कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

•عفو و درگزر کی عظیم مثال: جب ایک باپ نے محبتِ پدری پر رضائے الٰہی اور ایثارِ انسانی کو مقدم کر دیا

A Great Example of Forgiveness: When a Father Prioritized the Pleasure of Allah and Human Compassion Over His Paternal Love

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

اسلام ایک ایسا دین ہے جو عدل و انصاف کے قیام کے ساتھ ساتھ رحمت، حلم، صبر اور درگزر کی اعلیٰ انسانی اقدار کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ کریم نے انسانی معاشرے کو امن، اصلاح اور خیر کے اصولوں پر قائم کرنے کے لیے جہاں ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور حق کے قیام کی تاکید کی، وہیں معافی اور احسان کو بھی ایک بلند اخلاقی مقام عطاء فرمایا۔ انسانی زندگی میں آزمائش، دکھ اور تکلیف کے لمحات آتے رہتے ہیں، لیکن مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے جذبات کو ایمان کی روشنی میں قابو میں رکھتا ہے۔ کسی زیادتی کے بعد بدلہ لینا انسانی فطرت کا تقاضا ہو سکتا ہے، مگر معاف کر دینا اعلیٰ کردار، مضبوط ایمان اور بلند ظرفی کی علامت ہے۔ اسی لیے قرآنِ مجید نے فرمایا: "اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے، پھر جو معاف کر دے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمّہ ہے”۔
یہ آیت اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ اسلام صرف انصاف کا دین نہیں بلکہ احسان اور رحمت کا بھی دین ہے۔ قصاص کا نظام مظلوم کے حق کے تحفّظ کے لیے ہے، لیکن جب کوئی شخص اپنی مرضی سے معاف کرتا ہے تو وہ اپنے اختیار کو ایک اعلیٰ اخلاقی مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ رسولِ اکرمﷺ کی پوری حیاتِ مبارکہ عفو و رحم کی روشن مثالوں سے معمور ہے۔ آپﷺ نے ذاتی تکالیف، مخالفتوں اور اذیتوں کے باوجود انتقام کے بجائے اصلاح، محبت اور معافی کو ترجیح دی۔ فتحِ مکّہ کا موقع اس عظیم اخلاقی اصول کی سب سے نمایاں مثال ہے، جہاں آپﷺ نے اختیار اور غلبے کے باوجود عام معافی کا اعلان فرمایا۔
اسی اسلامی روح کی ایک جھلک اس واقعے میں بھی نظر آتی ہے، جہاں ایک باپ نے اپنے بیٹے کے دردناک سانحے کے باوجود اپنے دل کے جذبات کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کرتے ہوئے معافی کا راستہ اختیار کیا۔ یہ فیصلہ صرف ایک شخص کی عظمت کا اظہار نہیں بلکہ اس اسلامی تعلیم کی یاد دہانی ہے کہ حقیقی کامیابی اپنے نفس پر قابو پانے، دلوں کو جوڑنے اور خیر کے راستے کو اختیار کرنے میں ہے۔ ایسے واقعات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ انسان کا اصل مقام اس کے غصّے، طاقت یا اختیار سے نہیں بلکہ اس بات سے متعین ہوتا ہے کہ وہ اپنے اختیار کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ عفو و درگزر وہ عظیم صفت ہے جو انسان کو اخلاقی بلندی عطاء کرتی ہے اور معاشرے میں رحمت، امن اور انسانیت کی فضا پیدا کرتی ہے۔
انسانی تاریخ میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک لمحے کی خبر نہیں رہتے بلکہ اخلاق، کردار اور انسانیت کی روشن مثال بن کر ہمیشہ کے لیے دلوں میں نقش ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایک انسان کا ایک فیصلہ پوری دنیا کو یہ یاد دلا دیتا ہے کہ طاقت صرف انتقام لینے میں نہیں بلکہ معاف کر دینے میں بھی ہوتی ہے، اور حقیقی عظمت صرف بدلہ لینے سے نہیں بلکہ اپنے نفس پر قابو پانے اور اللہ کی رضا کو ترجیح دینے سے حاصل ہوتی ہے۔ معافی انسانی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس نے ہمیشہ معاشروں کو جوڑنے اور دلوں کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انتقام انسان کے جذبات کا فطری ردِعمل ہو سکتا ہے، لیکن معافی ایک شعوری، اخلاقی اور روحانی فیصلہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا کی عظیم شخصیات نے ہمیشہ حلم، برداشت اور درگزر کو اعلیٰ انسانی صفات میں شمار کیا ہے۔ ایک انسان جب اپنے شدید ترین دکھ کے باوجود رحم کا راستہ اختیار کرتا ہے تو وہ صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو اخلاقی بلندی کا پیغام دیتا ہے۔ ایسا ہی ایک دل کو چھو لینے والا واقعہ سعودی عرب میں پیش آیا، جہاں ایک باوقار اور صاحبِ مروّت شخص نے عفو و درگزر کی ایسی مثال قائم کی جس نے بے شمار دلوں کو متاثر کیا۔ روایت کے مطابق قحطان قبیلے سے تعلق رکھنے والے اس شخص کے بیٹے کے قتل کے بعد قاتل کو قصاص کا سامنا تھا اور سزا کے نفاذ میں صرف چند گھنٹے باقی رہ گئے تھے۔
ایک باپ کے لیے اپنے جوان بیٹے کا خون، اس کا غم اور اس کی جدائی دنیا کے بڑے سے بڑے دکھوں میں شمار ہوتی ہے۔ ایسے موقع پر جذبات، غصّہ اور درد انسان کو انتقام کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ عرب معاشروں میں قبائلی روایات، عزّت اور خون کے معاملات کو تاریخی طور پر بہت حساس سمجھا جاتا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں جب کوئی شخص ذاتی غم، خاندانی جذبات اور معاشرتی دباؤ سے بلند ہو کر معافی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اس عمل کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ وہ صرف ایک ذاتی فیصلہ نہیں رہتا بلکہ ایک اخلاقی پیغام بن جاتا ہے۔ لیکن اس عظیم انسان نے ایک ایسا راستہ اختیار کیا جو صبر، ایمان اور بلند کردار کی علامت بن گیا۔
قصاص کے فیصلے پر عمل درآمد سے تقریباً پندرہ گھنٹے قبل وہ خود قاتل کی والدہ کے گھر پہنچے۔ یہ قدم صرف ایک خاندان کو معاف کرنے کا نہیں تھا بلکہ ایک زخمی دل کے اندر موجود ایمان اور رحم کی طاقت کا اظہار تھا۔ وہاں انہوں نے وہ الفاظ ادا کیے جن میں دنیاوی لالچ سے بے نیازی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب نمایاں تھی: "مجھے معافی کے بدلے لاکھوں ریال کی پیشکش کی گئی، لیکن میرے بیٹے کے خون کی کوئی قیمت نہیں۔ میں نے اسے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے بغیر کسی معاوضے کے معاف کیا ہے”۔ یہ الفاظ محض ایک اعلان نہیں بلکہ ایک ایسے دل کی آواز تھے جس نے اپنے ذاتی دکھ کو اللہ کی رضا کے سامنے جھکا دیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ بعض فیصلے دولت، شہرت یا دنیاوی فائدے کے لیے نہیں کیے جاتے بلکہ انسان اپنے کردار کی بلندی اور اپنے رب کی خوشنودی کے لیے کرتا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں بھی معافی، صبر اور درگزر کو بلند مقام حاصل ہے۔ قرآنِ کریم انسان کو ظلم کے مقابلے میں انصاف کا راستہ اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ معاف کرنے اور اصلاح کا دروازہ کھلا رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ معاف کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر اس وقت جب دل کسی بڑے صدمے سے گزرا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی معافی وہی ہے جو طاقت رکھنے کے باوجود دی جائے۔ اسلامی تاریخ میں بھی عفو و رحم کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ نبی کریمﷺ کی سیرتِ طیبہ میں فتحِ مکّہ کا واقعہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، جہاں برسوں کی اذیتوں اور مخالفتوں کے باوجود عام معافی کا اعلان کیا گیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ معافی صرف دشمن کو معاف کرنا نہیں بلکہ دلوں کو فتح کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔
اس واقعے کی عظمت اس بات میں ہے کہ ایک باپ نے اپنے بیٹے کی محبت کو کم نہیں کیا بلکہ اسی محبت کو ایک اعلیٰ مقصد کے لیے استعمال کیا۔ اس نے اپنے بیٹے کے خون کی بے قدری نہیں کی بلکہ اسے ایک ایسے عمل کا ذریعہ بنایا جو انسانیت کے لیے سبق بن گیا۔ دنیا میں جہاں نفرت، انتقام اور خود غرضی کے واقعات اکثر سننے کو ملتے ہیں، وہاں ایسے کردار امید کی روشنی بن کر سامنے آتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے دل کے زخموں کے باوجود خیر، رحم اور بھلائی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
عفو و درگزر کمزوری نہیں بلکہ بڑے ظرف کی علامت ہے۔ معاف کرنے والا شخص اپنے نفس پر فتح حاصل کرتا ہے، اور یہی اصل کامیابی ہے۔ ایسے واقعات معاشرے کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ انسان کی پہچان صرف اس کے اختیار سے نہیں بلکہ اس اختیار کے استعمال سے ہوتی ہے۔ یقیناً دنیا ابھی خیر سے خالی نہیں ہوئی۔ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ انسانیت، شرافت، مروّت اور اللہ کی رضا کی جستجو دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے۔ ایسے واقعات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ انسان کی اصل عظمت اس بات میں نہیں کہ وہ دوسروں پر کتنا اختیار رکھتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے اختیار کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ جو شخص اپنے دل کے زخموں کے باوجود خیر اور رحم کا انتخاب کرتا ہے، وہ دراصل انسانیت کے بلند ترین مقام کو چھوتا ہے۔
اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی فتح اپنے نفس پر فتح ہے۔ غصّے کے لمحے میں صبر اختیار کرنا، اختیار کے باوجود معاف کر دینا اور دل کے زخموں کے باوجود خیر کا راستہ اپنانا وہ صفات ہیں جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیتی ہیں۔ قرآنِ کریم نے عفو و درگزر کو اہلِ ایمان کی عظیم صفات میں شمار کیا ہے اور فرمایا کہ جو شخص معاف کرے اور اصلاح کا راستہ اختیار کرے، اس کا اجر اللہ کے پاس ہے۔ یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ کبھی انسان کو دکھ کے ذریعے آزمایا جاتا ہے، کبھی اختیار دے کر اور کبھی اس موقع پر کہ وہ انتقام لے سکتا ہو مگر رحمت اور معافی کو اختیار کرے۔ ایسے مواقع پر انسان کے کردار کا امتحان ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے دل کے جذبات کو اللہ کی رضا کے تابع کر دیتا ہے، وہ دنیا میں بھی عزّت پاتا ہے اور آخرت میں بھی اللہ کی رحمت کا امیدوار بنتا ہے۔
عفو و درگزر کا مطلب ظلم کو درست قرار دینا نہیں بلکہ اپنے دل کو کینہ، نفرت اور انتقام کی آگ سے محفوظ رکھنا ہے۔ اسلام عدل کا حکم دیتا ہے، لیکن جب معافی اصلاح، خیر اور دلوں کے جوڑنے کا ذریعہ بنے تو یہ ایک عظیم اخلاقی مقام بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کی اصل عظمت مال، طاقت یا شہرت میں نہیں بلکہ اس کے اخلاق، صبر اور اللہ سے تعلق میں ہے۔ ایک ایسا دل جو اپنے سب سے بڑے غم کے باوجود رحم کو اختیار کرے، وہ دراصل ایمان کی اس روشنی کا مظہر ہوتا ہے جو انسان کو بلند مقام عطاء کرتی ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں بھی صبر، حلم، درگزر اور اعلیٰ اخلاق اپنانے کی توفیق عطاء فرمائے، ہمارے دلوں کو کینہ اور نفرت سے پاک کرے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو غصّے کو پی جاتے ہیں، لوگوں کو معاف کرتے ہیں اور اللہ کی رضا کے لیے بھلائی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ بے شک عفو و رحمت وہ چراغ ہیں جو نہ صرف ایک انسان کے دل کو روشن کرتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کو امن، محبت اور انسانیت کی روشنی عطاء کرتے ہیں۔
🗓 (20.06.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے