कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تقویٰ: کامیاب زندگی کی سات روشن ضمانتیں

از قلم: ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد
موبائل نمبر: 9325217306

انسانی زندگی کی اصل کامیابی کیا ہے؟ کیا صرف دولت، شہرت، عہدہ اور ظاہری آسائشیں ہی کامیابی کا معیار ہیں؟ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کے بہت سے مالدار اور طاقتور لوگ ذہنی سکون اور قلبی اطمینان سے محروم نہ ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ کامیاب زندگی وہی ہے جو انسان کو باطنی سکون، اخلاقی پاکیزگی، رب کی رضا اور دائمی خوشی عطا کرے۔ اسلام نے اس کامیابی کے حصول کے لیے جس عظیم صفت کو بنیادی حیثیت دی ہے، وہ “تقویٰ” ہے۔
تقویٰ دراصل اللہ تعالیٰ کی اس دائمی نگرانی کا احساس ہے جو انسان کو گناہوں سے روکتا، نیکیوں کی طرف مائل کرتا اور زندگی کے ہر معاملے میں اعتدال و دیانت اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں بار بار تقویٰ اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے، کیونکہ یہی وہ صفت ہے جو انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب بناتی ہے۔ اگر غور کیا جائے تو تقویٰ انسان کی زندگی میں سات ایسی عظیم نعمتیں پیدا کرتا ہے جو اس کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتی ہیں۔
سب سے پہلی اور سب سے بڑی نعمت اللہ تعالیٰ کی محبت ہے۔ دنیا میں ہر انسان چاہتا ہے کہ لوگ اس سے محبت کریں، اس کی عزت کریں اور اسے اہمیت دیں، مگر ایک مومن کے لیے سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرمائے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ متقین سے محبت کرتا ہے۔ جب بندہ اللہ کے احکام پر چلتا، گناہوں سے بچتا اور ہر حال میں اپنے رب کی رضا کو مقدم رکھتا ہے تو وہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔ اللہ کی محبت ایسی نعمت ہے جس کے بعد انسان کو کسی اور سہارے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
تقویٰ کا دوسرا عظیم فائدہ زندگی کے معاملات میں آسانی اور بہتری ہے۔ آج ہر انسان کسی نہ کسی پریشانی، آزمائش یا ذہنی دباؤ میں مبتلا ہے۔ کوئی معاشی مسائل سے پریشان ہے تو کوئی گھریلو اختلافات سے، کوئی مستقبل کے خوف میں مبتلا ہے تو کوئی ناکامی کے غم میں ڈوبا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں قرآن یہ خوشخبری دیتا ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے آسانی کے راستے پیدا فرما دیتا ہے۔ متقی انسان جب مشکلات میں بھی صبر اور دیانت کا دامن نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے وہاں سے راستے نکالتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ شدید مشکلات کے باوجود بھی مطمئن اور پُرسکون نظر آتے ہیں، کیونکہ ان کے دل تقویٰ کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔
تقویٰ کا تیسرا اہم ثمر اعمال کی قبولیت ہے۔ عبادت کی اصل روح صرف ظاہری عمل نہیں بلکہ دل کی کیفیت ہے۔ اگر انسان نماز پڑھے، روزہ رکھے، صدقہ کرے یا حج ادا کرے مگر اس کے دل میں اخلاص اور خوفِ خدا نہ ہو تو ان اعمال کی روح باقی نہیں رہتی۔ قرآنِ مجید میں حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے واضح فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ صرف متقین کے اعمال قبول فرماتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عبادات کی حقیقی قدر و قیمت تقویٰ سے وابستہ ہے۔ ایک چھوٹا سا عمل بھی اگر اخلاص اور تقویٰ کے ساتھ کیا جائے تو اللہ کے یہاں بہت عظیم بن جاتا ہے۔
تقویٰ انسان کے گناہوں کی مغفرت کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔ انسان خطاؤں اور کمزوریوں کا مجموعہ ہے۔ کوئی بھی انسان مکمل طور پر غلطیوں سے پاک نہیں ہو سکتا، مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کے لیے توبہ اور اصلاح کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھتا ہے۔ جو شخص اللہ سے ڈرتا، اپنی غلطیوں پر نادم ہوتا اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ تقویٰ انسان کے دل میں وہ بیداری پیدا کرتا ہے جو اسے ہر گناہ کے بعد توبہ پر آمادہ کرتی ہے۔ یہی احساسِ جواب دہی انسان کو روحانی پاکیزگی عطا کرتا ہے۔
تقویٰ کا پانچواں عظیم فائدہ رزق میں برکت اور کشادگی ہے۔ آج بہت سے لوگ رزق کی فراوانی کے باوجود بے سکونی کا شکار ہیں، جبکہ بعض لوگ محدود وسائل کے باوجود مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف مال کی زیادتی یا کمی نہیں بلکہ رزق میں برکت ہے، اور یہ برکت تقویٰ سے حاصل ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید وعدہ کرتا ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اسے وہاں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ متقی انسان حلال رزق پر قناعت کرتا ہے، دھوکہ، سود، رشوت اور ناجائز ذرائع سے بچتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے مال میں سکون اور برکت پیدا ہوتی ہے۔ آج معاشرے میں بے برکتی، بے سکونی اور معاشی پریشانیوں کی ایک بڑی وجہ تقویٰ سے دوری بھی ہے۔
تقویٰ انسان کو قرآنِ مجید سے حقیقی ہدایت حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے۔ قرآن صرف ایک کتاب نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات ہے، مگر اس کی روشنی سے وہی لوگ صحیح فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے دل میں تقویٰ ہوتا ہے۔ قرآن نے اپنی ابتدا ہی میں اعلان کیا کہ یہ کتاب متقین کے لیے ہدایت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقویٰ انسان کے دل کو ایسا بنا دیتا ہے جو حق بات کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ جب دل گناہوں کی تاریکی سے پاک ہوتا ہے تو قرآن کی روشنی اس میں اثر کرتی ہے، اور انسان کو زندگی گزارنے کا صحیح راستہ مل جاتا ہے۔
تقویٰ کا ساتواں اور نہایت قیمتی ثمر خوف اور غم سے نجات ہے۔ آج دنیا کی سب سے بڑی بیماری ذہنی بے چینی، ڈپریشن اور اضطراب ہے۔ انسان ظاہری آسائشوں کے باوجود اندر سے ٹوٹا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اسلام انسان کو حقیقی سکون کا راستہ دکھاتا ہے، اور وہ راستہ تقویٰ ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ متقی انسان ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے۔ کامیابی ملے تو شکر ادا کرتا ہے اور آزمائش آئے تو صبر کرتا ہے۔ یہی کیفیت اسے ذہنی سکون اور قلبی اطمینان عطا کرتی ہے۔
آج ہمارا معاشرہ اخلاقی بحران، بے چینی، حسد، نفرت، خود غرضی اور روحانی کمزوری کا شکار ہے۔ ہر شخص سکون کی تلاش میں ہے، مگر اکثر لوگ اسے غلط جگہوں پر تلاش کر رہے ہیں۔ اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ حقیقی سکون نہ دولت میں ہے، نہ شہرت میں اور نہ دنیاوی طاقت میں، بلکہ اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق اور تقویٰ میں ہے۔ اگر انسان اپنی زندگی میں تقویٰ کو اختیار کر لے تو اس کے معاملات سنور جاتے ہیں، اس کا دل مطمئن ہو جاتا ہے، اس کے اخلاق بہتر ہو جاتے ہیں اور اس کی پوری زندگی خیر و برکت کا نمونہ بن جاتی ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ تقویٰ صرف ایک مذہبی اصطلاح نہیں بلکہ کامیاب زندگی کا مکمل راستہ ہے۔ یہی وہ صفت ہے جو انسان کو اللہ کی محبت، آسانی، قبولیتِ اعمال، مغفرت، رزق میں برکت، قرآن سے ہدایت اور قلبی سکون جیسی عظیم نعمتوں سے نوازتی ہے۔ آج کے پُرفتن دور میں اگر انسان حقیقی کامیابی، سکون اور عزت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے تقویٰ کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ کیونکہ دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے