कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جنت کی گیارنٹی

از: ظفر ہاشمی ندوی
سابق فیملی کونسلر دبئی کورٹ
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

ہر مسلمان کی دلی خواہش ہے کہ اسے دنیا ہی میں جنت میں جانے کی گیارنٹی مل جائے۔ مگر اس امت میں صرف دس مسلمان ایسے ہیں جن کو واقعی یہ گیارنٹی ملی ہے اور وہ ہیں: حضرت ابو بکر الصدیق، حضرت عمر بن الخطاب، حضرت عثمان بن عفان، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت طلحہ بن عبید اللہ، حضرت زبیر بن العوام، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہم۔ (ترمذی، سنن ابی داؤد، مسند احمد بن حنبل رحمہ اللہ)
ان کے بعد قیامت تک پیدا ہونے والے مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو باتیں ایسی بتائی ہیں کہ اگر کوئی مسلمان ان دو باتوں پر زندگی بھر عمل کر لے تو اس کی جنت کی ضمانت اور گیارنٹی خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ (عن سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’من یضمن لی ما بین لحییہ وما بین رجلیہ أضمن لہ الجنۃ‘‘۔ جو شخص مجھے اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان والے حصے کی اور اس کے دونوں پیروں کے درمیان والے حصے کی ضمانت دے دے، میں اس کو جنت کی ضمانت و گیارنٹی دیتا ہوں۔)
عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہے۔ پھر بھی کچھ سمجھنے کی ضرورت ہے:
حدیث میں پہلا مطالبہ زبان کی حفاظت، یعنی اس کا صحیح استعمال ہے۔ زبان زیادہ سے زیادہ اللہ کے ذکر کے لیے، قرآن پڑھنے، اچھی بات بولنے اور کسی کی دینی اور دنیوی رہنمائی کے لیے استعمال ہو۔ زبان سے کسی کا دل نہ دکھایا جائے، غیبت، چغلی اور گالی گلوچ ہرگز نہ ہو۔ دینی یا دنیوی مشورہ غلط نہ ہو۔ دوسری حدیث میں ہے: (من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیقل خیراً او لیصمت) جس شخص کا اللہ اور آخرت پر ایمان ہے، تو وہ ہمیشہ زبان سے فائدے والی بات بولے یا پھر چپ رہے۔
ایک اور حدیث میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے بہت بڑی بات پوچھی اور یہ آسان بات ہے اس کے لیے جس کو اللہ آسان کر دے۔ تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، نماز کو قائم کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور حج کرو۔ اس کے بعد فرمایا: کیا میں تمہیں اچھے کاموں کے طریقے بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے اور صدقہ گناہ کو ایسے ختم کرتا ہے جیسے پانی آگ کو، اور آدھی رات کے بعد کسی کا نماز پڑھنا۔ پھر آیت تلاوت فرمائی: (ان کے یعنی سچے مسلمانوں کے پہلو یعنی جسم بستر سے دور اور اپنے رب کے حضور عبادت کرتے رہتے ہیں) پھر فرمایا: کیا میں تمہیں ان سب باتوں کو ملا کر ان کی جڑ، اس کا ستون اور اس کی سب سے اونچی چوٹی تک پہنچ جانے کا راستہ بتاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ فرمایا: تمام کاموں کی بنیاد اسلام لانا ہے، اس کا ستون نماز ہے اور اس کی سب سے اونچی چوٹی جہاد ہے۔ پھر فرمایا: کیا میں تم کو ان سب باتوں کی اصل بنیاد بتاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ تو آپ نے اپنی زبانِ مبارک کو ہاتھ لگاتے ہوئے فرمایا: (کف علیک ہذا) تم اس کی حفاظت کرو۔ حضرت معاذ نے عرض کیا: کیا ہم جو بات چیت کرتے رہتے ہیں اس کی پکڑ ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! مجھے تم پر تعجب ہے، لوگ اپنی اپنی باتوں سے کمائے ہوئے گناہوں کی وجہ سے ہی اپنے منہ کے بل یا ناک کے بل جہنم میں پھینکے جائیں گے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! سب سے بہتر مسلمان کون ہے؟ آپ نے فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’ما یلفظ من قول إلا لدیہ رقیب عتید‘‘۔ انسان جو لفظ بھی بولتا ہے، اسے وہیں بڑا باریک بین اور ٹھیک وہی بات لکھنے والا موجود ہے۔
جہاں تک شرمگاہ کی حفاظت ہے، وہ ہر شخص کو اچھی طرح معلوم ہے، یعنی زنا کاری نہ ہو۔ اس بارے میں سب سے پہلے نظر کی حفاظت ضروری ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: (یا علی لا تتبع النظرۃ النظرۃ فإن لک الأولی ولیست لک الآخرۃ) اے علی! کسی عورت کی طرف بار بار نظر مت ڈالو کیونکہ پہلی نظر معاف ہے، دوسری نہیں۔
دوسری حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدم کی اولاد پر کچھ نہ کچھ زنا لکھ دیا گیا ہے اور وہ ہر حال میں ہوتا رہے گا۔ اس لحاظ سے آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، کانوں کا زنا سننا ہے، زبان کا زنا ویسی باتوں کا کرنا ہے، ہاتھ کا زنا چھونا ہے، پیروں کا زنا اس کام کے لیے چلنا ہے اور دل اس کی خواہش اور تمنا کرتا ہے، اور شرمگاہ اس کی تصدیق کر دیتی ہے یا جھٹلا دیتی ہے۔ (بخاری و مسلم)
ایک اور حدیث میں بڑی سخت بات کہی گئی ہے: زنا کی حالت میں زانی کا ایمان باقی نہیں رہتا اور چوری کی حالت میں چور کا ایمان ختم ہو جاتا ہے اور شراب پینے کی حالت میں شرابی کا ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔ (بخاری شریف) تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان تین کبیرہ گناہوں کے کرنے والوں پر کلمۂ طیبہ پڑھنا، یعنی دوبارہ مسلمان ہونا ضروری ہے اور ایمان کی تجدید کیے بغیر اگر مر گیا تو کافروں میں شمار ہوگا۔
آخر میں علامہ اکبر الہ آبادی کے اشعار پڑھ لیجیے اور اس پر عمل بھی کیجیے:
نیچر کو ہوئی خواہشِ زن کی
اور نفس نے چاہا رشکِ پری
شیطان نے دی ترغیب کہ ہاں
لذت تو ملے، زانی ہی سہی
۔
نیچر کی طلب بالکل ہے بجا
اور نفس کی خواہش بھی ہے روا
شیطان کا ساتھ البتہ برا
اور خوفِ خدا ہے اس کی دوا
۔۔۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے