कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک عظیم علمی اور فکری عہد کا خاتمہ

ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

۲۹ جون ۲۰۲۶ء کی صبح، جب افقِ لکھنؤ پر سورج اپنی پہلی کرنیں بکھیر رہا تھا، ایک عظیم علمی ستارہ غروب ہو گیا۔ دار العلوم ندوۃ العلماء کے سابق استاذِ حدیث، شعبۂ دعوت و شریعت کے سربراہ، جمیعت شباب الاسلام کے صدر، اور عالمِ اسلام کے ممتاز مفکر مولانا سید سلمان حسینی ندوی اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق، وہ صبح تقریباً ڈھائی سے تین بجے کے درمیان ایک مختصر علالت کے بعد اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ گزشتہ چھ ماہ قبل ان کے دل کی دھڑکن باقاعدہ رکھنے والے آلے کی پیوند کاری کا آپریشن ہوا تھا، مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ان کی وفات کی خبر جیسے ہی گوشۂ عالم میں پھیلی، ملک اور بیرونِ ملک علمی، دینی اور سماجی حلقوں میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔ انڈین مسلمس فار سول رائٹس نے اپنے تعزیتی بیان میں انہیں "اسلامی علم، فکری بیداری، سماجی اصلاح اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کا نشان” قرار دیا۔
مولانا سید سلمان حسینی ندوی ۱۹۵۴ء میں لکھنؤ کے ایک ایسے علمی گھرانے میں پیدا ہوئے جس کی نسبت خود سرورِ کائنات ﷺ سے جا ملتی ہے۔ ان کے نانا مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی تھے، جن کی علمی و روحانی وراثت نے مولانا سلمان کی شخصیت کو گہرائی سے ڈھالا۔ علمی ماحول میں پرورش پانے والے مولانا نے اپنے بچپن میں ہی قرآن مجید حفظ کر لیا اور دار العلوم ندوۃ العلماء کی ایک شاخ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد کلیۂ شریعہ و اصولِ دین میں داخلہ لے کر ۱۹۷۴ء میں فراغت حاصل کی۔ مگر ان کا علمی سفر یہاں رکا نہیں، بلکہ ۱۹۷۶ء میں ندوۃ العلماء سے علمِ حدیث میں اعلیٰ اسناد حاصل کیں اور پھر سعودی عرب کی جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ سے ۱۹۸۰ء میں مزید سندِ فضیلت حاصل کی۔ حدیث، تفسیر، فقہ اور اسلامی الٰہیات میں ان کی گہری نظر نے انہیں برصغیر کے ممتاز محدثین میں نمایاں مقام عطا کیا۔
فراغت کے فوراً بعد مولانا نے اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ہمراہ "جمیعت شباب الاسلام” کی بنیاد رکھی، جو آج بھارت کی عظیم ترین اسلامی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔ نوجوانوں کی فکری و اخلاقی تربیت ان کا محبوب مشن تھا اور وہ اس تنظیم کے صدر رہے۔ اسی اثنا میں انہوں نے دار العلوم ندوۃ العلماء میں بطور استاذِ حدیث شمولیت اختیار کی اور چند ہی برسوں میں اپنے درس و تدریس کے اسلوب سے ہزاروں طلبہ کے قلوب پر نقش ہو گئے۔ بعد ازاں وہ شعبۂ دعوت و شریعت کے سربراہ مقرر ہوئے اور اسی عہدے پر فائز رہ کر انہوں نے علمی دنیا میں ایک ایسا مقام حاصل کیا جس کی مثال کم ملتی ہے۔ ان کے شاگرد آج دنیا کے مختلف ممالک میں اسلامی علوم کی خدمت کر رہے ہیں اور ان کی علمی و روحانی تربیت کا ثمرہ آج بھی زندہ ہے۔
مولانا سلمان ندوی کا ذہن بیک وقت مختلف علوم میں گہرائی رکھتا تھا۔ وہ عربی اور اردو میں کئی کتابوں کے مصنف تھے جن کا دائرہ اسلامی الٰہیات، حدیث، تاریخ اور عصرِ حاضر کے مسائل تک وسیع تھا۔ وہ نہ صرف ایک عالم تھے، بلکہ ایک عمیق مفکر اور شعلہ بیان خطیب تھے، جن کی تقریریں اور تحریریں امن، آشتی اور بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغام دیتی تھیں۔ وہ کئی علمی جرائد کے مدیر بھی رہے اور عالمی اتحاد برائے علمائے اہلِ اسلام کی مجلسِ امناء کے رکن کی حیثیت سے عالمی سطح پر علمی و فکری قیادت فراہم کرتے رہے۔
مولانا سلمان ندوی کی شخصیت کا سب سے منفرد پہلو قومی سطح پر حساس معاملات میں ان کا بے خوف اور باشعور موقف تھا۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں، جب رام جنم بھومی اور بابری مسجد کا تنازع پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھا، ایک جری اور مختلف راستہ اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی جنگ کے بجائے مذاکرات سے مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے اور اسلام بعض حالات میں مسجد کی منتقلی کی بھی اجازت دیتا ہے۔ ۲۰۱۸ء میں انہوں نے شری شری روی شنکر کے ساتھ کئی دور مذاکرات کیے اور ایک ایسے فارمولے کی وکالت کی جس میں متنازع زمین پر رام مندر اور متبادل جگہ پر مسجد کی تعمیر ممکن ہو سکتی تھی۔ اس موقف پر انہیں شدید حمایت اور مخالفت دونوں کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ان سے علیحدگی اختیار کر لی، مگر وہ اپنے اصولوں پر سختی سے ڈٹے رہے اور امن و آشتی کو ہر چیز پر ترجیح دی۔ اگرچہ ان کی ثالثی کی کوششیں کسی رسمی معاہدے پر ختم نہ ہو سکیں، لیکن انہوں نے ایک ایسا فکری راستہ متعارف کرایا جس نے مستقبل میں مذاکرات کے امکانات کو روشن کیا۔
مولانا سلمان ندوی کا دامنِ خدمت صرف درس و تدریس اور تصنیف و تالیف تک محدود نہیں رہا۔ وہ متعدد طبی، معلوماتی ٹیکنالوجی اور ہندسیات کے معلوماتی اداروں کے بانی ارکان تھے۔ ڈاکٹر عبدالعلی یونانی طبیہ کالج اور ہسپتال کے صدرِ مجلس اور جامعہ سید احمد شہید کاٹولی کے امیرِ جامعہ کی حیثیت سے انہوں نے جدید اور دینی تعلیم کے امتزاج کو فروغ دیا۔ ان کی یہ کوششیں اس بات کی غماز ہیں کہ وہ ایک دور اندیش رہنما تھے، جو امت کو علم و عمل کے ساتھ ترقی کے راستے پر گامزن دیکھنا چاہتے تھے۔
مولانا سلمان ندوی کی رحلت پر ملک گیر سطح پر علمی, دینی اور سیاسی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انڈین مسلمس فار سول رائٹس کے صدرِ مجلس اور سابق رکنِ پارلیمنٹ محمد عدیب نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مولانا سلمان حسینی ندوی کا انتقال میرے لیے ذاتی طور پر بہت بڑا صدمہ ہے؛ میں دار العلوم ندوۃ العلماء میں جایا کرتا تھا جب وہ طالب علم تھے، ان کی غیر معمولی ذہانت، وسیع علم، عمدہ اندازِ گفتگو اور صلاحیتوں کو دیکھ کر مجھے یقین تھا کہ یہ نوجوان ایک دن امت کا رہنماء بنے گا اور تاریخ نے بالکل یہی ثابت کیا۔ انہوں نے مولانا کو "بے مثال خطیب، بے خوف داعی، ممتاز عالم اور گہرے مفکر” قرار دیا اور کہا کہ ان کی علمی و فکری خدمات نے عالمی سطح پر ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندگی کی۔
نمازِ جنازہ پیر کی شام عصر کے وقت جامعہ سید احمد شہید کاٹولی، ملیح آباد میں ادا کی گئی، جہاں ہزاروں عقیدت مندوں نے شرکت کیا۔ ان کی وصیت کے مطابق، انہیں اسی تعلیمی ادارے کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کے فرزند یوسف حسینی نے اپنے والد کی میراث کے بارے میں بتایا کہ میرے والد مسلسل لوگوں کی خدمت اور ضرورت مندوں کی مدد کی ترغیب دیتے تھے، یہی اصول انہوں نے پوری زندگی اپنایا اور اپنی تعلیمات میں بھی اس پر زور دیتے رہے۔
مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال واقعی امتِ مسلمہ کا ایک عظیم خسارہ ہے۔ انہوں نے علمِ حدیث و تفسیر کی ترویج، نوجوانوں کی تربیت، سماجی اصلاح، اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں جو خدمات انجام دیں، وہ صدیوں تک یاد رکھی جائیں گی۔ ان کی تحریریں اور علمی تصانیف آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ اس عظیم عالم، مصلح اور داعی کی وفات سے ایک ایسا علمی و فکری خلاء پیدا ہوا ہے جسے پر کرنا آسان نہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے اہلِ خانہ، شاگردوں، عقیدت مندوں اور پوری امت کو صبرِ جمیل سے نوازے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے