कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

شہریت کا پیچیدہ سوال اور حکومت کی خاموشی

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام

کسی بھی جمہوری ریاست کی اصل طاقت اس کے دستور، مضبوط اداروں اور عوام کے اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہی اعتماد شہری کو یہ یقین دلاتا ہے کہ اس کی جان، مال، عزت، آزادی اور دستورِ ہند کے عطا کردہ بنیادی حقوق ہر حال میں محفوظ ہیں۔ اس اعتماد کی بنیاد شہریت ہے۔ شہریت صرف کسی سرکاری دستاویز یا اندراج کا نام نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان قائم ایک آئینی اور قانونی رشتہ ہے، جس پر فرد کی سیاسی، سماجی اور معاشی حیثیت استوار ہوتی ہے۔ ووٹ دینے کا حق، انتخابات میں حصہ لینے کی اہلیت، سرکاری ملازمت، ریاستی تحفظ، آزادیٔ اظہار اور دیگر بنیادی حقوق اسی رشتے سے وابستہ ہیں۔
یہ مسئلہ صرف قانونی نہیں بلکہ سماجی، نفسیاتی اور انتظامی اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ شہری قانون کی پابندی کرتا ہے، ٹیکس ادا کرتا ہے، اپنے آئینی فرائض انجام دیتا ہے اور ریاستی اداروں پر اعتماد کرتا ہے، جبکہ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے قوانین، پالیسیوں اور انتظامی فیصلوں کے ذریعے اس اعتماد کو مزید مضبوط بنائے۔ اگر خود سرکاری بیانات یا مختلف اداروں کے مؤقف سے بنیادی آئینی سوالات پر ابہام پیدا ہونے لگے تو اس کے اثرات صرف عدالتوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ عوامی اعتماد، سماجی اطمینان اور ریاستی اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔
ہندوستان جیسے وسیع اور متنوع ملک میں یہ مسئلہ مزید حساس ہو جاتا ہے۔ لاکھوں خاندان ایسے ہیں جن کے پاس کئی دہائیوں پرانے تمام سرکاری ریکارڈ محفوظ نہیں۔ قدرتی آفات، نقل مکانی، غربت، ناخواندگی اور انتظامی کمزوریاں بھی اس حقیقت کا حصہ رہی ہیں۔ ایسے حالات میں اگر شہریت جیسے بنیادی مسئلے پر غیر یقینی پیدا ہو تو اس کے نتائج صرف قانونی پیچیدگیوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ معاشرتی بے چینی، انتظامی دشواریوں اور ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد میں کمی کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ اسی لیے ایک واضح، شفاف، منصفانہ اور یکساں قانونی معیار نہ صرف آئینی تقاضا ہے بلکہ جمہوری استحکام کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔
دنیا کی بیشتر جمہوری ریاستیں کوشش کرتی ہیں کہ شہریت سے متعلق قوانین حتیٰ الامکان واضح اور غیر مبہم ہوں، تاکہ کسی شہری کو اپنی قانونی شناخت کے بارے میں بے یقینی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کیونکہ جب خود شہریت ہی سوالیہ نشان بن جائے تو اس سے وابستہ تمام آئینی حقوق بھی غیر یقینی کی زد میں آ جاتے ہیں، اور یہی صورتِ حال کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے باعثِ تشویش ہوتی ہے۔
بدقسمتی سےگزشتہ چند برسوں میں ہندوستان میں شہریت کا مسئلہ ایک اہم آئینی، قانونی اور انتظامی بحث بن چکا ہے۔ حال ہی میں وزیرِ خارجہ کا یہ بیان کہ "پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں بلکہ صرف ایک سفری دستاویز ہے” نے اس بحث کو مزید نمایاں کر دیا۔ قانونی اعتبار سے یہ بات درست ہے،کیونکہ پاسپورٹ ایکٹ، 1967 کے مطابق پاسپورٹ بیرونِ ملک سفر کے لیے جاری کیا جانے والا سفری دستاویز ہے۔
تاہم یہاں ایک فطری سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر پاسپورٹ محض ایک سفری دستاویز ہے تو کیا وہ کسی غیر ملکی یا ایسے شخص کو بھی جاری کیا جا سکتا ہے جو ہندوستانی شہری نہ ہو؟ ظاہر ہے کہ پاسپورٹ جاری کرنے سے پہلے حکومت متعلقہ شخص کی شناخت، اس کے پس منظر اور قانون کے مقررہ تقاضوں کی جانچ کرتی ہے۔ اسی لیے عام آدمی کی نظر میں پاسپورٹ ہمیشہ ایک نہایت معتبر سرکاری دستاویز رہا ہے۔ چنانچہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ پاسپورٹ بھی شہریت کا قطعی ثبوت نہیں تو عام شہری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آخر وہ کون سا قانونی معیار یا مستند ثبوت ہے جس کی بنیاد پر ایک ہندوستانی اپنی شہریت بلا شبہ ثابت کر سکتا ہے؟
دستورِ ہند کے آرٹیکل 5 سے 11 تک ابتدائی شہریت کے اصول بیان کیے گئے ہیں، جبکہ بعد میں پارلیمنٹ نے شہریت ایکٹ، 1955 نافذ کیا، جس میں پیدائش، نسب، اندراج، قدرتی طریقۂ حصولِ شہریت اور دیگر قانونی ذرائع کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ شہریت کا تعین کسی ایک کارڈ یا ایک دستاویز کی بنیاد پر نہیں بلکہ تمام متعلقہ حقائق، شواہد اور قانون کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔
اس کے باوجود بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ اگر مختلف سرکاری دستاویزات کی قانونی حیثیت الگ الگ ہے تو پھر ایسا واضح، یکساں اور غیر مبہم معیار کیوں موجود نہیں جسے ہر شہری آسانی سے سمجھ سکے اور جسے تمام سرکاری ادارے یکساں طور پر تسلیم کریں؟ جمہوری نظام میں قانون کی وضاحت محض ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی بنیاد بھی ہوتی ہے۔ ہر شہری کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی آئینی حیثیت کیا ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ اپنی شہریت کس بنیاد پر ثابت کر سکتا ہے۔
اگر کوئی شخص برسوں تک ووٹ دیتا رہے، ٹیکس ادا کرے، پاسپورٹ حاصل کرے، سرکاری سہولتوں سے فائدہ اٹھاتا رہے اور ریاست ہر مرحلے پر اسے اپنا شہری تسلیم کرتی رہے، لیکن کسی وقت یہ سوال اٹھ جائے کہ ان تمام دستاویزات کے باوجود اس کی شہریت کا حتمی ثبوت کیا ہے، تو یقیناً ایسی صورتِ حال عوامی تشویش، قانونی ابہام اور انتظامی بے یقینی پیدا کرے گی۔
سپریم کورٹ بھی مختلف مقدمات میں واضح کر چکی ہے کہ ووٹر شناختی کارڈ یا ووٹر فہرست میں نام ہر قانونی تناظر میں شہریت کا ناقابلِ تردید ثبوت نہیں۔ اسی طرح آدھار قانون بھی صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ آدھار شناخت کا ذریعہ ہے، شہریت کی سند نہیں۔ ان قانونی اصولوں سے اختلاف کی گنجائش نہیں، لیکن سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ آخر وہ کون سا واضح معیار ہے جسے تمام سرکاری ادارے اور عدالتیں یکساں طور پر قبول کرتی ہیں؟
یہ بحث اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب عدالتی فیصلے عوامی گفتگو کا حصہ بنتے ہیں۔ عدالتیں ہر مقدمے کا فیصلہ اس کے مخصوص حقائق، دستیاب شواہد اور متعلقہ قوانین کی بنیاد پر کرتی ہیں، اس لیے کسی ایک مقدمے کے فیصلے کو عمومی قانونی اصول قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن عام شہری کے ذہن میں یہ سوال بہرحال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سا معیار ہے جسے تمام عدالتیں اور سرکاری ادارے یکساں طور پر قابلِ قبول سمجھتے ہیں۔
یہاں پارلیمنٹ کی ذمہ داری بھی سامنے آتی ہے۔ اگر ایک عام شہری اپنی شہریت کے ثبوت کے بارے میں ابہام کا شکار ہے تو قانون ساز اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس معاملے میں واضح رہنمائی فراہم کریں۔ قانون سازی کا مقصد صرف نئے قوانین بنانا نہیں بلکہ ان قوانین میں موجود ابہام کو دور کرنا بھی ہوتا ہے۔ اگر کسی قانون یا اس کی تشریح سے عوام کے ذہن میں مزید سوالات پیدا ہوں تو ان کا بروقت ازالہ کرنا بھی ایک جمہوری حکومت کی ذمہ داری ہے۔
اسی تناظر میں ایک اور بنیادی سوال سامنے آتا ہے۔ اگر کسی عام شہری سے اپنی شہریت ثابت کرنے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے تو عوام کو یہ جاننے کا بھی حق حاصل ہے کہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں وبلدیاتی اداروں کے انتخابات میں امیدواروں کی شہریت کی جانچ کن قانونی معیارات اور کس نوعیت کے شواہد کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اگر کوئی متعین اور قابلِ قبول معیار موجود ہے تو کیا وہی معیار ملک کے ہر شہری پر بھی یکساں طور پر نافذ ہوتا ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر اسے پوری شفافیت کے ساتھ عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھا جاتا تاکہ اس مسئلے سے متعلق تمام خدشات اور ابہامات کا خاتمہ ہو سکے۔
یہ مسئلہ کسی ایک حکومت یا کسی ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مختلف حکومتیں آئیں، متعدد قوانین بھی بنے، مگر شہریت جیسے بنیادی آئینی سوال پر آج بھی عام شہری کے ذہن میں مکمل اطمینان پیدا نہیں ہو سکا۔ جمہوری نظام میں خاموشی اکثر نئے سوالات کا سبب بنتی ہے، اس لیے اس حساس موضوع پر سنجیدہ، غیر جانب دار اور قانون پر مبنی قومی مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ریاست اور شہری کا تعلق اعتماد پر قائم ہوتا ہے، شبہے پر نہیں۔
جب ریاست خود کسی شخص کو پاسپورٹ جاری کرتی ہے اسے ووٹر کے طور پر رجسٹر کرتی ہے، اس سے ٹیکس وصول کرتی ہے اور مختلف سرکاری سہولتوں سے استفادہ کرنے کا حق دیتی ہے تو فطری طور پر اس کے اندر یہ یقین پیدا ہوتا ہے کہ ریاست نے اس کی قانونی حیثیت کو تسلیم کر لیا ہے۔ اگر بعد میں اسی بنیادی اعتماد کے بارے میں سوالات اٹھنے لگیں تو ان کی وضاحت کرنا بھی ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
شہریت کسی حکومت کی عطا کردہ رعایت نہیں بلکہ دستورِ ہند کے تحت ہر شہری کی قانونی شناخت اور آئینی حیثیت کی بنیاد ہے۔ ایسے بنیادی سوالات کو متضاد بیانات، غیر واضح تشریحات یا انتظامی ابہام کے حوالے نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اگر حکومت کے پاس شہریت کے تعین کا کوئی جامع، شفاف اور یکساں قانونی معیار موجود ہے…” تو اسے پوری شفافیت کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے تاکہ غیر ضروری خدشات، قیاس آرائیوں اور بے یقینی کا خاتمہ ہو سکے۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ شہریت کے سوال کو سیاسی نعروں یا وقتی مباحث کی نذر کر دیا جائے، بلکہ اس بات کی ہے کہ حکومت، پارلیمنٹ، عدلیہ، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی مل کر ایسا واضح، منصفانہ اور قابلِ عمل قانونی معیار وضع کریں جس سے ہر شہری بلا خوف و تردد اپنی آئینی حیثیت کے بارے میں مطمئن ہو سکے۔ قانون کی حکمرانی اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب قانون صرف موجود نہ ہو بلکہ ہر شہری کے لیے یکساں، شفاف اور قابلِ فہم بھی ہو۔
شہریت کے معاملے میں قانونی وضاحت، شفافیت اور یکسانیت صرف ایک انتظامی ضرورت نہیں بلکہ ہر ہندوستانی شہری کا آئینی حق بھی ہے۔ ایک ذمہ دار اور بالغ نظر جمہوری ریاست کی پہچان یہی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو ان کی قانونی حیثیت کے بارے میں کسی شک یا ابہام میں مبتلا نہ رہنے دے۔ ریاست جب قانون کی یکساں تشریح، شفاف طریقۂ کار اور قابلِ اعتماد نظام کے ساتھ آگے بڑھتی ہے تو شہریوں کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے، جمہوریت مستحکم ہوتی ہے اور دستور کی بالادستی بھی حقیقی معنوں میں قائم رہتی ہے۔
رابطہ۔۔۔ 9934933992

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے