कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بھارتی جمہوریت کا زوال اور ادارہ جاتی ٹوٹ پھوٹ کے خطرات

(بھارت کا نیا آئینی بحران اور انسداد دل بدلی قانون)

ازقلم: اسماء جبین فلک

بھارت کی پارلیمانی سیاست گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایک ایسے غیر معمولی اور قانونی طور پر پیچیدہ مرحلے سے گزر رہی ہے، جس نے کثیر الجماعتی جمہوریت کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو کڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ 14 جون 2026 کو آل انڈیا ترنمول کانگریس کے 20 باغی لوک سبھا اراکین کی جانب سے نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا کے ساتھ انضمام کا اعلان اور اس کے نتیجے میں ایوان کے اندر علیحدہ بلاک کے طور پر تسلیم کیے جانے کے مطالبے نے، انسدادِ دل بدلی قانون کی تشریح اور اسپیکر کے اختیارات سے متعلق ایک نیا آئینی بحران پیدا کر دیا ہے۔
باغی اراکین کا مؤقف ہے کہ لوک سبھا میں ترنمول کانگریس کی کل 28 میں سے 20 نشستیں دو تہائی اکثریت سے زیادہ بنتی ہیں، اس لیے وہ انسدادِ دل بدلی قانون کے تحت تحفظ کے مستحق ہیں۔ ترنمول کانگریس کی رکنِ پارلیمان کاکولی گھوش دستیدار نے اسپیکر سے ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے 20 اراکین کی نمائندگی کرتے ہوئے اسپیکر کو ایک تحریری درخواست پیش کی ہے۔ اس درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ انہیں ایوان میں الگ بلاک کے طور پر بیٹھنے کی اجازت دی جائے، ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔ باغی گروپ کے ایک اور رکن سدیپ بندوپادھیائے کا کہنا تھا کہ جولائی میں پارلیمان کا اجلاس شروع ہونے پر وہ ترنمول کانگریس کے حقیقی نمائندے ہونے کا دعویٰ بھی کریں گے۔
تاہم اس پورے معاملے کی قانونی حیثیت انتہائی مشکوک ہے اور اس کا حتمی فیصلہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو کرنا ہے، جنہوں نے فریقین کا مؤقف سننے کے بعد ہی کوئی قدم اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ اسپیکر کے دفتر نے ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سیکرٹری اور ایوان میں پارٹی لیڈر ابھیشیک بنرجی کو 15 جون کی شام چار بجے ملاقات کے لیے بلایا تھا، لیکن انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے سامنے پیشی کے باعث وہ شریک نہ ہو سکے۔ بعد ازاں، انہیں 19 جون کو دوبارہ طلب کیا گیا تاکہ وہ باغی اراکین کے دعوے کے خلاف پارٹی قیادت کا مؤقف پیش کر سکیں۔ امکان ہے کہ اسپیکر اس معاملے پر قانونی رائے بھی طلب کریں گے تاکہ ان کا فیصلہ چیلنج ہونے کی صورت میں عدالتی جائزے کی کسوٹی پر پورا اتر سکے۔
اس قانونی کشمکش کی بنیاد آئین کے دسویں شیڈول کی شق چار ہے، جو سیاسی جماعتوں کے انضمام سے متعلق ہے۔ اس شق کے مطابق، اگر کوئی سیاسی پارٹی کسی دوسری جماعت میں ضم ہو جائے اور اسے کم از کم دو تہائی قانون ساز اراکین کی رضامندی حاصل ہو، تو انہیں نااہلی سے تحفظ مل جاتا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین اور لوک سبھا کے سابق سیکرٹری جنرل پی ڈی ٹی اچاری کے مطابق، یہ استثنیٰ صرف پوری سیاسی جماعت کے انضمام کی صورت میں لاگو ہوتا ہے، نہ کہ محض ایوان میں موجود اس کے دو تہائی اراکین کے لیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسدادِ دل بدلی قانون اراکین کو صرف اس وقت تحفظ فراہم کرتا ہے جب ان کی اصل سیاسی جماعت (یعنی ترنمول کانگریس) باضابطہ طور پر کسی دوسری جماعت میں ضم ہو۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قانون میں کسی پارٹی کے اندر الگ بلاک بنانے کی قطعی کوئی گنجائش نہیں، چاہے باغی اراکین دو تہائی اکثریت میں ہی کیوں نہ ہوں۔
اسی تناظر میں 2003 کی 91 ویں آئینی ترمیم انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جس نے دسویں شیڈول کے پیراگراف تین کو ختم کر دیا تھا۔ یہ پیراگراف پہلے ایک تہائی اراکین کو علیحدہ گروپ بنانے کی اجازت دیتا تھا۔ اس ترمیم کے بعد، قانون اب صرف انضمام کو تسلیم کرتا ہے، جس کے لیے اصل سیاسی جماعت کا دوسری جماعت میں ضم ہونا اور دو تہائی اراکین کی حمایت، یہ دونوں شرائط بیک وقت پوری ہونا لازمی ہیں۔ مسٹر اچاری نے یہ نشاندہی بھی کی کہ اس مرحلے پر باغی گروپ کی حیثیت کا فیصلہ کرنا اسپیکر کا کام نہیں، بلکہ ان کا دائرہ اختیار اس وقت شروع ہوتا ہے جب اصل پارٹی (ترنمول کانگریس) باغی اراکین کو نااہل قرار دینے کی درخواست دائر کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی کمیشن ہی یہ طے کرنے کا مجاز ہے کہ کون سا دھڑا حقیقی سیاسی جماعت ہے اور کسے پارٹی کا نام اور انتخابی نشان تفویض کیا جائے۔ سپریم کورٹ کے 2023 کے فیصلے کے مطابق، الیکشن کمیشن کو یہ فیصلہ کرتے وقت تنظیمی اور پارلیمانی، دونوں طرح کی قوت کا بغور جائزہ لینا ہوگا۔
عدالتِ عظمیٰ اس حوالے سے متعدد اہم فیصلے صادر کر چکی ہے۔ 11 مئی 2023 کو سبھاش دیسائی بمقابلہ پرنسپل سیکرٹری گورنر مہاراشٹر کیس میں آئینی بینچ نے واضح کیا تھا کہ سیاسی جماعت اور قانون ساز پارٹی میں بنیادی فرق ہے اور انہیں ایک نہیں سمجھا جا سکتا، لہٰذا کوئی رکن یا اراکین کا گروہ اپنی مرضی سے کوئی متوازی دھڑا نہیں بنا سکتا۔ اس سے قبل 2020 میں کیشم میگھا چندرا سنگھ بمقابلہ اسپیکر منی پور اسمبلی کیس میں سپریم کورٹ نے اسپیکر کو پابند کیا تھا کہ وہ نااہلی کی درخواستوں پر چار ہفتوں کے اندر فیصلہ کرے۔ عدالت نے یہ تجویز بھی دی تھی کہ پارلیمان کو آئینی ترمیم کے ذریعے اسپیکر کی جگہ ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل ایک آزاد ٹربیونل قائم کرنے پر غور کرنا چاہیے، تاکہ اسپیکر کے سیاسی کردار کے باعث پیدا ہونے والے جانبداری کے خدشات کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے۔
ترنمول کانگریس کی قیادت نے اس معاملے پر سخت مؤقف اپنایا ہے۔ ابھیشیک بنرجی نے 10 جون کو اسپیکر کو ایک خط لکھ کر استدعا کی کہ وہ پارٹی کے کسی بھی دھڑے کو الگ شناخت، حیثیت یا مراعات نہ دیں۔ انہوں نے اپنے خط میں استدلال پیش کیا کہ آئینی دفعات اور انسدادِ دل بدلی قانون کے تحت، کسی بھی تسلیم شدہ سیاسی جماعت کے اندر متوازی گروپ بنانے کی قطعاً اجازت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انضمام کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے دو شرائط کا بیک وقت پورا ہونا ضروری ہے: پہلا، اصل سیاسی جماعت کا انضمام اور دوسرا، اس کے دو تہائی قانون ساز اراکین کی حمایت۔ ان میں سے صرف ایک شرط کی تکمیل آئینی معیار پر پوری نہیں اترتی۔
اس پیچیدہ صورتحال کا پس منظر مغربی بنگال کے وہ اسمبلی انتخابات ہیں جو مئی 2026 میں مکمل ہوئے۔ ان انتخابات میں بی جے پی نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 206 نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کی، جبکہ ترنمول کانگریس 79 نشستوں تک محدود ہو کر رہ گئی (جو 2021 میں 215 تھیں)۔ وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی خود بھوانی پور کے حلقے سے بی جے پی رہنما سویندو ادھیکاری کے مقابلے میں 15,105 ووٹوں کے بھاری مارجن سے شکست کھا گئیں۔ بی جے پی کا ووٹ بینک 38 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد ہو گیا، جبکہ ترنمول کانگریس کا ووٹ بینک 48 فیصد سے گر کر 40.94 فیصد پر آ گیا۔ اس انتخابی ہزیمت نے ترنمول کانگریس کے اندرونی انتشار کو مزید ہوا دی، جس کے نتیجے میں اسمبلی کے 80 میں سے 58 اراکین نے ریتا برتا بنرجی کو اپنا نیا رہنما اور قائدِ حزبِ اختلاف منتخب کر لیا، جسے اسمبلی اسپیکر رتیندر بوس نے فوری تسلیم بھی کر لیا۔
اس واقعے سے قبل، 24 اپریل 2026 کو عام آدمی پارٹی کے 7 راجیہ سبھا اراکین بھی اپنی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو چکے تھے، جن میں راگھو چڈھا، سندیپ پاٹھک، اشوک متل، ہربھجن سنگھ، راجندر گپتا، سواتی مالیوال اور وکرم جیت سنگھ ساہنی شامل تھے۔ 27 اپریل کو راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے اس انضمام کو قبول کر لیا، جس کے بعد ایوانِ بالا میں بی جے پی اراکین کی تعداد 113 ہو گئی۔
نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا کا ذکر کیا جائے تو یہ ایک نسبتاً گمنام سیاسی جماعت ہے، جس نے 2023 کے تریپورہ اسمبلی انتخابات میں محض چار نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے اور اسے کل ملا کر 822 ووٹ ملے۔ اس جماعت کا انتخابی نعرہ تھا "سیاسی موقع پرستوں کو مسترد کرو”۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جماعت کے ایک سینئر رہنما شانتنو ڈے نے خود اس انضمام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی صدر نے اس معاملے پر دیگر عہدیداروں سے کوئی مشاورت نہیں کی اور ایسا اہم فیصلہ یکطرفہ طور پر نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب، سویڈن کے وی ڈیم انسٹی ٹیوٹ نے مارچ 2026 کی اپنی سالانہ ڈیموکریسی رپورٹ میں بھارت کو "الیکٹورل آٹوکریسی” (انتخابی آمریت) قرار دیا ہے، جس کے مطابق بھارت میں جمہوری اقدار اور معیارات کا مسلسل زوال جاری ہے۔
یہ تمام چشم کشا حقائق اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ بھارتی جمہوریت آج ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ دسویں شیڈول میں موجود قانونی سقم، اسپیکر کے صوابدیدی اختیارات کی وسعت اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے فقدان نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اسپیکر کا متوقع فیصلہ نہ صرف ترنمول کانگریس کی پارلیمانی حیثیت کو متاثر کرے گا، بلکہ یہ انسدادِ دل بدلی قانون کی مستقبل میں ہونے والی تشریح کے لیے ایک مضبوط نظیر بھی بنے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ بھارت کے جمہوری ادارے، قانون ساز اور عوام اس خاموش ادارہ جاتی ٹوٹ پھوٹ کے خلاف کوئی فیصلہ کن موقف اختیار کریں، قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے اور جمہوریت کی بنیادیں سدا کے لیے کھوکھلی ہو جائیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے