कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نظام آباد کے خطاط محمد صادق ‘جہیز کے خلاف خاموش داعی

تحریر:مجیدعارف نظام آبادی
majeedaarif@gmail.com

اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جو سادگی، عدل اور آسانی کو فروغ دیتا ہے۔ نکاح کو عبادت اور معاشرے کی پاکیزگی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں جہیز جیسی غیر اسلامی رسم نے اس مقدس رشتے کو ایک مہنگا سودا بنا دیا ہے۔ اس برائی نے نہ صرف ہزاروں غریب خاندانوں کو قرض اور پریشانی میں مبتلا کیا بلکہ بے شمار بیٹیوں کی شادیاں بھی تاخیر کا شکار ہوئیں۔
ایسے حالات میں نظام آباد کے معروف خطاط محمد صادق کی جہیز مخالف مہم قابلِ تحسین ہے۔ وہ اپنی خوبصورت خطاطی اور سماجی شعور کے ذریعے عوام میں یہ پیغام عام کر رہے ہیں کہ نکاح کو آسان بنایا جائے اور جہیز جیسی لعنت سے معاشرے کو پاک کیا جائے۔ وہ مختلف نکڑ اور چوراہوں پر جہاں سے لوگوں کا گزر زیادہ ہوتا ہے۔ خوبصورت خطاطی کے ذریعے اردو و انگریزی زبان میں جاذب نظر جہیز مخالف اقوال لکھتے ہیں۔ تاکہ نوجوانوں میں شعور بیدار ہو۔
فن جب اصلاحِ معاشرہ کا ذریعہ بن جائے تو اس کی تاثیر کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
اس کے علاوہ محمد صادق نے جہیز جیسی سماجی برائی کے خلاف ایک اور مؤثر اصلاحی مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔ وہ مختلف مساجد کے ائمہ کرام اور خطباء سے ملاقات کرکے ان کے ذریعے جہیز کی قباحت، سادہ نکاح کی اہمیت اور اسلامی تعلیمات پر مبنی مختصر اصلاحی پیغامات ریکارڈ کرواتے ہیں۔
ان ویڈیو پیغامات کو وہ فیس بک، واٹس ایپ، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وسیع پیمانے پر نشر کرتے ہیں تاکہ نوجوان نسل، والدین اور معاشرہ اسلامی تعلیمات سے روشناس ہو سکے۔ اس مہم کا مقصد کسی فرد پر تنقید نہیں بلکہ سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق آسان نکاح کو فروغ دینا، جہیز کی لعنت کا خاتمہ کرنا اور نوجوانوں میں دینی شعور، حسنِ اخلاق اور خودداری پیدا کرنا ہے۔
بلاشبہ، جب مساجد کے منبروں سے اصلاح کا پیغام جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے گھر گھر پہنچتا ہے تو اس کے مثبت اثرات معاشرے پر نمایاں ہوتے ہیں۔ اسلام میں شوکت و نمائش یا جہیز کا مطالبہ نہیں، بلکہ دینداری، حسنِ اخلاق اور تقویٰ کو اصل معیار قرار دیا گیا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے نکاح کو آسان کرنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا کہ سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو۔ یہی تعلیمات آج ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی ضرورت ہیں۔ اگر آپ بھی اس مہم میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو محمد صادق سے ربط پیدا کرسکتے ہیں:
+91 96031 85113
محمد صادق نےبتایا کہ جہیز کی رسم نے نوجوانوں کے اخلاقی زوال میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ بعض نوجوان اپنی محنت اور کردار پر اعتماد کرنے کے بجائے دلہن کے گھر سے دولت، گاڑی، سونا اور دیگر سامان کی توقع رکھتے ہیں۔ اس لالچ سے خودداری، غیرت اور اسلامی اخلاق مجروح ہوتے ہیں، جبکہ کئی خاندان مالی بوجھ تلے دب جاتے ہیں اور بعض اوقات گھریلو جھگڑے، طلاق اور ظلم و تشدد تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان خود عہد کریں کہ وہ جہیز کا مطالبہ نہیں کریں گے، والدین سادہ نکاح کو فروغ دیں، علماء، اساتذہ، سماجی کارکن اور اہلِ قلم اس برائی کے خلاف آواز بلند کریں، اور معاشرہ ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کرے جو اپنی عملی زندگی سے اس رسم کا خاتمہ چاہتے ہیں۔Nizambad k Khattat Md. Sadeq

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے