कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

موجودہ حالات پر ایک تجزیہ

از: رضوان الدین القاسمی

ہندوستان کی آزادی کے کچھ عرصے بعد ہی ملک میں ہندو مسلم سیاست کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا تھا،جو متواتر چلےآتارہا،لیکن موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد اس سیاست اور باہمی دشمنی کو جس رخ پر لے جایا جا رہا ہے، وہ ملک و ملت دونوں کے لیے انتہائی تشویش ناک اور خطرناک محسوس ہوتا ہے۔
آج میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے اسلام، مسلمانوں اور شعائرِ اسلام کو اس انداز سے پیش کیا جا رہا ہے کہ گویا وہ دہشت گردی اور دشمنی کی علامت ہوں۔ یہ طرزِ فکر نہ صرف حقیقت کے خلاف ہے بلکہ معاشرے میں نفرت کے بیج بونے کا سبب بھی بن رہا ہے۔ تقریباً شمالی اور مغربی ہندوستان کے بیشتر علاقے اس فضا کی زد میں آچکے ہیں، اور جو علاقے ابھی تک کسی حد تک محفوظ سمجھے جاتے تھے، وہ بھی اب اسی ماحول سے متاثر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
گزشتہ چند مہینوں سے ذاتی مشاہدات اور سوشل میڈیا پر مسلسل نظر رکھنے کے بعد یہ احساس مزید مضبوط ہوا ہے کہ روزانہ نئے نئے اور نووارد صحافی اور سوشل میڈیا پر سرگرم افراد اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بے بنیاد اور من گھڑت باتیں پیش کر رہے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو اسلام کا ابتدائی تعارف بھی حاصل نہیں، وہ بھی بڑے اعتماد کے ساتھ یہ دعوے کرتے ہیں کہ مسجدوں میں ہتھیار چھپائے جاتے ہیں، مدارس میں دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے، برقعہ صرف شناخت چھپانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، یا پھر "لو جہاد” جیسے بے بنیاد اور متنازع موضوعات کو حقیقت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس قسم کے مسلسل پروپیگنڈے کی وجہ سے بہت سے سادہ لوح ہندو بھائی اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کا شکار ہو رہے ہیں اور ان کے دلوں میں نفرت پیدا کی جا رہی ہے۔
ان نفرت انگیز کمینوں کو تو چھوڑیے، اب فلم انڈسٹری میں بھی یہی روش اختیار کی جا رہی ہے۔ آئے دن مسلمانوں کے خلاف فلمیں بنا کر نفرت کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں یہی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے، اور اب تلنگانہ، آندھرا پردیش اور دیگر علاقوں میں بھی یہی سلسلہ جاری ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ صرف سیاست کی روٹی سینکنے اور عوامی جذبات کو بھڑکا کر سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ آندھرا پردیش کے ایک نائب وزیر اعلیٰ کا اصل چہرہ بھی اب رفتہ رفتہ سامنے آ رہا ہے، اور وہ بھی اس نوعیت کی ایک دو فلمیں پیش کر چکے ہیں۔
ایسے نازک حالات میں وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم بھی جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کو مثبت انداز میں استعمال کریں۔ جن بے بنیاد الزامات اور من گھڑت باتوں کو عام کیا جا رہا ہے، ان کا علمی، حکیمانہ اور مدلل جائزہ پیش کیا جائے، اور دنیا کو بتایا جائے کہ اسلام دراصل امن، عدل، محبت، رواداری اور انسانیت کا مذہب ہے۔
اسی کے ساتھ یہ بھی ناگزیر ہے کہ مدارسِ دینیہ اپنے تعلیمی نظام میں دینی اور عصری علوم کا حسین امتزاج پیدا کریں، جدید دور کے تقاضوں کو سمجھیں، نئی ٹیکنالوجی اور جدید ذرائع سے واقفیت پیدا کریں، اور طلبہ کو ایسے وسائل سے آراستہ کریں جن کے ذریعے وہ عصرِ حاضر کے فکری اور علمی چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔ یہ سب کام خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوں، نہ کہ شہرت، نام و نمود یا ذاتی مفادات کے لیے۔ خدمتِ دین کے ساتھ معاشی استحکام پر بھی توجہ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔
میں نے گزشتہ ایک سال کے دوران مختلف ریاستوں، بالخصوص تلنگانہ، نیز متعدد شہروں اور مقامات کا اجتماعی سفر کیا ہے۔ بس، آٹو، ٹرین اور ہوائی جہاز سمیت مختلف ذرائعِ سفر استعمال کیے، اور ہر جگہ ایک بات شدت سے محسوس کی کہ مسلمانوں کو شک و شبہ اور دشمنی کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ یا ایک علاقے کی بات نہیں بلکہ ایک مسلسل بدلتے ہوئے سماجی ماحول کی عکاسی ہے، جسے نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم بیدار ہوں، اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں، اسلام کو اس کی حقیقی تعلیمات کے مطابق دنیا کے سامنے پیش کریں، اور آپس کے اختلافات اور بے مقصد لڑائیوں میں اپنی توانائیاں ضائع کرنے کے بجائے امت کی اجتماعی اصلاح اور تعمیر پر توجہ دیں۔ کب تک ہم ایک دوسرے سے الجھتے رہیں گے؟ کب تک کام صرف نام کے لیے ہوتا رہے گا؟ اگر مدارس کو جدید تقاضوں کے مطابق ترقی نہیں دی گئی اور طلبہ کو جدید آلات، ٹیکنالوجی اور ذرائعِ ابلاغ سے واقف نہیں کرایا گیا، تو مستقبل میں اس کے نتائج مزید خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ تمام باتیں سنی سنائی نہیں بلکہ گزشتہ ایک سال کے دوران تلنگانہ سمیت مختلف ریاستوں اور متعدد مقامات پر کیے گئے ذاتی مشاہدات اور تجزیات کا حاصل ہیں۔
آخر میں، میں انتہائی دردِ دل کے ساتھ مدارس کے ذمہ داران، اکابرین اور اربابِ حل و عقد سے مؤدبانہ گزارش کرتا ہوں، بلکہ بھیک مانگتا ہوں کہ خدارا! طلبہ کو اس انداز سے تیار کیجیے کہ وہ صرف مساجد کے امام اور مدارس کے مدرس ہی نہ بنیں، بلکہ ان میں ایسے باصلاحیت صحافی بھی پیدا ہوں جو اسلام کا صحیح تعارف دنیا کے سامنے پیش کر سکیں، ایسے ڈاکٹرز بھی نکلیں جو امت کی خدمت کے ساتھ دین کی نمائندگی کریں، اور ایسے باوقار قائدین بھی سامنے آئیں جو جدید دور کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے دینی قیادت کا حق ادا کر سکیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس کے نصاب کے ساتھ طلبہ کو جدید علوم، جدید ٹیکنالوجی، ذرائع ابلاغ اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے بھی روشناس کرایا جائے۔ ان کی سوچ، ان کا ذہن، ان کا رہن سہن، ان کی گفتگو، ان کا اندازِ اظہار اور ان کی شخصیت ایسی ہو کہ وہ ہر طبقے کے لوگوں سے اعتماد، وقار اور حکمت کے ساتھ گفتگو کر سکیں۔ کسی سے بات کرتے ہوئے ان کے اندر جھجک یا احساسِ کمتری نہ ہو، بلکہ علم، اخلاق اور اعتماد کے ساتھ سینہ تان کر حق بات کہنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اگر ہم نے آج اپنے تعلیمی نظام کو وقت کے تقاضوں کے مطابق تیار نہ کیا تو آنے والے حالات مزید دشوار ہو سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح فیصلے کرنے، دین کی خالص خدمت کرنے اور امت کے روشن مستقبل کی تعمیر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے