कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

21 جون کی جغرافیائی اہمیت:گرمیوں کے انقلاب (Summer Solstice) کے تناظر میں ایک تفصیلی جائزہ

از قلم: عارف محمد خان، جلگاؤں

کرۂ ارض پر رونما ہونے والے بعض قدرتی مظاہر نہ صرف سائنسی اعتبار سے حیرت انگیز ہیں بلکہ جغرافیہ کے مطالعے میں بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک اہم واقعہ 21 جون کو پیش آتا ہے، جسے جغرافیائی اصطلاح میں گرمیوں کا انقلاب (Summer Solstice) کہا جاتا ہے۔ یہ دن شمالی نصف کرے میں سال کا سب سے طویل اور رات سب سے مختصر ہونے کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ زمین کی محوری گردش، سورج کے گرد اس کی حرکت اور موسموں کی تبدیلی کو سمجھنے کے لیے 21 جون کی اہمیت نہایت بنیادی ہے۔
21 جون کیا ہے؟
21 جون وہ تاریخ ہے جب سورج کی عمودی شعاعیں خطِ سرطان (Tropic of Cancer) پر پڑتی ہیں۔ اس وقت سورج اپنی ظاہری سالانہ حرکت میں شمال کی جانب سب سے زیادہ مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ اسی لیے اس دن کو انقلابِ صیفی (Summer Solstice) کہا جاتا ہے۔
جغرافیہ کے مطابق زمین سورج کے گرد گردش کرتے ہوئے اپنے محور پر تقریباً 23.5 درجے جھکی ہوئی ہے۔ اسی جھکاؤ کی وجہ سے مختلف علاقوں میں دن اور رات کے دورانیے میں فرق پیدا ہوتا ہے اور موسم تبدیل ہوتے ہیں۔
خطِ سرطان اور 21 جون:
خطِ سرطان ایک فرضی عرض البلد ہے جو خطِ استوا کے شمال میں تقریباً 23.5 درجے پر واقع ہے۔ 21 جون کو سورج کی شعاعیں اسی خط پر عموداً پڑتی ہیں۔
اس کے نتیجے میں:
شمالی نصف کرے میں دن سب سے بڑا ہوتا ہے۔
رات کا دورانیہ سب سے کم ہوجاتا ہے۔
شمالی نصف کرے میں گرمیوں کا آغاز تصور کیا جاتا ہے۔
جنوبی نصف کرے میں اسی وقت سردیوں کا آغاز ہوتا ہے۔
دن اور رات کے دورانیے پر اثرات:
21 جون کو زمین کے مختلف حصوں میں دن اور رات کی مدت مختلف ہوتی ہے۔
خطِ استوا کے قریب:
خطِ استوا کے علاقوں میں دن اور رات تقریباً بارہ، بارہ گھنٹے کے رہتے ہیں اور زیادہ فرق محسوس نہیں ہوتا۔
خطِ سرطان کے شمال میںجیسے جیسے شمال کی طرف بڑھتے ہیں، دن کا دورانیہ بڑھتا جاتا ہے۔ یورپ، روس اور شمالی امریکہ کے کئی علاقوں میں سورج بہت دیر سے غروب ہوتا ہے۔
قطبِ شمالی میں "آدھی رات کا سورج”
21 جون کے آس پاس قطبِ شمالی اور شمالی دائرۂ قطبی (Arctic Circle) کے اندر واقع علاقوں میں سورج مسلسل چوبیس گھنٹے افق پر نظر آتا ہے۔ اس مظہر کو "آدھی رات کا سورج” (Midnight Sun) کہا جاتا ہے۔
اس کے برعکس، جنوبی قطبی خطے میں مسلسل رات کا ماحول رہتا ہے۔
موسموں کی تشکیل میں کردارـ:
21 جون جغرافیہ میں موسموں کی تفہیم کے لیے نہایت اہم ہے۔ اگر زمین اپنے محور پر جھکی ہوئی نہ ہوتی تو:
دن اور رات کا دورانیہ ہر جگہ برابر رہتا؛موسموں کی واضح تقسیم وجود میں نہ آتی؛زرعی نظام اور انسانی سرگرمیوں کا موجودہ ڈھانچہ مختلف ہوتا۔لہٰذا زمین کا محوری جھکاؤ اور 21 جون کا انقلابِ صیفی موسموں کے نظام کی بنیاد تصور کیے جاتے ہیں۔
زراعت پر اثرات:
قدیم زمانے سے کسان سورج کی ظاہری حرکت اور دنوں کی طوالت کو مدنظر رکھ کر اپنی زرعی سرگرمیوں کا تعین کرتے رہے ہیں۔
21 جون کے بعد:
کئی علاقوں میں فصلوں کی نشوونما تیز ہوجاتی ہے۔
کاشت اور آبپاشی کے اوقات تبدیل کیے جاتے ہیں؛موسمی پیش گوئیوں اور زرعی منصوبہ بندی میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔
آج بھی جدید زرعی سائنس میں موسمیاتی کیلنڈر کی تیاری کے لیے ان جغرافیائی حقائق سے استفادہ کیا جاتا ہے۔
انسانی زندگی پر اثرات:
دن کے دورانیے میں تبدیلی انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کرتی ہے، مثلاً:
توانائی کے استعمال کے اوقات:
روزمرہ معمولات؛سیاحت اور بیرونی سرگرمیاں؛حیاتیاتی گھڑی (Biological Clock)؛موسمی مزاج اور نفسیاتی کیفیت۔اس لیے 21 جون صرف ایک فلکیاتی واقعہ نہیں بلکہ انسانی معاشرت اور معیشت سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔
قرآنِ کریم اور گردشِ ایام:
قرآنِ مجید انسان کو دن اور رات کے تغیر میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے:
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ
ترجمہ: "بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدلتے رہنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔”
(سورۂ آل عمران: 190)
یہ آیت اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ کائنات کا ہر نظام ایک حکمت اور نظم کے تحت قائم ہے، اور دن و رات کی تبدیلی انسان کے لیے غور و فکر کا ذریعہ ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے