कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سیدہ فاطمۃ الزہرا ؓکی حیات مبارکہ کے روشن پہلو

تحریر:سیداقبال ہاشمی
9696387766

حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ اکثر مؤرخین کے نزدیک آپ کی ولادت اعلانِ نبوت سے چند سال قبل ہوئی، اگرچہ تاریخِ ولادت کے سلسلے میں اہلِ سیر کے درمیان اختلاف موجود ہے۔ آپ رسولِ اکرم ؐ اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ کی سب سے چھوٹی اور نہایت محبوب صاحبزادی تھیں۔ آپ کی ولادت ایسے گھرانے میں ہوئی جوصداقت، امانت، پاکیزگی ،اخلاق اور اعلیٰ انسانی اقدار کا سرچشمہ تھا۔جب رسول اللہ ؐ کو نبوت عطا ہوئی تو حضرت فاطمہؓ کم سن تھیں۔ آپ نے اپنی آنکھوں سے اسلام کے ابتدائی دور کی آزمائشیں، کفارِ مکہ کی مخالفت، مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور دعوتِ حق کے راستے میں پیش آنے والی مشکلات کو دیکھا۔ آپ کی تربیت براہِ راست رسولؐ اور حضرت خدیجہ ؓکی نگرانی میں ہوئی، اسی لیے بچپن ہی سے آپ کے اندر عبادت، تقویٰ، صبر، حیا اور ایثار کی صفات پروان چڑھتی رہیں۔
نبوت کے ساتویں سال قریش مکہ نے بنو ہاشم اور مسلمانوں کا مکمل سماجی و معاشی بائیکاٹ کر دیا۔ اس دوران رسول ؐ، حضرت خدیجہؓ اور تمام اہلِ بیت نے تقریباً تین سال شعبِ ابی طالب میں انتہائی سخت حالات میں زندگی گزاری۔ حضرت فاطمہ ؓ بھی اس محاصرے میں شریک تھیں۔ کئی کئی دن فاقوں کی نوبت آتی، بچوں کے رونے کی آوازیں سنائی دیتیں اور خوراک کی شدید قلت ہوتی، مگر اہلِ بیت نے صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ یہ دور حضرت فاطمہ ؓ کی شخصیت کی تعمیر اور روحانی استقامت کا اہم مرحلہ ثابت ہوا۔رسول ؐ کو کفارِ مکہ مختلف طریقوں سے اذیتیں پہنچاتے تھے۔ حضرت فاطمہؓ یہ سب دیکھ کر اپنے والدِ گرامی کی خدمت میں حاضر ہوتیں اور تسلی دیتیں۔ ایک مرتبہ رسول اللہؐخانۂ کعبہ میں نماز ادا فرما رہے تھے کہ بعض مشرکین نے آپ پر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی۔ حضرت فاطمہؓ کو خبر ہوئی تو فوراً آئیں، اپنے ننھے ہاتھوں سے وہ گندگی ہٹائی اور روتی ہوئی اپنے والد محترم کے قریب کھڑی ہو گئیں۔ رسول اللہؐنے انہیں تسلی دی اور صبر کی تلقین فرمائی۔ یہ واقعہ حضرت فاطمہؓ کی والدِ محترم سے بے مثال محبت اور وفاداری کا روشن ثبوت ہے۔حضرت خدیجہؓکی وفات کے بعد حضرت فاطمہؓرسول اللہؐکی خدمت، دل جوئی اور خبرگیری میں اس قدر مشغول رہیں کہ گویا ماں کا کردار ادا کر رہی ہوں۔ اسی وجہ سے آپ کو محبت کے اظہار کے طور پر ’’اْمِّ ابیہا‘‘ یعنی ’’اپنے والد کی ماں‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
نبوت کے دسویں سال حضرت خدیجہؓ کا انتقال ہو گیا۔ یہ حضرت فاطمہؓ کیلئے انتہائی بڑا صدمہ تھا۔ کچھ ہی عرصے بعد ابو طالب کا بھی انتقال ہو گیا۔ اسی وجہ سے یہ سال اسلامی تاریخ میں ’’عامْ الحزن‘‘ کہلایا۔ اس مشکل دور میں حضرت فاطمہ ؓنے اپنے والدِ محترم کے لیے قوت، محبت اور تسلی کا ذریعہ بننے کی کوشش کی۔رسول اللہؐدعوتِ اسلام کے لیے طائف تشریف لے گئے تو وہاں آپ کو سخت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ واپسی پر حضرت فاطمہ ؓاپنے والد کی تکالیف سے بے حد رنجیدہ ہوئیں۔ آپ ہمیشہ رسول اللہ ؐکے غم میں شریک اور خوشی میں مسرور رہنے والی صاحبزادی تھیں۔ہجرت سے قبل مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم میں مزید اضافہ ہو گیا۔ حضرت فاطمہؓ ان تمام حالات کو صبر اور ایمان کے ساتھ برداشت کرتی رہیں۔ بعد میں رسول اللہؐ کے حکم سے اہلِ بیت کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لائیں۔
مدنی زندگی میں ہجرت کے بعد دوسرے سال رسول ؐ نے حضرت فاطمہ ؓ کا نکاح حضرت علی بن ابی طالبؓ سے فرمایا۔ حضرتؓ مالی اعتبار سے بہت آسودہ نہ تھے لیکن ان کے ایمان، تقویٰ اور اخلاق کی وجہ سے رسول اللہ ؐنے انہیں اپنی نورِ نظر کے لیے منتخب فرمایا۔ اس نکاح نے امت کو یہ سبق دیا کہ ازدواجی زندگی کی اصل بنیاد دین، کردار اور تقویٰ ہے، نہ کہ مال و دولت۔حضرت فاطمہ ؓ کا مہر تقریباً چار سو درہم مقرر ہوا۔ جہیز نہایت سادہ تھا جس میں ایک چارپائی، ایک بستر، ایک تکیہ، پانی کا برتن، چند گھریلو سامان اور روزمرہ کی ضروری اشیاء شامل تھیں۔ رسول اللہؐنے اس گھر کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔حضرت فاطمہؓ اور حضرت علی ؓکے یہاں پانچ معروف اولادیں ہوئیں: حضرت امام حسن ؓ، حضرت امام حسین ؓ، حضرت زینب ؓ، حضرت ام کلثوم ؓ اور حضرت محسنؓ جن کے متعلق روایات کے مطابق بچپن ہی میں انتقال کا ذکر آتا ہے۔نکاح کے بعد حضرت فاطمہؓکی زندگی انتہائی سادگی پر مبنی تھی۔ آپ گھر میں چکی پیستیں، پانی بھرتیں، کھانا تیار کرتیں اور تمام گھریلو کام اپنے ہاتھ سے انجام دیتیں۔ جب بعض اوقات مشقت زیادہ محسوس ہوئی تو حضرت علیؓنے مشورہ دیا کہ رسول اللہ ؐسے خدمت کے لیے کسی معاون کی درخواست کی جائے، لیکن رسول اللہؐ نے اس کے بجائے ایک عظیم روحانی تحفہ عطا فرمایا: سوتے وقت چونتیس مرتبہ ’’اللہ اکبر‘‘، تینتیس مرتبہ ’’الحمد للہ‘‘ اور تینتیس مرتبہ ’’سبحان اللہ‘‘ پڑھنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا کہ یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے۔
حضرت فاطمہ ؓایثار و سخاوت کا عظیم نمونہ تھیں۔ روایتوں میں آتا ہے کہ کئی مواقع پر گھر میں موجود معمولی کھانا بھی مسکینوں اور ضرورت مندوں کو دے دیا جاتا۔ اہلِ بیت کی اسی روحِ ایثار کی طرف قرآنِ کریم میں اشارہ ملتا ہے کہ وہ اپنی ضرورت کے باوجود مسکین، یتیم اور محتاج کو ترجیح دیتے ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت حسنؓ نے دیکھا کہ والدہ پوری رات مسلمانوں کے لیے دعا کرتی رہیں مگر اپنے لیے دعا نہیں کی۔ پوچھا: اماں جان! آپ نے اپنے لیے دعا کیوں نہ فرمائی؟ آپ نے جواب دیا: ’’پہلے پڑوسی، پھر اپنا گھر۔‘‘حیا اور پردے کے معاملے میں حضرت فاطمہؓ مثالی کردار رکھتی تھیں۔ آپ سے پوچھا گیا کہ عورت کے لیے سب سے بہتر کیا ہے؟ فرمایا: ’’وہ نہ غیر مرد کو دیکھے اور نہ غیر مرد اسے دیکھے۔‘‘ اس جواب کو رسول اللہؐ نے پسند فرمایا۔ اس تعلیم کا مقصد عورت کی عزت، وقار اور حیا کا تحفظ ہے۔وفات کے بعد بھی آپ نے پردے کی فکر فرمائی۔ حضرت اسماء بنت عمیس ؐ سے فرمایا کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ عورت کے جسم کا حجم کفن کے اوپر سے نمایاں ہو۔ اس پر پردے کے بہتر طریقے کا ذکر کیا گیا اور آپ نے اپنی وصیت میں اسی اہتمام کی خواہش ظاہر فرمائی۔اگرچہ آپ پردے اور وقار کی پابند تھیں لیکن جہاں دین اور حق کا تقاضا ہوا وہاں آپ نے علم، دلیل اور شریعت کی روشنی میں اپنی بات بھی پیش کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام عورت کو عزت، وقار اور شرعی حدود کے ساتھ دینی و اجتماعی کردار ادا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔اگر حضرت فاطمہ ؓ کی پوری زندگی کو چند الفاظ میں سمیٹا جائے تو وہ ہیں: عبادت، والدین کی خدمت، شوہر کے حقوق کی ادائیگی، اولاد کی دینی تربیت، حیا، صبر، ایثار، سخاوت، دین کی حمایت اور حق پر ثابت قدمی۔رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔‘‘۔
سیدہ فاطمۃ الزہراءؓکی سیرت صرف تاریخ کا ایک روشن باب نہیں بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک عملی درس گاہ ہے۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ عظمت دولت سے نہیں بلکہ کردار سے پیدا ہوتی ہے، عزت ظاہری نمود سے نہیں بلکہ حیا اور تقویٰ سے ملتی ہے، اور کامیابی راحت میں نہیں بلکہ صبر، خدمت، وفا اور اللہ کی رضا میں پوشیدہ ہے۔ آج جب معاشرہ مادیت اور ظاہری معیاروں کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے، سیدۂ کائنات کی سیرت ہمیں پھر یہ پیغام دیتی ہے کہ گھر، خاندان، معاشرہ اور امت کی حقیقی تعمیر ایمان، اخلاق، ایثار اور اللہ سے تعلق کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ کی سیرت سے سبق لینے، اپنی زندگیوں میں ان کی پاکیزہ صفات اختیار کرنے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے