कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نوجوان نسل اور نشے کی تباہ کن لت

تحریر:ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر
مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد
موبائل نمبر: 9325217306

معاشرہ اس وقت جن خطرناک چیلنجز سے دوچار ہے، ان میں نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی نشے کی لت سب سے زیادہ تشویشناک مسئلہ بن چکی ہے۔ یہ صرف چند افراد کی ذاتی کمزوری یا وقتی غلطی نہیں بلکہ پورے سماج کے اخلاقی، روحانی، معاشی اور خاندانی ڈھانچے کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ آج اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، محلوں اور حتیٰ کہ دیہی علاقوں تک نشے کا زہر خاموشی کے ساتھ پھیلتا جا رہا ہے۔ سگریٹ، گٹکا، شراب، چرس، افیون، نشہ آور گولیاں، انجکشن اور مختلف کیمیکل ڈرگز نوجوانوں کی زندگیوں کو نگل رہے ہیں۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بہت سے والدین، اساتذہ اور سماجی ذمہ داران اس مسئلے کی سنگینی کو اُس وقت محسوس کرتے ہیں جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔ ایک نوجوان جب نشے کا عادی بن جاتا ہے تو صرف اس کی ذات ہی برباد نہیں ہوتی بلکہ پورا خاندان اذیت، بدنامی، ذہنی دباؤ اور معاشی تباہی کا شکار ہو جاتا ہے۔
نشے کی لت کے بنیادی اسباب:
گھریلو سکون اور تربیت کی کمی:
وہ گھر جہاں محبت، شفقت، دینی ماحول اور مثبت گفتگو کا فقدان ہو، وہاں بچے ذہنی تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ والدین کی مسلسل لڑائیاں، بے توجہی، سخت رویہ یا حد سے زیادہ آزادی نوجوانوں کو غلط صحبت کی طرف دھکیل دیتی ہے۔
اکثر نوجوان نشے کا آغاز کسی ذہنی سکون یا ٹینشن ختم کرنے کے بہانے سے کرتے ہیں، لیکن آہستہ آہستہ وہ اسی زہر کے غلام بن جاتے ہیں۔
بری صحبت اور دوستوں کا دباؤ:
نوجوانی تقلید کا زمانہ ہوتا ہے۔ اگر دوست نیک ہوں تو زندگی سنور جاتی ہے، اور اگر صحبت بری ہو تو مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔
آج بہت سے نوجوان صرف دوستی نبھانے، فیشن یا ماڈرن بننے کے نام پر پہلی بار سگریٹ یا نشہ آزماتے ہیں۔ یہی شوق بعد میں تباہی کا راستہ بن جاتا ہے۔
فلموں، ڈراموں اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات:
بعض فلمیں، ویب سیریز اور گانے نشے کو ایک اسٹیٹس یا ہیرو ازم کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ نوجوان لاشعوری طور پر ان کرداروں کی نقل کرنے لگتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی ایسی ویڈیوز اور مواد نوجوانوں کو ذہنی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ جب برائی کو خوبصورت انداز میں پیش کیا جائے تو کمزور ذہن آسانی سے اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔
بے روزگاری اور احساسِ محرومی:
جب نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی بے روزگار رہتا ہے، یا غربت و ناکامی کا سامنا کرتا ہے، تو وہ مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ وقتی فرار کے لیے نشے کا سہارا لیتے ہیں، مگر یہ سہارا دراصل تباہی کی کھائی ثابت ہوتا ہے۔
دینی و روحانی ماحول سے دوری:
نماز، قرآن، ذکرِ الٰہی اور دینی مجالس انسان کے دل کو سکون عطا کرتی ہیں۔ جب نوجوان ان روحانی سہاروں سے دور ہو جاتا ہے تو اس کا دل خالی پن محسوس کرتا ہے، اور پھر وہ مصنوعی سکون کی تلاش میں نشے کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
نشے کے تباہ کن اثرات:ـ
جسمانی تباہی
نشہ انسان کے دماغ، جگر، دل اور اعصاب کو تباہ کر دیتا ہے۔
بہت سے نوجوان کم عمری میں مختلف خطرناک بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ قوتِ ارادی ختم ہو جاتی ہے، جسم کمزور پڑ جاتا ہے اور زندگی بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے۔
ذہنی اور نفسیاتی مسائل:
نشہ انسان کو چڑچڑا، بد مزاج، مایوس اور نفسیاتی مریض بنا دیتا ہے۔
بعض اوقات نوجوان ڈپریشن، خوف، بے چینی اور خودکشی جیسے خطرناک رجحانات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
خاندانی نظام کی بربادی:
نشے کا عادی فرد گھر کا سکون چھین لیتا ہے۔
والدین راتوں کی نیند کھو دیتے ہیں، بہن بھائی احساسِ شرمندگی میں مبتلا ہوتے ہیں اور پورا خاندان ذہنی اذیت میں مبتلا رہتا ہے۔
جرائم میں اضافہ:
نشہ آور اشیاء مہنگی ہوتی ہیں۔ جب عادی شخص کے پاس پیسہ ختم ہو جاتا ہے تو وہ چوری، جھوٹ، دھوکہ، لوٹ مار اور دیگر جرائم کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔
اسی لیے بہت سے جرائم کی جڑ میں نشہ موجود ہوتا ہے۔
تعلیمی اور معاشی نقصان:
نشے کا شکار نوجوان نہ تعلیم پر توجہ دے پاتا ہے اور نہ ہی کسی ملازمت میں مستقل مزاجی دکھا سکتا ہے۔
یوں اس کا مستقبل تاریکی میں ڈوب جاتا ہے۔
روحانی زوال:
نشہ انسان کے دل سے نورِ ایمان چھین لیتا ہے۔ عبادات بوجھ محسوس ہونے لگتی ہیں، گناہوں کا احساس ختم ہو جاتا ہے، اور انسان رفتہ رفتہ اخلاقی پستی میں گرتا چلا جاتا ہے۔
کیا نوجوانوں کو اس بری لت سے بچایا جا سکتا ہے؟
یقیناً بچایا جا سکتا ہے۔
مایوسی کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اگر معاشرہ سنجیدگی، حکمت اور مسلسل محنت کے ساتھ آگے بڑھے تو ہزاروں نوجوانوں کو اس دلدل سے نکالا جا سکتا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں اجتماعی بیداری، خاندانی تعاون، دینی تربیت اور مؤثر قوانین کے ذریعے نشے کے رجحان میں نمایاں کمی لائی گئی۔
لیکن اس کے لیے وقتی نعروں سے نہیں بلکہ مسلسل عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
نشے سے بچاؤ کی مؤثر تدابیر:
مضبوط خاندانی نظام:
والدین صرف بچوں کے اخراجات پورے کرنے کو اپنی ذمہ داری نہ سمجھیں بلکہ ان کے دوست بنیں۔
بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی بات سنیں، محبت سے سمجھائیں اور ان کی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
گھر کا دینی اور اخلاقی ماحول نوجوان کو بہت سی برائیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
دینی تربیت اور روحانی تعلق:
نماز، تلاوتِ قرآن، مسجد سے تعلق، دینی اجتماعات اور نیک صحبت نوجوان کے دل میں خوفِ خدا پیدا کرتی ہے۔
جس دل میں اللہ کی محبت جاگزیں ہو جائے، وہ نشے جیسی گندگی سے محفوظ رہتا ہے۔
اچھی صحبت کا اہتمام:
والدین اور اساتذہ نوجوانوں کی دوستیوں پر نظر رکھیں۔
انہیں ایسے ماحول میں لے جائیں جہاں علم، اخلاق، ادب اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہو۔
کھیل، مطالعہ اور مثبت مصروفیات:
خالی ذہن شیطان کا گھر ہوتا ہے۔
نوجوانوں کو کھیل، مطالعہ، سماجی خدمت، ہنر سیکھنے اور تخلیقی سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے تاکہ ان کی توانائیاں مثبت سمت میں استعمال ہوں۔
تعلیمی اداروں میں بیداری مہم:
اسکولوں اور کالجوں میں نشے کے نقصانات پر سیمینار، ورکشاپس اور تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں۔
ماہرینِ نفسیات، علماء اور سماجی کارکنان نوجوانوں سے براہِ راست گفتگو کریں۔
سخت قانونی کارروائی:
منشیات فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔
جو لوگ نوجوان نسل کو زہر فروخت کر رہے ہیں، وہ درحقیقت پوری قوم کے مجرم ہیں۔
بحالی مراکز اور نفسیاتی مدد:
جو نوجوان اس لت میں مبتلا ہو چکے ہیں، انہیں حقارت کی نظر سے دیکھنے کے بجائے ہمدردی، علاج اور بحالی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
بعض اوقات ایک محبت بھرا جملہ بھی کسی انسان کی زندگی بدل دیتا ہے۔
سماج کے ذمہ دار افراد کی ذمہ داریاں:
علماء کرام کی ذمہ داری:
علماء صرف منبر و محراب تک محدود نہ رہیں بلکہ نوجوانوں کے مسائل کو موضوعِ خطاب بنائیں۔
مساجد کو اصلاحِ معاشرہ کا مرکز بنایا جائے۔
اساتذہ کی ذمہ داری:
اساتذہ نوجوانوں کے کردار ساز ہوتے ہیں۔
اگر استاد طلبہ کی نفسیات پر توجہ دیں، ان کی رہنمائی کریں اور اعتماد بحال کریں تو بہت سے نوجوان برائی سے بچ سکتے ہیں۔
والدین کی ذمہ داری:
بچوں کو صرف ڈانٹنے کے بجائے ان کے دل جیتنے کی کوشش کی جائے۔
محبت، نگرانی اور اعتماد کا متوازن ماحول ہی بہترین تربیت ہے۔
میڈیا کی ذمہ داری:
میڈیا کو چاہیے کہ نشے کو فیشن بنا کر پیش کرنے کے بجائے اس کے تباہ کن نتائج کو اجاگر کرے۔
مثبت اور تعمیری مواد نوجوانوں کی فکری اصلاح میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
حکومت کی ذمہ داری:
حکومت کو چاہیے کہ منشیات فروشوں کے خلاف سخت قوانین نافذ کرے، روزگار کے مواقع فراہم کرے اور بحالی مراکز کو مؤثر بنائے۔
اختتامیہ:
نشہ صرف ایک فرد کی کمزوری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی ناکامی کا نتیجہ ہوتا ہے۔
اگر گھر بکھر جائیں، تربیت ختم ہو جائے، دین سے تعلق کمزور ہو جائے اور نوجوان تنہائی و مایوسی کا شکار ہو جائیں تو پھر نشہ جیسی برائیاں آسانی سے جگہ بنا لیتی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم وقتی افسوس اور رسمی بیانات سے آگے بڑھیں۔
ہر والدین، استاد، عالم، سماجی کارکن اور حکومتی ادارہ اپنی ذمہ داری محسوس کرے۔ نوجوانوں کو ڈانٹنے کے بجائے ان کا ہاتھ تھاما جائے، انہیں امید دی جائے، مقصدِ زندگی دیا جائے اور ان کے دلوں میں ایمان، خود اعتمادی اور مثبت سوچ پیدا کی جائے۔
اگر آج بھی ہم نے سنجیدگی اختیار نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
لیکن اگر ہم نے اخلاص، حکمت اور اجتماعی شعور کے ساتھ کوشش کی تو یقیناً ہماری نوجوان نسل اس زہر سے محفوظ ہو سکتی ہے، اور یہی نسل مستقبل میں ایک پاکیزہ، باصلاحیت اور مضبوط معاشرے کی تعمیر کرے گی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے