कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کتاب "گلستانِ عادل” پر ایک تبصرہ

تحریر: فضیل اختر قاسمی بھیروی

خوش نویسی انسان کے اندرون کو نکھارنے اور نگاہ کو جمالیاتی حسن کا شعور عطا کرنے کا ایک شاندار ذریعہ ہے۔ اچھے خط کا اثر دلوں پر براہِ راست پڑتا ہے، اور جب یہی فن بچوں کو ابتدا ہی سے سکھایا جائے تو ان کی شخصیت میں نکھار اور تحریر میں دلکشی پیدا ہوتی ہے۔ جس وقت میں عربی اول میں تھا اپنے استاذ سے تحریر سے متعلق عربی کا ایک جملہ سنا تھا اور وہ اب تک نقش ہے۔
حَسِّنْ خَطَّكَ كَمَا تُحِبُّ خَدَّكَ
ترجمہ: "اپنی لکھائی کو اسی طرح خوبصورت بناؤ جس طرح تم اپنے رخسار (چہرے) کو خوبصورت دیکھنا پسند کرتے ہو۔”
اسی احساس اور مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے *محترم مولانا مصعب عادل قاسمی الٰہ آبادی* نے ایک بہترین اور کارآمد تحفہ تیار کیا ہے، جس کا نام *”گلستانِ عادل” حصہ اول (مفردات) ہے۔
یہ کتاب بنیادی طور پر نو نہالوں اور ابتدائی بچوں کے لیے مرتب کی گئی ہے، جو کل 32 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں "الف” سے لے کر "یا” تک تمام مفردات کو اتنے واضح، خوبصورت اور اصولی انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ بچہ مشق کرتے ہوئے آسانی سے حروف کی ساخت کو سمجھ سکتا ہے۔
اس کتاب کی جدید ترین اور سب سے نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس کے ہر صفحے پر ایک کیو آر اسکینر (Scanner) دیا گیا ہے۔ اگر کسی بچے یا ان کے سرپرست کو کوئی حرف یا مشق سمجھنے میں دشواری پیش آئے، تو وہ فوری طور پر اسکینر کی مدد سے ویڈیو دیکھ کر درست طریقہ اور رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ دورِ حاضر کی جدید ٹیکنالوجی کا روایتی تعلیم کے ساتھ یہ بہترین اور بااثر استعمال موصوف کی وقت شناسی اور طلبہ سے ہمدردی کا بین ثبوت ہے۔
صاحبِ کتاب سے قلبی تعلق اور یادیں:
مؤلفِ کتاب، رفیقِ مکرم مولانا مصعب عادل قاسمی الٰہ آبادی سے احقر کا تعلق اس وقت سے ہے، جب میں دارالعلوم وقف دیوبند میں عربی ہفتم کا طالب علم تھا اور موصوف دورہٴ حدیث شریف کے مرحلے میں تھے۔ وہ اپنی اعلا درجے کی خوشنویسی کے باعث پورے مدرسے میں مقبول اور ممتاز تھے۔ ان کے فن کی شاندار مثال آج بھی مادرِ علمی کے مہمان خانے کے سامنے جلی اور خوبصورت حروف میں لکھی ہوئی تختہٴ تحریر *”فرودگاہِ صالحین”* کی صورت میں موجود ہے، جو انہی کے دستِ مبارک کا شاہکار ہے۔ احقر نے بھی اس زمانے میں ان سے خطاطی کے کچھ گر سیکھنے کی سعی کی، اگرچہ میری اپنی لاپرواہی اور عدمِ توجہی کے باعث میں اس فن کو مکمل وقت نہ دے سکا۔
دورِ طالب علمی کی ایک اور دلپذیر یاد تکمیلِ عربی ادب کے سال کی ہے، جب مولانا مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب دیوبند تشریف لائے تھے۔ رفیقم ان سے ملاقات کے لیے تشریف لائے اور احقر کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ مفتی صاحب کے دولت کدے پر تقریباً تین گھنٹے کا وقت بے حد عمدہ اور علمی گفتگو میں گزرا۔ اس نشست کو احقر نے تحریری شکل دینے کی کوشش کی تھی، جس کا مسودہ اب بھی کہیں محفوظ ہوگا۔
کتاب جب طباعت کے مرحلے سے گزر کر منظرِ عام پر آئی تو محترم رفیق نے بڑی محبت سے الٰہ آباد سے پانچ عدد پارسل بطورِ خاص احقر کو روانہ فرمائے۔ اس کرم فرمائی پر میں ان کا تہِ دل سے ممنون و مشکور ہوں۔ کتاب جیسے ہی میرے ہاتھوں میں آئی، دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ابھی اسے منظرِ عام پر آئے چند ہی دن ہوئے تھے کہ معلوم ہوا کہ اس کا پہلا ایڈیشن مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ یہ اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ محنت اگر خلوص سے کی جائے تو بارگاہِ الٰہی میں بھی قبول ہوتی ہے اور عوام میں بھی پذیرائی حاصل کرتی ہے۔ موصوف نے بتایا کہ اس سلسلے کے مزید حصے اور دیگر شاندار علمی منصوبے بھی پیشِ نظر ہیں۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ "گلستانِ عادل” کو بچوں کے لیے نافع اور مؤلف کے لیے توشہٴ آخرت و صدقہٴ جاریہ بنائے، ان کے تمام اچھے عزائم کو پورا فرمائے اور ان کے قلم و فن میں مزید برکت عطا فرمائے۔ آمین!


Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے