कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بتاؤ ہم یوم آزادی کیسے منائیں؟

تحریر:محمد عادل ارریاوی

چند دنوں کے بعد 15 اگست آنے والا ہے یعنی وہ تاریخی دن جس دن ہمارا پیارا ملک ہندوستان انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا تھا۔ 15 اگست 1947ء کو ہمارا وطن آزاد ہوا۔ اس آزادی کے حصول کے لیے خصوصاً اکابرین دیوبند علماء کرام و مسلمان ہندو سکھ عیسائی اور تمام ہندوستانی باشندوں نے مل کر جدوجہد کی بے شمار قربانیاں دیں جانوں کا نذرانہ پیش کیاجیلوں کی صعوبتیں برداشت کیں اور آخرکار آزادی کی نعمت حاصل ہوئی۔ اس تاریخی کامیابی پر پورے ملک میں خوشیاں منائی گئیں۔
چند ہی دنوں بعد ایک بار پھر یومِ آزادی منایا جائے گا۔ مدارس مکاتب اسکول کالج یونیورسٹیاں اور دیگر تعلیمی اداروں میں قومی پرچم لہرایا جائے گا تقریبات منعقد ہوں گی مٹھائیاں تقسیم کی جائیں گی اور ہر طرف جشنِ آزادی کا ماحول ہوگا۔ لیکن ہمارے دل میں ایک سوال بار بار جنم لیتا ہے کہ آخر ہم یہ خوشی کس طرح منائیں؟ جب ہمارے لیے جینا ہی مشکل بنا دیا گیا ہو تو ہم جشنِ آزادی کس احساس کے ساتھ منائیں؟
آج بہت سے مسلمانوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے مختلف شعبوں میں ان کے ساتھ مساوی برتاؤ نہیں کیا جاتا۔ خواہ بینک ہوں سرکاری ملازمتیں ہوں ہسپتال ہوں اسکول کالج اور یونیورسٹیاں ہوں یا عدالتیں اور سرکاری دفاتر بہت سے مسلمانوں کا احساس ہے کہ ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر انہیں نظرانداز کیا جاتا ہے۔ انہیں یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ دوسروں سے مختلف ہیں حالانکہ وہ بھی اسی ملک کے برابر کے شہری ہیں۔
مسلمانوں کے دلوں میں یہ درد بھی پایا جاتا ہے کہ نہ ان کے مدارس خود کو مکمل طور پر محفوظ محسوس کرتے ہیں نہ مساجد نہ خانقاہیں اور نہ ہی دیگر اسلامی مذہبی مقامات۔ مختلف مواقع پر ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں جن سے مسلمانوں میں بے چینی اور عدمِ تحفظ کا احساس بڑھتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال مزید شدت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا آزادی صرف ایک طبقے کے لیے ہے یا اس ملک کے ہر شہری کے لیے؟
اگر آزادی کی جدوجہد میں صرف ایک ہی طبقے نے حصہ لیا ہوتا تو شاید یہ سوال نہ اٹھتا لیکن تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس ملک کی آزادی کے لیے ہر مذہب اور ہر طبقے کے لوگوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ مسلمانوں نے بھی آزادی کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا اپنے خون سے اس سرزمین کو سینچا اور آزادی کی قیمت ادا کی۔ اس لیے آزادی پر جتنا حق کسی اور کا ہے اتنا ہی حق مسلمانوں کا بھی ہے۔
اگر ہندوستان کی تاریخ اور تہذیب پر نظر ڈالی جائے تو مسلمانوں کی خدمات ہر قدم پر نظر آتی ہیں۔ لال قلعہ قطب مینار جامع مسجد دہلی تاج محل آگرہ قلعہ چار مینار گولکنڈہ قلعہ حیدرآباد کے سات گنبد اور بے شمار تاریخی عمارتیں آج بھی ہندوستان کی شان سمجھی جاتی ہیں۔ یہ عمارتیں نہ صرف ملک کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں جس سے ملک کو بڑی آمدنی بھی حاصل ہوتی ہے۔ یہ سب ہندوستان کے مشترکہ تاریخی ورثے کا حصہ ہیں۔
مسلمانوں نے صرف عظیم الشان عمارتیں ہی نہیں چھوڑیں بلکہ علم ادب تہذیب فنِ تعمیر تجارت سیاست اور آزادی کی جدوجہد میں بھی اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اس ملک کی تعمیر و ترقی میں ان کا حصہ ناقابلِ انکار ہے۔ اس لیے کسی بھی طبقے کی خدمات کو فراموش کرنا یا اسے احساسِ محرومی میں مبتلا کرنا نہ تاریخ کے ساتھ انصاف ہے اور نہ ہی آئین کے ساتھ۔
ہم بھی اسی وطن کے شہری ہیں ہم اسی ملک کی مٹی میں پیدا ہوئے ہیں اسی سرزمین پر پلے بڑھے ہیں اور اسی مٹی میں ایک دن ہماری آخری آرام گاہ ہوگی۔ یہ وطن جتنا دوسروں کا ہے اتنا ہی ہمارا بھی ہے۔ ہماری خواہش صرف اتنی ہے کہ ہمیں بھی اسی عزت مساوات انصاف اور احترام کے ساتھ دیکھا جائے جس کا وعدہ ہمارے آئین نے ہر شہری سے کیا ہے۔
آج اگر کوئی مسلمان اپنے حقوق اپنے تشخص یا اپنے آئینی تحفظ کی بات کرتا ہے تو بعض لوگ اسے وطن دشمنی کا نام دینے لگتے ہیں حالانکہ اپنے آئینی حقوق کا مطالبہ کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ اپنے وطن سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ ناانصافی پر خاموشی اختیار کر لی جائے بلکہ حقیقی حب الوطنی یہ ہے کہ ملک میں انصاف اور بھائی چارے کے قیام کی کوشش کی جائے تاکہ ہر شہری خود کو محفوظ اور باعزت محسوس کرے۔
ہم اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں کیونکہ یہی ہماری جنم بھومی ہے یہی ہماری شناخت ہے اور یہی ہماری آخری آرام گاہ بھی ہوگی۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان ترقی کرے امن کا گہوارہ بنے اور دنیا بھر میں عزت و وقار حاصل کرے۔ لیکن یہ اس وقت ممکن ہے جب ملک کے ہر شہری کو خواہ اس کا مذہب کچھ بھی ہو آئین کے مطابق برابری کا درجہ انصاف اور احترام حاصل ہو۔
اللہ ربّ العزت ہمارے وطن کو امن انصاف بھائی چارے اور خوشحالی کا گہوارہ بنائے تمام شہریوں کی جان مال اور عزت کی حفاظت فرمائے ہمیں وطن کی خیرخواہی اور اس کی تعمیر و ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔
شعر
نہ تیرا ہے نہ میرا ہے یہ ہندوستان سب کا ہے
نہیں سمجھی گئی یہ بات تو نقصان سب کا ہے
جو اس میں مل گئیں ندیاں وہ دکھلائی نہیں دیتیں
مہاساگر بنانے میں مگر احسان سب کا ہے

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے