कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تعلیم: شاندار مستقبل کی ضامن

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام

کسی بھی قوم کی ترقی، خوش حالی اور تہذیبی ارتقا کا راز اگر کسی ایک لفظ میں پوشیدہ ہے تو وہ لفظ "تعلیم” ہے۔ تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کو پوری وضاحت کے ساتھ آشکار کرتا ہے کہ دنیا میں وہی قومیں عزت، وقار، خود اعتمادی اور قیادت کے منصب پر فائز ہوئیں جنہوں نے علم کو اپنا شعار اور تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ جن معاشروں میں قلم کی روشنی نے دل و دماغ کو منور کیا، وہاں تہذیب نے فروغ پایا، معیشت نے استحکام حاصل کیا، انصاف مضبوط ہوا اور ترقی نے اپنے قدم جمائے۔ اس کے برعکس جن قوموں نے علم سے بے اعتنائی برتی، وہاں جہالت، غربت، بے روزگاری، سماجی انتشار اور فکری پسماندگی نے مستقل ڈیرے ڈال لیے۔ اس لیے یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہیں کہ تعلیم محض روزگار حاصل کرنے یا ڈگری لینے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک باوقار، مہذب اور مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔
اسلام نے جس غیر معمولی انداز میں علم کی عظمت کو اجاگر کیا ہے، اس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے مذہب یا نظامِ فکر میں کم ہی ملتی ہے۔ قرآنِ کریم کی پہلی وحی ہی "اقرأ” یعنی "پڑھیے” کے حکم سے نازل ہوئی۔ گویا اسلام کا آغاز ہی علم، تحقیق اور شعور کے پیغام سے ہوا۔ رسولِ اکرم ﷺ نے علم کے حصول کو ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض قرار دیا اور امت کو یہ سبق دیا کہ علم کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ اگر حصولِ علم کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر بھی کرنا پڑے تو اس سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ اس تعلیم کا اصل مقصد یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی سے منور کرے۔
علم وہ چراغ ہے جو انسان کو حق و باطل، خیر و شر، انصاف و ناانصافی اور سچ و جھوٹ میں فرق کرنا سکھاتا ہے۔ یہی علم انسان کی شخصیت کو سنوارتا، کردار کو نکھارتا اور اسے معاشرے کا ذمہ دار شہری بناتا ہے۔ تعلیم یافتہ فرد صرف اپنی زندگی نہیں بدلتا بلکہ اپنے خاندان، اپنے معاشرے اور اپنی قوم کے مستقبل کو بھی روشن کرتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی قوم کو ترقی یافتہ بنانا ہو تو اس کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنائیے، کیونکہ مضبوط تعلیمی نظام ہی مضبوط قوم کی ضمانت ہوتا ہے۔
مسلمانوں کی تاریخ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے۔ ایک زمانہ تھا جب بغداد، قرطبہ، دمشق، قاہرہ اور دہلی جیسے علمی مراکز دنیا بھر کے طلبہ اور محققین کی منزل تھے۔ مسلمان سائنس، طب، ریاضی، فلکیات، فلسفہ، ادب اور فنون میں دنیا کی رہنمائی کرتے تھے۔ ابنِ سینا، البیرونی، ابنِ رشد، الخوارزمی اور جابر بن حیان جیسے عظیم علما نے انسانی تہذیب کو ایسا علمی سرمایہ عطا کیا جس سے آج بھی دنیا استفادہ کر رہی ہے۔ لیکن جب ہم نے علم سے اپنا رشتہ کمزور کیا تو ہمارا زوال شروع ہوگیا اور قیادت دوسروں کے ہاتھ میں چلی گئی۔ یہ تاریخ کا ایسا سبق ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
آج اکیسویں صدی علم، تحقیق، اختراع، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ ترقی کی رفتار پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے۔ وہی قومیں آگے بڑھ رہی ہیں جو اپنے تعلیمی اداروں، تحقیقی مراکز اور نوجوان نسل پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم بھی تعلیم کو صرف ملازمت کے حصول کا ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ اسے قومی تعمیر، سماجی اصلاح اور معاشی خود کفالت کی بنیاد تصور کریں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ایسے بچے موجود ہیں جو غربت، وسائل کی کمی، سماجی بے حسی یا والدین کی ناواقفیت کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ محرومی صرف ان بچوں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی محرومی ہے، کیونکہ انہی بچوں میں مستقبل کے ڈاکٹر، انجینئر، سائنس داں، استاد، جج، منتظم اور دانش ور پوشیدہ ہوتے ہیں۔ اگر انہیں مناسب مواقع، معیاری تعلیم اور صحیح رہنمائی میسر آ جائے تو وہ نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کی تقدیر بھی سنوار سکتے ہیں۔
یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ غربت صلاحیتوں کی دشمن ضرور ہے، لیکن کامیابی کی راہ میں ناقابلِ عبور رکاوٹ نہیں۔ دنیا کی بے شمار عظیم شخصیات نے انتہائی معمولی حالات سے اپنی زندگی کا آغاز کیا اور تعلیم، محنت اور استقامت کے ذریعے تاریخ رقم کی۔ ہمارے ملک میں بھی ایسے بے شمار نوجوان موجود ہیں جنہوں نے مالی مشکلات کے باوجود اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور آج ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ اس لیے وسائل کی کمی کو کبھی مایوسی کا سبب نہیں بنانا چاہیے۔
خوش آئند حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے مختلف اسکالرشپ، تعلیمی قرض (ایجوکیشن لون)، ہاسٹل کی سہولتیں اور متعدد فلاحی منصوبے چلائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ملی، سماجی اور رفاہی ادارے بھی مستحق طلبہ کو وظائف، کتابیں، کوچنگ اور مالی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ کسی جھجھک، احساسِ کمتری یا بے جا انا کا شکار ہوئے بغیر اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ان سہولتوں سے استفادہ کریں۔
خصوصاً مسلمانوں کو تعلیم کے میدان میں ایک نئی بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور مقابلے کا دور ہے۔ سرکاری ملازمتیں ہوں، سول سروسز، طب، انجینئرنگ، عدلیہ، صحافت، تحقیق یا صنعت و تجارت، ہر جگہ کامیابی انہی لوگوں کے قدم چومتی ہے جو معیاری تعلیم، مسلسل محنت اور مضبوط عزم کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ ہماری نئی نسل کو بھی جدید علوم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، تحقیق اور مقابلہ جاتی امتحانات کی طرف پوری توجہ دینی ہوگی۔ قوموں کی ترقی صرف نعروں سے نہیں بلکہ کتابوں، تجربہ گاہوں، لائبریریوں اور تحقیقی اداروں سے ہوتی ہے۔
والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کو اسکول بھیجنے تک محدود نہیں۔ ان میں مطالعے کی عادت، اخلاقی اقدار، وقت کی پابندی، دیانت داری، برداشت اور محنت کا جذبہ پیدا کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ ایک ایسا گھر جہاں کتابوں کا احترام ہو، تعلیم کی قدر ہو اور سیکھنے کا ماحول میسر ہو، وہاں سے نکلنے والی نسلیں یقیناً معاشرے کا قیمتی سرمایہ ثابت ہوتی ہیں۔
تعلیم کا فروغ صرف حکومت یا تعلیمی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اساتذہ، والدین، سماجی تنظیمیں، رفاہی ادارے، اہلِ ثروت افراد اور صاحبِ حیثیت شہری اگر اپنے اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کریں تو ملک سے ناخواندگی اور تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ کوئی ناممکن کام نہیں۔ ایک قوم اسی وقت حقیقی ترقی کی منزل طے کرتی ہے جب اس کا ہر فرد تعلیم کی اہمیت کو اپنی ذاتی ذمہ داری سمجھنے لگے۔
یہ بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ تعلیم کو ہر بچے کی دسترس تک پہنچائیں۔ اگر معاشرے کا ہر صاحبِ استطاعت فرد صرف ایک مستحق بچے کی تعلیم کا بوجھ اپنے کندھوں پر لے لے تو شاید کوئی بھی باصلاحیت بچہ غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔ یہی حقیقی سماجی خدمت، بہترین صدقۂ جاریہ اور قوم کی تعمیر کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
اس مضمون کا بنیادی مقصد صرف یہ ہے کہ تعلیم کی شمع ہر گھر تک پہنچے، خصوصاً ان گھروں تک جہاں غربت، محرومی اور مایوسی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ کسی مزدور، کسان، رکشہ چلانے والے یا یومیہ مزدوری کرنے والے کا باصلاحیت بچہ صرف مالی مشکلات کی وجہ سے اپنے خواب قربان نہ کرے۔
اگر تعلیم کے حصول کی راہ میں مالی دشواریاں حائل ہوں تو والدین کو بلا جھجھک بینکوں کی تعلیمی قرض (ایجوکیشن لون) اسکیموں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
اس ضمن میں مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ کے صدر اور سابق آئی پی ایس افسرڈاکٹر اکبر علی خان کا کہنا ہے کہ ان کے طویل تجربے اور مشاہدے سے یہ حقیقت بارہا سامنے آئی ہے کہ معاشی تنگی کے باعث لاکھوں باصلاحیت طلبہ اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ یہ غلط فہمی بھی ہے کہ بینکوں سے ایجوکیشن لون حاصل کرنا نہایت دشوار ہے یا اس پر سود کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہوتا ہے، حالانکہ متعدد نیشنلائزڈ بینک اپنی مقررہ شرائط کے مطابق اعلیٰ تعلیم کے لیے تعلیمی قرض فراہم کرتے ہیں، جس کی ادائیگی بھی عموماً تعلیم مکمل ہونے اور ملازمت حاصل کرنے کے بعد مرحلہ وار شروع ہوتی ہے۔ ڈاکٹر خان کے بقول، مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ ،کولکاتہ مستحق طلبہ کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ بلا سود تعلیمی معاونت کی فراہمی کے لیے بھی کوشاں ہے، تاکہ کوئی ذہین اور باصلاحیت طالب علم محض مالی تنگی کے باعث اپنے تعلیمی خواب ادھورے چھوڑنے پر مجبور نہ ہو۔
لہزہ اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے تعلیمی قرض حاصل کرنا ہرگز معیوب نہیں، بلکہ یہ ان کی تعلیم اور مستقبل میں ایک دانش مندانہ سرمایہ کاری ہے۔ حکومت اور بینکوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی ان سہولتوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیجیے، تاکہ آج رکشہ چلانے والے، مزدور یا کسان کا بچہ بھی کل ڈاکٹر، انجینئر، سائنس داں، پروفیسر، آئی اے ایس یا آئی پی ایس افسر، آئی آئی ٹی کا طالب علم یا ایک کامیاب محقق بن کر اپنے والدین، اپنے گاؤں، اپنے معاشرے، اپنے وطن اور پوری قوم کا نام روشن کر سکے۔
یاد رکھیے، کسی ملک کی اصل طاقت اس کی بلند و بالا عمارتیں یا وسیع شاہراہیں نہیں ہوتیں بلکہ اس کے تعلیم یافتہ، باکردار، باصلاحیت اور باعمل نوجوان ہوتے ہیں۔ اگر ہم آنے والی نسلوں کو مضبوط، خود کفیل، باوقار اور ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگی۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا، یہی وہ روشنی ہے جو صدیوں تک قوموں کی رہنمائی کرتی ہے اور یہی وہ قوت ہے جو ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہے۔
آج اگر ہم نے اپنے گھروں، بستیوں اور معاشرے میں علم کی شمع روشن کر دی تو آنے والا کل یقیناً زیادہ روشن، زیادہ محفوظ، زیادہ خوش حال اور زیادہ باوقار ہوگا۔ آئیے عہد کریں کہ تعلیم کو اپنی، اپنے خاندان اور اپنی قوم کی اولین ترجیح بنائیں، کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ تعلیم ہی ایک روشن، باوقار اور شاندار مستقبل کی سب سے مضبوط، پائیدار اور ناقابلِ تردید ضامن ہے۔
رابطہ۔۔۔۔۔۔9934933992

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے