कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

باکردار نسل ہی مضبوط معاشرے کی بنیاد

تحریر:(مولانا)محمدمعروف سیدنپوری
رابطہ نمبر:9648997110

کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کی معیشت، اسلحہ یا بلند و بالا عمارتیں نہیں ہوتیں بلکہ اس کے باکردار انسان ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں نے اخلاق، دیانت، امانت، احترامِ انسانیت اور اعلیٰ کردار کو اپنی شناخت بنایا، وہ دنیا کی قیادت کرتے رہے، اور جن قوموں نے اخلاقی اقدار کو نظر انداز کیا، ان کی مادی ترقی بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں قوموں کی عظمت کا اصل معیار ان کے افراد کا کردار رہا ہے، نہ کہ ان کی ظاہری شان و شوکت۔آج ہمارا معاشرہ بظاہر ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، تیز رفتار مواصلاتی ذرائع اور سہولتوں کی فراوانی نے زندگی کو بے حد آسان بنا دیا ہے، لیکن اس ترقی کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی سامنے آ رہی ہے کہ اخلاقی اقدار کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔ برداشت کی جگہ غصے نے لے لی ہے، احترام کی جگہ بدزبانی، خدمت کی جگہ خود غرضی اور محبت کی جگہ مفاد پرستی فروغ پا رہی ہے۔ ایسے حالات میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ نئی نسل کی اخلاقی تربیت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟اس سوال کا جواب کسی ایک فرد یا ادارے کے ذمے ڈال کر نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ایک صالح اور باکردار انسان صرف ایک ادارے کی پیداوار نہیں ہوتا۔ اس کی شخصیت گھر، مدرسہ یا اسکول اور معاشرے کے مشترکہ اثرات سے تشکیل پاتی ہے۔ اگر ان تینوں میں سے کوئی ایک بھی اپنی ذمہ داری سے غفلت برتے تو تربیت کا عمل ادھورا رہ جاتا ہے اور اس کے اثرات پوری قوم کو بھگتنا پڑتے ہیں۔گھر بچے کی پہلی درسگاہ ہے۔ بچہ بولنا، چلنا، محبت کرنا، دوسروں کا احترام کرنا، سچ بولنا، وعدہ نبھانا اور امانت داری جیسے بنیادی اوصاف سب سے پہلے اپنے گھر ہی میں سیکھتا ہے۔ والدین کے الفاظ سے کہیں زیادہ ان کا کردار بچوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر گھر کا ماحول محبت، دیانت، شائستگی، نظم و ضبط اور دینی و اخلاقی اقدار سے آراستہ ہوگا تو بچہ انہی صفات کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا لے گا۔ لیکن اگر گھر میں جھوٹ، بدتمیزی، غصہ، بے اعتدالی، بے توجہی اور ایک دوسرے کے حقوق کی پامالی عام ہوگی تو یہی عادات بچوں کے مزاج میں بھی سرایت کر جائیں گی۔ ماہرینِ تعلیم بھی اس حقیقت پر متفق ہیں کہ والدین بچے کے پہلے معلم اور گھر اس کی پہلی تربیت گاہ ہے۔
گھر کے بعد مدرسہ یا اسکول بچے کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بہت سے تعلیمی اداروں میں کامیابی کا معیار صرف امتحانی نمبر، ڈگری اور ملازمت کے حصول تک محدود ہوتا جا رہا ہے، جبکہ تعلیم کا اصل مقصد ایک اچھا انسان تیار کرنا ہے۔ ایک مخلص معلم صرف کتاب کا سبق نہیں پڑھاتا بلکہ کردار بھی تعمیر کرتا ہے۔ اس کی گفتگو، اس کا طرزِ عمل، اس کا انصاف، اس کی شفقت اور اس کی دیانت طلبہ کے دلوں پر وہ نقوش چھوڑتی ہے جو محض کتابوں کے صفحات نہیں چھوڑ سکتے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ تعلیم اور تربیت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتیں، کیونکہ علم اگر اخلاق سے خالی ہو تو وہ معاشرے کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بھی بن سکتا ہے۔تیسرا اہم ستون خود معاشرہ ہے۔ اگر گھر اور تعلیمی ادارے بہترین تعلیم و تربیت فراہم کریں لیکن گلی، بازار، ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا اور عوامی ماحول اس کے برعکس پیغام دے تو نوجوان شدید فکری کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے۔ آج موبائل فون اور سوشل میڈیا نے نئی نسل کے لیے ایک متبادل تربیتی دنیا پیدا کر دی ہے، جہاں اچھے اور برے دونوں اثرات یکساں موجود ہیں۔ اس لیے معاشرے کے ہر فرد، ہر ادارے، ہر دانشور، ہر صحافی، ہر مذہبی رہنما اور ہر سماجی کارکن پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے قول و عمل سے مثبت اقدار کو فروغ دے اور معاشرے میں خیر، برداشت اور احترام کی فضا قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اخلاقی تربیت صرف نصیحتوں سے نہیں ہوتی بلکہ عملی نمونے سے ہوتی ہے۔ بچے وہ نہیں بنتے جو ہم ان سے کہتے ہیں، بلکہ وہ بن جاتے ہیں جو ہمیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اگر ہم خود ٹریفک قوانین کی پابندی نہیں کرتے، صفائی کا خیال نہیں رکھتے، جھوٹ بولتے ہیں، وعدہ خلافی کرتے ہیں یا دوسروں کے حقوق پامال کرتے ہیں تو صرف نصیحتیں ہماری آنے والی نسل کو بہتر انسان نہیں بنا سکتیں۔ کردار کی تعلیم زبان سے کم اور عمل سے زیادہ منتقل ہوتی ہے۔
اخلاقی تربیت کا بحران صرف بچوں یا نوجوانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ جب جھوٹ کو چالاکی، بدعنوانی کو مجبوری، وعدہ خلافی کو معمول اور بے حیائی کو آزادی کا نام دیا جانے لگے تو نئی نسل کے لیے صحیح اور غلط میں امتیاز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں محض نصابی تعلیم کسی قوم کے مستقبل کو محفوظ نہیں بنا سکتی۔ دنیا بھر میں کردار سازی اور اقدار پر مبنی تعلیم کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات بھی اس بات پر متفق ہیں کہ خاندان، تعلیمی ادارے اور سماجی ماحول کے درمیان مضبوط تعاون ہی اخلاقی شخصیت کی تعمیر میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔اسلام نے بھی تربیت کو اجتماعی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ والدین، اساتذہ، اہلِ علم اور پورا معاشرہ انسان سازی کے اس مقدس عمل میں شریک ہیں۔ اسی اجتماعی احساسِ ذمہ داری سے صالح خاندان، مہذب معاشرہ اور مضبوط قوم وجود میں آتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے حسنِ اخلاق، امانت، دیانت، عدل، رحم، احترامِ انسانیت اور خدمتِ خلق کو ایمان کی تکمیل سے جوڑا ہے، تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے جہاں انسان انسان کے لیے خیر کا ذریعہ بنے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ گھر، مدرسہ، اسکول، مذہبی ادارے، ذرائع ابلاغ، سماجی تنظیمیں اور ہر ذمہ دار شہری نئی نسل کی اخلاقی تربیت کو اپنی مشترکہ ذمہ داری سمجھے۔ جدید تعلیم، مصنوعی ذہانت اور سائنسی ترقی اپنی جگہ بے حد اہم ہیں، مگر اگر ان کے ساتھ سچائی، دیانت، تحمل، احترامِ انسانیت، قانون کی پاسداری اور خدمتِ خلق جیسی اقدار نہ ہوں تو یہ ترقی اپنی روح کھو دیتی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف ڈاکٹر، انجینئر، افسر یا تاجر بنانے کی فکر نہیں کرنی چاہیے بلکہ انہیں سچا، دیانت دار، بااخلاق، رحم دل اور ذمہ دار انسان بنانے کو اپنی اولین ترجیح بنانا چاہیے، کیونکہ ایک باکردار نوجوان ہزار باصلاحیت مگر بے کردار افراد سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔
اگر ہر گھر اپنے ماحول کو بہتر بنا لے، ہر معلم اپنے منصب کو امانت سمجھے، ہر تعلیمی ادارہ کردار سازی کو اپنی ترجیح بنائے اور معاشرہ اچھے اخلاق کی حوصلہ افزائی کرے تو یقیناآنے والی نسلیں نہ صرف تعلیم یافتہ بلکہ باکردار بھی ہوں گی۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو قوموں کو عروج دیتا ہے، معاشروں کو استحکام بخشتا ہے اور انسانیت کو امن و سکون عطا کرتا ہے۔ آج ہمیں نئی عمارتیں تعمیر کرنے سے پہلے نئی نسل کا کردار تعمیر کرنا ہوگا، کیونکہ مضبوط کردار کے بغیر کوئی بھی ترقی دیرپا نہیں ہوتی، اور باکردار نسل ہی مضبوط، مہذب اور خوشحال معاشرے کی حقیقی بنیاد ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے