कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہریانوی ثقافت کے’’محمدرفیع ‘‘ کو خراجِ عقیدت

منجیت سنگھ
کروکشیترا یونیورسٹی، کروکشیترا

راجکشن اگوانپوریا ہریانہ کے ایک عظیم لوک گائک تھے۔ ان کی پیدائش 8 ستمبر 1957 کو ضلع سونی پت کے گاؤں اگوانپور میں ہوئی۔ وہ ایک نہایت سادہ اور غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ راجکشن جی نہایت ملنسار، نرم مزاج اور سادہ طبیعت کے انسان تھے۔ انہوں نے پوری زندگی ہریانوی ماں بولی اور ہریانہ کی ثقافت کی خدمت میں گزار دی۔ ان کی آواز اور فن کی وجہ سے انہیں ’’ہریانہ کا محمدرفیع‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔
ہریانہ کی ثقافت دنیا بھر میں مشہور ہے اور اس کی بنیاد قدیم ویدوں، شاستروں اور لوک کہانیوں پر قائم ہے۔ پنڈت لکھمی چند، باجے بھگت، مہرسنگھ، مانگیرام اور دیگر شاعروں کی لکھی ہوئی راگنیوں اور قصوں کو راجکشن اگوانپوریا جی نے اپنی سنہری آواز دی اور پوری دنیا میں ہریانوی لوک گائیکی کا نام روشن کیا۔
انہوں نے اپنا پہلا پروگرام سن 1971 میں پالے رام باؤ رام دہیا کے ساتھ کیا تھا۔ سونی پت کے نزدیک گاؤں جگدیش پور میں انہوں نے اپنا پہلا مقابلہ جیتا۔ ایک مرتبہ دہلی میں ان کا مقابلہ مشہور گائک محمدرفیع سے ہوا۔ دونوں کو سننے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور نتیجہ برابر رہا۔ اسی کے بعد لوگوں نے انہیں ’’ہریانہ کا محمدرفیع‘‘ کہنا شروع کر دیا۔
سن 1980 میں انہوں نے فوجی مہرسنگھ کی مشہور راگنی ’’گھال تڑپتی چھوڑی‘‘گا کر بہت شہرت حاصل کی۔ بعد میں ستپال فوجی کی فوجی کیسٹ کمپنی، میسور کیسٹ، میکس کیسٹ، راما کیسٹ، مینا کیسٹ اور جگدیش کیسٹ جیسی کمپنیوں کے لیے بھی بے شمار راگنیاں گائیں۔ انہوں نے تقریباً 50 قصے اور 5000 سے زائد راگنیاں اپنی آواز میں پیش کیں۔
راجکشن جی کو بچپن ہی سے راگنی گانے کا شوق تھا۔ گاؤں اگوانپور ایک ایسا گاؤں ہے جہاں ہر عمر کے لوگ راگنی سے محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے اسکول کی بال سبھا سے گائیکی کا آغاز کیا۔ ہر ہفتہ ہونے والی بال سبھا میں وہ کچھ نہ کچھ سنایا کرتے تھے اور انعام میں پنسل، ربڑ وغیرہ حاصل کرتے تھے۔ کئی بار تو وہ پورا انعامی ڈبہ لے آتے تھے۔
ان کی آواز اتنی بلند اور صاف تھی کہ انہیں مائیک یا ساؤنڈ سسٹم کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ اگر دس ہزار لوگ بھی ان کا پروگرام سنتے تو ہر شخص ان کی آواز صاف سن سکتا تھا۔ وہ یمنا اسپورٹس کلب کے بڑے مداح تھے اور کھو کھو و کبڈی کھیلنا پسند کرتے تھے۔
ان کے ساتھ ساز بجانے والوں میں رام شرن، دیوی رام، رنبیر، ہرجیت، وجیندر اور رام کمار شامل تھے۔ ان کے گاؤں اگوانپور کی پہچان ہی راگنی بن گئی تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ اگر کوئی اگوانپور کا رہنے والا ہے تو اسے دو چار راگنیاں ضرور آنی چاہئیں۔
آج ان کے صاحبزادے دیپک اگوانپوریا ان کی وراثت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ وہ خود کہتے ہیں کہ اگر وہ اپنے والد جیسا دو فیصد بھی گا لیں تو یہ ان کے لیے بہت بڑی بات ہوگی۔
راجکشن اگوانپوریا جی کی راگنیاں پورا خاندان مل بیٹھ کر سن سکتا تھا۔ انہوں نے ہریانہ اور دہلی میں ٹکٹ والے پروگرام بھی کیے، جن میں ہزاروں لوگ ان کی راگنی سننے آیا کرتے تھے۔ “ایک رات راجکشن کے نام” جیسے پروگرام بہت مشہور تھے۔
انہوں نے آکاشوانی روہتک پر بھی پروگرام کیے۔ جب ان سے کہا گیا کہ پکے ساز پر راگنی گائیں تو انہوں نے جواب دیا کہ چاہے پکا ساز ہو یا کچا، مگر مٹکا اور بینجو ضرور ہوگا۔ اسی کے بعد آکاشوانی میں بھی مٹکا اور بینجو کے ساتھ راگنی گانے کا رواج شروع ہوا۔
ایک مرتبہ شدید بارش کی وجہ سے وہ رات بارہ بجے ایک گاؤں میں پروگرام کے لیے پہنچے۔ لوگ واپس جا چکے تھے، مگر جیسے ہی انہوں نے راگنی شروع کی، پورا گاؤں جاگ اٹھا اور صبح نو بجے تک ان کی راگنی سنتا رہا۔
انہوں نے ستیہ وان ساوتری، ہرش چندر، پدماوت، چند کرن، نل دمینتی، اجیت سنگھ راجبالا، سیٹھ تارا چند، شیو بیاہ، مہابھارت، کرشن جنم، بیجا سورٹھ، انجنا پون اور نرسی کا بھات جیسے مشہور قصوں کو اپنی آواز دی۔
یہ عظیم فنکار 13 مئی 1994 کو پیٹ کی نسوں میں انفیکشن کی وجہ سے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ انہوں نے تقریباً بیس سال تک ہریانوی ماں بولی اور ثقافت کی بے مثال خدمت کی۔ آج بھی ان کی آواز لاکھوں لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
ہم اس عظیم گائک راجکشن اگوانپوریا جی کو ان کی جینتی پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
نوٹ:
یہ مضمون سوشل میڈیا سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر اردو میں تحریر کیا گیا ہے۔ اصل مضمون خان منجیت بھاوڑیا، سونی پت (ہریانہ) کی جانب سے لکھا گیا بتایا جاتا ہے۔ اتنی قیمتی معلومات فراہم کرنے پر ان کا شکریہ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے