے جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایسے متوسط آمدنی والے مسلم خاندانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو شرعی اعتبار سے زکوٰۃ کے مستحق نہیں ہوتی، لیکن اپنے بچوں کی مہنگی پروفیشنل تعلیم کے اخراجات بھی آسانی سے برداشت نہیں کر سکتی۔
یہ خاندان عزتِ نفس کی وجہ سے زکوٰۃ لینے سے گریز کرتے ہیں، اور اگر شرعی طور پر وہ مستحق بھی نہ ہوں تو زکوٰۃ کے فنڈ سے ان کی مدد کی بھی گنجائش نہیں ہوتی۔ نتیجتاً یہ خاندان زکوٰۃ کے مستحق غریبوں اور مالی طور پر مضبوط امیر خاندانوں کے درمیان ایک ایسے طبقے میں رہ جاتے ہیں جس کے لیے خصوصی تعلیمی سہولت کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔
مثلاً ایک متوسط تنخواہ دار مسلم والد کی آمدنی بظاہر مناسب ہوسکتی ہے، لیکن گھر کے اخراجات، بچوں کی اسکول فیس، کرایہ یا EMI، علاج، والدین کی ذمہ داریاں، ٹیکس اور دیگر ضروری اخراجات کے بعد اگر بچے کو انجینئرنگ، میڈیکل یا کسی دوسرے پروفیشنل کورس کی کئی لاکھ روپے سالانہ فیس ادا کرنی ہو تو یہ خاندان شدید مالی دباؤ کا شکار ہوسکتا ہے۔
ایسے خاندان کو غریب کہنا بھی درست نہیں اور یہ سمجھ لینا بھی درست نہیں کہ وہ مہنگی تعلیم آسانی سے خرید سکتا ہے۔
اس لیے زکوٰۃ سے الگ ’’مسلم تعلیمی معاونت فنڈ‘‘ کی ضرورت ہے
امت کے اہلِ ثروت، کاروباری افراد، مخیر حضرات، تعلیمی اداروں اور مسلم تنظیموں کو چاہیے کہ زکوٰۃ کے علاوہ صدقات، عطیات، وقف، تعلیمی اوقاف اور دیگر جائز ذرائع سے ایک مستقل اور شفاف Education Support Fund قائم کریں۔
اس فنڈ کے ذریعے ایسے متوسط مسلم خاندانوں کے بچوں کی مدد کی جاسکتی ہے جو:
– زکوٰۃ کے مستحق نہیں ہیں؛
– لیکن پروفیشنل تعلیم کی مکمل فیس برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے؛
– میرٹ اور قابلیت رکھتے ہیں؛
– اور تعلیم مکمل کرکے اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے مفید بن سکتے ہیں۔
اس پروگرام میں میرٹ + مالی ضرورت دونوں کو بنیاد بنایا جائے، تاکہ امداد صرف غربت کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقیقی تعلیمی ضرورت اور طالب علم کی صلاحیت کی بنیاد پر بھی دی جاسکے۔
قرضِ حسنہ کا مستقل تعلیمی ماڈل بھی اپنایا جائے
صرف اسکالرشپ اور عطیات پر انحصار کرنے کے بجائے متوسط طبقے کے لیے قرضِ حسنہ پر مبنی تعلیمی فنڈ بھی قائم کیا جاسکتا ہے۔
ایسے طلبہ اور خاندان جو زکوٰۃ کے مستحق نہیں لیکن پروفیشنل تعلیم کی بھاری فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، انہیں بغیر سود قرضِ حسنہ فراہم کیا جائے۔
مثلاً طالب علم کی انجینئرنگ، میڈیکل یا کسی دوسرے پروفیشنل کورس کی فیس کے لیے ایک مخصوص رقم تعلیمی فنڈ سے ادا کی جائے، اور طالب علم کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد، اس کی ملازمت یا آمدنی شروع ہونے پر آسان اقساط میں اصل رقم واپس کرنے کا نظام بنایا جائے۔
ضرورت مند طالب علم کے لیے واپسی کی مدت اس کی معاشی صورتحال کے مطابق طے کی جاسکتی ہے، مثلاً:
تعلیم مکمل → روزگار حاصل → مقررہ وقفہ → آسان اقساط میں واپسی
اس طرح ایک ہی رقم سے وقت کے ساتھ کئی طلبہ کی تعلیم ممکن ہوسکتی ہے۔
اور سب سے اہم بات یہ کہ جو طالب علم اپنی تعلیم مکمل کرکے معاشی طور پر مستحکم ہوجائے، وہ مستقبل میں اپنی استطاعت کے مطابق اسی فنڈ میں رقم واپس کرکے یا مزید تعاون کرکے دوسرے طلبہ کی تعلیم کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
یوں ایک طالب علم کی مدد ایک مستقل تعلیمی سلسلہ بن سکتی ہے۔
لیکن اس نظام میں شفافیت بنیادی شرط ہے
قرضِ حسنہ کے لیے باقاعدہ ٹرسٹ یا تعلیمی ادارہ قائم کیا جائے، جس میں:
– شفاف درخواست اور انتخاب کا نظام ہو؛
– طالب علم کی تعلیمی قابلیت اور مالی ضرورت کا جائزہ لیا جائے؛
– تحریری معاہدہ ہو؛
– واپسی کی مدت پہلے سے طے کی جائے؛
– تعلیم مکمل ہونے تک غیر ضروری مالی دباؤ نہ ڈالا جائے؛
– روزگار نہ ملنے یا حقیقی مالی مشکلات کی صورت میں قسطوں میں رعایت یا مدت میں توسیع کی گنجائش ہو؛
– تمام آمدنی اور اخراجات کا باقاعدہ آڈٹ ہو؛
– اور سالانہ رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے۔
اس طرح قرضِ حسنہ محض قرض نہیں رہے گا بلکہ تعلیمی خود کفالت کا ایک پائیدار ماڈل بن سکتا ہے۔
زکوٰۃ، اسکالرشپ اور قرضِ حسنہ — تین الگ راستے
امت کے لیے ایک جامع تعلیمی نظام اس طرح تشکیل دیا جاسکتا ہے:
زکوٰۃ کے مستحق طلبہ → زکوٰۃ سے شرعی اصولوں کے مطابق مدد
انتہائی مستحق اور باصلاحیت طلبہ → مکمل تعلیمی اسکالرشپ
زکوٰۃ کے غیر مستحق مگر مالی دباؤ کا شکار متوسط خاندان → خصوصی تعلیمی فنڈ
قابلِ واپسی مدد کی استطاعت رکھنے والے خاندان → قرضِ حسنہ
انتہائی خوشحال خاندان → اپنی استطاعت کے مطابق مکمل تعلیمی اخراجات خود برداشت کریں
اس طرح کسی بھی طبقے کا باصلاحیت طالب علم صرف فیس کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہیں ہوگا۔
ہمیں ’’زکوٰۃ لینے والوں‘‘ سے آگے سوچنا ہوگا
امت کی تعلیمی پالیسی صرف یہ نہیں ہونی چاہیے کہ غریب طالب علم کو اسکالرشپ دے دی جائے۔
ہمیں ایسا جامع، منظم اور پائیدار تعلیمی نظام بنانا ہوگا جس میں زکوٰۃ کے مستحقین، متوسط طبقے کے تعلیمی مسائل سے دوچار خاندان اور انتہائی باصلاحیت طلبہ—سب کے لیے مناسب راستہ موجود ہو۔
ہر ضرورت مند زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہوتا، اور ہر زکوٰۃ کا غیر مستحق شخص مالی طور پر خوشحال بھی نہیں ہوتا۔
اسی لیے متوسط مسلم طبقے کے لیے خصوصی تعلیمی فنڈ اور قرضِ حسنہ کا نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آج ایک طالب علم، کل ہزاروں طلبہ
اگر امت کے اہلِ ثروت اپنے وسائل کو منظم انداز میں استعمال کریں تو ہر شہر اور ضلع میں ایسے تعلیمی معاونت مراکز قائم کیے جاسکتے ہیں جو ہر سال سیکڑوں باصلاحیت طلبہ کو انجینئرنگ، میڈیکل، ٹیکنالوجی، سائنس، قانون اور دیگر پروفیشنل شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے میں مدد دیں۔
ایک طرف مفت اسکالرشپ ضرورت مند طلبہ کا سہارا بنے، دوسری طرف قرضِ حسنہ متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے تعلیم کا راستہ کھولے، اور تیسری طرف وہی تعلیم یافتہ طلبہ مستقبل میں اس نظام کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
یہ صرف کسی ایک طالب علم کی مدد نہیں ہوگی؛ یہ ایک پوری نسل کو مضبوط بنانے کی سرمایہ کاری ہوگی۔
حکومت سے بھی مطالبہ اور امت سے بھی اپیل
حکومت کو چاہیے کہ تعلیم کے بجٹ میں نمایاں اضافہ کرے، سرکاری پروفیشنل اداروں میں نشستیں بڑھائے اور اعلیٰ تعلیم کو عام خاندانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ سستا یا مفت بنائے۔
اور امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ صرف حکومت کا انتظار نہ کرے بلکہ اپنے وسائل کو منظم کرکے مسلم طلبہ کے لیے مفت، کم خرچ اور قرضِ حسنہ پر مبنی پروفیشنل تعلیمی نظام قائم کرے۔
خاص طور پر وہ متوسط مسلم خاندان جو زکوٰۃ کے مستحق نہیں لیکن مہنگی پروفیشنل تعلیم برداشت نہیں کرسکتے، انہیں تعلیمی پالیسی اور رفاہی منصوبوں میں باقاعدہ جگہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کیونکہ:
ہر ضرورت مند زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہوتا، اور ہر زکوٰۃ کا غیر مستحق شخص مالی طور پر خوشحال بھی نہیں ہوتا۔
اور:
کسی طالب علم کو صرف اس لیے اپنے خواب سے محروم نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا خاندان زکوٰۃ لینے کے قابل نہیں، مگر مہنگی تعلیم خریدنے کے قابل بھی نہیں۔
قرضِ حسنہ کا مقصد رقم واپس لینا نہیں، مواقع واپس دینا ہے۔
آج جس طالب علم کو تعلیم کے لیے سہارا دیا جائے، کل وہی تعلیم یافتہ اور خود کفیل ہوکر دوسرے طالب علم کا سہارا بنے—یہی ایک مضبوط، خود کفیل اور علم دوست امت کی بنیاد ہوسکتی ہے۔
یہی وہ خلا ہے جسے امت کو منظم، شفاف، پائیدار اور دوراندیش تعلیمی پروگرام کے ذریعے پُر کرنا ہوگا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے