कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عاشورہ: مغفرت اور شکر کا دن

تحریر: شعیب احمد محمدی
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

تمہید: اللہ کے دنوں میں سے ایک دن:
محرم کی 10 تاریخ، یعنی عاشورہ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص دنوں میں سے ایک دن ہے۔ اس دن کی تاریخ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جڑی ہے اور اس کی فضیلت رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے ثابت ہے۔ یہ دن ہمیں "شکر” اور "مغفرت” کا پیغام دیتا ہے۔
1. دینی فضیلت: سال بھر کے گناہوں کا کفارہ:
رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں کو عاشورہ کا روزہ رکھتے دیکھا۔ سبب پوچھا تو انہوں نے کہا: "اس دن اللہ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دی اور فرعون کو غرق کیا۔ اس شکر میں موسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا”۔ آپ ﷺ نے فرمایا: *”ہم موسیٰ کے تم سے زیادہ حق دار ہیں”* چنانچہ آپ ﷺ نے خود روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی حکم دیا۔ ` بخاری:
آپ ﷺ نے عاشورہ کے روزے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: "مجھے اللہ سے امید ہے کہ عاشورہ کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا”۔ مسلم:`
2. یہود کی مشابہت سے بچنا:
چونکہ یہودی صرف 10 محرم کا روزہ رکھتے تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: *”اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو 9 تاریخ کا روزہ بھی رکھوں گا”*۔ ` مسلم:`
لہٰذا امت کے لیے افضل طریقہ یہ ہے کہ 9 اور 10 محرم، یا 10 اور 11 محرم کا روزہ رکھا جائے تاکہ یہود کی مشابہت بھی نہ ہو۔
3. شکر اور سخاوت:
عاشورہ نجات کا دن ہے، اس لیے یہ "شکر” کا دن ہے۔ اور شکر کا بہترین طریقہ اللہ کی مخلوق پر خرچ کرنا ہے۔
4. اخلاقی سبق: حق کا ساتھ دینا:
عاشورہ کا دن ہمیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی استقامت یاد دلاتا ہے۔ فرعون جیسے جابر بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنا آسان نہیں تھا۔ مگر موسیٰ علیہ السلام ڈٹے رہے۔
یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ باطل چاہے کتنا ہی طاقتور ہو، انجام حق کا ہی ہوتا ہے۔ ہمارا کام صرف اللہ پر بھروسہ کر کے حق پر ڈٹ جانا ہے۔
5. کیا کریں؟ کیا نہ کریں؟
کرنے والے کام:
1. روزہ: 9-10 محرم یا 10-11 محرم کا روزہ رکھیں۔ یہ سب سے بڑی فضیلت ہے۔
2. اپنے أہل و عیال پر دل کھول کر خرچ کرنا
نہ کرنے والے کام:
1. خاص عبادت گھڑنا: عاشورہ کے لیے کوئی خاص نماز یا مخصوص دعا شریعت سے ثابت نہیں۔ صرف روزہ سنت ہے۔
2. رسم و رواج: اس دن کو سوگ کا دن بنا لینا، یا خاص کھانے پکانا ضروری سمجھنا، شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں۔
3. فضول خرچی: خوشی کے نام پر ناچ گانا یا آتش بازی کرنا بھی درست نہیں۔
حرفِ آخر:
عاشورہ ہمیں دو بڑے سبق دیتا ہے: 1. اللہ کی نعمت پر شکر اور 2. گناہوں سے مغفرت۔
روزہ رکھ کر ہم شکر بھی ادا کر لیتے ہیں اور ایک سال کے گناہ بھی معاف کروا لیتے ہیں۔ اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی؟
آئیے! اس عاشورہ کو رسم نہیں، عبادت بنائیں۔ روزہ، اور سخاوت سے اس دن کو قیمتی بنائیں۔
`وَمَا تَوْفِیقِیْٓ اِلَّا بِاللّٰہِ`

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے