कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قرآن نے آکسیجن کی پیش گوئی کی

از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں

انسانی زندگی کے لیے آکسیجن سب سے بنیادی اور ضروری گیس ہے۔ زمین پر موجود تمام جاندار سانس لینے کے عمل کے ذریعے آکسیجن حاصل کرتے ہیں۔ جدید سائنس نے ثابت کیا ہے کہ آکسیجن نہ صرف تنفس بلکہ احتراق، توانائی کی پیداوار اور ماحولیاتی توازن کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قرآنِ مجید نے صدیوں پہلے ایسے اشارات دیے جو آج کے سائنسی حقائق سے مطابقت رکھتے ہیں۔
قرآنِ مجید اور آکسیجن:
قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
“هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الشَّجَرَ الْأَخْضَرَ نَارًا فَإِذَا أَنتُم مِّنْهُ تُوقِدُونَ”
(سورۂ یٰسین: 80)
ترجمہ:
“وہی ہے جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کی، پھر تم اسی سے آگ روشن کرتے ہو۔”
یہ آیت دراصل ایک عظیم سائنسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ سبز درخت اور پودے “ضیائی تالیف” (Photosynthesis) کے عمل کے ذریعے آکسیجن پیدا کرتے ہیں، جبکہ آگ جلنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ گویا قرآن نے بالواسطہ طور پر پودوں، آکسیجن اور احتراق کے باہمی تعلق کو واضح کیا۔
آکسیجن کیا ہے؟
آکسیجن ایک بے رنگ، بے بو اور بے ذائقہ گیس ہے جس کا کیمیائی ضابطہ O₂ ہے۔ یہ فضا میں تقریباً 21 فیصد مقدار میں موجود ہوتی ہے۔
دریافت:
1774ء میں سائنس دان
Joseph Priestley
نے آکسیجن دریافت کی، جبکہ
Antoine Lavoisier
نے اس کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے اسے “آکسیجن” کا نام دیا۔
ضیائی تالیف: (Photosynthesis)
سبز پودے سورج کی روشنی، پانی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مدد سے غذا تیار کرتے ہیں۔ اس عمل کو ضیائی تالیف کہتے ہیں۔
پودے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں۔ پانی استعمال کرتے ہیں۔
سورج کی روشنی سے توانائی لیتے ہیں۔ اور نتیجے میں آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ یہی آکسیجن انسانوں اور جانوروں کی زندگی کو برقرار رکھتی ہے۔
تنفس (Respiration) اور آکسیجن:
انسانی جسم میں آکسیجن خون کے ذریعے خلیوں تک پہنچتی ہے جہاں یہ گلوکوز کے ساتھ مل کر توانائی پیدا کرتی ہے۔
اس عمل کے بغیر انسانی جسم زندہ نہیں رہ سکتا۔
آکسیجن کی کمی کے اثرات:
اگر ماحول میں آکسیجن کم ہو جائے تو سانس لینے میں دشواری،
دماغی کمزوری، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی، بے ہوشی حتیٰ کہ موت واقع ہوسکتی ہے۔ اسی لیے جنگلات اور درخت انسانی زندگی کے محافظ سمجھے جاتے ہیں۔
احتراق (Combustion) اور آکسیجن:
کوئی بھی چیز اُس وقت تک نہیں جل سکتی جب تک آکسیجن موجود نہ ہو۔
مثالیں:
لکڑی جلنا، موم بتی روشن ہونا،
ایندھن کا جلنا، گاڑیوں کے انجن کا چلنا — یہ تمام عمل آکسیجن کی موجودگی میں ہوتے ہیں۔
قرآن کی مذکورہ آیت میں “سبز درخت سے آگ” کا ذکر دراصل اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ پودے آکسیجن پیدا کرتے ہیں اور آکسیجن آگ کے لیے ضروری ہے۔
ماحولیات میں آکسیجن کا کردار:
آکسیجن زمین کے ماحولیاتی نظام کو متوازن رکھتی ہے۔
جنگلات کی اہمیت:
درخت:
1- کاربن ڈائی آکسائیڈ کم کرتے ہیں۔
آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔
2- عالمی حدت (Global Warming) کم کرتے ہیں۔
3- فضائی آلودگی ختم کرتے ہیں۔
اسی لیے سائنس دان زیادہ سے زیادہ شجرکاری پر زور دیتے ہیں۔
قرآن اور جدید سائنس کی ہم آہنگی:
ساتویں صدی میں نہ مائیکروسکوپ تھا، نہ کیمسٹری کی جدید لیبارٹریاں اور نہ ہی آکسیجن کی دریافت ہوئی تھی، مگر قرآن نے پودوں، آگ اور زندگی کے تعلق کو نہایت جامع انداز میں بیان کردیا۔
آج کی سائنس اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ سبز پودے آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔
آکسیجن کے بغیر آگ نہیں جل سکتی۔
اور زندگی قائم نہیں رہ سکتی۔
یہ قرآنِ مجید کے سائنسی اعجاز کی ایک روشن مثال ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے