कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نئے اسلامی سال کا اہتمام

از: ظفر ہاشمی ندوی
سابق فیملی کونسلر، دبئی کورٹ
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

ہم مسلمانوں کی جتنی تعریف کی جائے اتنی کم ہے۔
ہر سال اسلامی سال کی ابتدا سو مسلمانوں میں سے شاید ایک کو یاد رہتی ہوگی، مگر ایمان کی قوت اور اپنی تہذیب و تمدن سے تعلق اتنا زیادہ ہے کہ جنوری کی پہلی تاریخ کو کبھی نہیں بھولتے۔ اور اس عیسائی مہینے کی عیسائی تاریخ پر (نیا سال مبارک) کا بھیجنا یا زبان سے بولنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ رہا بیچارہ اسلامی سال، تو وہ ہر مسلمان کی نجی زندگی میں مچھلی کی طرح تڑپتا رہ جاتا ہے۔
یہ تو اسلامی سال کے شروع ہونے پر ہمارا سوتیلا سلوک ہے۔ اس کے بعد ہر گھر میں مسلمان بچہ جنوری سے دسمبر تک کے سارے مہینوں کے نام یاد کرتا ہے اور زندگی بھر یاد رکھتا ہے، کیوں کہ گھر کے تمام افراد یہی تو کرتے ہیں۔ اب رہ گئے اسلامی مہینوں کے نام، تو وہ شروع سے ہمارے سوتیلے سلوک کے مارے ہوئے ہیں۔
اس کے بعد ہر مہینے کی اسلامی خصوصیت بھلا کون یاد رکھے گا، جبکہ عیسائی سال کے ایک ایک پل کو مسلمان عیسائیوں کی طرح یاد رکھتے ہیں۔ اسی لیے کہتے ہیں، کوا چلا ہنس کی چال، اپنی چال بھول گیا، مگر یہاں بات الٹی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہنس اور شاہین بنایا تھا۔ خود مسلمانوں نے اپنی بیوقوفی سے اپنے آپ کو کوا بنا دیا۔ اس لیے اس مثال کو مسلمانوں کی عام طور پر بے دینی کو دیکھ کر کہنا ہوگا: (ہنس چلا کوے کی چال، اپنی چال بھول گیا)۔
اب بات کرتے ہیں ہجری سال کو ہجری کیوں کہتے ہیں اور یہ کب سے شروع ہوا؟ بات یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ اسلام سے پہلے عربوں کے پاس کسی سال کا خاص نام نہیں تھا۔ عام طور پر کسی بات کی نسبت اس وقت کے قریب ترین واقعے کی طرف اشارہ کرکے کی جاتی تھی۔ عموماً یمن کے بادشاہ ابرہہ کے کعبۃ اللہ ڈھا دینے کی ناکام کوشش کی طرف اشارہ ہوتا اور اس کے حوالے سے کوئی بات ذکر کی جاتی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سن 17 ہجری میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ (امیرِ بصرہ) کو ایک سرکاری خط لکھا تو تاریخ کی جگہ شعبان لکھا۔ اس پر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے جواب میں درخواست کی کہ کسی مناسب ذریعے سے سال اور اس کی ترتیب طے کی جائے، کیونکہ صرف شعبان لکھنے سے معلوم نہیں ہوتا کہ کس سال کے شعبان کی بات ہو رہی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کی میٹنگ بلوائی اور سب سے مشورہ لیا۔ کسی صحابی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یومِ پیدائش، تو کسی نے یومِ وفات اور کسی نے کوئی اور مشورہ دیا، جو پسند نہیں کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے، اور بعض روایات کے مطابق خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ جس تاریخ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی، اس تاریخ سے اسلامی سال کی ابتدا کی جائے۔ تمام صحابہ کو یہ مشورہ پسند آیا اور اس طرح اسلامی سال کی بنیاد پڑی۔
ہجرت کا واقعہ کیوں بنیاد بنا؟
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ، اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کچھ آپ کی ہجرت سے پہلے اور آپ کی ہجرت فرمانے کے بعد، صرف اس لیے ہجرت کی، یعنی اپنا وطن، اپنا گھر بار، اپنی تجارت اور مال، یہاں تک کہ اپنی بیوی بچوں کو بھی مکہ میں چھوڑ دیا کہ وہاں رہتے ہوئے دین پر چلنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہو چکا تھا۔ ہجرت کی یہی اصلی روح ہے کہ دین پر چلنے کے مقابلے میں دنیا کی ہر چیز کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس عظیم مقصد کو سامنے رکھ کر اسلامی سال کی بنیاد دین کے لیے ہجرت پر رکھی۔ انھیں کیا پتا تھا کہ مسلمانوں کی آنے والی نسلیں ہر نئے سال کا استقبال یہودیوں، عیسائیوں اور کافروں و مشرکوں کی نقل کرتے ہوئے Happy New Year سننے اور سنانے پر اکتفا کریں گی۔
اگر ہمارے قارئین کا ضمیر زندہ ہے، اور ضمیر کا مطلب ہوتا ہے ہمارا ایمان، تو وہ ہر نئے سال کے ہر نئے دن و رات میں اس مقصد کو ہرگز نہیں بھولیں گے۔ مگر جو مسلمان روزانہ کی فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کے لیے صبح نیند، دوپہر نوکری یا تجارت کی مصروفیت، عصر کے وقت آفس یا گھر کی مشغولیت، مغرب کے وقت گھر پہنچ کر گھریلو آرام اور عشاء کے وقت رات کا کھانا کھانے کو تھوڑا سا آگے پیچھے نہیں کر سکتا، ایسا بے بس جی نہیں بلکہ بے حس اور بے غیرت مسلمان اللہ کے دین کے لیے بھلا کون سی قربانی دینے کی ہمت کر سکے گا؟
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے ہم سب کا اصلی چہرہ اپنے ایک شعر میں دکھا دیا ہے:
کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے
ہم سے کب پیار ہے، ہاں نیند تمہیں پیاری ہے
میرے بھائیو اور بہنو! اس نئے ہجری سال میں سال بھر بس پانچ وقت نماز ہر دن ادا کرکے بتا دو، تاکہ انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام لکھا سکو۔
آخر میں ایک حدیث پیشِ خدمت ہے:
المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه (بخاری و نسائی)
سچا مسلمان وہ ہے جو کسی مسلمان کو اپنی زبان اور ہاتھ سے، یعنی طاقت سے، تکلیف نہ دے، اور سچا ہجرت کرنے والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی ہر منع کی ہوئی چیز کو چھوڑ دے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے