कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کربلا : اہل بیت کی بے مثل قربانی کا استعارہ:آیتِ مباہلہ واقعۂ کربلا کی تمہید

تحریر:سیّد علی انجم رضوی
(Mob.9423489091)

واقعۂ کربلا تاریخ انسانی کا ایک ایسا باب ہے جو تاقیامت تازہ بہ تازہ رہے گا ۔ حق و باطل کا یہ معرکہ ہر دور میں حقانیت کا علمبردار بن کر ابھرتا رہے گا ۔ باطل کے سامنے سرنگوں ہونے کے بجائے اپنی پوری قوت سے صدائے احتجاج بلند کرنے کی علامت بن کر باطل کے ایوانوں کو للکارتا رہے گا ۔ صبحِ قیامت تک سرفروشانِ راہِ حق کے لیے محرِک ثابت ہوگا۔ آخر وہ کون لوگ تھے جنھوں نے کربلا کی سر زمین پر اپنے خون سے شریعتِ مطہرہ کی حفاظت فرمائی ۔ اپنے ننھے بچوں کو تک شریعت کی بقا کے لیے قربان کر دیا ۔ ان کے فضائل و مناقب نہ صرف زبانِ مصطفیٰ ﷺ بیان کرتی رہی ہے بلکہ اللہ رب العزت نے بھی قرآنِ کریم میں ان کی طہارت و پاکی کو بیان فرمایا ہے ۔ آئیے اہل بیت کے مقامِ امتیاز کو سمجھنے کے لیے چند احادیثِ مبارکہ کا مطالعہ کریں ۔
فضائلِ حسنین کریمین :
یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ حسین رضی اللہ عنہ مجھ سے ہیں اور میں حسین رضی اللہ عنہ سے ہوں ، جو شخص حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہے تو اللہ اس سے محبت کرے اور حسین رضی اللہ عنہ میری اولاد سے ہیں ۔ ‘‘ ( ترمذی ۔ 3775 ، ابن ماجہ ۔ 144 مسند احمد ، مشکوٰۃ )
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقائے دو جہاں ﷺ نے علی ، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم سے فرمایا ’’ میں لڑنے والا ہوں اُس سے جس سے تم لڑو اور صلح جوئی کرنے والا ہوں اُس سے جس سے تم صلح جوئی کرو ۔ ‘‘ ( ترمذی ۔ 3870 ، ابن ماجہ 145 ، مسند احمد ، مشکوٰۃ )
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ جس نے حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی ۔‘‘ ( ابن ماجہ 143 ، مسند احمد)
حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم سے روایت ہے کہ شافعِ محشر ﷺ نے حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا ’’ جو مجھ سے محبت کرے اور ان دونوں سے اور ان دونوں کے باپ اور ان دونوں کی ماں سے محبت کرے تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجہ میں ہوگا ۔ ‘‘ ( ترمذی 3733 ، مسند احمد)
حضرت عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سرورِ عالم ﷺ نے فرمایا ’’ کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کی جان سے بھی محبوب تر نہ ہو جاؤں اور میرے اہل بیت اسے اس کے اہل خانہ سے محبوب تر نہ ہو جائیں اور میری اولاد اسے اپنی جان سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جائے اور میری ذات اسے اپنی ذات سے محبوب تر نہ ہو جائے ۔ ‘‘ ( المعجم الکبیر ، المعجم الاوسط ، شعب الایمان ، دیلمی )
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں حضور نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا ’’ میرے اہل بیت کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانندہے جو اس میں سوار ہو گیا نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ غرق ہو گیا ۔ ‘‘ ( المعجم الکبیر ، المعجم الاوسط ، والحاکم فی مستدرک، والبزاز فی المسند)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے سنا حضور اکرم ﷺ فرمارہے تھے ’’ اے لوگو ! میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہوگے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے ، ایک اللہ کی کتاب دوسری میری عترت ( یعنی اہل بیت ) ہیں ۔ ‘‘ (ترمذی 3786 ، المعجم الکبیر ، المعجم الاوسط ، تفسیرابن کثیر)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما جنّتی جوانوں کے سردار ہیں ۔ ‘‘ ( ترمذی ۔ 3768 )
سرکار ابد قرار ﷺ نے فرمایا ’’ یہ دونوں ( حسنین کریمین رضی اللہ عنہما ) دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۔ ‘‘ ( بخاری ۔ 3753 )
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پاس رات کے وقت گیا تو آپ ﷺ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو ایک کولہے پر بٹھایا ہوا تھا جبکہ دوسری طرف سیدنا حسن رضی اللہ عنہ تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں ، اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تُو بھی ان سے محبت فرما اور جو ان سے محبت کرے اس سے بھی محبت فرما ۔ ‘‘ ( جامع ترمذی ۔ 3769 )
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبیٔ پاک ﷺ ایک صبح باہر تشریف لے گئے اور آپ ﷺ پر اوُن کی مخلوط چادر مبارک تھی ، پس حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما تشریف لائے ، آپ ﷺ نے انھیں چادر مبارک میں داخل فرمایا ۔ پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور آپ ﷺ نے انھیں بھی اپنی چادر میں داخل فرمایا ۔ پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں تو آپ ﷺ نے انھیں بھی اپنی چادر مبارک میں داخل فرما لیا۔ پھر حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم تشریف لائے اور آپ ﷺ نے انھیں بھی اپنی چادر مبارک میں داخل فرما لیا ۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی ۔
’’ اللہ تو یہی چاہتا ہے ، اے نبی کے گھر والو ! کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرمادے اور تمھیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے ۔ ‘‘ ( سورۂ احزاب ، آیت 33 ) ( صحیح مسلم )
حسنین کریمین سے سرکار ﷺ کو بے پناہ محبت تھی ۔ اسی محبت کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق بھی سرکار ﷺ کے مشابہ کر دی تھی ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم سے روایت ہے انھوں نے فرمایا ’’ حسن رضی اللہ عنہ سینے سے لے کر سر تک رسول اللہ ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں جبکہ حسین رضی اللہ عنہ آپ ﷺ سے اس سے نچلے حصہ سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ ‘‘ (ترمذی ۔ 3779 ، مشکوٰۃ)
رسول اللہ ﷺ کی خوشنودی حاصل کرنے کا صدیقی نسخہ :
آخر میں خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعے خوشنودیٔ مصطفیٰ ﷺ کے لیے نسخۂ کیمیاء ملاحظہ فرمائیں ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ۔
’’ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے قُرب ( خوشنودی ) کو اہلِ بیت میں تلاش کرو ۔ ‘‘ ( صحیح بخاری ۔ 3751 )
خیر القرون میں حاسدینِ اہل ِ بیت :
ان تمام فضائل و مناقب کے باوجودایسے بدبخت لوگ بھی زمانۂ نبوی ﷺ میں موجود تھے جو آپ ﷺ کے خاندان والوں سے بغض رکھتے تھے ۔
حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’ ہم جب قریش کی جماعت سے ملتے اور وہ باہم گفتگو کررہے ہوتے تو گفتگو روک دیتے ہم نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں اس امر کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ، جب میرے اہل بیت سے کسی کو دیکھتے ہیں تو گفتگو روک دیتے ہیں ۔ اللہ رب العزت کی قسم ! کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہوگا جب تک ان ( یعنی میرے اہل بیت ) سے اللہ تعالیٰ کے لیے اور میری قرابت کی وجہ سے محبت نہ کرے ۔ ‘‘ ( ابن ماجہ 140)
ایک خیال یہ بھی گزرتا ہے کہ چند صحابہ یونہی گفتگو بند کر لیتے ہوں گے ۔لیکن حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا شکایت کرنااور آقا ﷺ کا جلال میں آکر تلخ کلامی کرناظاہر کرتا ہے کہ کچھ لوگ یقیناً اہل بیت کو تکلیف پہنچاتے ہوں گے۔ لہٰذا آپ ﷺ کے مقدس دور میں جہاں کثیر تعداد میں لوگ آپ ﷺ کے گھر والوں پر اپنی جان نچھاور کرتے تھے ، وہیں چند ایسے بھی بد بخت تھے ، جو اہل بیت سے بغض رکھتے تھے ۔ اس کی کئی مثالیں احادیثِ مبارکہ سے پیش کی جا سکتی ہیں ۔ بغض کی یہ چنگاری زمانہ قدیم ہی سے دہک رہی تھی ۔
بنو امیّہ کی اہلِ بیتِ اطہار سے شدید دشمنی :
اہلِ بیتِ اطہار سے کچھ لوگوں کی دشمنی تو دورِ رسالت مآب ﷺسے موجود تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ اس قدر ہولناک واقعۂ کربلا یوں ہی برپا نہیں ہو گیا ۔ خاص طور سے قبیلہ بنو امیّہ کو خاندانِ نبوت سے خدا واسطے کا بَیر تھا۔ جو اُن کے اسلام لانے کے بعد بھی کم نہیں ہوا بلکہ زمانہ کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہی گیا ۔اس کی کئی وجوہات تھیں ۔سب سے بڑی وجہ تو یہ تھی کہ اعلانِ نبوت کے بعد مسلمانوںپر سب سے زیادہ ظلم و ستم کرنے والوں میںقریشِ مکہ بالخصوص ابوسفیان بن حرب ، عمرو بن ہشام یعنی ابوجہل اور دیگر سردارانِ مکّہ پیش پیش تھے ۔ اُنھیں رحمۃ اللعٰلمین ﷺ اور اُن کے مقدس خاندان سے بے پناہ نفرت تھی ۔
دوسری بڑی وجہ بنو امیّہ کے سرداروں کا آقا ﷺ کے رشتہ داروں کے ہاتھو ں جہنم رسید ہونا ۔ جنگِ بدر میں رسول اللہ ﷺ کے عزیز ترین چچا حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں ابو سفیان کی بیوی اور حضرت معاویہ کی ماں ہندہ بنتِ عتبہ کے باپ عتبہ بن ربیعہ ، مولائے کائنات مولیٰ علی کرم اللہ وجہ الکریم کے ہاتھوں ہندہ کے چچاشیبہ بن ربیعہ اور ہندہ کے بھائی ولید بن عتبہ مارے گئے ۔خاندانِ ابو سفیان کے دلوں میں اس کا بے حد غم و غصہ موجود تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت معاویہ کی ماں ہندہ نے جنگِ احد میںایک حبشی غلام وحشی بن حرب کے ذریعہ حضرت امیر ہمزہ کو شہید کروا یا ، ان کی لاش کا مثلہ کیا اور ان کا سینہ چاک کر کے کلیجہ چبایا ۔ ( بخاری شریف ۔، صحیح حدیث نمبر 4072 ) ۔ یہ انتہائے اظہارِ نفرت تھا ۔ سرورِ کونین ﷺ کو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بہت گہرا صدمہ تھا ۔ آپ ﷺ کے غم و غصہ کا یہ عالم تھا آپ ﷺ نے حضرت امیر حمزہ کو شہید کرنے والے وحشی بن حرب کے ایمان لانے کے بعد اور درجۂ صحابیت پر پہنچ جانے کے بعدبھی اسے طلب کرکے حکم فرمایا کہ ’’ کیا توٗ ایسا کر سکتا ہے کہ اپنی صورت مجھے کبھی نہ دکھاؤ ۔‘‘ (ایضاً)
یہ وہی رحمۃ اللعٰلمین ﷺہیں جو اپنے بڑے سے بڑے دشمن کو معاف فرما کر نوازتے ہیں ۔ ایمان لانے کے بعد سابقہ مٹ جاتے ہیں مگر آپ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل سے انتہائی نفرت کا اظہار فرما کر اسے اپنی نظروں سے ہمیشہ کے لیے دور کر دیا ۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت حمزہ کا کلیجہ چبانے والی حضرت معا ویہ کی ماں جگر خوار ہندہ سے آپ کا رویہ کیسا رہا ہوگا ۔
حضرت معاویہ کی خلیفۂ راشد مولیٰ علی علیہ السلام سے بغاوت :
اسی پس منظر کے ساتھ جب مولیٰ علی علیہ السلام کثیر تعداد صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اور مسلمانوں کی غالب اکثریت کے ذریعہ خلیفہ بنائے گئے تو حضرت معاویہ نے بغاوت کر کے شام میں اپنی الگ حکومت قائم کر لی ۔ خلیفۂ راشد مولیٰ علی کے خلاف جنگِ صفین لڑی ۔ اپنے انتقال سے پہلے اپنی عیسائی بیوی میسونہ کے بطن سے پیدا ہونے والے خبیث بیٹے یزید کو ولی عہد بنایا۔ اپنے دورِ حکومت میں ہی یزید پلید کی ولی عہدی کے لیے منظم طور پر کوششیں کیں ۔ اس کے لیے مختلف علاقوں میں ان کے گورنروں نے تلوار کے زور پر صحابۂ کرام کو ڈرا دھمکا کر یزید کی بیعت لی ۔
پلید یزید بن معاویہ کی ظالمانہ بادشاہت :
حجازِ مقدس میںحضرت معاویہ کا گورنر خبیث مروان بن حکم تھا ۔ یہ بنو امیہ کے اُسی بد بخت حَکم بن ابی العاص ثقفی کا ناہنجار بیٹا تھا جسے رسولِ اکرم ﷺ نے اس کی گستاخیوں کی بنا پر شہر بدر کر دیا تھا۔ شیخین کریمین ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اپنے اپنے دورِ خلافت میںمدینہ منورہ آنے کی اس کی درخواست ٹھکرا دی تھی ۔ مگر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میںاس خبیث حَکم کو قریبی رشتہ دار ہونے کی وجہ سے مدینہ منورہ آنے کی اجازت دے دی ۔ اس کے بیٹے مروان کو داماد بنا لیا ۔وہ بھی اپنے باپ کی طرح فتنہ انگیز اور اسلام دشمن تھا ۔ حجاز میں اپنی گورنری کے دوران حضرت معاویہ کے حُکم پر مروان بن حَکم نے مسجد نبوی میں اپنی تقریر کے دوران یزید کے فضائل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ابوبکر و عمر کی طرح حضرت معاویہ بھی اپنے بعد یزید کو خلیفہ بنانا چاہتے ہیں۔اس پر حضرت ابوبکر صدیق کے صاحب زادے حضرت عبد الرحمٰن بن ابوبکر نے اسے برا بھلا کہااور کہا کہ یہ توروم کے عیسائی بادشاہ ہر قل یا قیصر کا طریقہ ہے ۔ اس پر مروان کے سپاہی ان کے پیچھے دوڑے تو حضرت عبدالرحمٰن بن ابو بکر نے اپنی بہن امّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکے حجرہ میں پناہ لی ۔ ( بخاری شریف ،حدیث نمبر 4827، المستدرک الحاکم ، حدیث نمبر 8483 )
آیتِ مباہلہ واقعۂ کربلا کی تمہید :
اس طرح سے ناپاک سازشوں کے بعد جب پلید یزید بن معاویہ جیسا عیاش ، فاسق و فاجر اور شریعت کی علی الاعلان خلاف ورزی کرنے والا ظالم حکمراں سلطنتِ اسلامیہ پر مکمل منصوبہ بندی کے ذر یعہ قابض ہو گیا تو شریعت کی بقا کے لیے خاندانِ نبوت ﷺ ہی کو مقابلہ پر آنا تھا ۔ دیگر کئی اکابر شخصیات کے موجود رہتے محض خاندان نبوت کا اس طرح دیوانہ وار تحفظِ دین مصطفیٰ ﷺکے لیے یزید پلید کے خلاف میدان میں اتر جانا یونہی نہیں تھا ۔ بلکہ اس کی تمثیل تو اللہ رب العزت نے بہت پہلے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمادی تھی ۔ جسے آیتِ مباہلہ کہا جاتا ہے ، جو یوں ہے ۔
’’ پھر اے محبوب ! جو تم سے عیسیٰ کے بارے میں حجت کریںبعد اس کے کہ تمھیں علم آچکا تو ان سے فرمادو آؤ ہم بُلائیں اپنے بیٹے اور تمھارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمھاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمھاری جانیں ، پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ‘‘ ( ترجمہ کنزالایمان ۔ سورہ آلِ عمران ، آیت 61 )
جب سرورِ کائنات ﷺ نے نجران کے نصرانیوں کو یہ آیت مباہلہ پڑھ کر سنائی تو آپ ﷺ کی گود میں امامِ حسین تھے ۔ دستِ مبارک میں امامِ حسن کا ہاتھ تھا ۔ سیّدہ فاطمہ اور حضرت علی رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ ﷺ کے پیچھے تھے ۔ نصرانی یہ دیکھ کر مباہلہ کی ہمت نہ کر سکے اور راہِ فرار اختیار کی ۔
( تفسیر خزائن العرفان ۔ خلیفۂ اعلیٰ حضرت سیّد نعیم الدین مرادآبادی )
شہادتِ خاندانِ نبوت :
مباہلہ کا یہ واقعہ سانحۂ کربلا کی تمہید ہے ۔لہٰذا شریعت مطہرہ کی بقا کے لیے امامِ عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے خاندان کے ساتھ یزیدی قوتوں کے خلاف میدانِ کارزار میں بلا خوف سینہ سِپر ہوئے ۔ اگر آپ بھی پلید یزید بن معاویہ کی بیعت کر لیتے تو پھر شریعتِ محمدی خبیث یزید کے ذریعہ دم توڑ دیتی ۔بنو امیّہ کے ذریعہ قائم کردہ غیر شرعی نظام ہی قیامت تک رواج پا جاتا۔ مگر نبیٔ محتشم ﷺ کی اولاد نے اپنا خون بہا کر دینِ محمدی ﷺ کی حفاظت کی ۔ یزید اور یزیدیت تو مٹ گئی مگر امام حسین علیہ السّلام اسلام کے لیے بے مثل قربانی کا استعارہ بن کر قیامت تک زدہ رہیں گے ۔ شہادتِ حسین نے اسلام کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ غریب نوازخواجہ سید معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ پکار اٹھے ’’ حتیٰ کہ بِنائے لا اِلہ است حسین ‘‘ ( یعنی حقیقت تو یہ ہے کہ لا اِلہ اِلا اللہ کی بنیاد ہی حسین علیہ السّلام ہیں )
یزید اور یزیدیت کو تو رسولِ اکرم ﷺ کے شہزادوں نے اپنا مقدس خون دے کر نیست و نابود کر دیا۔مگر ہر دور میں دشمنانِ اہلِ بیت الگ الگ روپ میں پیدا ہوتے رہیں گے ۔ وہ پھر یزیدیت کا زہر پھیلاتے رہیں گے ۔ مگر مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کے دینِ متین کی بقا اور حفاظت کے لیے تاجدارِ مدینہ ﷺ کا خاندان اور ان کے چاہنے والے ان یزیدی قوتوں کا بڑی جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے انھیں شکست دیتے رہیں گے اور ہاتفِ غیبی ہر دور میں پکارتا رہے گا ۔
قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
شہادتِ حسین علیہ السلام سے ہر کوئی غم و غصہ کا شکار تھا ۔ نہ صرف عام مسلمان بلکہ صحابہ و تابعین بھی یزید سے کھلے عام اپنی بیز اری اور امامِ پاک کی حمایت کا اظہار کرتے تھے ۔
’’ شعبہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ کسی ( عراقی آدمی ) نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی احرام کی حالت میں مکھی مار ڈالے تو اس کا کیا کفارہ ہے ؟ انھوں نے کہا اہلِ عراق مکھی مارنے سے متعلق دریافت کرتے ہیں حالانکہ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے نواسے کو شہید کر ڈالاہے ، جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ یہ دونوں یعنی حسن و حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۔ ‘‘ ( بخاری ۔ 3753 ، مسند احمد ، مشکوٰۃ )
غمِِ حسین کی فکری اساس :
یہ حقیقت ہے کہ یومِ عاشورہ ایسا مقدس دن ہے کہ کئی انبیائے کرام علیہم السلام کی حیاتِ ظاہری میں ان کے لیے یہ دن خوشی و کامیابی لے کر آیا ۔مگر 61 ہجری میں رونما ہونے والے روح فرسا واقعۂ کربلا کے بعد یومِ عاشورہ ہمارے لیے امامِ عالی مقام رضی اللہ عنہ اور ان کے خاندان والوں کی شہادت کے غم ناک منظر نامہ کو پیش کرتا ہے ۔ ہر سال 10 محرم کرب و بلا کی صعوبتوں کی یادوں کو اپنے ساتھ لاتا ہے ۔ ایک مسلمان کا اس روز بلکہ ماہِ محرم میں غم زدہ ہو جانا فطری بات ہے ۔ غمِ حسین ہر سال ہمیں معرکۂ حق و باطل کو یاد دلاتا ہے ۔ اسلام کے خلاف سَر اٹھانے والی باطل قوتوں سے ٹکرانے کا درس دیتا ہے ۔ وسائل کی کمی کا بہانہ بنا کر تھک کے بیٹھ جانے والوں کے لیے کربلا کا منظر نامہ بہتّر نفوسِ قدسیہ بمقابلہ بائیس ہزار باطل پرستوں کے لشکر کی مثال پیش کرتا ہے ۔یہی جذبہ ہمارے حوصلوں کے لیے مہمیز کا کام کرتا ہے ۔ یہی غمِ حسین کی فکری اساس ہے ۔
ہر سال غمِ حسین کیوں ؟
یہ درست ہے کہ سوگ صرف تین دن ہے ۔ مگر مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی اولاد کو بے دردی سے شہید کیے جانے کا غم توصبح قیامت تک رہے گا ۔ مگر ایسے موقعوں پر بھی ہمیں صبر کے دامن کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا ہے ۔ الحمد للہ ! اس موقع پر حقیقی محبّانِ اہلِ بیت غیر شرعی افعال سے اجتناب کرتے ہیں ۔مگر افسوس کہ آج بھی اہلِ بیتِ اطہا ر سے بغض رکھنے والے بدبخت یزیدی فکر لوگ مختلف شکلوں میں موجود ہیں۔یہ جہنمی گروہ قرآنِ مجید کی واضح آیات اور بے شمار احادیثِ مبارکہ کو پسِ پشت ڈال کر اہلِ بیت کی دشمنی میں کارفرما نظر آتے ہیں ۔ اہلِ بیتِ اطہار سے بغض رکھنے والے ایسے ہی لوگ اس موقع پر غمِ حسین علیہ السّلام سے مجروح محبانِ اہل بیت کو نصیحتیں کرتے نظر آتے ہیں کہ ماہِ محرم میں غمگین نہیں ہونا چاہیے ۔ درحقیقت ان بہانہ بازیوں کے ذریعہ یہ دشمنان حسین عوام کو ذکرِ حسین رضی اللہ عنہ سے باز رکھنے کی ناپاک سازشیں کرتے ہیں ۔امام حسین علیہ السلام کے صاحبزادے امام زین العابدین علیہ السلام جنھوں نے واقعۂ کربلا کے خونی مناظراپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمائے تھے، وہ ساری زندگی روتے رہتے تھے۔ جب لوگ ان کی گریہ و زاری پر کچھ کہتے تو امام زین العابدین علیہ السلام اُنھیں جواب دیتے کہ حضرت ایوب علیہ السلام اپنے ایک بیٹے کے غم میں اتنا روئے کہ نابینا ہو گئے ۔ مگر میرا تو پورا خاندان میرے سامنے ذبح کر دیا گیا ۔ پھر میں کیوں نہ گریہ و زاری کروں۔یہی حال محبانِ حسین علیہ السلام کا ہے ۔ وہ ہر سال اُن کی شہادتِ عظمیٰ کو یاد کر کے خود بخود غمگین ہو جاتے ہیں ۔
غمِ حسین اور امام احمد رضا :
واقعۂ کربلا پر غمگین ہونے پر اعتراض کرنے والے ان بد بختوںکے لیے مجدّدِ اسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے چند جملے تازیانۂ عبرت ہیں۔ اعلیٰ حضرت کے ان جملوں میں واقعۂ کربلا پر محبانِ اہلِ بیت پر طاری ہونے والے غم و الم کی واضح تصویر ہے ۔ بلکہ اعلیٰ حضرت تو غمِ حسین کو ایمان کی علامت قرار دے رہے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں
’’ کون سا سُنّی ہوگا جسے واقعۂ ہائلہ ( ہولناک ، بھیانک ) کربلا کا غم نہیں یا اس کی یاد سے اس کا دل محزون ( غمگین) اور آنکھ پُرنم ( آنکھوں میں آنسوں ) نہیں ، ہاں مصائب ( مصیبتوں ) میں ہم کو صبر کا حکم فرمایا گیا ہے۔ جزع فزع ( بے صبری ، چینخ و پکار )کو شریعت منع فرماتی ہے اور جسے واقعی دل میں غم نہ ہو ، اسے جھوٹا اظہارِ غم ریاء ( دکھاوا ) ہے اور قصداً غم آوری و غم پروری خلافِ رضا ہے ۔ جسے اس کا غم نہ ہو اسے بے غم نہ رہنا چاہیے ۔بلکہ اِس غم نہ ہونے کا غم چاہیے کہ اُس کی محبت ناقص ہے اور جس کی محبت ناقص اُس کا ایمان ناقص ۔ ‘‘ ( فتاویٰ رضویہ ، جلد 24 ، صفحہ488 )
کچھ دشمنانِ اہل بیت ایسے بھی ہیں جو ماہِ محرم میں بلکہ خاص عاشورہ کے دن اپنے بچوں کی شادیاں کرنے پر مُصر نظر آتے ہیں ۔ ان گمراہوں کے لیے بس اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ بلا شبہ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں سال کے کسی بھی دن شادی کرنے کی ممانعت نہیں ہے ۔لیکن ہر سال محرم میں ایک مؤمن کے لیے غمِ حسین تازہ ہو جاتا ہے ۔ پھر امام احمد رضا بھی تو کہتے نظر آ رہے ہیں کہ ’’ کون سا سُنّی ہوگا جسے واقعۂ ہائلہ کربلا کا غم نہیں ۔ ۔۔بلکہ جسے حسین کا غم نہیں ، اس کا ایمان ناقص ۔‘ ‘ یعنی جسے واقعۂ کربلا کا غم نہیں وہ سُنّی نہیں بلکہ دشمنِ اہلِ بیت ناصبی ہے ۔ کیونکہ اعلیٰ حضرت تو غمِ حسین کو ایمان سے وابستہ کر رہے ہیں ۔اس لیے جسے واقعۂ کربلا کا غم ہو وہ کیسے محرم میں اپنے بچوِں کی شادی کی خوشیاں منا سکتا ہے کہ شادی کا مطلب ہی خوشی ہوتا ہے ۔کیا وہ اپنے باپ ، دادا ، بیٹے ،بیٹیوںاور عزیزوںکی برسیوں پر شادیاں کریں گے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ ایسی مذموم حرکت کرنے والے یقینا پلید یزید بن معاویہ کے حامی اور دشمنانِ اہلِ بیت جہنمی ہیں ۔اسی لیے ناچیز غمِ حسین رضی اللہ عنہ سے مجروح اپنے دل کی کیفیت اپنے ان اشعار میں یوںبیان کرتا ہے ۔
غمِ حسین مِرے درد کی دوا ہی نہیں یہ مدعا ہے کوئی اور مدعا ہی نہیں
مِرا وجود تو مِٹ جائے گا ، یہ غم لیکن خدا کی ایسی عطا ہے جسے فنا ہی نہیں

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے