कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

’’مالیگ خانوادہ‘‘ وہ نادر خاندان جس نے سات دہائیوں تک اپنے نام کے ساتھ مالیگاؤں کی شناخت، وقار اور محبت کو دنیا بھر میں زندہ رکھا ۔۔۔۔۔۔۔!!!!

تحریر: خیال اثر (مالیگاؤں)

تاریخ میں بعض ایسے خاندان بھی پیدا ہوتے ہیں جن کی شناخت صرف دولت، شہرت یا افراد کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ ان کی اصل پہچان کردار، وفاداری، تہذیبی شعور اور اپنی مٹی سے غیرمتزلزل وابستگی ہوتی ہے۔ ایسے خاندان اپنی ذات سے بڑھ کر اپنی نسبتوں کو زندہ رکھتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیتے ہیں کہ وطن سے محبت محض ایک جذبہ نہیں بلکہ زندگی بھر نبھایا جانے والا مقدس عہد ہے۔ مالیگاؤں کی علمی، دینی، ادبی اور سماجی تاریخ کا غیرجانبدارانہ مطالعہ کیا جائے تو چند خانوادے ایسے ضرور سامنے آتے ہیں جنہوں نے خاموش مگر فیصلہ کن انداز میں اس شہر کی شناخت کو مضبوط کیا۔ انہی ممتاز خانوادوں میں ایک باوقار، دیندار اور باکردار نام مالیگ خانوادہ کا ہے، جس نے گزشتہ سات دہائیوں سے اپنے نام کے ساتھ "مالیگ” جوڑ کر نہ صرف اپنی خاندانی شناخت کو برقرار رکھا بلکہ مالیگاؤں کے نام کو بھی مختلف ملکوں تک پہنچایا۔یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک شعوری اور تہذیبی فیصلہ تھا۔ جب بہت سے لوگ اپنے ناموں سے مقامی نسبتیں ختم کرتے گئے، اس خانوادے نے اپنے نام کے ساتھ مالیگاؤں کی شناخت کو ہمیشہ کے لیے وابستہ کرلیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج "مالیگ” محض ایک لفظ نہیں بلکہ اپنے وطن سے محبت، تہذیبی وابستگی اور تاریخی شعور کی علامت بن چکا ہے۔اس ضمن میں مالیگ خانوادے کے بزرگ حضرت نیاز احمد مالیگ بتاتے ہیں کہ جس طرح اعظم گڑھ کے باشندے "اعظمی” اور علی گڑھ کے باشندے "علیگ” نسبت استعمال کرتے ہیں، اسی طرح انہوں نے اپنے شہر مالیگاؤں سے محبت کے اظہار کے لیے "مالیگ” کو اپنی مستقل شناخت بنایا۔ ان کے مطابق یہ کسی ادبی لقب یا قلمی نام کا انتخاب نہیں تھا بلکہ بچپن ہی سے ان کی شخصیت کا حصہ بن چکا تھا۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ اسکول کے ابتدائی زمانے میں بھی ان کی انگلی بے اختیار فضا میں "مالیگ” لکھا کرتی تھی۔ ایک معصوم بچے کے دل میں اپنے شہر کی ایسی محبت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ نسبت وقتی نہیں بلکہ نسلوں تک منتقل ہونے والی ایک روایت تھی۔
حضرت نیاز احمد مالیگ کے مطابق سن 1950ء میں ان کے برادر حضرت محمد میاں مالیگ موجودہ اے ٹی ٹی ہائی اسکول، جو اس زمانے میں اینگلو اردو ہائی اسکول کے نام سے معروف تھا، میں زیرتعلیم تھے جبکہ وہ خود میونسپل اسکول نمبر 5 میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔ دونوں بھائی اسی زمانے سے اپنے نام کے ساتھ "مالیگ” استعمال کرتے تھے۔ بعد ازاں 1952ء اور 1953ء کے درمیان حالات کے باعث خاندان گجرات منتقل ہوگیا۔ حضرت نیاز احمد مالیگ نے دارالعلوم شاہ عالم، احمد آباد میں تعلیم حاصل کی جبکہ حضرت محمد میاں مالیگ نے حفظِ قرآن کی تکمیل کے بعد وہاں علمی سفر جاری رکھا، مگر شہر، ماحول اور حالات بدلنے کے باوجود "مالیگ” کی نسبت کبھی تبدیل نہ ہوئی۔
بعد میں یہی خاندان برطانیہ منتقل ہوگیا، لیکن وطن سے ہزاروں میل دور رہتے ہوئے بھی اپنے نام کے ساتھ "مالیگ” کو اسی فخر سے برقرار رکھا۔ حضرت نیاز احمد مالیگ کہتے ہیں کہ”ستر برس سے زیادہ عرصہ گزر گیا، مالیگ خانوادہ مالیگاؤں سے گجرات اور گجرات سے برطانیہ پہنچ گیا، مگر اپنے وطن، اپنے شہر اور اپنی مٹی سے ہماری نسبت میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں آیا۔” یہ ایک جملہ نہیں بلکہ اس خاندان کی پوری تاریخ کا نچوڑ ہے۔
مالیگ خانوادے کی عظمت صرف اپنی شناخت برقرار رکھنے تک محدود نہیں بلکہ اس کی پوری زندگی دیانت، تقویٰ، خدمتِ خلق، علمی ذوق اور سماجی وقار سے عبارت رہی ہے۔ اس خاندان نے ہمیشہ کردار کو شہرت پر، دیانت کو دولت پر اور خدمت کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف طبقات میں یہ خانوادہ عزت، اعتماد اور احترام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اس خاندان کی ایک نمایاں خصوصیت خاموش خدمتِ خلق بھی رہی ہے۔ غریبوں کی مدد، بے سہارا خاندانوں کی دستگیری، یتیموں کی کفالت، ضرورت مندوں کی اعانت اور انسانیت کی بے لوث خدمت ان کی گھریلو روایت کا حصہ رہی، مگر کبھی ان خدمات کو شہرت یا نمائش کا ذریعہ نہیں بنایا۔ انہوں نے ہمیشہ خاموشی سے معاشرے کے کمزور طبقات کا سہارا بننے کو اپنی ذمہ داری سمجھا اور یہی اخلاص ان کی حقیقی شناخت بن گیا۔مالیگ خانوادے کی علمی اور تحقیقی خدمات بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ اس روایت کا نمایاں نام حضرت محمد میاں مالیگ ہیں، جنہوں نے اردو صحافت، دینی تحقیق اور دفاعِ حق کے میدان میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ معروف صحافی، محقق اور ماہنامہ "پاسبان” ممبئی کے مدیر جناب مشتاق احمد نظامی ان کی تحریری صلاحیتوں سے اس قدر متاثر تھے کہ اکثر فرمایا کرتے تھے: "محمد بھائی بہت بڑے آرٹیکل نویس ہیں۔” ایک صاحبِ نظر مدیر کی یہ رائے حضرت محمد میاں مالیگ کی غیرمعمولی علمی استعداد کا واضح اعتراف ہے۔سن 1974ء میں بھیونڈی میں ہونے والے معروف سنی و وہابی مناظرے کے بعد جب ایک سو صفحات پر مشتمل کتاب منظرعام پر آئی تو اہلِ سنت کے علمی حلقوں نے اس کا مدلل جواب دینے کی ضرورت محسوس کی۔ یہ اہم ذمہ داری حضرت محمد میاں مالیگ نے قبول کی۔ اس وقت وہ برطانیہ میں مقیم تھے، مگر وطن، عقیدے اور علمی ذمہ داری سے غافل نہ ہوئے۔ انہوں نے مضبوط دلائل اور تحقیقی انداز میں اس کتاب کا مفصل جواب تحریر کیا، جو بعد میں ماہنامہ "المیزان” بھیونڈی و ممبئی میں مسلسل چار اقساط میں شائع ہوا۔ یہ تصنیف ان کی علمی بصیرت، تحقیقی گہرائی اور دفاعِ اہلِ سنت کے جذبے کی اہم تاریخی شہادت ہے۔مالیگ خانوادے کی علمی روایت صرف حضرت محمد میاں مالیگ تک محدود نہیں۔ عظیم شاعر حضرت مولانا محمد یونس مالیگ علیہ الرحمہ نے اردو ادب اور دینی شاعری میں گراں قدر خدمات انجام دیں، جبکہ شہرۂ آفاق شاعر مقصود مالیگ نے اپنے کلام کے ذریعے نہ صرف اردو ادب کو مالا مال کیا بلکہ "مالیگ” کی نسبت کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔ اسی طرح حضرت نیاز احمد مالیگ کی تاریخی یادداشتیں اور محفوظ روایات اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ یہ خاندان صرف تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ تاریخ کا معتبر امین بھی ہے۔اس خانوادے کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ اس نے علم اور عمل کو ہمیشہ ساتھ رکھا۔ قلم کے ساتھ کردار، عبادت کے ساتھ خدمت، خوشحالی کے ساتھ سخاوت اور شہرت کے ساتھ انکساری کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔ یہی اوصاف اسے محض ایک معروف خاندان نہیں بلکہ مالیگاؤں کی تہذیبی، اخلاقی اور سماجی تاریخ کا معتبر حوالہ بناتے ہیں۔آج دنیا گلوبلائزیشن کے دور سے گزر رہی ہے۔ لاکھوں افراد اپنے آبائی شہروں سے ہجرت کرکے مختلف ممالک میں آباد ہوچکے ہیں، لیکن بہت کم خاندان ایسے ہیں جنہوں نے ستر برس سے زائد عرصے تک اپنے شہر کی نسبت کو اسی محبت، استقامت اور وقار کے ساتھ زندہ رکھا ہو۔ مالیگ خانوادہ اس لحاظ سے ایک منفرد مثال ہے۔ ان کے لیے "مالیگ” نہ قلمی نام ہے، نہ ادبی لقب، بلکہ اپنے وطن، اپنی تہذیب، اپنی شناخت اور اپنی مٹی سے غیرمشروط محبت کا زندہ اعلان ہے۔حضرت مولانا محمد یونس مالیگ علیہ الرحمہ کی علمی عظمت، حضرت محمد میاں مالیگ کی تحقیقی خدمات، حضرت نیاز احمد مالیگ کی تاریخی روایت اور مقصود مالیگ کی ادبی شناخت اس حقیقت کی روشن دلیل ہیں کہ یہ خاندان افراد کا مجموعہ نہیں بلکہ علم، ادب، کردار، خدمت اور تہذیبی شعور کی ایک مسلسل روایت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مالیگ خانوادے کی تمام علمی، ادبی، صحافتی اور سماجی خدمات کو یکجا کرکے ایک مستند دستاویزی کتاب مرتب کی جائے، جس میں حضرت محمد میاں مالیگ کے مضامین، ماہنامہ "المیزان” میں شائع ہونے والی تاریخی تحریریں، نادر خطوط، تصاویر اور دیگر تاریخی دستاویزات محفوظ کی جائیں تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ اس خاندان نے کس خاموشی، اخلاص اور استقامت کے ساتھ مالیگاؤں کی شناخت کو دنیا بھر میں زندہ رکھا۔
تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو اپنی ذات سے بڑھ کر اپنے معاشرے، اپنی تہذیب اور اپنے وطن کے لیے جیتے ہیں۔ مالیگ خانوادہ بلاشبہ انہی باوقار اور تاریخ ساز خانوادوں میں شامل ہے جنہوں نے دولت سے زیادہ کردار، شہرت سے زیادہ خدمت، مفاد سے زیادہ اخلاص اور ذاتی شناخت سے بڑھ کر اپنے شہر کی شناخت کو اہمیت دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج "مالیگ” صرف ایک خاندانی نسبت نہیں بلکہ مالیگاؤں سے محبت، وفاداری، دیانت، خدمتِ خلق اور تہذیبی عظمت کی ایک زندہ علامت بن چکا ہے۔ یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہ ہوگا کہ اگر مالیگاؤں کی تاریخ لکھی جائے اور اس میں مالیگ خانوادے کا ذکر نہ ہو تو وہ تاریخ یقیناً نامکمل ہوگی، کیونکہ بعض خاندان صرف اپنے عہد کی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی بھی میراث ہوتے ہیں، اور مالیگ خانوادہ انہی نادر اور قابلِ احترام خانوادوں میں شمار ہوتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے