कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عوامی نمائندوں کی بدلتی وفاداریاں اور جمہوری اقدار پر اٹھتے سوال

تحریر:ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ:9934933992

ہندوستان کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے، جہاں کروڑوں شہری اپنے حقِ رائے دہی کے ذریعے جمہوری نظام کو مضبوط بنیادیں فراہم کرتے ہیں۔ یہ وقار صرف آزادانہ اور منصفانہ انتخابات پر نہیں بلکہ عوامی مینڈیٹ کے احترام، سیاسی دیانت داری، آئینی وفاداری اور جمہوری روایات کے استحکام پر قائم ہے۔ جب کوئی ووٹر پولنگ بوتھ تک پہنچتا ہے تو وہ محض کسی فرد کا انتخاب نہیں کرتا بلکہ ایک سیاسی جماعت، اس کے نظریات، انتخابی منشور اور عوام سے کیے گئے وعدوں پر اپنا اعتماد ظاہر کرتا ہے۔ یہی اعتماد جمہوریت کا اصل سرمایہ اور عوامی مینڈیٹ کی روح ہے۔ لیکن جب منتخب نمائندے کامیابی کے بعد اپنی سیاسی وابستگیاں تبدیل کر لیتے ہیں، دوسری جماعتوں میں شامل ہو جاتے ہیں یا نئے سیاسی گروہوں کا حصہ بن جاتے ہیں تو معاملہ محض ایک سیاسی فیصلے تک محدود نہیں رہتا بلکہ جمہوریت کی اخلاقی بنیادوں اور عوامی اعتماد کے مستقبل سے جڑ جاتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران ہندوستانی سیاست میں جماعتی انشقاق، سیاسی انضمام اور منتخب نمائندوں کی اجتماعی نقل مکانی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، کرناٹک، گوا، اروناچل پردیش، بہار اور دیگر ریاستوں میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا عوامی مینڈیٹ واقعی عوام کے پاس محفوظ رہتا ہے یا انتخابی نتائج کے بعد ہونے والی سیاسی صف بندیاں اس کی نئی تعبیر متعین کر دیتی ہیں۔
حالیہ دنوں میں مغربی بنگال اور مہاراشٹر کی سیاسی سرگرمیوں نے اس بحث کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے بعض منتخب عوامی نمائندوں کی جانب سے الگ سیاسی شناخت اور علیحدہ گروپ کے طور پر منظوری حاصل کرنے کی کوششوں نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اسی طرح مہاراشٹر میں ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا (یو بی ٹی) کے بعض ارکانِ پارلیمان کی جانب سے پارٹی قیادت سے اختلاف کرتے ہوئے الگ سیاسی راستہ اختیار کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ان واقعات نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال اٹھایا ہے کہ کیا انتخابی مینڈیٹ فرد کے ساتھ منتقل ہو جاتا ہے یا اس سیاسی جماعت اور نظریے کے ساتھ وابستہ رہتا ہے جس کی بنیاد پر ووٹ حاصل کیے گئے تھے۔
مہاراشٹر میں شیوسینا اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی تقسیم، مدھیہ پردیش میں منتخب حکومت کی تبدیلی، کرناٹک اور گوا میں بدلتی سیاسی صف بندیاں اور مختلف ریاستوں میں سامنے آنے والی سیاسی ہلچل نے واضح کر دیا ہے کہ سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی اب محض ایک استثنائی واقعہ نہیں رہی بلکہ ہندوستانی سیاست کا ایک مستقل رجحان بنتی جا رہی ہے۔ اس رجحان نے نہ صرف سیاسی استحکام کو متاثر کیا ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی مجروح کیا ہے۔
سیاسی جماعتیں عموماً ایسے اقدامات کو نظریاتی اختلافات، قیادت سے ناراضگی یا عوامی مفاد کے نام پر جائز قرار دیتی ہیں، لیکن عوام کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں۔ اگر کسی امیدوار نے ایک جماعت کے انتخابی نشان پر ووٹ حاصل کیا اور کامیابی کے بعد کسی دوسری جماعت کا حصہ بن گیا تو کیا یہ ووٹر کے اعتماد کے ساتھ انصاف ہے؟ کیا عوام نے فرد کو منتخب کیا تھا یا اس سیاسی پلیٹ فارم کو جس کی نمائندگی کرتے ہوئے وہ میدان میں اترا تھا؟
ہندوستانی آئین سازوں نے اس خطرے کو بہت پہلے محسوس کر لیا تھا۔ 1967 کے بعد مختلف ریاستوں میں شروع ہونے والی ’’آیا رام، گیا رام‘‘ کی سیاست نے جمہوری نظام کو شدید نقصان پہنچایا۔ اسی پس منظر میں 1985 میں آئین کی 52ویں ترمیم کے ذریعے دسویں شیڈول شامل کیا گیا، جسے انسدادِ انحراف قانون کہا جاتا ہے۔ بعد ازاں 91ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اس قانون کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی گئی، لیکن عملی سیاست میں ایسے راستے نکال لیے گئے جن کے ذریعے قانون کی روح کو کمزور کیا جاتا رہا۔
اجتماعی استعفے، تکنیکی انضمام، اسپیکر کے سامنے زیرِ التوا نااہلی کی درخواستیں اور عدالتی کارروائیوں میں تاخیر نے متعدد مواقع پر عوامی مینڈیٹ کی سمت تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ نتیجتاً قانون موجود ہونے کے باوجود جمہوری اخلاقیات بارہا سیاسی مصلحتوں کی نذر ہوتی رہی ہیں۔
یقینا مختلف ریاستی اسمبلیوں اور پارلیمانی اداروں میں رونما ہونے والی سیاسی نقل مکانیوں سے بعض سیاسی جماعتوں کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ فائدہ پہنچا ہے۔لیکن اگر یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو راجیہ سبھا میں حکمراں اتحاد کی عددی طاقت مزید مستحکم ہو سکتی ہے اور مستقبل کی قانون سازی پر اس کے اثرات زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں اپوزیشن جماعتوں، آئینی ماہرین اور سول سوسائٹی کے بعض حلقوں میں یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ ملک میں جاری سیاسی صف بندیوں کا تعلق صرف حکومت سازی یا اقتدار کے استحکام سے نہیں بلکہ مستقبل کے بعض اہم آئینی اور قانونی اقدامات سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ ان حلقوں کے مطابق یکساں سول کوڈ مجوزہ حلقہ بندیوں اور آئینِ ہند کے تمہیدی حصے میں موجود ’’سیکولر‘‘ اور ’’سوشلسٹ‘‘ جیسے الفاظ کے مستقبل کے بارے میں وقفے وقفے سے ہونے والی بحثیں اسی وسیع سیاسی پس منظر کا حصہ سمجھی جا رہی ہیں۔
ایسے میں اگر مستقبل میں یکساں سول کوڈ نافذ کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات ملک کے مختلف مذہبی اور ثقافتی طبقات پر مرتب ہوں گے اور شخصی قوانین کے حوالے سے ایک نئی بحث شروع ہو گی۔ اسی طرح اگر کبھی آئین کے تمہیدی حصے میں موجود ’’سیکولر‘‘ اور ’’سوشلسٹ‘‘ جیسے الفاظ کے بارے میں سنجیدہ آئینی بحث آگے بڑھتی ہے تو اس کے سیاسی اور نظریاتی اثرات بھی دور رس ہوں گے، جبکہ مجوزہ حلقہ بندیوں کے عمل کو جنوبی اور شمالی ریاستوں کے درمیان پارلیمانی نمائندگی کے توازن سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ حلقہ بندیوں کے مسئلے پر تقریباً تمام اپوزیشن جماعتیں کھل کر اظہارِ خیال کرتی دکھائی دیتی ہیں، لیکن یکساں سول کوڈ اور سیکولرزم جیسے موضوعات پر ان کے بیانات نسبتاً محتاط نظر آتے ہیں۔ اس خاموشی کو سیاسی مصلحت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، جبکہ متعلقہ جماعتیں اسے قومی مفاد اور آئینی مباحث کا حصہ قرار دیتی ہیں۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ان موضوعات پر ملک کے مختلف طبقات میں فکری اور سیاسی بے چینی پائی جاتی ہے۔
راجیہ سبھا اور مختلف ریاستی اسمبلیوں کی موجودہ سیاسی ساخت اس حقیقت کی غماز ہے کہ بدلتی سیاسی وابستگیوں نے قومی سیاست کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایوانِ بالا میں عددی طاقت کا بڑھنا یا گھٹنا محض اعداد و شمار کا معاملہ نہیں بلکہ اس کا براہِ راست تعلق قانون سازی، آئینی ترامیم اور قومی پالیسیوں سے بھی ہے۔ اسی لیے ہر سیاسی انشقاق یا جماعتی تبدیلی کو محض جماعتی مسئلہ نہیں بلکہ جمہوری توازن کے تناظر میں بھی دیکھا جاتا ہے۔
بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ مختلف ریاستوں اور پارلیمانی اداروں میں جاری سیاسی تبدیلیوں کا ایک اہم اثر موجودہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے اندر طاقت کے توازن پر بھی مرتب ہو سکتا ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد مرکز میں حکومت سازی کے مرحلے میں جنتا دل (یونائٹیڈ) کے سربراہ نتیش کمار اور تیلگو دیشم پارٹی کے قائد این چندرابابو نائیڈو کو خاص سیاسی اہمیت حاصل ہوئی تھی، کیونکہ حکمراں اتحاد کی پارلیمانی اکثریت میں ان دونوں جماعتوں کا کردار فیصلہ کن سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم اگر مستقبل میں مختلف سیاسی جماعتوں سے ارکانِ پارلیمان کی شمولیت، نئی صف بندیوں یا عددی قوت میں اضافے کے ذریعے حکمراں جماعت اپنی پارلیمانی پوزیشن مزید مستحکم کر لیتی ہے تو این ڈی اے کے اندر ان اتحادی جماعتوں کی سیاسی اثر و رسوخ میں نسبتاً کمی آ سکتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں مرکزی حکومت اتحادی دباؤ سے نسبتاً آزاد ہو کر اپنی قانون سازی اور سیاسی ترجیحات کو آگے بڑھانے کی زیادہ مضبوط پوزیشن میں آ سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے مختلف فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ انسدادِ انحراف قانون کا بنیادی مقصد سیاسی استحکام اور جمہوری اقدار کا تحفظ ہے۔ عدالتِ عظمیٰ بارہا اس بات پر زور دے چکی ہے کہ عوامی مینڈیٹ کو غیر ضروری سیاسی مداخلتوں سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔ تاہم آئینی ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ قانون میں مزید اصلاحات کی ضرورت ہے، خصوصاً نااہلی کے معاملات کے فیصلوں کے لیے واضح مدت مقرر کی جانی چاہیے تاکہ قانونی عمل سیاسی مفادات کا آلہ نہ بن سکے۔
بعض ماہرین یہ تجویز پیش کرتے ہیں کہ جو منتخب نمائندہ اپنی جماعت تبدیل کرے، اسے فوری طور پر اپنی رکنیت سے استعفیٰ دے کر دوبارہ عوام کے پاس جانا چاہیے۔ اگر عوام اس کے فیصلے کو درست سمجھتے ہیں تو وہ دوبارہ منتخب ہو جائے گا اور اگر ایسا نہ ہو تو یہ واضح ہو جائے گا کہ اس نے عوامی مینڈیٹ کے بجائے سیاسی مفاد کو ترجیح دی تھی۔
جمہوریت صرف آئینی دفعات اور قانونی شقوں کے سہارے زندہ نہیں رہ سکتی۔ اس کی بقا کے لیے سیاسی اخلاقیات، عوامی جواب دہی اور جمہوری روایات بھی اتنی ہی ضروری ہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں داخلی جمہوریت کو فروغ دیں، قیادت اور کارکنوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنائیں اور نظریاتی وابستگیوں کو وقتی سیاسی مفادات پر ترجیح دیں تو اس رجحان میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
آج ہندوستانی جمہوریت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون سی جماعت فائدہ اٹھا رہی ہے اور کون نقصان میں ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عوامی مینڈیٹ کو واقعی ایک مقدس امانت سمجھا جائے گا یا اسے عددی اکثریت حاصل کرنے کا محض ذریعہ بنا دیا جائے گا۔ کیونکہ جب ووٹ کی معنویت کمزور پڑتی ہے تو جمہوریت کی اخلاقی بنیادیں بھی متزلزل ہونے لگتی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ انسدادِ انحراف قانون کو مزید مؤثر بنایا جائے، جماعتی تبدیلی کے معاملات میں فوری فیصلوں کو یقینی بنایا جائے، سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری روایات کو مضبوط کیا جائے اور سب سے بڑھ کر عوامی مینڈیٹ کے احترام کو سیاسی عمل کا بنیادی اصول بنایا جائے۔ جمہوریت صرف حکومت سازی کا نظام نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی ایک اجتماعی امانت ہے۔ اگر یہ امانت کمزور پڑ گئی تو انتخابات کی ظاہری رونق بھی جمہوریت کی روح کو زندہ نہیں رکھ سکے گی۔
یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب ہندوستانی جمہوریت کو آنے والے برسوں میں تلاش کرنا ہوگا، کیونکہ جمہوریت کی اصل طاقت صرف اکثریت کے اعداد و شمار میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد اور مینڈیٹ کے احترام میں مضمر ہوتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے