कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نارائنن کی کہانی: تعصب کے تصورات سے انسانیت کے اسلامی پیغام تک

Narayanan’s Story: From the Perceptions of Prejudice to the Islamic Message of Humanity

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

اسلام صرف چند عبادات اور مذہبی شعائر کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو اپنے خالق سے تعلق کے ساتھ ساتھ مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ معاملہ، عدل، رحم اور خیر خواہی کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ کریم انسان کو عزّت و تکریم کے مقام پر فائز کرتا ہے اور اسلامی تعلیمات یہ رہنمائی فراہم کرتی ہیں کہ انسان کی قدر صرف اس کی شناخت، قوم، زبان یا مذہبی پس منظر سے نہیں بلکہ اس کے انسانی مقام سے بھی وابستہ ہے۔ رسولِ اکرمﷺ کی سیرتِ مبارکہ اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ اختلافات کے باوجود انسانیت کا احترام باقی رہتا ہے۔ آپﷺ نے کمزوروں، ضرورت مندوں، بیماروں اور حتیٰ کہ مخالفین کے ساتھ بھی عدل، رحم اور اخلاق کا مظاہرہ فرمایا۔ یہی وہ نبوی منہج ہے جو ایک مسلمان کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ عداوتوں کے جواب میں خیر، سختی کے مقابلے میں نرمی اور فاصلے کے مقابلے میں حسنِ سلوک کو اختیار کرے۔
اسلامی تعلیمات میں "رحمت” محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک عملی ذمّہ داری ہے۔ ایک مسلمان کا کردار صرف اس بات سے نہیں پہچانا جاتا کہ وہ کیا کہتا ہے، بلکہ اس سے بھی پہچانا جاتا ہے کہ وہ ضرورت کے وقت کیا کرتا ہے۔ کسی بیمار، بے سہارا یا مجبور انسان کا سہارا بننا دراصل اس اخلاقی تعلیم کا اظہار ہے جسے اسلام خدمتِ خلق کے نام سے نمایاں کرتا ہے۔ اسی تناظر میں نارائنن کا واقعہ ایک اہم انسانی اور اخلاقی پہلو سامنے لاتا ہے۔ ایک ایسا شخص جس کی زندگی نظریاتی اختلافات کے ماحول میں گزری، آخری وقت میں اسے ایک ایسے انسانی جذبے کا سامنا ہوا جو تمام تقسیموں سے بلند تھا۔ عرفانہ اقبال کا کردار اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اسلام کی اصل خوبصورتی صرف الفاظ میں نہیں بلکہ ان اعمال میں ظاہر ہوتی ہے جو انسانیت کے لیے خیر کا سبب بنتے ہیں۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ معاشرے نفرت اور فاصلے سے نہیں بلکہ رحم، انصاف اور باہمی احترام سے مضبوط ہوتے ہیں۔ ایک مسلمان کی بہترین دعوت وہی ہے جو اس کے کردار سے ظاہر ہو، کیونکہ اچھا عمل کبھی کبھی وہ پیغام پہنچا دیتا ہے جو طویل تقریریں بھی نہیں پہنچا سکتیں۔ نارائنن کی کہانی اسی بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسانیت ایک مشترکہ قدر ہے، اور رحم و خدمت وہ راستہ ہے جو مختلف شناختوں کے درمیان بھی دلوں کو قریب لا سکتا ہے۔
انسان کی اصل پہچان صرف اس کے نظریات، وابستگیوں یا ماضی کے فیصلوں سے نہیں ہوتی، بلکہ اس وقت سامنے آتی ہے جب زندگی انسان کو آزمائش کے آخری مرحلے تک لے جاتی ہے۔ بعض اوقات ایک شخص پوری زندگی جن خیالات کے ساتھ گزارتا ہے، موت کے قریب پہنچ کر وہی زندگی اسے ایک نیا سبق سکھاتی ہے۔ کیرالہ کے 64 سالہ نارائنن کی کہانی بھی ایک ایسے ہی انسانی واقعے کے طور پر سامنے آتی ہے، جہاں ایک طرف زندگی بھر کے نظریاتی فاصلے تھے اور دوسری طرف آخری وقت میں ایک ایسے ہاتھ کی مدد تھی جسے شاید کبھی اجنبی سمجھا گیا ہو۔
نارائنن ایک سابق آر ایس ایس کارکن تھے۔ ان کی زندگی ایک مخصوص نظریاتی ماحول میں گزری جہاں مذہبی اور سماجی شناختیں ان کے خیالات پر اثر انداز ہوتی رہیں۔ نظریات انسان کی سوچ، رویوں اور تعلقات کو متاثر کرتے ہیں، لیکن دین اور اخلاق کا بنیادی سبق یہ ہے کہ انسان کو اس کی بنیادی انسانی حرمت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامی تعلیمات میں انسان کو بحیثیت انسان عزّت دی گئی ہے۔ قرآن کا پیغام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزّت و تکریم عطا کی۔ یہی اصول ایک مسلمان کو یہ سکھاتا ہے کہ اختلاف کے باوجود عدل، رحم اور حسنِ سلوک کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
اسلامی تعلیمات میں انسان کی عزّت و تکریم بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔ قرآنِ کریم انسان کو بحیثیتِ انسان عزّت عطا کیے جانے کا ذکر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کسی انسان کے ساتھ معاملہ کرتے وقت صرف اس کے عقیدے یا نظریے کو نہیں دیکھتا بلکہ عدل، رحم اور حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔
رسولِ اکرمﷺ کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ اختلاف کے باوجود انسانیت کا دامن نہیں چھوڑا گیا۔ آپﷺ نے اپنے مخالفین، بیماروں، کمزوروں اور ضرورت مندوں کے ساتھ بھی رحم اور انصاف کا معاملہ فرمایا۔
زندگی کے آخری مرحلے میں نارائنن شدید بیماری کا شکار ہوئے۔ منہ کے کینسر نے انہیں کمزور کر دیا۔ وہ بے سہارا حالت میں پائے گئے اور کوژیکوڈ میڈیکل کالج ہسپتال میں علاج کے دوران ان کا انتقال ہو گیا۔ یہ مرحلہ انسان کے لیے سب سے زیادہ کمزوری کا وقت ہوتا ہے، جہاں نہ عہدے کام آتے ہیں، نہ شہرت، نہ نظریاتی نعرے۔ اس وقت صرف انسانیت کا رشتہ باقی رہ جاتا ہے۔ اسلام نے ہمیشہ کمزور، بیمار، مسافر، محتاج اور بے سہارا انسان کی مدد کو بڑی نیکی قرار دیا ہے۔ رسولِ اکرمﷺ کی سیرت میں رحم، عفو اور خدمتِ خلق کے بے شمار واقعات ملتے ہیں، جہاں انسانیت کو ترجیح دی گئی۔
انسان کی اصل تربیت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب اسے کسی ایسے شخص کے ساتھ بھلائی کرنی پڑے جس سے نظریاتی یا سماجی اختلاف ہو۔ آسان یہ ہے کہ ہم صرف اپنے جیسے لوگوں کے لیے خیر چاہیں، لیکن اخلاقی عظمت یہ ہے کہ ضرورت مند انسان کی مدد اس کی شناخت سے بالاتر ہو کر کی جائے۔ اسلام نے اسی جذبے کو "رحمت” اور "احسان” کے تصورات سے بیان کیا ہے۔ ایک مسلمان کا کردار صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ معاملہ بھی اس کا حصّہ ہے۔
نارائنن کی حالت کی خبر مقامی وارڈ رکن شریف چنالہ کے ذریعے کاسرگوڈ ضلع پنچایت کی رکن عرفانہ اقبال تک پہنچی۔ عرفانہ اقبال، جو انڈین یونین مسلم لیگ (IUML) کی خواتین تنظیم سے وابستہ ہیں، نے انسانی ہمدردی کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھ کر نارائنن کے علاج اور ہسپتال پہنچانے کے انتظامات میں مدد کی۔ نارائنن کے انتقال کے بعد جب ان کی آخری رسومات کا مسئلہ سامنے آیا تو عرفانہ اقبال نے ایک ایسا قدم اٹھایا جو مذہبی رواداری اور انسانی احترام کی مثال بن گیا۔ اہلِ خانہ سے ضروری اجازت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے نارائنن کی آخری رسومات ہندو روایات کے مطابق ادا کیں۔ کاسرگوڈ کے اُپّالا علاقے کے ہندو شمشان گھاٹ میں انجام دی جانے والی یہ آخری رسومات صرف ایک رسم نہیں تھیں بلکہ یہ ایک پیغام تھا کہ انسانیت کا رشتہ نفرتوں، اختلافات اور تعصبات سے بلند ہو سکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ اچھا کردار اکثر الفاظ سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنے عمل سے رحم، انصاف اور خدمت کا مظاہرہ کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے اخلاق کے ذریعے ایک پیغام پہنچاتا ہے۔ عرفانہ اقبال کا یہ عمل اسی پہلو کو اجاگر کرتا ہے کہ انسانیت کی خدمت کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں۔ ایک مسلمان کا حسنِ کردار اس وقت زیادہ نمایاں ہوتا ہے جب وہ اختلاف کے باوجود بھلائی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔
یہ منظر اپنے اندر ایک گہرا پیغام رکھتا ہے۔ جس حجاب اور پردے کو بعض لوگ اپنی محدود سوچ یا غلط فہمیوں کی بنیاد پر فاصلے کی علامت سمجھتے ہیں، اسی حجاب کی شناخت رکھنے والی ایک مسلم خاتون نے رحم، احترام اور خدمت کی ایسی مثال قائم کی جس نے تمام مصنوعی دیواروں کو کمزور کر دیا۔ عرفانہ اقبال کا عمل اس حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ اسلام کی پہچان صرف ظاہری علامات نہیں بلکہ اخلاق، کردار اور انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے ہوتی ہے۔ ایک مسلمان عورت نے ایک ایسے شخص کے لیے احترام کا مظاہرہ کیا جو اس کے مذہب سے تعلق نہیں رکھتا تھا، کیونکہ اسلام کا بنیادی سبق یہی ہے کہ انسان کے ساتھ بھلائی کی جائے، خواہ وہ کسی بھی مذہب، قوم یا پس منظر سے تعلق رکھتا ہو۔
کسی بھی مذہبی شناخت کی اصل خوبصورتی اس کے اخلاقی اثرات میں ظاہر ہوتی ہے۔ حجاب، لباس یا ظاہری علامات اپنی جگہ ایک شناخت ہو سکتی ہیں، لیکن مذہب کا اصل پیغام انسان کے کردار، دیانت، رحم اور خدمت سے ظاہر ہوتا ہے۔ عرفانہ اقبال کا عمل اس بات کی مثال ہے کہ مذہبی شناخت جب اخلاقی ذمّہ داری کے ساتھ جڑتی ہے تو وہ معاشرے میں مثبت اثر پیدا کرتی ہے۔ اسلامی روایت میں غیر مسلموں کے ساتھ عدل اور حسنِ سلوک کی تعلیم موجود ہے۔ ایک مسلمان کو ظلم سے بچنے، انصاف قائم رکھنے اور خیر خواہی کا راستہ اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ اصول بتاتا ہے کہ اختلافِ عقیدہ کے باوجود انسانی معاملات میں اخلاق، دیانت اور رحم کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔
اسلام کا مزاج نفرت نہیں بلکہ اصلاح، عدل اور رحمت کا ہے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن کسی انسان کی تکلیف، بیماری یا بے بسی کے وقت اس کی مدد کرنا ایک اعلیٰ انسانی اور دینی قدر ہے۔ نارائنن کی کہانی اس سوال کو سامنے رکھتی ہے کہ کیا ہم لوگوں کو صرف ان کے نظریات کے ذریعے دیکھیں گے یا ان کی انسانی ضرورتوں کو بھی سمجھیں گے؟ عرفانہ اقبال کا عمل یہ پیغام دیتا ہے کہ ایک مسلمان کی دعوت صرف الفاظ سے نہیں بلکہ کردار سے بھی ہوتی ہے۔ کبھی کبھی ایک اچھا عمل ہزار تقریروں سے زیادہ مؤثر پیغام بن جاتا ہے۔
یہ واقعہ اُمّتِ مسلمہ کے لیے بھی ایک یاد دہانی ہے کہ اسلام کی حقیقی خوبصورتی خدمتِ خلق، اخلاقِ حسنہ اور انسانوں کے دکھ درد میں شریک ہونے میں ہے۔ دنیا میں اختلافات ہمیشہ رہیں گے، نظریات مختلف ہوں گے، لیکن ایک مسلمان کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ وہ ظلم کے مقابلے میں عدل، نفرت کے مقابلے میں خیر خواہی اور فاصلے کے مقابلے میں حسنِ سلوک کو اختیار کرے۔ آنے والی نسلیں صرف یہ نہیں دیکھتی کہ انسان نے کیا کہا، بلکہ یہ بھی یاد رکھتی ہے کہ ضرورت کے وقت اس نے کیا کیا۔ نارائنن کی کہانی اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ انسانیت وہ زبان ہے جسے ہر دل سمجھتا ہے، اور رحم وہ عمل ہے جو ہر تقسیم سے بلند ہو جاتا ہے۔
نارائنن کا واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ معاشرے تعصب، فاصلے اور غلط فہمیاں کے بیانیوں سے نہیں بلکہ رحم اور انصاف کے رویوں سے مضبوط ہوتے ہیں۔ ایک شخص کا ماضی کچھ بھی ہو، ایک بیمار، کمزور اور بے سہارا انسان کی مدد کرنا انسانیت کی وہ قدر ہے جو تمام مذاہب اور تہذیبوں میں قابلِ احترام سمجھی گئی ہے۔ عرفانہ اقبال کا عمل اس بات کی یاد دہانی ہے کہ بہترین دعوت وہ ہے جو کردار کے ذریعے دی جائے، اور سب سے مؤثر پیغام وہ ہے جو انسان کے عمل سے ظاہر ہو۔
🗓 (29.06.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے