कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اقلیتی اسکولوں کے نام پر تعلیم کا سودا ؟ ڈونیشن مافیا کو بے نقاب کریں، ورنہ عدالتی جنگ یقینی

فاروق شیخ کی حکومت سے تحریری شکایت

جلگاؤں :5؍جون (سید علی انجم رضوی) : شہر کے کچھ اقلیتی تعلیمی اداروں نے تعلیم کے مقدّس حق کو کھلے عام خرید و فروخت کی شئے بنا دیا ہے۔ اسکولوں میں داخلے کے نام پر کیپِٹیشن فیس، غیر قانونی عطیّات، بِلا رسید وصولی کا منظّم ریکیٹ چلانے اور ہزاروں روپے کے مشتبہ لین دین کے سنگین الزامات اِن تعلیمی اداروں پر لگ رہے ہیں۔ معروف سماجی خدمت گار اور جلگاؤں ضلع اِیکتا سَنگٹھَن کے کوآرڈینیٹر فاروق شیخ نے اِس پورے معاملے کو بچوں کے بنیادی اور دستوری حقوق پر سیدھا حملہ قرار دیا ہے۔ غریب، مزدور، کسان اور مِڈَل کلاس والدین کے بچوں کو تعلیم سے محروم رکھ کر دولت کے دم پر داخلے بیچے جا رہے ہیں۔ یہ صرف غیر قانونی حرکت نہیں بلکہ ملک کے دستور اور بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھُلی کھلواڑ ہے۔
فاروق شیخ نے کہا کہ اُنھیں ملی جانکاری کے مطابق جلگاؤں کی کئی اقلیتی اسکولوں میں آر۔ٹی۔ای لاٹری (RTE Lotteri) کا طریقہ محض دکھاوا بن کر رہ گیا ہے۔ جن طلبہ و طالبات کا نام آر۔ٹی۔ای لاٹری میں آتا ہے، اُن سے بھی پانچ ہزار سے دس ہزار روپیے تک غیر قانونی ڈونیشن لینے کا مذموم طریقہ جاری ہے۔ جبکہ جن طلباء و طالبات کا نام آر۔ٹی۔ای لاٹری میں نہیں آتا ان کو نان گرینڈ ڈویژن میں داخلہ دلانے کا بہانہ بنا کر اُن سے 20 سے 25 ہزار روپیے تک غیر قانونی ڈونیشن جبراً وصول کیے جاتے ہیں۔ سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ تمام لین دین بِلا رسید اور نقد رقم کی صورت میں کیے جاتے ہیں۔ آن لائن رقم وصول کرنے سے صاف انکار کر دیا جاتا ہے۔ اِن غیر ضروری احتیاطوں سے کالے دَھن اور مالی گھوٹالہ کی بوٗ صاف محسوس کی جا سکتی ہے۔
فاروق شیخ نے الزام لگایا کہ "کُھلے عام آر۔ٹی۔ای قانون (RTE – Right To Education) کی دھجّیاں اُڑائی جا رہی ہیں اور تعلیمی محکمہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔”
اُنھوں نے بتایا کہ آر۔ٹی۔ای ایکٹ (تعلیمی حق قانون) 2009 کی دفعہ 13 کے مطابق کیپِٹیشن فیس لینا ایک قابلِ سزا جرم ہے۔ اِسی طرح بھارت کے دستور کے آرٹیکل 21 – A کے تحت مفت اور لازمی تعلیم حاصل کرنا ہر بچہ کا بنیادی حق ہے۔ اِس کے باوجود اگر کچھ تعلیمی ادارے قانون کو پیروں تلے رَوند کر تعلیم کو کاروبار بنا رہے ہیں تو ذمہ دار تعلیمی افسران آخر خاموش کیوں ہیں ؟
فاروق شیخ نے مہاراشٹر کے ایجوکیشن ڈائریکٹر، ڈویژنل ڈِپٹی ڈائریکٹر، جلگاؤں کلکٹر، جلگاؤں کے ضلعی تعلیمی افسر، مہاراشٹر راجیہ بال حق سَورَکشن آیوگ اور مہاراشٹر کے مائناریٹی کمیشن کو تحریری شکایت دے کر پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی شفّاف جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
فاروق شیخ کے اہم مطالبات اِس طرح ہیں:
ریاست کے تمام اقلیتی تعلیمی اداروں کے داخلے کے عمل کا خصوصی آڈِٹ کیا جائے۔
داخلے کے نام پر وصول کیے گئے ایک-ایک روپیے کا حساب عوامی سطح پر پیش کیا جائے۔
غیر قانونی ڈونیشن کیپِٹیشن فیس اور بِلا رسید وصولی کرنے والے تعلیمی اِداروں اور اُن کے ذمہ داران پر فوجداری مقدمات درج کیے جائیں۔
معاشی جرم شاخ ( – Economic Offences Wing EOW) اور دیگر جانچ ایجنسیوں کے ذریعے وسیع پیمانے پر اِن اداروں کی جانچ کی جائے۔
جرم ثابت ہونے پر اِن تعلیمی اداروں کی منظوری فوری طور پر ردّ کی جائے۔ اِسی طرح تعلیمی مافیا کو تحفظ فراہم کرنے والوں کی بھی جانچ کی جائے۔
فاروق شیخ نے کہا کہ "یہ معاملہ صرف کچھ تعلیمی اداروں تک محدود نظر نہیں آتا بلکہ اِس کے پیچھے انتظامیہ کا تحفظ، سیاسی دباؤ اور مشترکہ سوچی سمجھی سازش سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اِس لیے صرف تعلیمی اداروں کی نہیں بلکہ اُنھیں تحفظ دینے والوں کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔”
فاروق شیخ نے اعلان کیا کہ "اگر جلد ہی کوئی ٹھوس کاروائی نہیں ہوئی تو معاملہ مہاراشٹر راجیہ بال حق سورکشن آیوگ، راشٹریہ بال ادھیکار سَورَکشن آیوگ، مائناریٹی کمیشن، لوک آیوکت کے علاوہ عوامی عرضداشت (PIL) کی صورت میں ہائی کورٹ تک لے جایا جائے گا۔” انھوں نے کہا کہ "تعلیم کوئی کاروبار نہیں بلکہ بچوں کا بنیادی حق ہے. جو لوگ بچوں کے مستقبل کا سودا کر رہے ہیں اُنھیں کسی بھی قیمت پر بخشا نہیں جائے گا۔”

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے