कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آر ایس ایس: قانون اور آئین سے بالاتر یا آئینی احتساب کی پابند؟

ڈاکٹر سید تابش امام، کاکو، جہان آباد
رابطہ۔۔۔۔۔9934933992

ہندوستانی جمہوریت کی اصل طاقت اور پہچان اسی حقیقت میں مضمر ہے کہ یہاں کوئی فرد، جماعت یا ادارہ قانون اور آئین کی بالادستی سے بالاتر نہیں سمجھا جاتا؛ یہی اصول جمہوری نظام کی بنیاد، آئین ہند کی روح اور قانون کی حکمرانی کا اصل مفہوم ہے۔ آئین شہریوں کو جہاں وسیع بنیادی حقوق عطا کرتا ہے، وہیں مساوات، شفافیت، جوابدہی اور قانون کی بالادستی کو بھی جمہوری نظام کی ناگزیر شرائط قرار دیتا ہے۔ اسی لیے جب ملک کی سماجی، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی کسی تنظیم سے متعلق سوالات اٹھتے ہیں تو انہیں محض سیاسی مخالفت یا نظریاتی کشمکش کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ جمہوری احتساب اور آئینی اصولوں کے تناظر میں جانچنا زیادہ مناسب ہوتا ہے۔
گزشتہ دنوں کرناٹک کے وزیر پریانک کھڑگے کی جانب سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی قانونی حیثیت، مالیاتی شفافیت اور تنظیمی ڈھانچے سے متعلق اٹھائے گئے سوالات نے ایک بار پھر ملک میں احتساب، شفافیت اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے جاری آئینی بحث کو مہمیز دی ہے۔ یہ بحث محض آر ایس ایس تک محدود نہیں بلکہ اس وسیع تر سوال سے جڑی ہوئی ہے کہ ہندوستان میں عوامی زندگی پر اثرانداز ہونے والے بڑے اداروں اور تنظیموں کی جوابدہی کا معیار کیا ہونا چاہیے۔ کیا ایسی تنظیمیں جو قومی سطح پر رائے عامہ اور پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہوں، خود کو عوامی احتساب کے سوالات سے بالاتر تصور کر سکتی ہیں؟
آر ایس ایس کی بنیاد 1925 میں ناگپور میں ڈاکٹر کیشو بلی رام ہیڈگیوار نے رکھی تھی۔ گزشتہ تقریباً ایک صدی کے دوران یہ تنظیم ایک محدود نظریاتی حلقے سے نکل کر ایک وسیع اور منظم نیٹ ورک میں تبدیل ہو چکی ہے۔ آج اس کے زیر اثر یا اس سے نظریاتی قربت رکھنے والی متعدد تنظیمیں تعلیم، سماجی خدمت، مزدور تحریک، طلبہ امور، قبائلی بہبود، مذہبی سرگرمیوں اور فلاحی کاموں میں سرگرم ہیں۔
سیاسی سطح پر بھی اس کے اثرات سے انکار ممکن نہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت متعدد تنظیموں اور شخصیات کے ساتھ اس کی فکری قربت اور تاریخی وابستگی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آر ایس ایس کو محض ایک سماجی تنظیم قرار دینا اس کے حقیقی اثر و رسوخ کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔
پریانک کھڑگے نے اپنے سوالات میں اس جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ ملک میں سرگرم ٹرسٹ، سوسائٹیاں، غیر سرکاری تنظیمیں اور فلاحی ادارے مختلف قوانین کے تحت رجسٹریشن، حسابات کے اندراج، مالیاتی آڈٹ اور دیگر قانونی تقاضوں کے پابند ہوتے ہیں۔ اگر ایک محدود وسائل رکھنے والی فلاحی تنظیم بھی اپنی آمدنی اور اخراجات کے بارے میں جوابدہ ہے تو پھر ایک ایسی تنظیم کے بارے میں سوال اٹھانا کیوں غیر مناسب سمجھا جائے جو ملک بھر میں ہزاروں شاخوں کے ذریعے سرگرمِ عمل ہو اور جس کا اثر سماج کے مختلف شعبوں تک پھیلا ہوا ہو؟
پریانک کھڑگے کی جانب سے اٹھائے گئے ان سوالات کے جواب میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے یہ مؤقف پیش کیا کہ تنظیم ایک رضاکارانہ اور نظریاتی تحریک ہے، اس لیے اسے کسی باضابطہ رجسٹریشن کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق آر ایس ایس کی ساخت اور نوعیت ایسی ہے کہ اس کے وجود کو کسی قانونی رجسٹریشن سے وابستہ نہیں کیا جا سکتا۔ بظاہر یہ موقف آئینی آزادیوں سے ہم آہنگ نظر آتا ہے کیونکہ آئین ہند کا آرٹیکل 19(1)(c) شہریوں کو انجمنیں اور تنظیمیں قائم کرنے کا بنیادی حق فراہم کرتا ہے۔ انجمن سازی کی یہ آزادی جمہوری معاشرے کا ایک اہم ستون بھی سمجھی جاتی ہے۔
تاہم آئینی حقوق کے ساتھ قانونی ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ کسی تنظیم کو وجود میں آنے اور سرگرم رہنے کا حق ضرور حاصل ہے، لیکن جب وہ جائیداد کی مالک ہو، چندے اور عطیات وصول کرے، مالیاتی لین دین انجام دے یا مختلف شعبوں میں عوامی اثرات مرتب کرے تو بعض قانونی اور انتظامی تقاضے ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ دنیا کی بیشتر جمہوریتوں میں یہی اصول اختیار کیا گیا ہے کہ عوامی زندگی میں جتنا زیادہ اثر و رسوخ ہوگا، اتنی ہی زیادہ شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ بھی سامنے آئے گا۔
درحقیقت موجودہ بحث کا اصل نکتہ آر ایس ایس کے قانونی وجود کا نہیں بلکہ اس کے عوامی کردار کا ہے۔ جمہوری نظام میں طاقت اور احتساب ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتے۔ جو ادارے یا تنظیمیں سماجی رویوں، سیاسی مباحث اور قومی ترجیحات پر اثرانداز ہوتی ہیں، ان سے شفافیت کی توقع بھی فطری طور پر کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی اثر و رسوخ رکھنے والے اداروں کے بارے میں سوالات کو جمہوری عمل کا حصہ سمجھا جاتا ہے، نہ کہ ان کے خلاف کسی سازش یا تعصب کا اظہار۔
یہی تصور آئین ہند کے آرٹیکل 14 میں بھی جھلکتا ہے جو قانون کے سامنے مساوات اور مساوی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ سپریم کورٹ نے متعدد تاریخی فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ "قانون کی حکمرانی” (Rule of Law) آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے۔ کیشوانند بھارتی مقدمہ سمیت کئی اہم فیصلوں میں عدالت عظمیٰ نے اس اصول کی توثیق کی ہے کہ ریاستی نظام میں کسی فرد یا ادارے کو بلاجواز خصوصی استثنا حاصل نہیں ہو سکتا۔ اگر مختلف تنظیموں اور اداروں سے شفافیت اور حساب دہی کی توقع کی جاتی ہے تو اصولی طور پر یہی معیار دیگر بااثر اداروں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔
تاریخی طور پر بھی آر ایس ایس اور ریاست کے تعلقات ہمیشہ بحث کا موضوع رہے ہیں۔ 1948 میں مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد حکومت ہند نے آر ایس ایس پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اگرچہ بعد ازاں بعض شرائط اور یقین دہانیوں کے بعد یہ پابندی ہٹا لی گئی، اور گاندھی جی کے قتل کے مقدمے میں آر ایس ایس کی براہِ راست مجرمانہ ذمہ داری عدالت میں ثابت نہیں ہو سکی، تاہم یہ واقعہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ تنظیم طویل عرصے سے عوامی اور حکومتی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ اسی طرح 1975 کی ایمرجنسی کے دوران بھی آر ایس ایس پابندیوں اور سرکاری کارروائیوں کا سامنا کر چکی ہے۔ یہ تاریخی حقائق اس امر کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ آر ایس ایس ہمیشہ سے قومی مباحث کا ایک اہم موضوع رہی ہے۔
اس پوری بحث کا ایک اہم پہلو مالیاتی شفافیت بھی ہے۔ دنیا کی مستحکم جمہوریتوں میں بڑے عوامی اثر و رسوخ رکھنے والے اداروں کے مالی ذرائع، اخراجات اور تنظیمی ڈھانچے کے بارے میں کم از کم بنیادی معلومات دستیاب ہوتی ہیں۔ اس کا مقصد کسی ادارے کی آزادی کو محدود کرنا نہیں بلکہ عوامی اعتماد کو مضبوط بنانا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شفافیت کسی بھی ادارے کی اخلاقی ساکھ میں اضافہ کرتی ہے، جبکہ غیر ضروری ابہام اور معلومات کی کمی سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔
یہاں ایک اور اصولی پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ اگر کل کسی مسلم، عیسائی، سکھ، ہندو یا کسی دوسری مذہبی و نظریاتی تنظیم کے بارے میں یہی سوالات اٹھائے جائیں تو کیا ہمارا معیار مختلف ہونا چاہیے؟ یقیناً نہیں۔ آئینی جمہوریت میں قانون کا اطلاق افراد، عقائد اور نظریات کی بنیاد پر نہیں بلکہ اصولوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ یہی مساوات کا تقاضہ ہے اور یہی انصاف کی روح بھی۔
آر ایس ایس کے حامیوں کا موقف ہے کہ تنظیم بنیادی طور پر قومی کردار سازی، سماجی خدمت، رضاکارانہ سرگرمیوں اور ثقافتی بیداری کے فروغ کا کام انجام دیتی ہے۔ اس دعوے کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ مختلف مواقع پر قدرتی آفات اور سماجی سرگرمیوں میں تنظیم کے رضاکاروں کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم جمہوری معاشروں میں سماجی خدمت اور عوامی اثر و رسوخ کسی ادارے کو احتساب کے اصولوں سے مستثنیٰ نہیں بناتے۔ جدید جمہوری نظم کا بنیادی اصول یہی ہے کہ طاقت خواہ سیاسی ہو، سماجی ہو یا نظریاتی، اس کے ساتھ جوابدہی بھی لازم ہے۔
درحقیقت مسئلہ آر ایس ایس کے حق یا مخالفت کا نہیں بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے بنیادی اصولوں کا ہے۔ اگر ملک واقعی آئینی حکمرانی، قانون کی بالادستی اور مساوات کے تصور پر یقین رکھتا ہے تو احتساب اور شفافیت کے اصول سب کے لیے یکساں ہونے چاہئیں۔ یہی اصول سیاسی جماعتوں، کارپوریٹ اداروں، غیر سرکاری تنظیموں، مذہبی اداروں اور سماجی تحریکوں پر بھی نافذ ہوتے ہیں۔ جمہوریت کی مضبوطی کا انحصار اسی بات پر ہے کہ قانون کا پیمانہ سب کے لیے ایک ہو، نہ کہ افراد، نظریات یا تنظیموں کے لحاظ سے بدلتا رہے۔
آر ایس ایس اپنی صد سالہ تکمیل کے قریب ہے۔ ایک صدی کا سفر یقیناً کسی بھی تنظیم کے لیے قابلِ ذکر سنگِ میل ہے، لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ اداروں کی اصل عظمت ان کی عمر یا اثر و رسوخ سے نہیں بلکہ اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ وہ تنقید، سوالات اور عوامی احتساب کا سامنا کس اعتماد کے ساتھ کرتے ہیں۔ مضبوط ادارے سوالات سے خوفزدہ نہیں ہوتے بلکہ انہیں اپنی ساکھ مضبوط کرنے کا موقع سمجھتے ہیں۔
الغرض اس بحث کا فیصلہ سیاسی نعروں، جذباتی وابستگیوں یا نظریاتی تعصبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ آئینی اصولوں، قانونی تقاضوں اور جمہوری اقدار کی روشنی میں ہونا چاہیے۔ ہندوستان کا آئین کسی فرد، جماعت یا تنظیم کو قانون سے بالاتر مقام نہیں دیتا۔ اگر ملک واقعی قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہے تو شفافیت، جوابدہی اور مساوات کے اصول سب کے لیے یکساں ہونے چاہئیں۔ یہی آئین ہند کا تقاضا، جمہوریت کی روح اور ایک بالغ، مضبوط اور بااعتماد جمہوری معاشرے کی پہچان ہے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے