कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بہار کے علماء و طلبہ کے ساتھ یہ ناانصافی کیوں؟

تحریر:محمد عادل ارریاوی

ایک بات میں بہت دنوں سے غور کر رہا ہوں بلکہ برسوں سے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھتا چلا آ رہا ہوں کہ ہندوستان کے بے شمار علاقوں میں بہار کے علماء و حفاظ علم دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ملک کے بڑے بڑے مدارس میں آپ کو بہار کے اساتذہ مل جائیں گے بڑے بڑے اداروں کے شیخ الحدیث مہتمم مفتی مفسر اور ادیب مل جائیں گے۔ دارالعلوم دیوبند سے لے کر مظاہر علوم اور دیگر عظیم دینی مراکز تک نظر ڈال لیجیے آپ کو بہار کے ایسے ایسے رجالِ علم نظر آئیں گے جنہوں نے اپنی زندگیوں کو دین کے لیے وقف کر رکھا ہے۔
عصری تعلیم کے میدان میں بھی بہار کے نوجوان کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ملک کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پروفیسر ڈاکٹر انجینئر اور محقق کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ بہار کا طالبِ علم آج بھی علم کی خاطر سینکڑوں میل کا سفر طے کرتا ہے گھر بار چھوڑتا ہے مشقتیں برداشت کرتا ہے اور پھر اپنی محنت سے کامیابی حاصل کرتا ہے۔
لیکن ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آخر کیوں بعض لوگ بہار کے علماء حفاظ اور طلبہ کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے؟ ان سے کام بھی لیا جاتا ہے ان کے علم سے فائدہ بھی اٹھایا جاتا ہے ان کی صلاحیتوں سے ادارے بھی چلتے ہیں لیکن پھر بھی بعض دلوں میں ان کے لیے عجیب قسم کی جلن اور تعصب پایا جاتا ہے۔ کہیں طنز کیا جاتا ہے کہیں تحقیر کی جاتی ہے اور کہیں ان کی خدمات کو جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
میں پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں کہ آج ہندوستان کے دینی نظام میں بہار کے علماء حفاظ اور طلبہ کا حصہ ناقابلِ انکار ہے۔ یہ کوئی فخر جتانے کی بات نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ ملک کے ہزاروں مدارس مکاتب اور مساجد میں ایسے لوگ خدمت انجام دے رہے ہیں جن کا تعلق بہار سے ہے۔ اگر وہ اپنے گھروں میں بیٹھ جائیں تو بہت سے اداروں کو اپنے نظام کی فکر لاحق ہو جائے گی۔
مجھے ایک واقعہ یاد آتا ہے کہ مدرسہ شاہی مرادآباد میں کسی موقع پر یہ بات کہی گئی کہ بہار کے بچوں کا داخلہ بند کر دیا جائے۔ اس پر حضرت مفتی شبیر احمد قاسمی صاحب نے فرمایا تھا ان بچوں کو نکالنے سے پہلے مجھے نکال دو کیونکہ مدارس کو آباد رکھنے اور پڑھنے والوں میں یہی بچے سب سے آگے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آپ موجودہ دور کے بڑے بڑے علماء پر نظر ڈال لیجیے چاہے تدریس کا میدان ہو افتاء کا ہو یا تصنیف و تحقیق کا آپ کو ایک بڑی تعداد بہار کے فرزندوں کی نظر آئے گی۔ اللہ ربّ العزت نے اس سرزمین میں عجیب برکت رکھی ہے۔ یہاں کی مٹی نے ایسے ایسے ہیرے پیدا کیے ہیں جن کی روشنی سے پورا ملک مستفید ہو رہا ہے۔
افسوس تو اس وقت ہوتا ہے جب انہی لوگوں کے بارے میں تحقیر آمیز باتیں کی جاتی ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں دین کی خدمت میں کھپا دی ہیں۔ اختلاف ہر جگہ ہو سکتا ہے لیکن کسی علاقے کے لوگوں کو حقیر سمجھنا ان کی قربانیوں کو فراموش کر دینا اور ان کی خدمات کا انکار کرنا انصاف نہیں ہے۔
میری یہ تحریر کسی علاقے کو دوسرے علاقے پر فضیلت دینے کے لیے نہیں بلکہ صرف انصاف کی بات کرنے کے لیے ہے۔ جس طرح ہر صوبے اور ہر علاقے کے لوگوں نے دین کی خدمت کی ہے اسی طرح بہار کے علماء حفاظ اور طلبہ نے بھی اپنی محنت قربانی اور اخلاص سے ایک روشن تاریخ رقم کی ہے۔ ان کی قدر کیجیے ان کا احترام کیجیے اور ان کی خدمات کو تسلیم کیجیے کیونکہ اہلِ علم کی عزت دراصل علم کی عزت ہے۔
اللہ ربّ العزت ہم سب کو تعصب سے محفوظ رکھے حق بات کہنے اور سننے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ایک دوسرے کی خوبیوں کی قدر کرنے والا بنائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے