कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تعلیم کا اصل سوال: معیار یا نئی شناخت؟

بہار کے ماڈل اسکولوں کے نام کی تبدیلی پر ایک سنجیدہ جائزہ

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام

تعلیم کسی بھی مہذب معاشرے کی فکری، سماجی اور معاشی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ قوموں کی تعمیر و ترقی میں تعلیم کا کردار محض خواندگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ ایسی نسل تیار کرتی ہے جو علم، شعور، تنقیدی فکر، آئینی اقدار اور سماجی ذمہ داری کے احساس سے آراستہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی حکومتی سطح پر تعلیمی شعبے میں کوئی اہم تبدیلی یا نئی پالیسی نافذ کی جاتی ہے تو اس کی بازگشت صرف درس گاہوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے معاشرے میں ایک سنجیدہ مکالمے کا آغاز ہو جاتا ہے، کیونکہ تعلیم محض ایک شعبہ نہیں بلکہ قوموں کے مستقبل کی تشکیل کا بنیادی ذریعہ ہے۔
بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی ہدایت پر ریاست کے 551 ماڈل اسکولوں کو سرسوتی ودیا نکیتن کا نام دینے اور ان کی عمارتوں کو بھگوا رنگ میں رنگنے کے فیصلے نے ایک نئی بحث کو ہوا دی ہے۔ حکومت اسے تعلیمی اصلاحات کی ایک اہم کڑی قرار دے رہی ہے، جب کہ اپوزیشن اور متعدد سماجی حلقے اسے تعلیم کی "زعفرانیت” سے تعبیر کر رہے ہیں۔ تاہم اصل سوال یہ نہیں کہ کون درست ہے اور کون غلط، بلکہ یہ ہے کہ کیا نام اور ظاہری شناخت کی یہ تبدیلی واقعی تعلیمی معیار میں مطلوبہ انقلاب لا سکتی ہے یا یہ محض ایک سیاسی اقدام ہے؟
اس معاملے میں سب سے پہلے ایک غلط فہمی کی وضاحت ضروری ہے کہ حکومت نے 551 نئے اسکول قائم نہیں کیے ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ نئے تعلیمی ادارے نہیں بلکہ وہی ماڈل اسکول ہیں جنہیں نتیش کمار کی حکومت نے گزشتہ برسوں میں معیاری تعلیم کے مراکز کے طور پر فروغ دیا تھا۔ اب انہی اسکولوں کو نئی شناخت دی گئی ہے۔ بعد ازاں جنتا دل (یو) کے اعتراضات کے بعد حکومت نے یہ وضاحت بھی کی کہ ماڈل اسکولوں کی سابقہ شناخت، مقامی شخصیات اور زمین عطیہ کرنے والوں کے نام بھی برقرار رہیں گے اور نیا نام ان کے ساتھ استعمال کیا جائے گا۔ اس وضاحت سے اگرچہ سیاسی تنازع کی شدت میں کچھ کمی آئی، لیکن بنیادی سوال بدستور اپنی جگہ برقرار ہے۔
اگر مقصد صرف معیاری تعلیم کا فروغ ہے تو پھر نام کی تبدیلی اور عمارتوں کو بھگوا رنگ دینے کو اتنی اہمیت کیوں دی گئی؟ اگر یہ صرف علامتی اقدام ہے تو کیا اس سے تعلیم کو درپیش بنیادی مسائل کا حل نکل آئے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے واضح اور عملی جواب کا انتظار صرف اپوزیشن ہی نہیں بلکہ تعلیمی حلقے اور عام شہری بھی کر رہے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان اسکولوں میں اسمارٹ کلاس روم، جدید تدریسی سہولتیں، سائنس لیبارٹریاں، ڈیجیٹل تعلیم، لائیو کلاسز اور JEE و NEET جیسے مسابقتی امتحانات کی تیاری کا مؤثر انتظام کیا جائے گا تاکہ دیہی اور پسماندہ علاقوں کے طلبہ بھی بڑے شہروں کے طلبہ کے مساوی مواقع حاصل کر سکیں۔ اس مقصد سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ بہار کے لاکھوں طلبہ آج بھی معیاری تعلیم اور مہنگی کوچنگ کی سہولتوں سے محروم ہیں۔
اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر حکومت واقعی ان اسکولوں کو جدید تعلیمی سہولتوں سے آراستہ کرنے، ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دینے اور قومی سطح کے مسابقتی امتحانات کے لیے مؤثر ماحول فراہم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے مثبت اثرات دور رس ہوں گے۔ غریب اور دیہی علاقوں کے باصلاحیت طلبہ کو وہ مواقع میسر آئیں گے جو اب تک صرف بڑے شہروں یا مہنگے نجی اداروں کے طلبہ کو حاصل رہے ہیں۔ کسی بھی فلاحی ریاست کا اصل مقصد بھی یہی ہونا چاہیے۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان اسکولوں کا بنیادی ڈھانچہ تقریباً وہی ہے، تدریسی عملہ بھی وہی ہے اور انتظامی نظام میں بھی کوئی نمایاں تبدیلی سامنے نہیں آئی۔ جن اساتذہ نے کل تک ماڈل اسکولوں میں تدریسی خدمات انجام دیں، آج انہی پر "سرسوتی ودیا نکیتن” میں جدید اور معیاری تعلیم کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اساتذہ کی تربیت، تدریسی وسائل، نصابی اصلاحات اور تعلیمی نگرانی میں بنیادی تبدیلی نہیں کی گئی تو محض نام بدلنے سے نتائج کیسے بدل جائیں گے؟
بہار کا سرکاری تعلیمی نظام آج بھی متعدد بنیادی مسائل سے دوچار ہے۔ ہزاروں اسکول اساتذہ کی قلت، بنیادی سہولتوں کے فقدان، غیر فعال سائنس لیبارٹریوں، کمزور لائبریریوں، ڈیجیٹل وسائل کی کمی اور ناقص تعلیمی نتائج کا سامنا کر رہے ہیں۔ کئی اسکولوں میں ایک ہی استاد متعدد جماعتوں کی تدریس پر مجبور ہے، کہیں سائنس کے اساتذہ دستیاب نہیں تو کہیں ریاضی اور انگریزی کے ماہرین کی کمی ہے۔ ایسے حالات میں اگر حکومت واقعی تعلیمی انقلاب کی خواہاں ہے تو اس کی ترجیح ناموں کی تبدیلی نہیں بلکہ نظامِ تعلیم کی اصلاح ہونی چاہیے۔
صرف عمارتوں کو نیا رنگ دے دینا یا نئے بورڈ نصب کر دینا تعلیمی انقلاب کی ضمانت نہیں ہو سکتا۔ دنیا کے کامیاب تعلیمی نظام اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ معیاری تعلیم کی بنیاد تربیت یافتہ اساتذہ، جدید نصاب، تحقیقی ماحول، سائنسی مزاج، تعلیمی آزادی، مؤثر نگرانی اور طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی پر استوار ہوتی ہے۔ اگر یہ عناصر کمزور ہوں تو جدید عمارتیں بھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتیں۔
یہ معاملہ آئینی نقطۂ نظر سے بھی غور طلب ہے۔ ہندوستان کا آئین ایک سیکولر ریاست کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جہاں سرکاری اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر مذہب، ہر زبان اور ہر طبقے کے لیے یکساں اعتماد، مساوات اور غیر جانب داری کی علامت ہوں۔ اسی لیے جب کسی سرکاری ادارے کے نام، رنگ یا شناخت میں کسی مخصوص تہذیبی علامت کو نمایاں کیا جاتا ہے تو فطری طور پر سوالات اٹھتے ہیں اور مختلف آرا سامنے آتی ہیں۔
البتہ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ ملک میں متعدد سرکاری ادارے تاریخی شخصیات، قومی رہنماؤں اور ثقافتی علامتوں کے نام سے منسوب ہیں۔ اس لیے صرف نام کی بنیاد پر کسی ادارے کے کردار کا فیصلہ کرنا مناسب نہیں۔ اصل کسوٹی اس کی تعلیمی کارکردگی، علمی ماحول، انتظامی شفافیت اور نتائج ہیں۔
تعلیم بنیادی طور پر اعتماد کا نام ہے۔ والدین اپنے بچوں کو سرکاری اسکول اس امید کے ساتھ بھیجتے ہیں کہ وہاں انہیں ایسی تعلیم ملے گی جو انہیں بہتر انسان، باشعور شہری اور کامیاب پیشہ ور بنائے۔ اگر تعلیمی ادارے سیاسی یا نظریاتی کشمکش کا مرکز بن جائیں تو سب سے زیادہ نقصان انہی بچوں کا ہوگا جن کا مستقبل ان اداروں سے وابستہ ہے۔
بہار کی زمینی حقیقت یہ ہے کہ ہر سال لاکھوں نوجوان JEE، NEET، UPSC، BPSC اور دیگر مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے پٹنہ، کوٹا، دہلی اور دوسرے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ ہزاروں خاندان اپنی محدود آمدنی کا بڑا حصہ کوچنگ پر خرچ کرتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی ان 551 اسکولوں کو ایسا معیار فراہم کر دے کہ ایک غریب گھر کا طالب علم بھی وہیں سے قومی سطح کے امتحانات میں کامیابی حاصل کر لے تو یہ بہار کی تعلیمی تاریخ میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔
لیکن اس کے لیے صرف نئے بورڈ نصب کرنا یا عمارتوں کو نئے رنگ میں رنگ دینا کافی نہیں ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر اسکول میں تربیت یافتہ اساتذہ، جدید لیبارٹریاں، فعال لائبریریاں، ڈیجیٹل سہولتیں، باقاعدہ تعلیمی نگرانی، شفاف احتساب اور نتائج پر مبنی نظام کو یقینی بنایا جائے۔ معیاری تعلیم کا تعلق علامتوں سے نہیں بلکہ کارکردگی سے ہوتا ہے۔
اگر یہی اسکول آئندہ برسوں میں انجینئرنگ، میڈیکل، سول سروسز اور دیگر قومی امتحانات میں نمایاں نتائج دیں گے تو ان کی نئی شناخت خود بخود عوام کے دلوں میں جگہ بنا لے گی۔ لیکن اگر نتائج جوں کے توں رہے تو یہ سوال بدستور قائم رہے گا کہ تبدیلی صرف نام کی تھی یا نظام کی بھی؟
جمہوری نظام میں حکومتوں کو اپنی ترجیحات طے کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن تعلیم ایسا شعبہ ہے جسے سیاسی تبدیلیوں اور نظریاتی کشمکش سے حتیٰ الامکان محفوظ رکھا جانا چاہیے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں، مگر تعلیمی اداروں کی غیر جانب داری، علمی وقار اور سماجی اعتبار ہمیشہ برقرار رہنا چاہیے۔ ترقی یافتہ معاشروں نے بھی اسی اصول کو اختیار کیا ہے کہ تعلیم کو سیاست سے زیادہ قومی ترقی اور انسانی وسائل کی تعمیر کا ذریعہ بنایا جائے۔
بہار کے ان ماڈل اسکولوں کا اصل امتحان بھی آنے والے برسوں میں ہوگا۔ اگر یہ ادارے دیہی علاقوں کے بچوں کو قومی سطح پر کامیابی دلانے، سائنسی مزاج پروان چڑھانے، تحقیقی رجحان پیدا کرنے اور معیاری تعلیم کی مثال بننے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یقیناً حکومت کا یہ اقدام قابلِ تحسین ہوگا۔ لیکن اگر بنیادی ڈھانچہ، تدریسی معیار، اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی نگرانی میں مطلوبہ بہتری نہ آئی تو صرف نئی شناخت عوام کی توقعات پوری نہیں کر سکے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ اس پوری بحث کا محور "سرسوتی ودیا نکیتن” یا "ماڈل اسکول” کا نام نہیں بلکہ تعلیم کا معیار ہونا چاہیے۔ قومیں ناموں سے نہیں، علم، تحقیق اور انسانی وسائل کی مضبوطی سے ترقی کرتی ہیں۔ عمارتوں کے رنگ نہیں بلکہ اساتذہ کی صلاحیت، طلبہ کی محنت، جدید نصاب، تحقیقی ماحول، سائنسی مزاج اور فکری آزادی کسی بھی تعلیمی نظام کی حقیقی شناخت ہوتے ہیں۔ اگر حکومت ان 551 اسکولوں کو واقعی مثالی تعلیمی اداروں میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ اقدام اپنی افادیت خود ثابت کر دے گا اور اس کی کامیابی پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں رہے گی۔ لیکن اگر تبدیلی صرف ناموں، بورڈوں اور رنگوں تک محدود رہی تو نہ صرف یہ بحث اپنی معنویت کھو دے گی بلکہ بہار کا تعلیمی نظام اپنے بنیادی مسائل کے ساتھ جوں کا توں کھڑا رہے گا۔ تاریخ ہمیشہ نعروں، علامتوں اور ظاہری تبدیلیوں سے نہیں بلکہ نتائج، کارکردگی اور قومی تعمیر میں تعلیم کے حقیقی کردار کی بنیاد پر اپنا فیصلہ سناتی ہے۔ یہی وہ اصل معیار ہے جس پر بہار کے ان نئے نام یافتہ ماڈل اسکولوں کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ہوگا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے