कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

امریکہ- ایران تصادم سے مشرقِ وسطیٰ خطرناک جنگی دہانے پر

تحریر:ڈاکٹر محمد سعید اللہ ندوی
رابط نمبر 8175818019

دنیا کی سیاست میں بعض خطے ایسے ہیں جہاں رونما ہونے والا ایک واقعہ چند گھنٹوں کے اندر پوری دنیا کے معاشی، سیاسی اور تزویراتی ماحول کو متاثر کر دیتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ انہی حساس خطوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں کئی دہائیوں سے طاقت، وسائل، نظریات اور عالمی مفادات کا ٹکراؤ جاری ہے۔ اس خطے میں پیدا ہونے والی ہر نئی کشیدگی نہ صرف مقامی ممالک بلکہ عالمی طاقتوں، بین الاقوامی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور سفارتی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ حالیہ دنوں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں نے ایک مرتبہ پھر اس پورے خطے کو غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ فضائی حملوں، میزائل کارروائیوں، بحری نقل و حرکت میں رکاوٹوں اور سخت بیانات نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ اگر حالات کو بروقت قابو نہ کیا گیا تو یہ تنازع صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔امریکہ اور ایران کے تعلقات کئی برسوں سے اعتماد کے فقدان، اقتصادی پابندیوں، سیاسی اختلافات اور علاقائی مفادات کے تصادم کا شکار رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں مذاکرات اور معاہدوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ضرور ہوئیں، مگر ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ سامنے آیا جس نے دونوں ممالک کو دوبارہ محاذ آرائی کی طرف دھکیل دیا۔ حالیہ فوجی سرگرمیوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کا دائرہ اب عسکری میدان تک وسیع ہو چکا ہے۔
اس نئی صورتحال کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ فوجی کارروائیاں صرف سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کے اثرات پورے خلیجی خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے اور امریکہ کی طرف سے ایرانی فوجی ڈھانچے پر مسلسل فضائی کارروائیوں نے خطے کے چھوٹے ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ ممالک اگرچہ براہِ راست جنگ کا حصہ نہیں ہیں، لیکن ان کی سرزمین پر موجود فوجی اڈے، بندرگاہیں، فضائی اڈے اور اقتصادی مراکز انہیں اس تنازع کے اثرات سے الگ نہیں رکھ سکتے۔خلیج فارس کی جغرافیائی اہمیت ہمیشہ سے عالمی سیاست کا بنیادی موضوع رہی ہے۔ دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک اسی خطے میں واقع ہیں اور عالمی توانائی کا ایک بڑا حصہ یہیں سے مختلف براعظموں تک پہنچتا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی عالمی معیشت کے لیے فوری خطرہ بن جاتی ہے۔ سرمایہ کار، توانائی کمپنیاں، بحری تجارتی ادارے اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیاں ایسے حالات پر مسلسل نظر رکھتی ہیں، کیونکہ معمولی بے یقینی بھی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ پیدا کر دیتی ہے۔اس پورے بحران میں آبنائے ہرمز کی حیثیت غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کے ان چند مقامات میں شامل ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل اور قدرتی گیس مختلف ممالک کو بھیجی جاتی ہے۔ اگر یہاں بحری آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکہ کی معیشتیں بھی اس سے متاثر ہوتی ہیں۔ اسی لیے عالمی طاقتیں ہمیشہ اس راستے کو کھلا اور محفوظ رکھنے پر زور دیتی رہی ہیں۔حالیہ کشیدگی کے دوران بحری نقل و حرکت میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے بین الاقوامی تجارتی اداروں کو بھی تشویش میں مبتلا کیا ہے۔ کئی شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہازوں کے راستے تبدیل کرنے پر غور شروع کیا، جبکہ انشورنس کمپنیوں نے خطرناک سمندری علاقوں میں سفر کرنے والے جہازوں کے لیے اضافی شرائط عائد کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو عالمی تجارت کی رفتار متاثر ہونا ایک فطری امر ہوگا۔
دوسری جانب امریکہ کی حکمت عملی واضح طور پر اس تصور کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے کہ ایران کی فوجی اور بحری صلاحیتوں کو محدود کیا جائے تاکہ خطے میں اس کی عسکری برتری کمزور ہو سکے۔ امریکہ کا مؤقف یہ رہا ہے کہ بین الاقوامی بحری راستوں کی آزادی کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا، جبکہ ایران مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ اپنی سرزمین، سمندری حدود اور قومی سلامتی کا دفاع اس کا بنیادی حق ہے۔ یہی دو مختلف نقطہ نظر اس کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال آسان نہیں۔ ایک طرف وہ امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون رکھتے ہیں، دوسری طرف ایران ان کا اہم ہمسایہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر خلیجی ممالک کھلے عام کسی ایک فریق کی مکمل حمایت سے گریز کرتے ہوئے حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان ممالک کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ان کی اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیاں جنگی ماحول سے محفوظ رہیں۔اس بحران کا ایک اہم پہلو عالمی توانائی کی منڈی بھی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی دنیا بھر میں مہنگائی، ٹرانسپورٹ کے اخراجات، صنعتی پیداوار اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی اقتصادی مشکلات سے دوچار ہیں، ایسے حالات میں مزید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے بھی اس کشیدگی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔عالمی سفارت کاری اس وقت ایک نازک امتحان سے گزر رہی ہے۔ مختلف ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں مسلسل یہ کوشش کر رہی ہیں کہ دونوں فریق کسی ایسے راستے پر آمادہ ہوں جہاں طاقت کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔ اگرچہ سفارتی بیانات میں محتاط امید کا اظہار کیا جا رہا ہے، لیکن زمینی صورتحال یہ بتاتی ہے کہ اعتماد کی بحالی آسان نہیں ہوگی۔ ہر نئی فوجی کارروائی مذاکرات کے امکانات کو مزید کمزور کر دیتی ہے، جبکہ ہر سخت بیان دونوں جانب بداعتمادی میں اضافہ کرتا ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ تنازع صرف عسکری طاقت کی آزمائش نہیں بلکہ نفسیاتی، سفارتی اور اقتصادی دباؤ کی جنگ بھی بن چکا ہے۔ جدید دور میں جنگیں صرف میدانِ کارزار میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ میڈیا، سفارت کاری، اقتصادی پابندیوں، سائبر حملوں اور اطلاعاتی برتری کے ذریعے بھی اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر فوجی کارروائی کے ساتھ بیانات، دعوے، تردیدیں اور سفارتی پیغامات بھی سامنے آتے ہیں، جن کا مقصد صرف اپنے عوام ہی نہیں بلکہ عالمی برادری کو بھی متاثر کرنا ہوتا ہے۔
دنیا کو اس وقت مزید جنگوں کی نہیں بلکہ دانشمندانہ قیادت، مؤثر سفارت کاری اور باہمی اعتماد کی ضرورت ہے۔ طاقت کا مظاہرہ وقتی برتری تو دے سکتا ہے، مگر پائیدار امن کبھی بندوق کی نالی سے حاصل نہیں ہوتا۔ مشرقِ وسطیٰ کا استحکام صرف اس خطے کے عوام کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کی اقتصادی سلامتی، توانائی کے تحفظ اور عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر عالمی قیادت نے تدبر، تحمل اور انصاف کا راستہ اختیار کیا تو موجودہ بحران کو بڑے تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے، لیکن اگر ضد، انتقام اور عسکری برتری کی سوچ غالب رہی تو اس کی قیمت صرف جنگ میں شامل ممالک ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ یہی وقت ہے کہ اختلافات کو مذاکرات، تصادم کو تعاون اور دشمنی کو امن میں بدلنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے، کیونکہ تاریخ ہمیشہ انہی قوموں کو عزت دیتی ہے جو جنگ جیتنے سے پہلے امن بچانے کا ہنر جانتی ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے