कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مساجد کا تحفظ اور آبادی امت کی اہم ذمہ داری

تحریر:محمد عادل ارریاوی

اللہ ربّ العزت کی عبادت کا سب سے عظیم مرکز مسجد ہے۔ یہی وہ مقدس مقام ہے جہاں ایمان تازہ ہوتا ہے دلوں کو سکون ملتا ہے نسلوں کی دینی تربیت ہوتی ہے اور اسلامی تہذیب و شناخت محفوظ رہتی ہے۔ اگر مساجد آباد ہوں تو معاشرہ بھی آباد رہتا ہے اور اگر مساجد ویران ہونے لگیں تو دین و ملت کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ اس لیے موجودہ حالات میں مساجد کی تعمیر کے ساتھ ان کی آبادکاری ائمہ کا انتظام اور ہر پہلو سے ان کے تحفظ کی فکر امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اللہ ربّ العزت نے اس کا ئنات کو اشرف المخلوقات حضرت انسان کے لئے بنایا اور بسایا ہے زمین کی تہوں سے لے کر سمندر کی اتھاہ گہرائیوں اور آفاق کی وسعتوں تک بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی جاندار اور بے جان جتنی مخلوقات ہیں وہ براہ راست یا بالواسطہ اسی مشتِ خاک انسا کی خدمت میں شبانہ روز مشغول ہیں اور خود انسان کو اللہ ربّ العزت کی عبادت اور بندگی کے لئے پیدا کیا گیا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات ۵۲ )
آج بھی ملک میں ہزاروں ایسے پس ماندہ ہیں جہاں مسجد نہیں ہیں جنوبی ہند میں بعض مقامات پر دین سے بے خبر مسلمان مرد اور عورتیں مندروں اور چرچوں میں جا کر اپنے مذہبی جذبات کی تسکین کرتے ہیں یہ طرز عمل ارتداد کی طرف لے جاتا ہے اس لیے ضرورت ہے کہ شہروں میں کروڑوں روپے خرچ کر کے مسجد تعمیر کرنے کے بجائے دیہاتوں میں وہاں کی آبادی کے اعتبار سے چھوٹی چھوٹی مسجد تعمیر کی جائیں اور جو پیسہ خوبصورت اور بلند و بالا تعمیرات سے اجتناب کرنے کی وجہ سے بچ گیا ہے اس سے وہاں امام کا انتظام کر دیں جو اذان بھی دے نماز بھی پڑھائے اور چھوٹے بچوں کو بنیادی تعلیم بھی دے دیہاتوں میں صرف مسجد تعمیر کر دینا کافی نہیں ہے کیوں کہ وہاں ایسے لوگ نہیں ہوتے ہیں جو نماز پڑھا سکیں اور ایسی مالی گنجائش نہیں ہوتی کہ امام کا انتظام ہوں جو نماز پڑھا سکیں۔
چنانچہ آندھرا تمل ناڈو چنئی مہاراشٹر و اطراف دہلی کے کچھ اہل خیر تاجروں نے وسیع پیمانے پر چھوٹی چھوٹی مسجدوں کی تعمیر کا انتظام کیا لیکن امام کا انتظام نہیں کیا نتیجہ یہ ہوا کہ آہستہ آہستہ مسجد بند ہو گئیں اور بعض میں قادیانی حضرات نے اپنا امام مقرر کر دیا اور جو مسجد مسلمانوں کے دین وایمان کے تحفظ کیلئے بنائی گئی تھی وہی کفر و ارتداد کا مرکز بن گئی اس لیے مسجد کی تعمیر اور امام کا انتظام دونوں ضروری ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہم مسجد ایسی جگہ تعمیر کریں جہاں مسلمانوں کی مستقل آبادیاں موجود ہوں کچھ اہل خیر نے دینی جذبہ کے تحت عالی شان مسجد تو بنادی مگر ایسی جگہ جہاں قریب میں مسلم آبادی نہیں ہے معلوم کیا گیا کہ ایسی جگہ پر مسجد کی تعمیر کی کیا ضرورت ہے؟ تو کہا گیا کہ اس راستہ سے بہت سے مسلمان گزرتے ہیں ان کو نماز پڑھنے میں سہولت ہوگی غور کریں کہ کیا گاہے گاہے گزرنے والے مصلیوں کیلئے موجودہ حالات میں مسلم آبادی سے دور مسجد آباد کرنا کوئی عقل مندی کی بات ہے؟ مسافر پر تو ویسے بھی جماعت واجب نہیں اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا پوری روئے زمین مسلمان کیلئے نماز کی جگہ ہے ( صحیح بخاری حدیث نمبر ۴۲۷) وہ سڑک کے کنارے مصلی بچھا کر نماز پڑھ لے تو یہ بھی کافی ہے مگر ایسی مسجد میں جو صرف اپنے دینی جذبات کی تسکین کیلئے بنائی جاتی ہیں بعد میں ویران ہو جاتی ہیں اور ان کے احترام کو باقی رکھنا دشوار ہو جاتا ہے۔
مساجد اسلامی معاشرے کی روح دینی شعائر کی علامت اور ایمان کی پناہ گاہ ہیں۔ ان کی حقیقی عظمت صرف شاندار عمارتوں میں نہیں بلکہ اذان کی صداؤں باجماعت نماز علمِ دین کی تعلیم ذکرِ الٰہی اور دینی سرگرمیوں سے آباد رہنے میں ہے۔ موجودہ حالات میں مساجد کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ان کی آبادکاری ائمہ و مؤذنین کا مناسب انتظام نئی نسل کو مسجد سے جوڑنے کی کوشش اور ہر سطح پر ان کے قانونی و سماجی تحفظ کی فکر امت کی اہم ذمہ داری ہے۔ آباد مساجد ہی درحقیقت ایک مضبوط باکردار اور باایمان معاشرے کی بنیاد ہوتی ہیں۔
اس وقت جب کہ پورے ملک میں فرقہ پرستوں کی طرف سے مسجدوں پر ناجائز دعوے کیے جارہے ہیں اور زمین کو کھودنے کی بات کہی جارہی ہے ضرورت ہے کہ مسلمان قانون داں ہر شہر میں اپنی ایک ٹیم بنائیں جو اپنی آخرت اور اللہ ربّ العزت کی رضا کیلئے قانونی طور پر مسجد کے تحفظ کی غرض سے اٹھ کھڑے ہوں اس کو لیگل گروپ برائے تحفظ مساجد کا نام دیا جا سکتا ہے اور اس کو اپنی آخرت کیلئے کرے کیونکہ ہر جگہ مسلمان اس موقف میں نہیں ہیں کہ وکیلوں کی بھاری بھر کم فیس ادا کر سکیں اس لیے مسلمان وکلاء بھی اس بات کو سمجھیں کہ مسجد کے تحفظ کی جتنی ذمہ داری عام مسلمانوں پر ہے بحیثیت ایک قانون داں کے ان پر اس کی زیادہ ذمہ داری ہے۔
اگر کسی بستی میں مسجد تو موجود ہو مگر اذان دینے والا نماز پڑھانے والا اور بچوں کو قرآن و دین کی بنیادی تعلیم دینے والا کوئی نہ ہو تو ایسی مسجد اپنے حقیقی مقصد کو پورا نہیں کر سکتی۔ اسی لیے اہلِ خیر کو مسجد کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اس کے مستقل انتظام امام مؤذن اور دینی تعلیم کے نظام کی بھی فکر کرنی چاہیے۔
اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ مساجد کی تعمیر جذبات کے بجائے حکمت اور ضرورت کو سامنے رکھ کر کی جائے۔ جہاں مسلمان آباد ہوں وہاں مسجد یقیناً دین کا مرکز بنے گی لیکن ایسی جگہ مسجد تعمیر کرنا جہاں مسلم آبادی ہی نہ ہو اکثر اوقات اس کے ویران ہونے کا سبب بنتا ہے۔ اسلام ہمیں وسائل کو صحیح جگہ استعمال کرنے کی تعلیم دیتا ہے تاکہ مسجد تعمیر ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیشہ آباد بھی رہے۔
آج جب بعض عناصر مختلف طریقوں سے مساجد کی حیثیت کو چیلنج کر رہے ہیں تو ان کے شرعی سماجی اور قانونی تحفظ کی ذمہ داری بھی پوری امت پر عائد ہوتی ہے۔ جس طرح علماء دین کی رہنمائی کرتے ہیں اسی طرح مسلمان وکلاء پر بھی لازم ہے کہ وہ مساجد کے تحفظ کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھیں اور جہاں ضرورت ہو وہاں قانونی میدان میں بھرپور کردار ادا کریں۔ مسجد کی حفاظت درحقیقت اسلامی شعائر دینی شناخت اور آنے والی نسلوں کے ایمان کی حفاظت ہے۔
اے اللہ ربّ العزت ہماری مساجد کو ہمیشہ آباد محفوظ اور دینِ اسلام کی سربلندی کا مضبوط مرکز بنائے اور ہمیں ان کی خدمت و حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے