कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مقدر کا سکندر: گلاب شاہ

از: واجد اختر صدیقی، گلبرگہ، کرناٹک

زندگی کی شاہراہ پر بعض شخصیات ایسی بھی نمودار ہوتی ہیں جو اپنے کردار، اخلاص، محنت اور بے لوث خدمات کے ذریعے زمانے پر انمٹ نقوش ثبت کر جاتی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی ذات سے بڑھ کر قوم و ملت کی تعمیر کو مقصدِ حیات بنا لیتے ہیں۔ بالخصوص درس و تدریس سے وابستہ شخصیات کسی بھی معاشرے کا حقیقی سرمایہ اور آنے والی نسلوں کی معمار ہوتی ہیں۔ وہ صرف نصابی اسباق ہی نہیں پڑھاتیں بلکہ کردار، تہذیب، انسانیت اور شعور کی آبیاری بھی کرتی ہیں۔ گلبرگہ، جو عرصۂ دراز سے اردو زبان و ادب کا ایک معتبر مرکز رہا ہے، ایسی ہی باوقار اور مخلص شخصیات سے مالا مال ہے۔ یہاں اردو ذریعۂ تعلیم کی روایت آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے اور متعدد سرکاری و خانگی تعلیمی ادارے خاموشی سے علم کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں۔ انہی بااخلاص معلمین میں ایک نمایاں اور قابلِ احترام نام گلاب شاہ کا ہے، جنہوں نے اپنی پوری عملی زندگی تعلیم، تربیت اور سماجی خدمت کے لیے وقف کر دی۔
گلاب شاہ واقعی اپنے نام کی طرح علم و اخلاق کی خوشبو بکھیرنے والی شخصیت ہیں۔ تقریباً تین دہائیوں سے وہ درس و تدریس کے میدان میں نہایت خاموشی، دیانت داری اور خلوص کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا شمار ان معلمین میں ہوتا ہے جنہوں نے تعلیم کو محض ذریعۂ معاش نہیں بلکہ ایک مقدس امانت اور عبادت سمجھ کر نبھایا۔
گلاب شاہ کی پیدائش 15 دسمبر 1973ء کو تعلقہ افضل پور کے چھوٹے سے قصبے اتنور میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی مقام پر حاصل کرنے کے بعد انہوں نے گورنمنٹ پی یو کالج، افضل پور سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان کامیابی سے پاس کیا۔ بعد ازاں آشا جیوتی کالج، گلبرگہ سے پیشہ ورانہ تعلیم مکمل کی اور ہندی زبان میں گریجویشن کی سند حاصل کی۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے ان میں خدمتِ خلق، علم دوستی اور تعلیمی میدان میں کچھ منفرد کرنے کا جذبہ نمایاں تھا۔
تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے ملازمت کے انتظار میں وقت ضائع کرنے کے بجائے خدمت کا راستہ اختیار کیا۔ تعلقہ افضل پور کے بھوگنلی گاؤں کے سرکاری اردو مدرسے میں اساتذہ کی شدید قلت تھی، چنانچہ انہوں نے ایک سال تک بلا معاوضہ تدریسی خدمات انجام دیں۔ یہی نہیں بلکہ طلبہ کے داخلوں کے لیے گھر گھر جا کر والدین کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کیا اور بچوں کو اسکول لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا یقین تھا کہ کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی تعلیم کے فروغ سے وابستہ ہے۔
اس کے بعد ریور بی، تعلقہ افضل پور میں صرف ایک سو روپے ماہانہ مشاہرے پر تدریسی خدمات انجام دیں۔ اگرچہ یہ رقم نہایت معمولی تھی، لیکن ان کے حوصلے اور خدمت کے جذبے میں کبھی کمی نہ آئی۔ اسی دوران وہ مقامی مسجد میں امامت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے اور متعدد بچوں کو بلا معاوضہ قرآن مجید اور عربی زبان کی تعلیم دیتے رہے۔ ماہِ رمضان میں تراویح کی امامت بھی کرتے رہے۔ ان کی سادگی، دیانت اور بے لوث خدمات نے اہلِ دیہات کے دلوں میں ان کے لیے بے پناہ احترام پیدا کر دیا۔
اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اخلاص بھری محنت کو رائیگاں نہیں جانے دیا۔ 9 ستمبر 1998ء کو کم عمری ہی میں انہیں سرکاری ملازمت نصیب ہوئی اور گورنمنٹ اردو لوئر پرائمری اسکول، ہسر گنڈگی، تعلقہ افضل پور میں معاون معلم کی حیثیت سے تقرر عمل میں آیا۔ یہاں انہوں نے تقریباً پانچ برس نہایت محنت اور ذمہ داری کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ جمعہ کے خطیب اور امام کی حیثیت سے بھی دینی و سماجی خدمات سرانجام دیتے رہے۔
18 جون 2003ء کو ان کا تبادلہ بندرواڑ کے سرکاری اسکول میں ہوا۔ اس وقت اسکول بنیادی سہولتوں سے محروم اور انتہائی خستہ حالی کا شکار تھا۔ گلاب شاہ نے ہمت نہیں ہاری بلکہ عوامی تعاون اور محکمانہ کوششوں کے ذریعے اسکول کی تقدیر بدلنے کا بیڑا اٹھایا۔ ان کی انتھک محنت کے نتیجے میں مقامی عوام نے دس گنٹے زمین اسکول کے لیے وقف کی۔ اس کے بعد انہوں نے محکمۂ تعلیم کے اعلیٰ افسران سے مسلسل رابطہ رکھا، دفتری کارروائیاں مکمل کروائیں اور سرکاری فنڈ سے اسکول کی ایک شاندار عمارت تعمیر کروانے میں کامیاب ہوئے۔ آج یہ عمارت تعلقہ افضل پور کے مثالی تعلیمی اداروں میں شمار کی جاتی ہے اور ان کی بصیرت و محنت کی روشن یادگار ہے۔
تقریباً آٹھ برس تک بندرواڑ میں کامیاب خدمات انجام دینے کے بعد ان کا تقرر اردو سی آر پی، چنم گیرہ کلسٹر کے طور پر ہوا۔ اس ذمہ داری کے دوران انہوں نے اپنی بہترین تنظیمی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اساتذہ کی تربیت، طلبہ کی رہنمائی، اولیائے طلبہ سے روابط اور محکمۂ تعلیم کی مختلف اسکیموں کو زمینی سطح تک پہنچانے میں ان کی خدمات ہمیشہ قابلِ ستائش رہیں۔ انہوں نے محکمہ اور اساتذہ کے درمیان ایک مضبوط رابطے کا کردار ادا کیا۔
گلاب شاہ نے اپنی خدمات کو محض کلاس روم تک محدود نہیں رکھا بلکہ بدلتے ہوئے تعلیمی تقاضوں کے مطابق مختلف تربیتی پروگراموں میں ماسٹر ریسورس پرسن اور اسٹیٹ ریسورس پرسن کی حیثیت سے بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ کنڑا زبان کے گرو چیتنا ماڈیولز کا اردو میں ترجمہ کرکے انہوں نے اپنی مترجمانہ صلاحیتوں کا بھی لوہا منوایا۔ بعد ازاں DSERT نے ان ماڈیولز کو اردو میں شائع کیا، جن سے اردو اساتذہ کو خاطر خواہ فائدہ پہنچا۔
سی آر پی کی ذمہ داری سے سبکدوش ہونے کے بعد تقریباً دس برس تک اپنے آبائی گاؤں اتنور کے اسکول میں پوری تندہی کے ساتھ خدمات انجام دیتے رہے۔ یکم مئی 2026ء ان کی زندگی کا ایک یادگار دن ثابت ہوا، جب انہیں ترقی دے کر گورنمنٹ اردو ہائیر پرائمری اسکول، آثار محلہ، چیتاپور میں صدر مدرس مقرر کیا گیا۔ یہ ترقی دراصل ان کی برسوں کی محنت، دیانت اور شاندار کارکردگی کا اعتراف تھی۔
گلاب شاہ کی وابستگی بہت ساری ٹیچرس تنظیموں سے بھی ہے وہ کرناٹک راجیہ اردو ٹیچرس اسوسی ایشن گلبرگہ(کراٹا )کے ضلعی سیکریٹری ہیں۔انکی تنظیمی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوے کراٹا کے ذمہ داروں نے انھیں کراٹا کا صوبائی صدر نامزد کیا ۔علاوہ ازیں وہ کرناٹک راجیہ پرائمری اسکول ٹیچرس اسوسی ایشن گلبرگہ کے جوائنٹ سیکریٹری کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔اسو سی ایشنس میں انکی ایک الگ پہچان ہے ۔وہ جہا ں بھی رہتے ہیں پوری دیانت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہیں ۔اور عہدہ بر آ ہونے کی سعی کرتے ہیں۔
گلاب شاہ خاندانی اعتبار سے بھی نہایت خوش نصیب ہیں۔ وہ اپنے والدین کے اکلوتے فرزند ہیں اور ان کی چار بہنیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تین صاحبزادیوں کی نعمت سے بھی نوازا ہے، جنہیں وہ اپنی زندگی کی حقیقی دولت اور اللہ کی رحمت سمجھتے ہیں۔
ان کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں متعدد تعلیمی، سماجی اور ادبی تنظیموں نے انہیں مختلف اعزازات اور اسناد سے نوازا ہے۔ ان میں کنڑا ساہتیہ پریشد، گلبرگہ کا باوقار اعزاز بھی شامل ہے، جو ان کی ہمہ جہت صلاحیتوں اور خدمات کا واضح اعتراف ہے۔
گلاب شاہ صرف ایک کامیاب معلم ہی نہیں بلکہ ایک مؤثر مقرر، بہترین منتظم، خوش اخلاق انسان اور بے باک شخصیت کے مالک بھی ہیں۔ کنڑا زبان پر ان کی ایسی گرفت ہے کہ انہیں سن کر محسوس ہوتا ہے گویا انہوں نے اسی زبان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہو۔ اتنور کی سرزمین ہمیشہ سے ایسے اساتذہ پیدا کرتی رہی ہے جو قیادت، نظم و نسق اور علمی بصیرت میں اپنی مثال آپ ہوتے ہیں، اور گلاب شاہ اسی تابندہ روایت کی ایک روشن کڑی ہیں۔
انہوں نے اپنی پوری ملازمت دیہی اور پسماندہ علاقوں میں گزاری اور وہاں کے بچوں کو تعلیم کی روشنی سے آراستہ کرنے میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ زندگی میں بے شمار مشکلات، آزمائشوں اور نامساعد حالات کا سامنا کرنے کے باوجود انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری بلکہ صبر، استقامت اور مسلسل جدوجہد کے ساتھ آگے بڑھتے رہے۔ یہی اوصاف انہیں دوسروں سے ممتاز کرتے ہیں۔
بہرکیف، گلاب شاہ کی پوری زندگی اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ اخلاص، محنت، دیانت اور خدمت کا جذبہ کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ انہوں نے اپنے کردار، گفتار اور عمل سے ثابت کیا کہ ایک سچا معلم صرف کتابیں نہیں پڑھاتا بلکہ نسلوں کی تقدیر سنوارتا ہے۔ ان کی بے لوث خدمات، اعلیٰ اخلاق، راست گوئی، حق پسندی اور عوامی وابستگی انہیں اپنے عہد کے ممتاز معلمین کی صف میں کھڑا کرتی ہے۔
اگر گلاب شاہ کو "مقدر کا سکندر” کہا جائے تو یہ محض ایک ادبی عنوان نہیں بلکہ ان کی پوری عملی زندگی کا سچا اعتراف ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، عافیت، عمرِ دراز اور مزید توفیقِ خدمت عطا فرمائے تاکہ وہ اسی طرح علم کی شمع روشن کرتے رہیں اور آنے والی نسلیں ان کے فیض، تجربے اور رہنمائی سے مستفید ہوتی رہیں۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے