कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جب لوگوں کا ضمیر مرنے لگے

تحریر:محمد عادل ارریاوی

جب معاشرہ گناہوں اور بے راہ روی کی لپیٹ میں آجاتا ہے تو اس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے پر نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ آج کا موجودہ صورتحال اسی تلخ حقیقت کی عکاسی کر رہے ہیں۔
ہمارے ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مہنگائی وغیرہ کے نتیجے میں جہاں مسائل و مصائب میں اضافہ ہوا ہے اسی کے ساتھ ناحق قتل وغارت گری کے واقعات میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے دن دہاڑے سڑکوں اور بھری آبادی میں قتل و غارت گری کے ایسے ایسے واقعات رونما ہور ہے ہیں کہ الامان والحفیظ۔
افسوس ہے کہ بے روزگاری اور مہنگائی وغیرہ جو اللہ ربّ العزت کی طرف سے گناہوں کے نتیجے میں آنے والے وبال اور عذاب ہیں ان کے حل کے لیے تو بہ واستغفار کا صحیح راستہ اختیار کرنے کے بجائے بہت سے لوگوں نے اس عذاب کو دور کرنے کے لیے لوٹ مار اور قتل و غارت گری کا جو راستہ اختیار کیا ہے یہ راستہ خود عذاب پر عذاب اور وبال در و بال اور ان عذابوں اور ان جیسے دوسرے وبالوں کا ذریعہ ہے ۔
گویا کہ بیماری کا علاج خود ان اسباب میں تلاش کیا جا رہا ہے جو اسباب خود پہلی بیماری کا سبب تھے یہ تو ایسا ہی ہے جیسا کہ مریض کی بیماری کا علاج زہر کھلا کر کیا جائے ، جس کے نتیجے میں وہ کل کا جاتا آج ہی چلا جائے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور جب اس طبقے کو اپنی ضروریات پوری کرنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ملتا تو وہ قتل و غارت گری جیسے کاموں کو اپنی ضروریات کے پورا کرنے کا ذریعہ بنالیتا ہے۔
مگر یہ بہت بڑی غلط نہی ہے کیوں کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ مہنگائی اور بے روزگاری وغیرہ جیسے عذاب خود بداعمالیوں کا نتیجہ ہیں جن کو دور کرنے کے لیے خود اپنے آپ کو بدلنے اور اپنے اعمال کی اصلاح کی ضرورت ہے۔
لہذا ہر شخص کو اپنی اصلاح کی فکر میں لگ جانا اور توبہ واستغفار کے ساتھ اللہ ربّ العزت سے دعا کا اہتمام کرنا چاہیے۔
مزید اس کے ساتھ محنت جذبہ اور لگن کے ساتھ رزق حلال کی کوشش کرنا چاہیے خواہ وہ محنت اور مزدوری کی شکل میں کیوں نہ ہو اور کام چوری و حرام خوری سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے کیوں کہ محنت کے ساتھ حاصل کیے ہوئے حلال رزق میں غیر معمولی برکت اور نورانیت ہوتی ہے وہ تھوڑا ہو کر بھی زیادہ اور بہت زیادہ سے زیادہ کفایت کرتا ہے۔
اور یہ کہ مال و دولت کی حرص ولالچ میں نہیں پڑنا چاہیے اور کسی دوسرے کے مال پر نظر نہیں کرنا چاہیے بلکہ دنیا کے معاملات میں اپنے سے چھوٹے لوگوں کو دیکھنا چاہیے جو اس سے بھی کم زور حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔
اور اپنی خواہشات اور فضول خرچیوں میں کمی کر کے ضروریات کی حد تک اب اپنے اخراجات کو محدود سے محدود تر کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
ان جائز حلال اور صحیح تدابیر و اسباب کو چھوڑ کر اگر کوئی شخص کسی کو قتل کر کے یا کسی کے مال پر ڈاکہ ڈال کر یا کسی کے معصوم بچے وغیرہ کو اغوا کر کے اپنی ضروریات پوری کرنے کا راستہ تلاش کرتا ہے تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ یہ راستہ اسے ہرگز اپنی منزل تک نہیں پہنچا سکتا بلکہ کسی کی آہیں اور بددعا ئیں اور مظلوم کے آنسو اس کو یا اس کے بیوی بچوں کو ( جن کے لیے یہ سب کچھ کرتا ہے ) ہمیشہ کے لیے اپاہچ بنا سکتے ہیں اس کو اپنے بیوی بچوں کی نعمت سے محروم کر سکتے ہیں یا اس کو ایسے وبال اور دردناک عذاب میں مبتلا کر سکتے ہیں کہ جن کا اس کو آج تصور بھی نہیں ہو سکتا کیوں کہ مظلوم کی دعا کے قبول ہونے میں کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔
اسی کے ساتھ ہر شخص کو قتل و غارت گری میں مبتلا اور اس کا شکار ہونے سے بچنے کے لیے حفاظتی انتظامات بھی اختیار کرنا چاہئیے تا کہ جان مال اور اولاد قاتلوں اور غاصبوں کی دسترس سے زیادہ سے زیادہ محفوظ رہ سکیں۔
جس میں فضول تعلقات بڑھانے ہر کس و ناکس سے یاری دوستی کرنے اور بلا ضرورت گھر سے باہر گھومنے پھرنے اور جلدی سے کسی پر بھروسہ کر لینے اور اپنے مال و دولت کی نمود و نمائش کرنے جیسی چیزوں سے حفاظت بہت اہم ہے۔
اسی کے ساتھ دن رات کے اوقات اور گھر سے باہر نکلنے وغیرہ کی مسنون دعاؤں کا بھی اہتمام رکھنا چاہیے۔
بدقسمتی سے آج بہت سے لوگ محنت صبر اور توکل کا راستہ چھوڑ کر ناجائز ذرائع سے دولت حاصل کرنے کو کامیابی سمجھنے لگے ہیں حالانکہ حرام کی کمائی وقتی آسائش تو دے سکتی ہے مگر سکون برکت اور انجامِ خیر کبھی نہیں دے سکتی۔ ظلم سے حاصل ہونے والا مال بظاہر فائدہ دکھائی دیتا ہے لیکن وہ اپنے ساتھ بے شمار آہیں بددعائیں اور اللہ ربّ العزت کی ناراضگی بھی لے آتا ہے۔
اللہ ربّ العزت ہمارے معاشرے کو امن و امان اور رزقِ حلال کی فراوانی عطا فرمائے ہمیں ہر قسم کے ظلم فتنہ و فساد اور جرائم سے محفوظ رکھے اور صحیح راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے