कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جمعیۃ علماء دہلی و ہریانہ کی دو روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

نئی دہلی:29؍جون (پریس ریلیز) جمعیۃ علماء صوبۂ دہلی و ہریانہ کے زیرِ اہتمام 26 و 27 جون (جمعہ و ہفتہ) کو دو روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد ہوئی، جس میں جمعیۃ علماء ہند کے مختلف شعبوں، دینی خدمات اور تنظیمی ذمہ داریوں پر جامع رہنمائی پیش کی گئی۔
ورکشاپ کا آغاز مولانا کفایت اللہ ندوی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ پہلی نشست کی صدارت جمعیۃ علماء ہریانہ کے ناظمِ اعلیٰ مولانا یحییٰ کریمی نے فرمائی، جبکہ افتتاحی خطاب جمعیۃ علماء ہند کے ناظمِ علوم حضرت مولانا حکیم الدین صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا۔ انہوں نے شرکاء کو نہایت قیمتی نصائح اور مؤثر رہنمائی سے نوازا۔
اس نشست میں سب سے پہلے ماڈل ولیج کے موضوع پر جناب شارق عبداللہ نے تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی، جس سے متعلق عملی ہدایات حافظ یوسف نے دیں۔ اس کے بعد قاری محمد سلیم نے ائمۂ مساجد کی ذمہ داریوں اور ضروری رہنما اصولوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔دوسری نشست، جو جمعیۃ علماء دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری قاسمی کی صدارت میں منعقد ہوئی، قاری فاروق کی تلاوتِ کلامِ پاک سے شروع ہوئی۔ اس نشست میں دینی تعلیمی بورڈ کے موضوع پر قاری عبد السمیع جنرل سکریٹری دینی تعلیمی بورڈ نے تفصیلی اور اعداد و شمار پر مبنی پرزنٹیشن پیش کی ۔ جس میں مکاتب کے قیام کو نئی نسل کے ایمان کے تحفظ اور معاشرے کی اصلاح کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ اس موضوع سے متعلق ضروری ہدایات مفتی محمد انصار الحق قاسمی نے پیش کی۔ بعد ازاں مفتی سلیم احمد نے اصلاحِ معاشرہ اور نکاح کونسلنگ کے موضوع پر خطاب کیا، جبکہ اس سے متعلق اہم ہدایات مفتی حسام الدین نےپیش فرمائی۔
ہفتہ کی صبح تیسری نشست قاری عبد الغفار کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں ڈاکٹر شبیر مشتاق نے شعبۂ خیر کی افادیت بیان کی۔ مولانا دلشاد نے درسِ قرآن کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے زور دیا کہ کم از کم ہر محلہ کی بڑی مسجد میں درسِ قرآن کا باقاعدہ اہتمام ہونا چاہیے۔ اس کے بعد مولانا محمد قاسم نے شعبۂ جیم کی ضرورت اور موجودہ ان مشکل کن حالات میں اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جبکہ اس شعبہ سے متعلق عملی ہدایات مولانا محمد عالم (گومٹ ) نے پیش کی۔
بعد ازاں دارالعلوم دیوبند کے استاذ مفتی عمران اللہ نے جمعیۃ علماء ہند کی تاریخ، خدمات اور اس سے وابستگی کی اہمیت پر نہایت مؤثر خطاب فرمایا۔ اس کے بعد مثالی مسجد کے موضوع پر مولانا محمد عمر قاسمی نے مسجد نبوی ﷺ کو نمونہ قرار دیتے ہوئے مساجد کو عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ دینی، تعلیمی اور سماجی مرکز بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور مثالی مسجد کے بنیادی، معیاری اور اختیاری تقاضوں کی وضاحت کی۔
اس کے بعد مولانا یاسین جہازی نے جمعیۃ علماء ہند کا تعارف تاریخی پس منظر اور تنظیمی خدمات کے ساتھ نہایت جامع انداز میں پیش کیا۔اسی دوران جمعیۃ علماء ہند کے صدر، قائدِ ملت حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب دامت برکاتہم تشریف لائے اور "انفرادیت و اجتماعیت” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ دینی و ملی کام خود بھی انجام دینا ہے اور دوسروں کو بھی اس کی طرف آگے بڑھانا ہے۔
ورکشاپ کے دوران شرکاء نے مختلف شعبوں کے ذمہ داران سے تبادلۂ خیال بھی کیا اور اپنے سوالات و تجاویز پیش کیں۔
آخر میں دینی تعلیم بورڈ کے صدرحضرت مولانا اخلاق صاحب کی دعا پر یہ دو روزہ تربیتی ورکشاپ نمازِ ظہر سے قبل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے