कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

شجرکاری: اسلامی تہذیب کی روح اور صدقۂ جاریہ کا حسین تصور

Tree Plantation: The Spirit of Islamic Civilization and a Beautiful Concept of Ongoing Charity (Sadaqah Jariyah)

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

انسانی تاریخ کے دریچوں میں جھانکا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اقوام ہمیشہ زندہ و تابندہ رہیں جنہوں نے فطرت کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کی۔ اسلامی تہذیب کا امتیاز بھی یہی ہے کہ اس نے نہ صرف روحانیت و عبادت کا درس دیا بلکہ زمین کی آبادکاری اور کائنات کی حفاظت کو بھی دین کا حصّہ قرار دیا۔ قرآنِ مجید بھی اس حقیقت کی طرف نہایت بلیغ انداز میں رہنمائی کرتا ہے کہ "اور اسی نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور درخت پیدا کیے” (سورۃ الرعد: 3)۔ یعنی زمین کی ساخت اور اس کی زینت دونوں اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر ہیں۔ اسی مضمون کو مزید واضح کرتے ہوئے ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے "وہی ہے جس نے باغات پیدا کیے… کھجور، کھیتیاں اور مختلف ذائقوں والے پھل” (سورۃ الانعام: 141)۔
مسلم دورِ حکومت کی بے شمار خوبیوں میں سے ایک نمایاں خوبی یہ رہی ہے کہ جہاں جہاں مسلمانوں نے بستیاں آباد کیں، وہاں سڑکوں کے کنارے، باغات میں، اور شہروں کے اطراف پھلدار اور سایہ دار درختوں کی باقاعدہ شجرکاری کی گئی۔ یوں یہ انتظام محض ظاہری خوبصورتی یا وقتی سہولت تک محدود نہ تھا، بلکہ اس کے پسِ پشت ایک گہرا شعور اور دینی جذبہ کارفرما تھا، جس کے تحت زمین کی آبادکاری اور مخلوقِ خدا کی خدمت کو عبادت کا درجہ حاصل تھا۔
اسلامی تاریخ میں بھی اس کی روشن مثالیں جابجا ملتی ہیں۔ چنانچہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور میں مسافروں کی سہولت کے لیے سایہ دار درخت لگانے کا باقاعدہ اہتمام کیا گیا، تاکہ سفر کرنے والوں کو آرام اور راحت میسر آ سکے۔ یہی روایت بعد کے ادوار میں بھی پوری شان کے ساتھ جاری رہی، چنانچہ نورالدین زنگیؒ اور صلاح الدین ایوبیؒ کے زمانے میں نہ صرف باغات کو فروغ دیا گیا بلکہ نہری نظام کو بھی وسعت دی گئی، جس سے زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہوا اور شادابی نے معاشرتی زندگی کو نکھار دیا۔ یہ سلسلہ یہاں تک محدود نہ رہا بلکہ اپنے عروج کو پہنچا، جہاں اندلس کی سر زمین باغبانی کے فن میں ایک درخشاں مثال بن کر ابھری، اور شجرکاری کو باقاعدہ ایک علم، ہنر اور تہذیبی شناخت کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ ایسا فن جس میں خوبصورتی، افادیت اور فطرت دوستی کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
اسلام میں شجرکاری کو محض ایک دنیاوی سرگرمی نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت اور صدقۂ جاریہ کا درجہ حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور اکرمﷺ نے بارہا درخت لگانے کی ترغیب دی اور اس کے بے شمار روحانی و اخلاقی فوائد بیان فرمائے۔ نبی کریمﷺ کا یہ فرمان کہ "جب کوئی مسلمان درخت لگاتا ہے اور اس سے کوئی انسان یا جانور کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے” (صحیح بخاری) دراصل ایک جامع تصور پیش کرتا ہے۔ اس میں انسان، حیوان اور فطرت؛ تینوں کی بھلائی کو ایک عمل سے جوڑ دیا گیا ہے۔ گویا ایک درخت محض ایک پودا نہیں بلکہ رحمت کا ایسا سلسلہ ہے جو مسلسل جاری رہتا ہے۔
اسی مفہوم کو مزید وسعت دیتے ہوئے ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا کہ "جو کچھ اس درخت سے کھایا جائے وہ قیامت تک صدقہ شمار ہوتا ہے” (صحیح مسلم)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ درخت لگانے والا شخص اپنی زندگی کے بعد بھی اجر و ثواب کا مستحق رہتا ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو وقت کی قید سے آزاد ہے۔ ایک ایسا صدقہ جو ختم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہی رہتا ہے۔ حضرت ابو الدرداءؓ کا واقعہ اس تعلیم کی عملی تصویر پیش کرتا ہے۔ جب کچھ لوگوں نے انہیں درخت لگاتے دیکھ کر تعجب کیا تو انہوں نے نہایت بصیرت افروز جواب دیا کہ میں وہ عمل کر رہا ہوں جس کا اجر مجھے حضورﷺ نے خود بتایا ہے۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام میں کوئی بھی نیک عمل چھوٹا نہیں ہوتا، بشرطیکہ اس کی نیت خالص ہو اور وہ مخلوقِ خدا کے لیے مفید ہو۔
اسلامی تعلیمات میں شجرکاری کو ان اعمال میں شمار کیا گیا ہے جن کا اجر انسان کو مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔ علم سکھانا، کنواں کھودنا، مسجد بنانا؛ ان سب کے ساتھ درخت لگانا بھی شامل ہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام ماحولیات کے تحفّظ اور زمین کی آبادکاری کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔ سب سے زیادہ متاثر کن تعلیم وہ ہے جس میں نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ "اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تمہارے ہاتھ میں ایک پودا ہو تو اسے لگا دو”۔ یہ ہدایت اپنے اندر ایک عظیم فلسفہ رکھتی ہے۔ یہ ہمیں مایوسی سے بچاتی ہے، امید کا درس دیتی ہے، اور یہ سکھاتی ہے کہ حالات کیسے بھی ہوں، نیکی کا عمل ترک نہیں کرنا چاہیے۔
آج کے دور میں جب ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین مسائل انسانی بقاء کے لیے خطرہ بن چکے ہیں، تو ایسے حالات میں اسلامی تعلیمات کی یہ روشن ہدایات اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ چنانچہ شجرکاری نہ صرف ماحول کو بہتر بناتی ہے بلکہ معاشرتی بھلائی، معاشی استحکام اور روحانی سکون کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ثابت ہوتی ہے۔
سائنس بھی اس حقیقت کی بھرپور تائید کرتی ہے کہ درخت انسانی زندگی اور ماحولیاتی توازن کے لیے ناگزیر ہیں۔ چنانچہ سائنسی تحقیقات کے مطابق درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے فضاء کو صاف کرتے ہیں، درجہ حرارت کو معتدل رکھتے ہوئے موسمی توازن برقرار رکھتے ہیں، زیرِ زمین پانی کو محفوظ بنانے میں مدد دیتے ہیں، اور جنگلی حیات کے لیے محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتے ہیں۔ مزید برآں ایک بالغ درخت سالانہ تقریباً 22 کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے، جو ماحولیاتی تحفّظ اور فضاء کی بہتری میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ان سنہری تعلیمات کو محض الفاظ تک محدود رکھنے کے بجائے عملی زندگی میں نافذ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر ہم چند آسان مگر مؤثر اقدامات اختیار کر سکتے ہیں، مثلاً ہر سال کم از کم ایک درخت لگانے کا عہد کریں، گھروں میں پودے لگانے کی عادت ڈالیں، بچّوں میں شجرکاری کا شعور اور شوق پیدا کریں، مقامی شجرکاری مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیں، اور پانی و ماحول کے تحفّظ کو اپنی روزمرّہ زندگی کا مستقل حصّہ بنا لیں۔
مزید یہ کہ اپنے لگائے گئے پودوں کی نگہداشت کو بھی اپنی ذمّہ داری سمجھیں، مناسب آبپاشی، حفاظت اور دیکھ بھال کے ذریعے انہیں پروان چڑھائیں، کیونکہ صرف درخت لگانا ہی کافی نہیں بلکہ اس کی پرورش بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اگر یہ جذبہ اجتماعی شکل اختیار کر لے تو نہ صرف ہمارے شہر اور بستیاں سرسبز و شاداب ہو سکتی ہیں بلکہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک صاف، صحت مند اور خوبصورت ماحول بھی چھوڑ سکتے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات مل کر ایک بڑی اور خوشگوار تبدیلی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شجرکاری کو محض ایک مہم نہیں بلکہ ایک دینی، اخلاقی اور تہذیبی فریضہ سمجھیں۔ اپنے گھروں، محلوں، شہروں اور ملک میں زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور اس سنّت کو زندہ کریں۔ کیونکہ ایک درخت صرف زمین میں نہیں اگتا، بلکہ وہ انسان کے نامۂ اعمال میں بھی پھل دیتا ہے۔ یقیناً، ایک درخت لگانا؛ زندگی بسانا ہے، صدقہ جاریہ کمانا ہے، اور زمین کو جنّت کا عکس بنانا ہے۔ درحقیقت اگر غور کیا جائے تو درخت محض قدرتی وسائل نہیں بلکہ انسان کے لیے ایک زندہ سبق ہیں؛ چنانچہ درخت دراصل خاموش مبلغ ہوتے ہیں۔ جو بغیر کچھ کہے انسان کو سخاوت، صبر اور خدمتِ خلق کا درس دیتے ہیں۔
اگر ہم گہرائی سے غور کریں تو معلوم ہوگا کہ شجرکاری محض ایک ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ ایک امانت ہے، جو اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کے سپرد کی ہے۔ یہ زمین، اس کی سرسبزی، اس کے درخت اور اس کی رونقیں دراصل انسان کے امتحان کا حصّہ ہیں کہ وہ انہیں سنوارتا ہے یا بگاڑتا ہے۔ اسلام ہمیں صرف عبادات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ ہمیں ایک ذمّہ دار انسان، ایک باشعور شہری اور ایک امینِ زمین بننے کی تعلیم دیتا ہے۔ آج جب دنیا ماحولیاتی بحرانوں کی زد میں ہے تو ایک مسلمان کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ اپنے کردار کا ازسرِ نو جائزہ لے۔ کیا ہم اس زمین کے محافظ بن رہے ہیں یا اس کی بربادی کا سبب؟ کیا ہم آنے والی نسلوں کے لیے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں یا مشکلات کا بوجھ چھوڑ رہے ہیں؟ یہ سوالات ہمیں جھنجھوڑتے ہیں اور ہمیں عمل کی دعوت دیتے ہیں۔
درحقیقت شجرکاری ایک ایسا عمل ہے جس میں دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی پوشیدہ ہے۔ یہ عمل جہاں زمین کو زندگی بخشتا ہے وہیں انسان کے نامۂ اعمال کو بھی سرسبز کر دیتا ہے۔ ایک ننھا سا پودا، جو آج ہمارے ہاتھوں لگایا جاتا ہے، کل کسی مسافر کے لیے سایہ، کسی بھوکے کے لیے رزق، اور ہمارے لیے صدقۂ جاریہ بن سکتا ہے۔ پس آئیے ہم عہد کریں کہ ہم اس زمین کو ویسا ہی خوبصورت بنانے کی کوشش کریں گے جیسا کہ ہمیں سونپا گیا تھا؛ بلکہ اس سے بھی بہتر۔ ہم درخت لگائیں گے، ان کی حفاظت کریں گے، اور اس پیغام کو عام کریں گے کہ فطرت کی خدمت دراصل خالق کی رضا کا ذریعہ ہے۔
اور یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو زمین کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کی کامیابی کی طرف بھی لے جاتا ہے۔ کیونکہ جب ایک بندہ خلوصِ نیت کے ساتھ مخلوقِ خدا کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ اس کے لیے رحمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔ یقیناً، جو ہاتھ ایک پودا لگاتا ہے وہ صرف مٹی کو نہیں سنوارتا بلکہ اپنی تقدیر کو بھی سنوار رہا ہوتا ہے اور یہی عمل اس کے لیے دنیا میں خیر و برکت اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
🗓 (13.05.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے