कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری

(ممتاز عالمِ باعمل، مفسرِ قرآن، صاحبِ فکر خطیب اور دلوں کو جوڑنے والے مصلحِ قوم)

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

تاریخِ اسلام کا مطالعہ ہمیں یہ حقیقت بتاتا ہے کہ اُمّتوں کی فکری، اخلاقی اور روحانی زندگی کو زندہ رکھنے میں اہلِ علم کا کردار ہمیشہ بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد علماء ہی وہ طبقہ ہے جس نے علمِ وحی کی امانت کو سنبھالا، نسلوں تک پہنچایا، معاشروں کی اصلاح کی اور انسانوں کو حق، خیر اور بھلائی کے راستے کی طرف رہنمائی فراہم کی۔ کسی بھی دور میں جب فکری انتشار، اخلاقی کمزوری، تہذیبی چیلنجز اور دینی بے شعوری کے حالات پیدا ہوئے، تو مخلص علماء اور اہلِ بصیرت شخصیات نے اپنے علم، کردار اور دعوت کے ذریعے اُمّت کو نئی زندگی، نئی سمت اور نیا حوصلہ عطا کیا۔
عصرِ حاضر بھی مختلف نوعیت کے فکری، اخلاقی اور سماجی مسائل سے دوچار ہے۔ معلومات کی فراوانی کے باوجود بصیرت کی کمی، ترقی کے باوجود روحانی خلا، اور سہولتوں کی کثرت کے باوجود انسانیت و اخلاق کی کمزوری نے ایک ایسے رہنماؤں کی ضرورت کو بڑھا دیا ہے جو علم کے ساتھ عمل، دعوت کے ساتھ کردار، اور فکر کے ساتھ اخلاص کا نمونہ پیش کر سکیں۔ ایسے حالات میں وہ شخصیات خاص اہمیت رکھتی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کو ذاتی مفاد کے بجائے دین، ملّت اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔
علماء کی عظمت صرف اس بات میں نہیں ہوتی کہ وہ کتنی کتابیں پڑھتے ہیں یا کتنے خطابات کرتے ہیں، بلکہ اصل عظمت یہ ہے کہ ان کا علم کتنے دلوں کو روشن کرتا ہے، کتنی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور معاشرے میں کتنی خیر پیدا کرتا ہے۔ ایک حقیقی عالم اپنے عہد کا ترجمان، اپنی ملّت کا خیر خواہ اور آنے والی نسلوں کا معمار ہوتا ہے۔ وہ محراب و منبر سے صرف الفاظ نہیں دیتا، بلکہ کردار، اخلاق اور عمل کے ذریعے ایک زندہ پیغام پیش کرتا ہے۔
برصغیر کی علمی و دینی تاریخ ایسے بے شمار درخشاں کرداروں سے روشن ہے جنہوں نے مدارس، مساجد، علمی مراکز اور دعوتی میدانوں میں خاموش مگر عظیم خدمات انجام دیں۔ ان شخصیات نے علم کو عبادت، دعوت کو ذمّہ داری اور انسانوں کی اصلاح کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ انہی روشن روایتوں کے امین ان علماء میں مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری کا نام بھی نمایاں طور پر سامنے آتا ہے، جنہوں نے نصف صدی سے زائد عرصے تک علمِ دین، قرآن و سنّت کی تعلیم، اصلاحِ معاشرہ، فکری رہنمائی اور انسانی تربیت کے میدان میں مسلسل خدمات انجام دیں۔
مولانا کی زندگی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دینی خدمت ہمیشہ شہرت کے راستے سے نہیں گزرتی۔ بعض شخصیات خاموشی کے ساتھ اپنا چراغ جلاتی رہتی ہیں، مگر ان کی روشنی دور تک پھیلتی ہے۔ وہ اپنی ذات کو نہیں، بلکہ ایک مقصد کو زندہ رکھتی ہیں؛ وہ اپنے نام کے لیے نہیں، بلکہ دین کی سربلندی، ملّت کی رہنمائی اور انسانوں کی بھلائی کے لیے جیتی ہیں۔ زیرِ نظر مضمون اسی احساسِ تشکر اور اعترافِ خدمت کے جذبے کے ساتھ ایک ایسی علمی و دینی شخصیت کا تعارف پیش کرنے کی کوشش ہے، جن کی زندگی علم و عمل، دعوت و اصلاح، اخلاص و تواضع اور خدمتِ دین کا حسین امتزاج ہے۔ یہ صرف ایک فرد کی سوانح نہیں، بلکہ اس علمی روایت کا ذکر بھی ہے جس نے نسلوں کی تربیت کی، دلوں کو جوڑا اور معاشرے میں خیر کے چراغ روشن کیے۔
دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی عظمت کا معیار ان کی شہرت نہیں، بلکہ وہ گہرے اور دیرپا اثرات ہوتے ہیں جو وہ اپنے کردار، فکر اور عمل کے ذریعے معاشرے پر چھوڑ جاتی ہیں۔ وہ نام و نمود کی چکاچوند سے بے نیاز رہ کر خاموشی سے علم و ہدایت کے چراغ روشن کرتی ہیں۔ ممکن ہے کہ انہیں اخبارات کی بڑی سرخیوں میں جگہ نہ ملے، لیکن اہلِ علم و دل کے صفحات پر ان کا ذکر ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ ان کی شناخت کسی عہدے، منصب یا ظاہری شہرت سے نہیں ہوتی، بلکہ ان کا حقیقی تعارف ان کا اخلاص، بلند کردار، عمیق علم، دعوتِ دین اور بے لوث خدمتِ خلق ہوتا ہے۔ ؎
نہیں محتاجِ زیور، حسنِ سیرت کی بدولت
کہ خوشبو خود بتاتی ہے کہ پھول کس چمن کا ہے
حضرت مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری صاحب بھی ایسی ہی باوقار، مخلص اور باعمل شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی خدمت، دعوت و اصلاح، معاشرے کی فکری و اخلاقی تعمیر، اور انسانوں کی دینی و اخلاقی تربیت کے لیے وقف کر دی۔ ان کی حیاتِ مبارکہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ عظمت ہمیشہ شہرت کے ہنگاموں کی محتاج نہیں ہوتی؛ بسا اوقات خاموش، مسلسل اور مخلصانہ خدمت ہی تاریخ کے صفحات پر ایسے گہرے نقوش ثبت کر جاتی ہے جو زمانے کے گزرنے کے باوجود مٹتے نہیں۔
مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری کی شخصیت علم و عمل، فکر و دعوت اور اخلاص و کردار کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی ذات میں علم کی پختگی، عمل کی خوشبو، اخلاق کی لطافت اور دعوتِ دین کی بے قرار تڑپ یکجا نظر آتی ہے۔ وہ ان خوش نصیب اہلِ علم میں سے ہیں جنہوں نے علم کو محض کتابوں کے اوراق، درس گاہوں کی چار دیواری یا علمی مباحث تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے اپنی زندگی کا عملی دستور، دعوت کا ذریعہ اور اصلاحِ معاشرہ کا مؤثر وسیلہ بنایا۔ ان کی گفتگو حکمت و بصیرت سے آراستہ، ان کا اندازِ بیان دل نشین، ان کا رویہ شفقت و انکسار کا آئینہ دار، ان کی مجلس خیر خواہی اور محبت کا مرکز، اور ان کی پوری زندگی سنّتِ نبویﷺ کی عملی جھلک پیش کرتی ہے۔
مولانا حسان ندوی مہاراشٹر کے ممتاز، معروف اور ہر دل عزیز علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ ایک صاحبِ علم، صاحبِ فکر، بااثر خطیب، مفسرِ قرآن اور مصلحِ معاشرہ کی حیثیت سے کئی دہائیوں سے دینی، علمی، دعوتی اور اصلاحی خدمات انجام دیتے آ رہے ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصّہ بھیونڈی (مہاراشٹر) میں گزارا، جہاں آپ کی علمی و دعوتی سرگرمیوں، خطبات، دروسِ قرآن، اصلاحی مجالس اور تربیتی کاوشوں نے عوام و خواص، طلبہ، علماء اور نوجوانوں پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ اسی بنا پر آپ نہ صرف ایک قابلِ اعتماد عالمِ دین، بلکہ ایک مخلص مربی، مشفق راہنما اور معتبر علمی مرجع کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔
آپ کی علمی شخصیت کی تشکیل برصغیر اور عالمِ اسلام کے دو عظیم علمی مراکز کی آغوش میں ہوئی۔ ایک طرف آپ نے برصغیر کی مایۂ ناز دینی درس گاہ دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ سے علمی و فکری تربیت حاصل کی، جہاں اعتدال، وسعتِ نظر، عربی ادب اور اسلامی فکر کی روشن روایت پروان چڑھتی ہے، اور دوسری طرف جامعۃ الازہر، مصر جیسے عالمِ اسلام کے قدیم اور عظیم علمی مرکز سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اپنے علمی افق کو مزید وسعت بخشی۔ ان دونوں عظیم علمی روایتوں کے فیضان نے آپ کی شخصیت میں گہرائیِ علم، وسعتِ فکر، اعتدالِ مزاج اور دعوتی بصیرت کو یکجا کر دیا۔ ؎
سفرِ علم میں جو لوگ نکل جاتے ہیں
وہ زمانے کے لیے نقشِ قدم چھوڑتے ہیں
تاہم مولانا کی اصل عظمت صرف اس بات میں نہیں کہ انہوں نے عظیم درس گاہوں سے تعلیم حاصل کی، بلکہ اس میں ہے کہ انہوں نے علم کو اپنی ذات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے معاشرے کی اصلاح، دین کی صحیح ترجمانی، قرآن و سنّت کی دعوت، امت کی فکری رہنمائی اور انسانوں کی اخلاقی و روحانی تربیت کے لیے وقف کر دیا۔ یہی وہ وصف ہے جو ایک عالم کو محض معلومات کا حامل نہیں، بلکہ قوم کا رہبر، مربی اور معمارِ انسانیت بنا دیتا ہے۔
مولانا حسان ندوی کی شخصیت بھیونڈی ہی نہیں بلکہ پورے مہاراشٹر کے علمی، دینی اور دعوتی حلقوں میں علم و فضل، متانت، حسنِ اخلاق اور طویل و بے لوث دینی خدمات کے باعث نہایت عزّت و احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ آپ ان بزرگ اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے علم، کردار اور اخلاص کے ذریعے دلوں میں وہ مقام پیدا کیا جو نہ کسی منصب کا محتاج ہوتا ہے اور نہ کسی ظاہری شہرت کا۔ آپ کی گفتگو علمی پختگی، فکری اعتدال اور حکمت سے مزین ہوتی ہے، آپ کے مزاج میں انکساری، بردباری اور وسعتِ ظرف نمایاں دکھائی دیتی ہے، جب کہ آپ کے معاملات میں خیر خواہی، محبت اور انسان دوستی کی جھلک ہر شخص محسوس کرتا ہے۔ یہی اوصاف آپ کو عوام و خواص، علماء، طلبہ اور اہلِ دانش کے درمیان یکساں طور پر محبوب، قابلِ اعتماد اور مرجعِ اعتماد بناتے ہیں۔
مولانا نے اپنی عملی زندگی کا ایک طویل اور بابرکت دور بھیونڈی میں گزارا۔ پانچ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط یہ تعلق محض رہائش یا تدریسی خدمات تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے ایک مضبوط علمی، دعوتی، سماجی اور اصلاحی روایت کی صورت اختیار کر لی۔ اس عرصے میں آپ نے درس و تدریس، خطابت، دعوتِ دین، اصلاحِ معاشرہ، تربیتِ نوجوانان، فکری رہنمائی اور عوامی اصلاح کے مختلف میدانوں میں ایسی گراں قدر خدمات انجام دیں جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔
بھیونڈی کے علمی و دینی حلقوں میں آپ ایک معتبر علمی مرجع، مشفق مربی اور صاحبِ بصیرت راہنما کی حیثیت رکھتے ہیں۔ علماء، ائمہ، طلبہ اور عام لوگ دینی مسائل میں رہنمائی، علمی مشوروں، فکری رہبری اور اخلاقی تربیت کے لیے آپ سے رجوع کرتے رہے ہیں۔ آپ نے ہمیشہ اعتدال، حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ لوگوں کی رہنمائی کی اور اختلاف کے ماحول میں بھی اتحاد، محبت اور باہمی احترام کا درس دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی شخصیت صرف ایک عالمِ دین کی نہیں، بلکہ ایک مربی، مصلح اور داعی کی حیثیت سے بھی پہچانی جاتی ہے، جس نے اپنی خاموش مگر مسلسل جدوجہد سے ہزاروں افراد کی علمی، اخلاقی اور دینی زندگی پر مثبت اثرات مرتب کیے۔
مولانا ابو ظفر ازہری کا شمار ہندوستان کے بلند پایہ خطباء، ممتاز علماء اور اسلام کے مؤثر ترجمانوں میں ہوتا ہے۔ آپ کی خطابت کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں علم کی گہرائی، فکر کی پختگی، قرآن و سنّت کی روشنی، عصرِ حاضر کا شعور اور اصلاحِ معاشرہ کا درد ایک ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ آپ کا اندازِ بیان نہایت سادہ، دل نشین اور مؤثر ہے، جو سامعین کے ذہن کو قائل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے دلوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ آپ کے خطابات محض الفاظ کی خوب صورتی یا جذباتی اپیل تک محدود نہیں ہوتے، بلکہ وہ ایمان کو تازگی، فکر کو صحیح سمت، کردار کو استحکام اور عمل کو نئی توانائی عطا کرتے ہیں۔ اسی لیے آپ کی گفتگو سننے والے کے ذہن میں صرف وقتی اثر نہیں چھوڑتی بلکہ اس کی عملی زندگی میں بھی مثبت تبدیلی کا محرک بنتی ہے۔
مولانا نے درسِ قرآن اور درسِ حدیث کو اپنی دعوتی جدوجہد کا بنیادی ذریعہ بنایا۔ آپ نے قرآنِ کریم کی تعلیمات کو نہایت آسان، مدلل اور عام فہم انداز میں پیش کرتے ہوئے لوگوں میں دین کی صحیح سمجھ، اسلامی شعور اور اخلاقی بیداری پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کی۔ آپ کے دروس میں قرآن و سنّت کے پیغام کو عصرِ حاضر کے مسائل اور انسانی زندگی کی عملی ضروریات سے جوڑ کر بیان کیا جاتا، جس سے سامعین کو دین کی جامعیت اور اس کی دائمی رہنمائی کا حقیقی احساس ہوتا۔ آپ کی علمی مجالس، اصلاحی نشستیں اور دعوتی خطابات سے علماء، طلبہ، نوجوانوں اور عام مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے استفادہ کیا اور اپنے دینی شعور، اخلاقی کردار اور عملی زندگی کو سنوارنے کی تحریک حاصل کی۔
مولانا کی خدمات صرف منبر و محراب، تقریر و تدریس یا درس و افتاء تک محدود نہیں رہیں، بلکہ آپ نے اپنے کردار، حسنِ اخلاق، اخلاص، تواضع اور عملی نمونے کے ذریعے بھی دین کی دعوت پیش کی۔ آپ کی خاموش زندگی خود ایک مؤثر پیغام تھی، جس نے بے شمار لوگوں کے دلوں میں ایمان کی حرارت، دین کی محبت اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی شخصیت صرف ایک خطیب یا مدرس کی نہیں، بلکہ ایک مربی، داعی، مصلح اور معلم کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اہلِ علم کی زندگی کا اصل سرمایہ ان کی تصنیفات، خطبات یا علمی خدمات ہی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ انسان بھی ہوتے ہیں جن کی زندگیاں ان کی صحبت سے بدلتی ہیں، وہ کردار ہوتے ہیں جو ان کی تربیت سے سنورتے ہیں، اور وہ دل ہوتے ہیں جن میں وہ ایمان، علم اور خیر خواہی کی شمع روشن کر جاتے ہیں۔ جس کی زندہ مثال ہم جیسے لوگ ہیں۔ مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری کی حیاتِ مبارکہ بھی اسی روشن روایت کا ایک درخشاں باب ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے علم، دعوت، اخلاص اور خدمتِ دین کا ایک قابلِ تقلید نمونہ رہے گا۔
مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری کی علمی شخصیت کی تشکیل میں دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ کا کردار نہایت نمایاں ہے۔ آپ نے اسی عظیم علمی درس گاہ سے کسبِ علم کیا، جو برصغیر کے ان ممتاز مراکزِ علم میں شمار ہوتی ہے جہاں دینی علوم کی گہرائی کے ساتھ فکری وسعت، اعتدالِ مزاج، علمی تحقیق، دعوتی بصیرت اور اُمّت کے اجتماعی مسائل کا شعور بھی پروان چڑھایا جاتا ہے۔ ندوہ کی علمی روایت نے ہمیشہ ایسے علماء پیدا کیے ہیں جو روایت اور تجدید، علم اور عمل، فکر اور دعوت، اور دین و دنیا کے درمیان متوازن ربط قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور مولانا ازہری اسی روشن روایت کے ایک نمایاں امین ہیں۔
ندوہ کے علمی ماحول نے ان کی شخصیت کو ایک ایسا متوازن اور معتدل مزاج عطا کیا جس میں سلفِ صالحین کے علمی ورثے کا گہرا احترام بھی تھا اور عصرِ حاضر کے فکری، سماجی اور دعوتی تقاضوں کا واضح ادراک بھی۔ انہوں نے قدیم علمی ذخیرے کو محض محفوظ رکھنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اسے موجودہ زمانے کے مسائل، انسانی ضرورتوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے تناظر میں سمجھنے اور پیش کرنے کی کوشش کی۔ یہی اعتدال، وسعتِ نظر اور حکمت ان کی علمی و دعوتی زندگی کا نمایاں وصف بن گئی۔
مولانا کی پوری زندگی میں ندوہ کی علمی روایت کی سادگی، انکساری، اعتدال، اخلاص اور خدمتِ دین کی روح نمایاں طور پر جھلکتی ہے۔ وہ علم کو عزّت و شہرت یا برتری کا ذریعہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی امانت اور بندگانِ خدا کی رہنمائی و خدمت کا مؤثر وسیلہ سمجھتے تھے۔ اسی لیے ان کے علم میں تواضع، ان کی دعوت میں حکمت، ان کی قیادت میں خیر خواہی اور ان کے کردار میں اخلاص نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت میں ایک صاحبِ علم کی سنجیدگی، ایک داعی کی بے لوث تڑپ، ایک مصلح کی درد مندی اور ایک مربی کی شفقت نہایت خوبصورتی سے یکجا ہو گئی ہے۔ انہوں نے اپنے اس علمی و اخلاقی سرمایہ کو ہمیشہ اُمّت کی فکری رہنمائی، معاشرے کی اصلاح، نوجوان نسل کی تربیت اور قرآن و سنّت کی صحیح تعلیمات کے فروغ کے لیے وقف رکھا۔ اس اعتبار سے مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری نہ صرف ندوہ کی علمی روایت کے امین ہیں بلکہ اس کے عملی ترجمان بھی ہیں، جن کی زندگی علم، اعتدال، اخلاص اور خدمتِ دین کی روشن مثال کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
سنہ 1973ء میری ولادت کا سال بھی ہے اور اسی زمانے میں مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری نے بھیونڈی جیسے تاریخی، علمی اور دینی شہر میں اپنی عملی، علمی اور دعوتی زندگی کا آغاز کیا۔ بظاہر یہ محض ایک زمانی اتفاق معلوم ہوتا ہے، لیکن میرے لیے یہ ایک خوش گوار اور معنی خیز نسبت کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس سال میری زندگی کا سفر شروع ہوا، اسی دور میں ایک مخلص عالمِ دین نے بھی اپنی خدمتِ دین، اشاعتِ علم اور اصلاحِ معاشرہ کے سفر کی بنیاد رکھی، جو آگے چل کر نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط ایک تابناک علمی و دعوتی تاریخ میں تبدیل ہو گیا۔
بھیونڈی کی سر زمین نے اس سفر کو پروان چڑھتے دیکھا۔ اسی شہر میں مولانا نے علم کی شمعیں روشن کیں، قرآن و سنّت کا پیغام عام کیا، بے شمار افراد کی فکری و اخلاقی تربیت کی، اور اپنی حکمت، اخلاص اور حسنِ اخلاق کے ذریعے دلوں کو جوڑنے اور معاشرے کی اصلاح کا فریضہ انجام دیا۔ یوں یہ شہر صرف ان کی قیام گاہ نہیں رہا، بلکہ ان کی علمی، دعوتی اور اصلاحی جدوجہد کا خاموش مگر زندہ گواہ بن گیا۔ میرے لیے یہ نسبت اس اعتبار سے بھی باعثِ سعادت ہے کہ میری زندگی کے آغاز کا زمانہ ایک ایسے مردِ درویش کی علمی و دعوتی زندگی کے آغاز سے ہم آہنگ ہے، جس نے اپنی پوری زندگی علم، دعوت، اخلاص اور خدمتِ دین کے لیے وقف کر دی۔ یہ محض تاریخ کا ایک اتفاق نہیں، بلکہ ایک ایسی یادگار نسبت ہے جسے میں اپنے لیے اعزاز اور خیر و برکت کا ذریعہ سمجھتا ہوں۔
مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری گزشتہ باون برس سے زائد عرصے سے بھیونڈی میں مقیم ہیں۔ اس طویل مدت میں انہوں نے اس شہر کو محض اپنی جائے سکونت نہیں بنایا، بلکہ اسے اپنی علمی، تدریسی، دعوتی، اصلاحی اور تربیتی سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا۔ ان کی شب و روز کی جدوجہد نے بھیونڈی کی دینی و علمی فضا کو نئی تازگی بخشی، اور یہ شہر ان کی بے لوث خدمات، اخلاص اور علمی فیضان کا ایک روشن مرکز بن گیا۔ نصف صدی سے زیادہ عرصے پر محیط ان کی خدمات اس حقیقت کی شاہد ہیں کہ اخلاص کے ساتھ کیا جانے والا علمی و دعوتی کام وقت گزرنے کے ساتھ ماند نہیں پڑتا، بلکہ اس کے اثرات نسل در نسل منتقل ہوتے رہتے ہیں۔
اسلامی روایت میں علم کا حصول جتنا عظیم فریضہ ہے، اتنا ہی عظیم فریضہ اس کی اشاعت، تعلیم اور اگلی نسلوں تک اس کی امانت کو پہنچانا بھی ہے۔ قرآن و سنّت کی تعلیمات نے ہمیشہ ایسے علماء کی قدر و منزلت بیان کی ہے جو علم کو اپنی ذات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے امت کی ہدایت، اصلاح اور خیر خواہی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری کی زندگی اسی قرآنی و نبوی تصور کی ایک عملی تفسیر ہے۔ انہوں نے علم کو محض سند، منصب یا علمی وجاہت کا وسیلہ نہیں بنایا، بلکہ اسے عبادت، امانت اور خدمتِ خلق کی ذمّہ داری سمجھ کر پوری دیانت اور اخلاص کے ساتھ ادا کیا۔
درس و تدریس کے میدان میں آپ کی خدمات نے بے شمار طلبہ، ائمہ، علماء اور عام مسلمانوں کی علمی و فکری تربیت کی۔ آپ کے دروس، خطبات اور اصلاحی مجالس نے لوگوں کے دلوں میں قرآن و سنّت کی محبت، دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی رغبت پیدا کی۔ آپ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ علم کا حقیقی مقصد انسان کی شخصیت کو سنوارنا، اس کے کردار کو بلند کرنا اور اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے حقوق ادا کرنے کا شعور بخشنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی علمی زندگی صرف تعلیم و تعلم تک محدود نہیں رہی، بلکہ ایک ہمہ گیر دعوتی و اصلاحی تحریک کی صورت اختیار کر گئی، جس کے اثرات آج بھی بھیونڈی اور مہاراشٹر کے علمی و دینی حلقوں میں نمایاں طور پر محسوس کیے جاتے ہیں۔
مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری نے برصغیر کی ممتاز دینی درس گاہ دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ سے علمی فیض حاصل کیا، جہاں انہیں دینی علوم کی گہرائی کے ساتھ اعتدالِ فکر، وسعتِ نظر، حکمتِ دعوت اور اصلاحی مزاج کی تربیت ملی۔ ندوہ کی علمی روایت نے ان کی شخصیت میں روایت سے وابستگی، عصرِ حاضر کا شعور اور اُمّت کے مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی۔ اس کے بعد آپ نے عالمِ اسلام کی قدیم اور عظیم علمی درس گاہ جامعۃ الازہر، قاہرہ سے بھی استفادہ کیا، جہاں کے علمی ماحول نے آپ کے فکری افق کو مزید وسعت عطا کی اور آپ کے علمی ذوق کو نئی جہتیں فراہم کیں۔
دو عظیم علمی مراکز سے فیض یاب ہونے کے بعد آپ کے لیے یہ ممکن تھا کہ آپ بڑے علمی مراکز، معروف اداروں یا شہرت کے وسیع میدانوں کا انتخاب کرتے، لیکن آپ نے نمود و نمائش اور ذاتی وجاہت کے بجائے خدمت، دعوت اور اصلاح کو ترجیح دی۔ آپ نے بھیونڈی جیسی بستی کو اپنی عملی زندگی کا میدان منتخب کیا اور اپنی تمام علمی صلاحیتوں، تجربات اور توانائیوں کو اسی شہر کی دینی، فکری اور اخلاقی تعمیر کے لیے وقف کر دیا۔ یہ انتخاب دراصل آپ کی سادگی، اخلاص، تواضع اور خدمتِ خلق کے جذبے کا روشن اظہار تھا۔ آپ نے اپنے عمل سے یہ حقیقت واضح کر دی کہ کسی شخصیت کی عظمت کا معیار یہ نہیں کہ وہ کس بڑے مرکز سے وابستہ ہے یا کہاں قیام کرتی ہے، بلکہ اصل عظمت یہ ہے کہ وہ جہاں بھی موجود ہو وہاں علم، خیر، اخلاق اور بھلائی کے کتنے چراغ روشن کرتی ہے۔
بھیونڈی مولانا کے لیے محض ایک شہر یا جائے سکونت نہیں رہا، بلکہ ایک وسیع دعوتی میدان، ایک علمی مرکز اور ایک تربیتی گاہ بن گیا۔ اسی سر زمین پر آپ نے درس و تدریس، دعوت و اصلاح، خطابت، قرآن فہمی اور اخلاقی تربیت کے ذریعے بے شمار افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا۔ آپ کی طویل خدمات نے بھیونڈی کو آپ کی علمی و دعوتی جدوجہد کا گواہ بنا دیا، جہاں کئی نسلوں نے آپ کے علم، اخلاص اور شفقت سے فیض حاصل کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ عظیم شخصیات مقامات سے نہیں، بلکہ اپنے کردار، خدمت اور اثرات سے پہچانی جاتی ہیں۔ مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری کی زندگی اسی حقیقت کی ایک روشن مثال ہے کہ ایک مخلص عالم اگر اخلاص اور مقصدیت کے ساتھ کسی بستی کو اپنا میدانِ عمل بنا لے تو وہی بستی اس کے علمی و دعوتی کارناموں کی تاریخ بن جاتی ہے۔
دورانِ طالب علمی مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری کی کشادہ قلبی، وسعتِ ظرف، محبت آمیز مزاج اور حسنِ تعلق کی ایک خوب صورت جھلک جامعۃ الازہر، قاہرہ کے زمانۂ تعلیم میں نظر آتی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب عالمِ اسلام کے اس عظیم علمی مرکز میں برصغیر کے معروف عالمِ دین اور نبیرۂ اعلیٰ حضرت، مولانا اختر رضا خانؒ بھی زیرِ تعلیم تھے۔ اگرچہ علمی اعتبار سے وہ مولانا حسان ندوی سے سینئر تھے، لیکن دیارِ غیر میں رہتے ہوئے وطن، زبان، تہذیب اور دینی وابستگی کی مشترک نسبتیں رسمی فاصلے کم کر دیتی ہیں۔ پردیس میں اپنائیت، محبت اور باہمی احترام کا رشتہ اکثر محض تعارف یا عمر و مرتبے کی حدود سے بلند ہو جاتا ہے۔
اسی علمی و روحانی ماحول میں ایک دن مولانا اختر رضا خانؒ نے مولانا حسان ندوی سے نہایت محبت بھرے انداز میں فرمایا: "حسان! بہت دن ہو گئے، میں نے دادا جان کا مشہور سلام ’مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام‘ نہیں پڑھا۔ آج دل چاہ رہا ہے کہ اسے پڑھوں، مگر یہاں سننے والا کوئی نہیں ہے”۔ یہ الفاظ سن کر مولانا حسان ندوی نے بڑی خوش دلی، محبت اور احترام کے ساتھ جواب دیا: "آپ سلام پڑھیے، میں صرف سنوں گا ہی نہیں بلکہ آپ کا ہم نوا بھی رہوں گا”۔
یہ مختصر سا واقعہ بظاہر ایک طالب علمانہ مجلس کا ایک معمولی لمحہ معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری کی شخصیت کے کئی روشن پہلوؤں کا آئینہ دار ہے۔ اس میں ان کی وسعتِ قلبی، محبتِ رسولﷺ، دینی ذوق، حسنِ معاشرت اور اہلِ علم کے احترام کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے ایک ساتھی طالب علم کے دینی جذبے کی قدر کی، اس کے احساسات کو اہمیت دی اور اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ علم کی حقیقی روح صرف کتابوں کے مطالعے اور علمی مباحث میں نہیں، بلکہ محبت، اخلاص، تعلق اور دلوں کو جوڑنے کے جذبے میں بھی پوشیدہ ہے۔
جامعۃ الازہر کے علمی ماحول میں پیش آنے والا یہ واقعہ مولانا کی اس متوازن شخصیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں علمی وقار کے ساتھ انکساری، فکری اختلاف کے باوجود احترام، اور مختلف علمی و دینی پس منظر رکھنے والوں کے لیے کشادہ دلی موجود تھی۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو ایک عالم کو محض صاحبِ علم نہیں بناتے، بلکہ اسے صاحبِ کردار، مخلص داعی اور انسانوں کے دلوں میں جگہ بنانے والی شخصیت بنا دیتے ہیں۔ بعد کی زندگی میں بھی مولانا کی دعوتی، اصلاحی اور تربیتی خدمات میں یہی مزاج نمایاں رہا۔ انہوں نے ہمیشہ محبت، حکمت اور خیر خواہی کے ذریعے لوگوں کو دین سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ان کی شخصیت اس حقیقت کی گواہ ہے کہ علم جب اخلاص اور حسنِ اخلاق کے ساتھ جمع ہو جائے تو وہ صرف ذہنوں کو نہیں، بلکہ دلوں کو بھی روشن کرتا ہے۔
مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری کی خطابت محض الفاظ کی خوب صورتی، بیان کی روانی یا تقریر کے فن تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسی مؤثر دعوتی کیفیت کا مظہر رہی جس میں علم، اخلاص، دردِ دل اور اصلاح کا جذبہ یکجا نظر آتا ہے۔ ان کی گفتگو کی اصل قوت بلند آہنگی یا جذباتی اسلوب نہیں، بلکہ وہ صداقت، حکمت اور خلوص تھا جو براہِ راست دلوں پر اثر کرتا رہا۔ ان کے بیانات میں الفاظ سے زیادہ پیغام کی اہمیت ہوتی، جوش سے زیادہ شعور کی بیداری ہوتی، اور ظاہری تاثیر سے زیادہ باطن کی اصلاح کا احساس نمایاں رہتا۔
مولانا سامعین کو محض متاثر کرنے یا وقتی داد حاصل کرنے کے لیے گفتگو نہیں کرتے، بلکہ ان کا مقصد انسان کے اندر خیر، تقویٰ، ذمّہ داری اور اصلاح کا جذبہ پیدا کرنا ہوتا۔ ان کی تقریروں میں قرآن و سنّت کی روشنی، عصرِ حاضر کے مسائل کا شعور، اُمّت کے لیے درد مندی اور انسانوں کی خیر خواہی کا جذبہ نمایاں ہوتا۔ وہ الفاظ کے ذریعے صرف ذہنوں کو قائل نہیں کرتے، بلکہ ضمیروں کو بیدار کرتے اور دلوں کو اپنے احتساب، اپنے کردار اور اپنی ذمّہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے۔ ؎
بات ایسی کہ دل کے پار اتر جائے کبھی
لفظ وہی جو کسی زندگی کو سنوار جائے کبھی
ان کی مجالس کی ایک خاص تاثیر یہ رہی کہ وہاں آنے والا شخص صرف ایک خطاب سن کر واپس نہیں لوٹتا تھا، بلکہ اپنے اندر ایک احساس، ایک سوال اور عمل کی ایک نئی تحریک لے کر اٹھتا تھا۔ یہی وہ کیفیت ہے جو ایک عام مقرر کو ایک حقیقی داعی سے ممتاز کرتی ہے۔ ایک سچا عالم صرف معلومات منتقل نہیں کرتا، بلکہ دلوں کی دنیا میں تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مولانا کی خطابت اسی دعوتی روح کی آئینہ دار ہے۔ ان کے الفاظ میں علم کی روشنی، لہجے میں خیر خواہی، انداز میں شفقت اور پیغام میں اصلاح کی تڑپ محسوس ہوتی۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو ایک مخلص عالم کی گفتگو کو وقتی اثر سے بلند کر کے دیرپا تربیت اور کردار سازی کا ذریعہ بنا دیتے ہیں۔
مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری کی شخصیت کا دائرہ صرف علومِ دینیہ تک محدود نہیں رہا، بلکہ آپ کو شعر و ادب، تاریخ، تہذیب، زبان و بیان اور علم کے مختلف شعبوں سے بھی گہری دلچسپی اور خاص مناسبت حاصل رہی۔ آپ کی علمی شخصیت میں دینی بصیرت کے ساتھ ادبی ذوق، تاریخی شعور اور فکری وسعت بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ مختلف علمی و ادبی موضوعات پر آپ نہایت گہرے مطالعے، متوازن فکر اور وسیع تجربے کے ساتھ گفتگو فرماتے، جس سے آپ کے علم کی ہمہ گیری اور مطالعے کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ؎
تنگ نظری سے کبھی علم کا در وا نہ ہوا
دل بڑا ہو تو ہر اک فن میں کمال آتا ہے
آپ کی گفتگو میں جہاں دینی علوم کی پختگی اور فکری گہرائی محسوس ہوتی، وہیں ادب کی لطافت، زبان کی شائستگی اور تہذیبی شعور کی خوب صورت آمیزش بھی نظر آتی ہے۔ یہی امتزاج آپ کی شخصیت کو ایک منفرد پہچان عطا کرتا ہے۔ آپ علم کو محض معلومات کا ذخیرہ نہیں سمجھتے ہیں، بلکہ اسے انسان کی فکری تعمیر، ذوق کی تربیت اور شخصیت کی تکمیل کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی مجالس میں دین کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ ادب کی چاشنی، تاریخ کا شعور اور انسانی اقدار کی خوشبو بھی محسوس کی جاتی ہے۔
اگرچہ آپ بنیادی طور پر ایک عالمِ دین، مفسرِ قرآن اور داعی کی حیثیت سے معروف ہیں، لیکن آپ کی شخصیت کسی ایک محدود دائرے میں محصور نہیں رہی۔ آپ کے مزاج کی شگفتگی، گفتگو کی دل آویزی، مطالعے کی وسعت اور مختلف علوم سے وابستگی نے آپ کو کشادہ قلبی اور کشادہ ذہنی جیسی عظیم صفات سے نوازا۔ آپ روایت کی گہرائی اور علمی ورثے کی عظمت سے پوری طرح واقف ہیں، لیکن ساتھ ہی عصرِ حاضر کے تقاضوں، انسانی مسائل اور بدلتے ہوئے حالات کا شعور بھی رکھتے ہیں۔
یہی اعتدال اور وسعتِ نظر آپ کی شخصیت کا نمایاں حسن رہی ہیں۔ آپ قدیم علمی روایت کے امین بھی ہیں اور نئے زمانے کے فکری تقاضوں کو سمجھنے والے صاحبِ بصیرت عالم بھی۔ اسی لیے علماء، اہلِ قلم، دانش وروں، طلبہ اور عام افراد، سبھی طبقات میں آپ کو محبت، اعتماد اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ مولانا کی جامع شخصیت اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ ایک حقیقی عالم صرف کتابوں کا حافظ یا مسائل کا جاننے والا نہیں ہوتا، بلکہ وہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے والا، انسانوں کے جذبات سے جڑنے والا، تہذیب و اخلاق کا محافظ اور علم و حکمت کی روشنی عام کرنے والا رہنما بھی ہوتا ہے۔ ایسی شخصیات اپنے علم کے ساتھ ساتھ اپنے ذوق، کردار اور وسعتِ فکر کے ذریعے معاشرے پر دیرپا اثرات مرتب کرتی ہیں۔
آج کے اس دور میں جب شہرت، نمائش، ظاہری کامیابی اور ذاتی تشہیر کو اکثر انسان کی قدر و منزلت کا معیار سمجھ لیا جاتا ہے، مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری کی زندگی ایک مختلف اور روشن مثال پیش کرتی ہے۔ ان کی حیات ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کی اصل عظمت اس کے نام، منصب یا شہرت میں نہیں، بلکہ اس کے کردار، اخلاص، خدمت اور ان اثرات میں ہوتی ہے جو وہ دوسروں کی زندگیوں پر چھوڑ جاتا ہے۔ مولانا نے ہمیشہ اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے بجائے علم، دین اور اصلاح کے پیغام کو نمایاں رکھا۔ ان کی جدوجہد کا محور ذاتی شہرت یا دنیاوی مقام کا حصول نہیں، بلکہ اللہ کی رضا، بندگانِ خدا کی رہنمائی اور معاشرے کی اخلاقی و فکری تعمیر رہا۔ وہ ان مخلص نفوس میں سے ہیں جو اپنی ذات کے لیے نہیں، بلکہ ایک بلند مقصد کے لیے جیتے ہیں؛ جن کی زندگی کا سکون خدمت میں، خوشی دوسروں کی بھلائی میں اور کامیابی علم و خیر کے فروغ میں ہوتی ہے۔
ان کی پوری زندگی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ اخلاص کے ساتھ کیا جانے والا کام کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ ایک فرد اگر نیت کی پاکیزگی، مقصد کی بلندی اور حق کے راستے پر ثابت قدمی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے تو وہ اپنے ماحول میں خیر، روشنی اور تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ معاشرے کی تعمیر ہمیشہ بڑے ناموں اور نمایاں عہدوں سے نہیں ہوتی، بلکہ ان خاموش کرداروں سے ہوتی ہے جو علم، اخلاق اور خدمت کے ذریعے دلوں کو بدلتے ہیں۔ مولانا حسان ندوی کی زندگی بھی اسی حقیقت کی ایک روشن مثال ہے کہ علم جب اخلاص سے جڑ جائے، دعوت جب کردار سے مزین ہو جائے اور خدمت جب محبت کے جذبے کے ساتھ انجام دی جائے تو ایک انسان کی زندگی اپنے زمانے سے آگے بڑھ کر آنے والی نسلوں کے لیے بھی رہنمائی کا سر چشمہ بن جاتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری کی زندگی کے پیغام کو صرف ایک شخصیت کے تعارف تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے اپنے لیے ایک عملی رہنمائی سمجھیں۔ ان کی حیات ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم علم کو محض معلومات کا ذخیرہ نہ بنائیں، بلکہ اسے عمل، کردار اور خدمت کے ساتھ جوڑیں؛ دین کی خدمت کو شہرت اور مفاد سے بلند ہو کر اخلاص، حکمت اور خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ انجام دیں؛ اور اپنے علمی، دینی اور تہذیبی اداروں کی حفاظت و ترقی کو اپنی اجتماعی ذمّہ داری سمجھیں۔ یہ بھی ہماری ذمّہ داری ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کی عطا کردہ علمی و اخلاقی اقدار کو نئی نسلوں تک منتقل کریں، تاکہ علم کی روایت، کردار کی عظمت اور خدمت کا جذبہ زندہ رہے۔
قومیں صرف عمارتوں اور اداروں سے نہیں بنتیں، بلکہ ان کرداروں سے بنتی ہیں جو نسلوں کی فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت کرتے ہیں۔ مولانا کی زندگی اسی حقیقت کی ایک روشن مثال ہے کہ ایک مخلص عالم اپنی محنت، اخلاص اور حسنِ کردار کے ذریعے پورے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ مولانا کی حیاتِ مبارکہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خاموش خدمت کبھی رائیگاں نہیں جاتی، اخلاص کبھی بے اثر نہیں ہوتا، اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اٹھایا گیا ہر قدم وقت کے گزرنے کے باوجود اپنا اثر باقی رکھتا ہے۔ یہی وہ حقیقی میراث ہے جو اہلِ علم اور اہلِ اخلاص اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی قوم کی زندگی میں اہلِ علم کی موجودگی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہوتی ہے۔ علماء صرف ماضی کے علمی ورثے کے محافظ نہیں ہوتے، بلکہ وہ حال کے رہنما اور مستقبل کے معمار بھی ہوتے ہیں۔ ان کی زندگیاں آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیتی ہیں کہ علم اگر اخلاص سے خالی ہو تو محض معلومات رہ جاتا ہے، لیکن جب علم کے ساتھ عمل، تقویٰ، حسنِ اخلاق اور خدمت کا جذبہ شامل ہو جائے تو وہ ہدایت کا چراغ بن جاتا ہے۔
مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری کی حیاتِ مبارکہ اسی روشن حقیقت کی ایک عملی تصویر ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دین کی خدمت ہمیشہ شور و ہنگامے، شہرت اور ظاہری مظاہر کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ اخلاص، استقامت، حسنِ کردار اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے بھی خیر کے ایسے نقوش چھوڑے جا سکتے ہیں جو مدتوں باقی رہتے ہیں۔ انہوں نے علم کو عبادت سمجھا، دعوت کو ذمّہ داری جانا، اصلاحِ معاشرہ کو اپنا مشن بنایا اور انسانوں کے دلوں کو جوڑنے کو اپنی زندگی کا مقصد قرار دیا۔
آج جب کہ اُمّتِ مسلمہ فکری انتشار، اخلاقی کمزوری، تہذیبی چیلنجز اور نئی نسل کی دینی تربیت کے مسائل سے دوچار ہے، ایسے اہلِ علم کی زندگیوں سے رہنمائی حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بزرگوں کی علمی میراث کو صرف تذکروں اور تقریبات تک محدود نہ رکھیں، بلکہ ان کے اخلاص، محنت، سادگی، علم دوستی اور خدمت کے جذبے کو اپنی زندگیوں کا حصّہ بنائیں۔ اداروں کی حفاظت کریں، علم کے مراکز کو مضبوط کریں، نئی نسلوں کی تربیت پر توجہ دیں اور دین کی دعوت کو حکمت، محبت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ آگے بڑھائیں۔
مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری جیسے اہلِ علم دراصل کسی ایک شہر، ایک ادارے یا ایک نسل کا سرمایہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ پوری اُمّت کا علمی و روحانی اثاثہ ہوتے ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف صرف خراجِ تحسین نہیں، بلکہ اپنے اوپر ایک ذمّہ داری کا احساس بھی ہے کہ ہم اس روشنی کو آگے منتقل کریں جو انہوں نے اپنے علم، کردار اور دعوت کے ذریعے پھیلائی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حضرت مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری صاحب کی علمی، دینی اور اصلاحی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے، انہیں صحت، عافیت اور مزید خیر کے کاموں کی توفیق عطا فرمائے، اور ان کی محنتوں کو صدقۂ جاریہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی علم کی قدر کرنے، اہلِ علم کا احترام بجا لانے، اخلاص کے ساتھ دین و ملّت کی خدمت کرنے اور اپنے بزرگوں کی روشن روایات کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
وما ذٰلک علی اللہ بعزیز۔
🗓 (2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے